• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
301- بَاب صَلاةِ الضُّحَى
۳۰۱- باب: صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی صلاۃ) کا بیان​


1285- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ [الْمَعْنَى]، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلامَى مِنِ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ: تَسْلِيمُهُ عَلَى مَنْ لَقِيَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُهُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَبُضْعَةُ أَهْلِهِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِءُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ مِنَ الضُّحَى >.
قَالَ أَبودَاود: وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الأَمْرَ وَالنَّهْيَ، زَادَ فِي حَدِيثِهِ، وَقَالَ: كَذَا وَكَذَا، وَزَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَحَدُنَا يَقْضِي شَهْوَتَهُ، وَتَكُونُ لَهُ صَدَقَةٌ؟ قَالَ: < أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعَهَا فِي غَيْرِ حِلِّهَا أَلَمْ يَكُنْ يَأْثَمُ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۳ (۷۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۶۷، ۱۶۸) (صحیح)

۱۲۸۵- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی (بطور شکرانے کے) ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت صلاۃ چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے‘‘۱؎۔
ابو داود کہتے ہیں: عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی (بیوی سے) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’(کیوں نہیں) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہ گار نہ ہوتا؟‘‘ ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: صلاۃ الضحیٰ کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں روایتوں میں اختلاف ہے، دو، چار، آٹھ اور بارہ تک کا ذکر ہے اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ روایتوں کے اختلاف کو گنجائش پر محمول کیا جائے، اور جتنی جس کو توفیق ملے پڑھے، اس فرق کے ساتھ کہ آٹھ رکعت تک کا ذکر فعلی حدیثوں میں ہے اور بارہ کا ذکر قولی حدیث میں ہے، بعض نے اسے بدعت کہا ہے، لیکن بدعت کہنا غلط ہے، متعدد احادیث سے اس کا مسنون ہونا ثابت ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے (مصنف ابن ابی شیبہ۲/۴۰۵)
اکثر علما کے نزدیک چاشت اور اشراق کی صلاۃ ایک ہی ہے، جو سورج کے ایک یا دو نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنے پر پڑھی جاتی ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ چاشت کی صلاۃ اشراق کے بعد پڑھی جاتی ہے۔
وضاحت۲؎: یعنی جب حرام جگہ سے شہوت پوری کرنے پر گنہ گار ہو گا تو حلال جگہ سے پوری کرنے پر اجر و ثواب کا مستحق کیوں نہ ہو گا۔

1286- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلامَى مِنْ أَحَدِكُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، فَلَهُ بِكُلِّ صَلاةٍ صَدَقَةٌ، وَصِيَامٍ صَدَقَةٌ، وَحَجٍّ صَدَقَةٌ، وَتَسْبِيحٍ صَدَقَةٌ، وَتَكْبِيرٍ صَدَقَةٌ، وَتَحْمِيدٍ صَدَقَةٌ، فَعَدَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ هَذِهِ الأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ، ثُمَّ قَالَ: < يُجْزِءُ أَحَدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَا الضُّحَى >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۲۸) (صحیح)

۱۲۸۶- ابو الاسود دُؤَلیِ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابو ذررضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے، تو اس کے لئے ہر صلاۃ کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے، ہر تکبیر ایک صدقہ ہے، اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ ﷺ نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا:’’ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں‘‘۔

1287- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ ابْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلاهُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ حَتَّى يُسَبِّحَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى لا يَقُولُ إِلا خَيْرًا غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۳۹) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’زبَّان ‘‘ ضعیف ہیں)
۱۲۸۷- معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص فجر کے بعد چاشت کے وقت تک اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے صلاۃ پڑھی ہے پھر چاشت کی دو رکعتیں پڑھے اس دوران سوائے خیر کے کوئی اور بات زبان سے نہ نکالے تو اس کی تمام خطائیں معاف کر دی جا ئیں گی وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں‘‘۔

