23- بَاب مَنْ يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَةِ وَحَدُّ الْغِنَى
۲۳- باب: زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟
1626- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ فِي وَجْهِهِ >، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْغِنَى؟ قَالَ: < خَمْسُونَ دِرْهَمًا، أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ >.
قَالَ يَحْيَى: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ لِسُفْيَانَ: حِفْظِي أَنَّ شُعْبَةَ لا يَرْوِي عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ سُفْيَانُ: فقد حَدَّثَنَاهُ زُبَيْدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ۔
* تخريج: ت/الزکاۃ ۲۲ (۶۵۰)، ن/الزکاۃ ۸۷ (۲۵۹۳)، ق/الزکاۃ ۲۶ (۱۸۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۸، ۴۴۱)، دي/الزکاۃ ۱۵ (۱۶۸۰) (صحیح)
۱۶۲۶- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو سوال کرے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے اس سوال سے مستغنی اور بے نیاز کرتی ہو تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر خموش یا خدوش یا کدوح یعنی زخم ہوں گے‘‘، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کتنے مال سے آدمی غنی ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے ہوں‘‘۔
یحییٰ کہتے ہیں: عبد اللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا: مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے۱؎ تو سفیان نے کہا: ہم سے اسے زبید نے محمد بن عبد الرحمن بن یزید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔
وضاحت۱؎: یعنی حکیم بن جبیر ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت زبید کر رہے ہیں جس سے یہ ضعف جاتا رہا۔
1627- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ؛ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ: نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَقَالَ لِي أَهْلِي: اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ، فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلا يَسْأَلُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <لاأَجِدُ مَا أُعْطِيكَ >، فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ، وَهُوَ يَقُولُ: لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ، مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عِدْلُهَا، فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا >، قَالَ الأَسَدِيُّ: فَقُلْتُ: لَلِقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ [اَ] وَزَبِيبٌ، فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ، أَوْ كَمَا قَالَ: حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ.
قَالَ أَبودَاود: هَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ كَمَا قَالَ مَالِكٌ۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۹۰ (۲۵۹۷)، ( تحفۃ الأشراف :۱۵۶۴۰)، وقد أخرجہ: ط/الصدقۃ ۱(۳)، حم (۴/۳۶،۵/۴۳۰) (صحیح) ۱۶۲۷- بنی اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی بقیع غرقد میں جا کر اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پا س جاؤ اور ہمارے لئے کچھ مانگ کر لاؤ جو ہم کھائیں، پھر وہ لوگ اپنی محتاجی کا ذکر کرنے لگے، چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا، وہ آپ سے مانگ رہا تھا اور آپ اس سے کہہ رہے تھے: میرے پاس کچھ نہیں ہے جو میں تجھے دوں، آخر وہ ناراض ہو کر یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میری عمر کی قسم، تم جسے چاہتے ہو دیتے ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ میرے اوپر اس لئے غصہ ہو رہا ہے کیونکہ اسے دینے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے، تم میں سے جو سوال کرے اور اس کے پاس ایک اوقیہ (چا لیس درہم) یا اس کے برابر مالیت ہو تو وہ الحاح کے ساتھ سوال کرنے کا مرتکب ہوتا ہے۱؎ ‘‘، اسدی کہتے ہیں: میں نے (اپنے جی میں) کہا: ہماری اونٹنی تو اوقیہ سے بہتر ہے، اوقیہ تو چالیس ہی درہم کا ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں لوٹ آیا اور آپ سے کچھ بھی نہیں مانگا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس جو اور منقّی آیا، آپ نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا،
’’أو كما قال‘‘ یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنی کر دیا۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ثوری نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مالک نے کیا ہے۔
وضاحت۱؎: حدیث میں الحاف ہے یعنی الحاح اور شدید اصرار، ایسا سوال کرنا قرآن کے مطابق ناپسندیدہ عمل ہے۔
1628- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ [أَبِي سَعِيدٍ]، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ >، فَقُلْتُ: نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، قَالَ هِشَامٌ: خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، فَرَجَعْتُ، فَلَمْ أَسْأَلْهُ [شَيْئًا]، زَادَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَتِ الأُوقِيَّةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۸۹ (۲۵۹۶)، ( تحفۃ الأشراف :۴۱۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۹) (حسن)
۱۶۲۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہو تو اس نے الحاف کیا‘‘، میں نے (اپنے جی میں) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے۔
(ہشام کی روایت میں ہے: چالیس درہم سے بہتر ہے)، چنانچہ میں لوٹ آیا اور میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگا۱؎ ۔
ہشام کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اوقیہ رسول اللہ ﷺ کے زما نے میں چالیس درہم کا ہوتا تھا۔
وضاحت۱؎: آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو اللہ کے رسول ﷺ سے کچھ مانگنے کے لئے بھیجا تھا جیسا کہ نسائی کی روایت میں صراحت ہے۔
1629- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَالأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، فَسَأَلاهُ فَأَمَرَ لَهُمَا بِمَا سَأَلا، وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ لَهُمَا بِمَا سَأَلا، فَأَمَّا الأَقْرَعُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ، فَلَفَّهُ فِي عِمَامَتِهِ وَانْطَلَقَ، وَأَمَّا عُيَيْنَةُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ، وَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ مَكَانَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتُرَانِي حَامِلا إِلَى قَوْمِي كِتَابًا لا أَدْرِي مَا فِيهِ كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ، فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ بِقَوْلِهِ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ > وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: < مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ >، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا يُغْنِيهِ؟
وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: وَمَا الْغِنَى الَّذِي لا تَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ؟ قَالَ: < قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ >.
وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: < أَنْ يَكُونَ لَهُ شِبْعُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ > وَكَانَ حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصَرًا عَلَى هَذِهِ الأَلْفَاظِ الَّتِي ذَكَرْتُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۴۶۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۸۰، ۱۸۱) (صحیح)
۱۶۲۹- ابو کبشہ سلولی کہتے ہیں ہم سے سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے، انہوں نے آپ سے مانگا، آپ نے انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دینے کا حکم دیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لئے خط لکھ دیں جو انہوں نے مانگا ہے، اقرع نے یہ خط لے کراسے اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلے گئے لیکن عیینہ خط لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: محمد! کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کے پاس ایسا خط لے کر جاؤں جو متلمس۱؎ کے صحیفہ کی طرح ہو، جس کا مضمون مجھے معلوم نہ ہو؟۔
معاویہ نے ان کی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو سوال کرے اس حال میں کہ اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے سوال سے بے نیاز کر دیتی ہو تو وہ جہنم کی آگ زیادہ کرنا چاہ رہا ہے‘‘۔
(ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے’’جہنم کی آگ‘‘ کے بجائے ’’جہنم کا انگارہ‘‘ کہا ہے)۔
لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس قدر مال آدمی کو غنی کر دیتا ہے؟۔
(نفیلی نے ایک دوسرے مقام پر کہا: غنیٰ کیا ہے، جس کے ہوتے ہوئے سوال نہیں کرنا چاہئے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اتنی مقدار جسے وہ صبح و شام کھا سکے‘‘۔
ایک دوسری جگہ میں نفیلی نے کہا: اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کا کھانا ہو، نفیلی نے اسے مختصراً ہم سے انہیں الفاظ کے ساتھ بیان کیا جنہیں میں نے ذکر کیا ہے۔
وضاحت۱؎: متلمس ایک شاعر گزرا ہے، اس نے بادشاہ عمرو بن ہند کی ہجو کی تھی، بادشاہ نے کمال ہوشیاری سے اپنے عامل کے نام خط لکھ کر اس کو دیا اور کہا کہ تم اس لفافے کو لے کر فلاں عامل کے پاس جاؤ، وہ تمہیں انعام سے نوازے گا، خط میں ہجو کے جرم میں اسے قتل کر دینے کا حکم تھا، راستہ میں متلمس کو شبہہ ہوا، اس نے لفافہ پھاڑ کر خط پڑھا تو اس میں اس کے قتل کا حکم تھا، چنانچہ اس نے خط پھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی جان بچا لی۔
1630- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ- عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَبَايَعْتُهُ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلا [قَالَ]: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلا غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ، فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَائٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۳۶۵۴) (ضعیف)(اس کے راوی ’’عبدالرحمن افریقی‘‘ ضعیف ہیں)
۱۶۳۰- زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی ، پھر ایک لمبی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے کہا: آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: مجھے صدقے میں سے دیجئے، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ’’اللہ تعالی صدقے کے سلسلے میں نہ پیغمبر کے اور نہ کسی اور کے حکم پر راضی ہوا بلکہ خود اس نے اس سلسلے میں حکم دیا اور اسے آٹھ حصوں میں بانٹ دیا اب اگر تم ان آٹھوں۱؎ میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دوں گا‘‘۔
وضاحت۱؎: ان آٹھ قسموں کا ذکر اس آیت میں ہے:
{إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ} (سورة التوبة:۶۰)، ’’زکاۃ صرف فقراء، مساکین اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے ہے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے ہے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے یہ فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والاہے‘‘۔
1631- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَالأَكْلَةُ وَالأَكْلَتَانِ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا وَلا يَفْطِنُونَ بِهِ فَيُعْطُونَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۱۲۳۵۵)، وقد أخرجہ: خ /الزکاۃ ۵۳ (۱۴۷۶)، وتفسیر البقرۃ ۴۸ (۴۵۳۹)، م/الزکاۃ ۳۴ (۱۰۳۹)، ن/الزکاۃ ۷۶ (۲۵۷۲)، ط/ صفۃ النبی ۵ (۷)، حم (۲/۲۶۰، ۳۱۶، ۳۹۳، ۴۴۵، ۴۵۷)، دي/الزکاۃ ۲ (۱۶۵۶) (صحیح)
۱۶۳۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے، بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو، اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں‘‘۔