1288- حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَانِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < صَلاةٌ فِي إِثْرِ صَلاةٍ لا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۶۳) (حسن)

۱۲۸۸- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک صلاۃ کے بعد دوسری صلاۃ کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے‘‘۔

1289- حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ أَبِي شَجَرَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < يَقُولُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لا تُعْجِزْنِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي أَوَّلِ نَهَارِكَ أَكْفِكَ آخِرَهُ >۔
* تخريج: تفردبہ ابوداود، ن/ الکبری الصلاۃ ۶۰ (۴۶۶، ۴۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۵۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۸۶، ۲۸۷)، دي/الصلاۃ ۱۵۰ (۱۴۹۲) (صحیح)

۱۲۸۹- نعیم بن ہمّار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ’’اے ابن آدم! اپنے دن کے شروع کی چا ر رکعتیں۱؎ ترک نہ کر کہ میں دن کے آخرتک تجھ کو کافی ہوں گا یعنی تیرا محافظ رہوں گا‘‘۔
وضاحت۱؎: علماء نے ان رکعتوں کو صلاۃ الضحیٰ پر محمول کیا ہے۔

1290- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَيَّاضُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ الْفَتْحِ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ سُبْحَةَ الضُّحَى، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِنَّ أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، وَلَمْ يَذْكُرْ سُبْحَةَ الضُّحَى، بِمَعْنَاهُ۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۲ (۱۳۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۱۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’عیاض‘‘ ضعیف ہیں، لیکن دوسری سندوں سے ام ہانی کی ’’صلاۃ الضحیٰ‘‘ کی حدیث صحیح ہے، دیکھئے اگلی حدیث)
۱۲۹۰- ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روزچاشت کی صلاۃ آٹھ رکعت پڑھی، آپ ہر دو رکعت پرسلام پھیرتے تھے۔
احمد بن صالح کی روایت میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز چاشت کی صلاۃ پڑھی، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔
ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لا ئے، اس میں انہوں نے چاشت کی صلاۃ کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔

1291- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، فَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ صَلاهُنَّ بَعْدُ۔
* تخريج: خ/تقصیر الصلاۃ ۱۲ (۱۱۰۳)، والتھجد ۳۱ (۱۱۷۶)، والجزیۃ ۹ (۳۱۷۱)، والغازي ۵۰ (۴۲۹۲)، والآدب ۹۴ (۶۱۵۱)، م/المسافرین ۱۳ (۳۳۶)، ت/الصلاۃ ۱۵ (۴۷۴)، ن/الطہارۃ ۱۴۳ (۲۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۰۷)، وقد أخرجہ: الحیض ۱۶ (۳۳۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۷ (۱۳۲۳)، ط/قصر الصلاۃ ۸ (۲۸)، حم (۶/۳۴۱، ۳۴۲، ۳۴۳، ۴۲۳)، دي/الصلاۃ ۱۵۱ (۱۴۹۳) (صحیح)

۱۲۹۱ - ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کو چاشت کی صلاۃ پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ صلاۃ پڑھتے نہیں دیکھا۔

1292- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَتْ: لا، إِلا أَنْ يَجِيئَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ؟ قَالَتْ: مِنَ الْمُفَصَّلِ۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۳ (۷۱۷)، ن/الصیام ۱۹ (۲۱۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۷۱، ۲۰۴ ، ۲۱۸) (صحیح)

۱۲۹۲- عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی صلاۃ پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔
میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ ﷺ دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: مفصل کی سورتیں (ملا کر پڑھتے تھے)۱؎۔
وضاحت: ’’سورۃ الحجرات‘‘ سے ’’سورۃ الناس‘‘ تک کی سورتیں مفصل کہلاتی ہیں۔

1293- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهَا قَالَتْ: مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ، وَإِنِّي لأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ۔
* تخريج: خ/التھجد ۵ (۱۱۲۸)، م/المسافرین ۱۳ (۷۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۹۰)، وقد أخرجہ: ط/قصر الصلاۃ ۸ (۲۹)، حم (۶/۸۵، ۸۶، ۱۶۷، ۱۶۹، ۲۲۳)، دي/الصلاۃ ۱۵۲ (۱۴۹) (صحیح)

۱۲۹۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی صلاۃ کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں اسے پڑھتی ہوں، رسول اللہ ﷺ بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔

1294- حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ؛ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا، فَكَانَ لايَقُومُ مِنْ مُصَلاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ ﷺ ۔
* تخريج: م/المساجد ۵۲ (۶۷۰)، والفضائل ۱۷ (۲۳۲۲)، ن/السھو ۹۹ (۱۳۵۹، ۱۳۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۵۵)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۲۹۵ (۵۸۵)، حم (۵/۹۱، ۹۷، ۱۰۰، ۰۱ ۱، ۱۰۵، ۱۰۷) (صحیح)

۱۲۹۴- سماک کہتے ہیں: میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کی مجالست (ہم نشینی) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر (آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا)، آپ ﷺ جس جگہ صلاۃِ فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ (صلاۃ اشراق کے لئے) کھڑے ہوتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
302-بَاب فِي صَلاةِ النَّهَارِ
۳۰۲- باب: دن کی صلاۃ کا بیان​

1295- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَائٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْبَارِقِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <صَلاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى>۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۳۰۱ (۵۹۷)، ن/قیام اللیل ۲۴ (۱۶۶۷)، ق/ إقامۃ الصلاۃ ۱۷۲ (۱۳۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۴۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۶، ۵۱)، دي/ الصلاۃ ۱۵۵(۱۵۰۰) (صحیح)

۱۲۹۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’رات اور دن کی صلاۃ دو دو رکعت۱؎ ہے‘‘۔

1296- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < الصَّلاةُ مَثْنَى مَثْنَى، أَنْ تَشَهَّدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَنْ تَبَائَسَ وَتَمَسْكَنَ وَتُقْنِعَ بِيَدَيْكَ وَتَقُولَ: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ >.
سئِلَ أَبودَاود عَنْ صَلاةِ اللَّيْلِ مَثْنَى، قَالَ: إِنْ شِئْتَ مَثْنَى، وَإِنْ شِئْتَ أَرْبَعًا۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۲ (۱۳۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۷) (ضعیف)
(اس کے راوی’’عبد اللہ بن نافع‘‘ مجہول ہیں)
۱۲۹۶- مطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’صلاۃ دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو: اے اللہ! اے اللہ!، جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی صلاۃ ناقص ہے‘‘۔
ابو داود سے رات کی صلاۃ دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
303- بَاب صَلاةِ التَّسْبِيحِ
۳۰۳- باب: صلاۃ التسبیح کا بیان​

1297- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ: < يَا عَبَّاسُ! يَا عَمَّاهُ، أَلا أُعْطِيكَ؟ أَلا أَمْنَحُكَ؟ أَلا أَحْبُوكَ؟ أَلا أَفْعَلُ بِكَ؟ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ، أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، سِرَّهُ وَعَلانِيَتَهُ، عَشْرَ خِصَالٍ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَائَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ قُلْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُلِلَّهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً >۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۹۰ (۱۳۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۳۸) (صحیح)

۱۲۹۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں آپ کوعطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ کو نہ دوں؟ کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالی آپ کے اگلے پچھلے، نئے پرانے، جانے انجانے، چھوٹے بڑے، چھپے اور کھلے، سارے گناہ معاف کر دے گا، وہ دس باتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت صلاۃ پڑھیں، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی ایک سورہ پڑھیں، جب پہلی رکعت کی قرأت کر لیں تو حالتِ قیام ہی میں پندرہ مرتبہ ’’سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ کہیں، پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں، پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر (دوسرا) سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب (دوسرے) سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں، تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا، یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں، اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں، ایسا بھی نہ کر سکیں تو ہر مہینے میں ایک بار، یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک با ر اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھرعمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں‘‘۔