1632- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَعُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو كَامِلٍ، الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ ابْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِثْلَهُ، قَالَ: < وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ > زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: < لَيْسَ لَهُ مَا يَسْتَغْنِي بِهِ الَّذِي لا يَسْأَلُ وَلا يُعْلَمُ بِحَاجَتِهِ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ فَذَاكَ الْمَحْرُومُ>، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ: < الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لا يَسْأَلُ >.
قَالَ أَبودَاود: رَوَى هَذَا [الْحَدِيثَ] مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، وَجَعَلا الْمَحْرُومَ مِنْ كَلامِ الزُّهْرِيِّ، وَهُوَ أَصَحُّ۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۷۶ (۲۵۷۴)، ( تحفۃ الأشراف :۱۵۲۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۶۰) (صحیح) دون قوله: ’’فذاك المحروم‘‘ فإنه مقطوع من كلام الزهري
۱۶۳۲- اس سند سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں ہے: لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ (مسکین وہ ہے) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے، اسی کو محروم کہتے ہیں، اور مسدد نے ’’المتعفف الذي لا يسأل‘‘ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ثور اور عبد الرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے
’’فذاك المحروم‘‘ کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
1633- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يُقَسِّمُ الصَّدَقَةَ، فَسَأَلاهُ مِنْهَا، فَرَفَعَ فِينَا الْبَصَرَ وَخَفَضَهُ، فَرَآنَا جَلْدَيْنِ، فَقَالَ: < إِنَّ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا، وَلاحَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ >۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۹۱ (۲۵۹۹)، ( تحفۃ الأشراف :۱۵۶۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲۴، ۵/۳۶۲)، (صحیح)
۱۶۳۳- عبید اللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے، انہوں نے بھی آپ سے مانگا، آپ ﷺ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور پھر نظر جھکا لی، آپ نے ہمیں موٹا تازہ دیکھ کر فرمایا: ’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں دے دوں لیکن اس میں مالدار کا کوئی حصہ نہیں اور نہ طاقتور کا جو مزدوری کر کے کما سکتا ہو‘‘۔
1634- حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الأَنْبَارِيُّ الْخُتُّلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ -يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ- قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ؛ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <لاتَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ>.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: < لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ > وَالأَحَادِيثُ الأُخَرُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بَعْضُهَا: < لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ > وَبَعْضُهَا: <لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ> و قَالَ عَطَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ: أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، فَقَالَ: إِنَّ الصَّدَقَةَ لا تَحِلُّ لِقَوِيٍّ وَلا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ۔
* تخريج: ت/الزکاۃ ۲۳ (۶۵۲)، ( تحفۃ الأشراف :۸۶۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۴، ۱۹۲)، دي/الزکاۃ ۱۵ (۱۶۷۹) (صحیح)
۱۶۳۴- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’صدقہ مالدار کے لئے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لئے (حلال ہے) ‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے سفیان نے سعد بن ابراہیم سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے ابراہیم نے کہا ہے نیز اسے شعبہ نے سعد سے روایت کیا ہے، اس میں ’’لذي مرة سوي‘‘ کے بجائے
’’لذي مرة قوي‘‘ کے الفاظ ہیں، نبی اکرم ﷺ سے مروی بعض روایات میں
’’لذي مرة قوي‘‘ اور بعض میں
’’لذي مرة سوي‘‘ کے الفاظ ہیں ۔
عطاء بن زہیر کہتے ہیں: عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا:
’’إن الصدقة لا تحل لقوي ولا لذي مرة سوي‘‘۔