1298- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَرَوْنَ أَنَّهُ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ : < ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَ > حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً، قَالَ: < إِذَا زَالَ النَّهَارُ فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ > فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: < ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ -يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ- فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلا تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا وَتَحْمَدَ عَشْرًا وَتُكَبِّرَ عَشْرًا وَتُهَلِّلَ عَشْرًا، ثُمَّ تَصْنَعَ ذَلِكَ فِي الأَرْبَعِ الرَّكَعَاتِ >، قَالَ: < فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ >، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ ؟ قَالَ: <صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ >.
قَالَ أَبودَاود: حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ خَالُ هِلالٍ الرَّأْيِ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَوْلُهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ، فَقَالَ: حَدِيثٌ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۰۶) (حسن صحیح)

۱۲۹۸- ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے، انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’کل تم میرے پاس آنا، میں تمہیں دوں گا،عنایت کروں گا اور نوازوں گا‘‘، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے (جب میں کل پہنچا تو) آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعت صلاۃ ادا کرو‘‘، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ: ’’پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کر لو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو‘‘، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہ گار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی‘‘، میں نے عرض کیا: اگر میں اس وقت یہ صلاۃ ادا نہ کر سکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کر لو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں:حبان بن ہلال: ہلال الرأی کے ماموں ہیں۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے مستمر بن ریان نے ابو الجوزاء سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔
نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، عمرو نے ابو الجوزاء سے ابو الجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ راوی نے روح کی روایت میں ’’فقال حديث عن النبي ﷺ‘‘ (تو ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث بیان کی) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔

1299- حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ ؛ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، حَدَّثَنِي الأَنْصَارِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لِجَعْفَرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُمْ، قَالَ فِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الرَّكْعَةِ الأُولَى كَمَا قَالَ فِي حَدِيثِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۹۴، ۱۵۶۳۶) (صحیح)

۱۲۹۹- عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی، پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
304- بَاب رَكْعَتَيِ الْمَغْرِبِ أَيْنَ تُصَلَّيَانِ
۳۰۴- باب: مغرب کی دو رکعت سنت کہاں پڑھی جائے؟​

1300- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِالأَشْهَلِ فَصَلَّى فِيهِ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا قَضَوْا صَلاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا، فَقَالَ: < هَذِهِ صَلاةُ الْبُيُوتِ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۳۰۷ (الجمعۃ ۷۱) (۶۰۴)، ن/قیام اللیل ۱ (۱۶۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۰۷) (حسن)

۱۳۰۰- کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ بنو عبدالا شہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی ، جب لوگ صلاۃ پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ تو گھروں کی صلاۃ ہے‘‘۔

1301- حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَانِ الْجَرْجَرَائِيُّ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُطِيلُ الْقِرَائَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَتَفَرَّقَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ، وَأَسْنَدَهُ، مِثْلَهُ.
قَالَ أَبودَاود: حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ عَنْ يَعْقُوبَ، مِثْلَهُ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۶۸، ۱۸۶۷۷) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’یعقوب بن عبد اللہ قمی‘‘ اور ’’جعفر‘‘ دونوں میں کلام ہے ، نیز ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے)
۱۳۰۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرأت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہو جاتے ( یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے)۔
ابو داود کہتے ہیں: نصرمجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: ہم سے اسے محمد بن عیسیٰ بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے نصر المجدّر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔

1302- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ، بِمَعْنَاهُ مُرْسَلاً.
قَالَ أَبودَاود: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَعْقُوبَ يَقُولُ: كُلُّ شَيْئٍ حَدَّثْتُكُمْ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فَهُوَ مُسْنَدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۶۸، ۱۸۶۷۷) (ضعیف)

۱۳۰۲- اس طریق سے بھی سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث مرسلاً روایت کی ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: میں نے محمد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ تمام روایتیں جن کو میں نے تم لوگوں سے ’’جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي ﷺ‘‘ کے طریق سے بیان کیا ہے، وہ مسند ہیں، سعید نے یہ روایتیں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
305- بَاب الصَّلاةِ بَعْدَ الْعِشَاءِ
۳۰۵- باب: عشاء کے بعد کی سنتوں کا بیان​

1303- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ بَشِيرٍ الْعِجْلِيُّ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟ فَقَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ، وَلَقَدْ مُطِرْنَا مَرَّةً بِاللَّيْلِ فَطَرَحْنَا لَهُ نِطَعًا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ثُقْبٍ فِيهِ يَنْبُعُ الْمَاءُ مِنْهُ وَمَا رَأَيْتُهُ مُتَّقِيًا الأَرْضَ بِشَيْئٍ مِنْ ثِيَابِهِ قَطُّ۔
* تخريج: تفردبہ ابوداود،(تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۵۸) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’مقاتل‘‘ لین الحدیث ہیں)
۱۳۰۳- شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی صلاۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لئے ایک چمڑا بچھا دیا ، گویا میں اس میں (اب بھی) وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آرہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا۔


* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

تہجد (قیام اللیل) کے احکام ومسائل
{ أَبْوَاب قِيَامِ اللَّيْلِ }


306- بَاب نَسْخِ قِيَامِ اللَّيْلِ وَالتَّيْسِيرِ فِيهِ
۳۰۶-باب: تہجد کی فرضیت کی منسوخی اور اس میں آسانی کا بیان​

1304- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ بْنِ شَبُّوَيْهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ فِي الْمُزَّمِّلِ: {قُمِ اللَّيْلَ إِلا قَلِيلاً، نِصْفَهُ} نَسَخَتْهَا الآيَةُ الَّتِي فِيهَا: {عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَئُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} وَ{نَاشِئَةُ اللَّيْلِ} أَوَّلُهُ، وَكَانَتْ صَلاتُهُمْ لأَوَّلِ اللَّيْلِ، يَقُولُ: هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، وَذَلِكَ أَنَّ الإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ يَدْرِ مَتَى يَسْتَيْقِظُ، وَقَوْلُهُ: {أَقْوَمُ قِيلاً} هُوَ أَجْدَرُ أَنْ يَفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ، وَقَوْلُهُ: {إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلاً} يَقُولُ: فَرَاغًا طَوِيلا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۵۴) (حسن)

۱۳۰۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سورۂ مزمل کی آیت {قُمِ اللَّيْلَ إِلا قَلِيلاً، نِصْفَهُ} ۱؎ (رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات) کو دوسری آیت {عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَئُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ}۲؎ (اسے معلوم ہے کہ تم اس کو پورا نہ کر سکو گے لہٰذا اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا اب تم جتنی آسانی سے ممکن ہو (صلاۃ میں قرآن پڑھا کرو) نے منسوخ کر دیا ہے،{نَاشِئَةُ اللَّيْلِ} کے معنی شروع رات کے ہیں، چنانچہ صحابہ کی صلاۃ شروع رات میں ہوتی تھی، اس لئے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیوں کہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور {أَقْوَمُ قِيلاً} سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لئے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول {إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلاً}۳؎ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے (لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو)۔
وضاحت۱؎: سورة المزمل: (۲،۳)
وضاحت۲؎: سورة المزمل: (۲۰)
وضاحت۳؎: سورة المزمل: ( ۷)

1305- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ -يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا، وَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا سَنَةٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۷۸) (صحیح)

۱۳۰۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سورہ مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو (صلاۃ میں) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورہ کا آخری حصہ نازل ہوا، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
307-بَاب قِيَامِ اللَّيْلِ
۳۰۷- باب: تہجد (قیام اللیل) کا بیان​

1306- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ مَكَانَ كُلِّ عُقْدَةٍ: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلانَ >۔
* تخريج: خ/التھجد ۱۲ (۱۱۴۲)، وبدء الخلق ۱۱ (۳۲۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۲۰)، وقد أخرجہ: م/المسافرین ۲۸ (۷۷۶)، ن/قیام اللیل ۵ (۱۶۰۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۴ (۱۳۲۹)، ط/قصر الصلاۃ ۲۵ (۹۵)، حم (۲/۲۴۳، ۲۵۳، ۲۵۹) (صحیح)
۱۳۰۶- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پرتھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی لمبی رات پڑی ہے، سوجاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کرلے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر صلاۃ پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بددلی کے ساتھ صبح کرتا ہے‘‘۔

1307- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللَّه عَنْهَا: لا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ لايَدَعُهُ، وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۲۶، ۲۴۹) (صحیح)

۱۳۰۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تہجد (قیام اللیل) نہ چھوڑو کیوں کہ رسول اللہ ﷺ اسے نہیں چھوڑتے تھے، جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔

1308- حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ؛ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < رَحِمَ اللَّهُ رَجُلا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ >۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۵ (۱۶۱۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۵ (۱۳۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵۰، ۴۳۶) (حسن صحیح) ویأتی ہذا الحدیث برقم (۱۴۵۰)

۱۳۰۸- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی اس شخص پر رحم فرما ئے جو رات کواٹھے اور صلاۃ پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدا ر کرے، اگر وہ نہ اٹھے تواس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالی اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر صلاۃ پڑھے اور اپنے شوہرکو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: کیونکہ پانی چھڑکنے سے وہ جاگ جائے گا اور صلاۃ ادا کرے گا تو وہ بھی ثواب کی مستحق ہو گی۔

1309- حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، الْمَعْنَى، عَنِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّيَا، أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا، كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ >.
وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ كَثِيرٍ، وَلاذَكَرَ أَبَاهُرَيْرَةَ، جَعَلَهُ كَلامَ أَبِي سَعِيدٍ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ وَأُرَاهُ ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ.
قَالَ أَبودَاود: وَحَدِيثُ سُفْيَانَ مَوْقُوفٌ۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۵ (۱۳۳۵) ویأتی ہذا الحدیث برقم (۱۵۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۶۵)، وقد أخرجہ: ن/الکبری / التفسیر (۱۱۴۰۶) (صحیح)

۱۳۰۹- ابو سعید اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں صلاۃ پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں‘‘۔
ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور نہ اس میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابو سعید رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیا ہے۔
ابوداود کہتے ہیں: اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
308- بَاب النُّعَاسِ فِي الصَّلاةِ
۳۰۸- باب: صلاۃ میں اونگھنے کا بیان​

1310- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ؛ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ >۔
* تخريج: خ/الوضوء ۵۳ (۲۱۲)، م/المسافرین ۳۱ (۷۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۱۴۷)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۴۶ (۳۵۵)، ن/الطھارۃ ۱۱۷ (۱۶۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۴ (۱۳۷۰)، ط/صلاۃ اللیل ۱ (۳)، حم (۶/۵۶، ۲۰۵)، دي/الصلاۃ ۱۰۷(۱۴۲۳) (صحیح)

۱۳۱۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے جب کوئی صلاۃ میں اونگھنے لگے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند چلی جائے، کیونکہ اگر وہ اونگھتے ہوئے صلاۃ پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنے چلے لیکن خود کو وہ بد دعا کر بیٹھے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎ : مثلا ’’اللهم اغفر‘‘ کے بجائے اس کی زبان سے ’’اللهم اعفر‘‘ نکلے۔


1311- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ، فَلْيَضْطَجِعْ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۳۱ (۷۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۷۲۱)، وقد أخرجہ: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۴ (۱۳۷۲)، حم (۲/۲۱۸) (صحیح)

۱۳۱۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی رات میں (صلاۃ پڑھنے کے لئے) کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چا ہئے کہ سو جائے‘‘۔

1312- حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ أَنَّ إِسْماَعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَسْجِدَ، وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: < مَاهَذَا الْحَبْلُ؟ > فَقِيلَ: يَا رَسُولُ اللَّهِ! هَذِهِ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُصَلِّي، فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ، فَإِذَا أَعْيَتْ فَلْتَجْلِسْ > قَالَ زِيَادٌ: فَقَالَ: < مَا هَذَا؟ > فَقَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي، فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ، فَقَالَ: <حُلُّوهُ> فَقَالَ: < لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا كَسِلَ، أَوْ فَتَرَ، فَلْيَقْعُدْ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۳۲ (۷۸۴)، ن/قیام اللیل ۱۵ (۱۶۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۵)، وقد أخرجہ: خ/التھجد ۱۸ (۱۱۵۰)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۴ (۱۳۷۱)، حم (۳/۱۰۱، ۱۸۴، ۲۰۴، ۲۰۵) (صحیح) دون ذکر حمنۃ

۱۳۱۲- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے، پوچھا: ’’یہ رسی کیسی بندھی ہے؟‘‘، عرض کیا گیا: یہ حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کی ہے، وہ صلاۃ پڑھتی ہیں اور جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، یہ سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جتنی طاقت ہو اتنی ہی صلاۃ پڑھا کریں، اور جب تھک جائیں تو بیٹھ جائیں‘‘۔
زیاد کی روایت میں یوں ہے: ’’آپ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: زینب رضی اللہ عنہا کی ہے، وہ صلاۃ پڑھا کرتی ہیں، جب سست ہو جاتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو تھام لیتی ہیں، آپ نے فرمایا: اسے کھول دو، تم میں سے ہرایک کو اسی وقت تک صلاۃ پڑھنا چاہئے جب تک نشاط رہے، جب سستی آنے لگے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
309- بَاب مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ
۳۰۹- باب: جو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟​

1313- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ (ح) وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ -الْمَعْنَى- عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ وَعُبَيْدَاللَّهِ أَخْبَرَاهُ أَنَّ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ - قَالَ عَنِ ابْنِ وَهْبِ بْنِ عَبْدِالْقَارِيِّ- قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْئٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ مَا بَيْنَ صَلاةِ الْفَجْرِ وَصَلاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۸ (۷۴۷)، ت/الصلاۃ ۲۹۱ (الجمعۃ۵۶) (۵۸۱)، ن/قیام اللیل ۵۶ (۱۷۹۱، ۱۷۹۲، ۱۷۹۳)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۷ (۱۳۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۹۲)، وقد أخرجہ: ط/القرآن ۳ (۳)، حم (۱/۳۲، ۵۳)، دي/الصلاۃ ۱۶۷ (۱۵۱۸) (صحیح)

۱۳۱۳- عبد الرحمن بن عبد القاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے: ’’جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
310- بَاب مَنْ نَوَى الْقِيَامَ فَنَامَ
۳۱۰- باب: جس نے تہجد کی نیت کی پھر سویا رہ گیا​

1314- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ عِنْدَهُ رَضِيٍّ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <مَا مِنِ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلاةٌ بِلَيْلٍ يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلا كُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلاتِهِ، وَكَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً >۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۵۲ (۱۷۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۰۷)، وقد أخرجہ: ط/ صلاۃ اللیل ۱ (۱)، حم (۶/۶۳، ۷۲، ۱۸۰) (صحیح)

۱۳۱۴- سعید بن جبیر نے ایک ایسے شخص سے جوان کے نزدیک پسندیدہ ہے روایت کی ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی شخص جو رات کو تہجد پڑھتا ہو اور کسی رات اس پر نیند غالب آجائے (اور وہ نہ اٹھ سکے) تو اس کے لئے صلاۃ کا ثواب لکھا جائے گا، اس کی نیند اس پر صدقہ ہو گی‘‘۔
 
Top