• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
42-بَاب فِي الْمَنِيحَةِ
۴۲- باب: عطیہ دینے کا بیان​

1683- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى -وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، وَهُوَ أَتَمُّ- عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <أَرْبَعُونَ خَصْلَةً أَعْلاهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنْزِ، مَا يَعْمَلُ رَجُلٌ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ >. [قَالَ أَبودَاود] فِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ قَالَ حَسَّانُ: فَعَدَدْنَا مَا دُونَ مَنِيحَةِ الْعَنْزِ مِنْ رَدِّ السَّلامِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَنَحْوَهُ، فَمَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نَبْلُغَ خَمْسَةَ عَشَرَ خَصْلَةً۔
* تخريج: خ/الھبۃ ۳۵ (۲۶۳۱)، ( تحفۃ الأشراف :۸۹۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۰، ۱۹۴، ۱۹۶) (صحیح)

۱۶۸۳- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’چالیس خصلتیں ہیں ان میں سب سے بہتر خصلت بکری کا عطیہ دینا ہے، جو کوئی بھی ان میں سے کسی (خصلت نیک کام) کو ثواب کی امید سے اور (اللہ کی طرف سے) اپنے سے کئے ہوئے وعدے کو سچ سمجھ کر کرے گا اللہ اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: مسدد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حسان کہتے ہیں: ہم نے بکری عطیہ دینے کے علاوہ بقیہ خصلتوں اعمال صالحہ کو گنا جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ خصلتوں تک بھی نہیں پہنچ سکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
43- بَاب أَجْرِ الْخَازِنِ
۴۳- باب: خازن (خزانچی) کے ثواب کا بیان​

1684- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ الْخَازِنَ الأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۲۵ (۱۴۳۸)، والإجارۃ ۱ (۲۲۶۰)، والوکالۃ ۱۶ (۲۳۱۹)، م/الزکاۃ ۲۵ (۱۰۲۳)، ن/الزکاۃ ۶۷ (۲۵۶۱)، (تحفۃ الأشراف :۹۰۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/ ۳۹۴، ۴۰۴، ۴۰۹) (صحیح)

۱۶۸۴- ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’امانت دار خازن جو حکم کے مطابق پورا پورا خوشی خوشی اس شخص کو دیتا ہے جس کے لئے حکم دیا گیا ہے تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
44- بَاب الْمَرْأَةِ تَتَصَدَّقُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا
۴۴- باب: عورت کا اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دینے کا بیان​

1685- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُ مَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُ مَا اكْتَسَبَ، وَلِخَازِنِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، لا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۱۷ (۱۴۲۵)، ۲۵ (۱۴۳۷)، ۲۶ (۱۴۴۰)، والبیوع ۱۲ (۲۰۶۵)، م/الزکاۃ ۲۵ (۱۰۲۴)، ت/الزکاۃ ۳۴ (۶۷۲)، ن/الزکاۃ ۵۷ (۲۵۴۰)، ق/التجارات ۶۵ (۲۲۹۴)، ( تحفۃ الأشراف : ۱۷۶۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۴، ۹۹، ۲۷۸) (صحیح)

۱۶۸۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کسی فساد کی نیت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور مال کمانے کا ثواب اس کے شوہر کو اور خازن کو بھی اسی کے مثل ثواب ملے گا اور ان میں سے کوئی کسی کے ثواب کو کم نہیں کرے گا‘‘۔

1686- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ [بْنِ حَيَّةَ]، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ النِّسَاءُ قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا كَلٌّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا قَالَ أَبودَاود: وَأُرَى فِيهِ وَأَزْوَاجِنَا، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ؟ فَقَالَ: < الرَّطْبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ >.
قَالَ أَبودَاود : الرَّطْبُ الْخُبْزُ وَالْبَقْلُ وَالرُّطَبُ.
قَالَ أَبودَاود : وَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ يُونُسَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۳۸۵۳) (ضعیف)
(اس کے رواۃ ’’عبدالسلام‘‘ اور’’زیاد‘‘ کے اندر کچھ کلام ہے)
۱۶۸۶- سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے بیعت کی تو ایک موٹی عورت جو قبیلہ مضر کی لگتی تھی کھڑی ہوئی اور بولی: اللہ کے نبی! ہم (عورتیں) تو اپنے باپ اور بیٹوں پر بوجھ ہوتی ہیں۔
ابو داود کہتے ہیں: میرے خیال میں ’’أزواجنا‘‘ کا لفظ کہا (یعنی اپنے شوہروں پر بوجھ ہوتی ہیں)، ہمارے لئے ان کے مالوں میں سے کیا کچھ حلال ہے (کہ ہم خرچ کر یں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’رطب ہے تم اسے کھاؤ اور ہدیہ بھی کرو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: رَطْبَ روٹی، ترکاری اور تر کھجوریں ہیں۔
ابو داود کہتے ہیں: اور ثوری نے بھی یونس سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔

1687- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهَا نِصْفُ أَجْرِهِ >۔
* تخريج: خ/البیوع ۱۲ (۲۰۶۶)، والنکاح ۸۶ (۵۱۹۲)، والنفقات ۵ (۵۳۶۰)، م/الزکاۃ ۲۶ (۱۰۲۶)، ( تحفۃ الأشراف :۱۴۶۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۴۵، ۳۱۶) (صحیح)

۱۶۸۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس (شوہر) کا آدھا ثواب ملے گا‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ اس مقدار پر محمول ہو گا جس کی عرفاً و عادۃً شوہر کی طرف سے بیوی کوخرچ کرنے کی اجازت ہوتی ہے، اگرچہ اس کی طرف سے صریح اجازت اسے حاصل نہ ہو، رہا اس سے زیادہ مقدار کا معاملہ تو شوہر کی صریح اجازت کے بغیر وہ اسے خرچ نہیں کرسکتی۔

1688- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ، عَنْ عَطَائٍ؛ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي الْمَرْأَةِ تَصَدَّقُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، قَالَ: لا، إِلا مِنْ قُوتِهَا، وَالأَجْرُ بَيْنَهُمَا، وَلا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا إِلا بِإِذْنِهِ.
[قَالَ أَبودَاود : هَذَا يُضَعِّفُ حَدِيثَ هَمَّامٍ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۱۴۱۸۵) (صحیح موقوف)

۱۶۸۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے کسی نے پوچھا، عورت بھی اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ اپنے خرچ میں سے دے سکتی ہے اور ثواب دونوں (میاں بیوی) کو ملے گا اور اس کے لئے یہ درست نہیں کہ شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ دے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث ہمام کی (پچھلی) حدیث کی تضعیف کرتی ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ عبارت سنن ابوداود کے اکثر نسخوں میں نہیں ہے، ہمام بن منبہ کی روایت صحیح ہے، اس کی تخریج بخاری و مسلم نے کی ہے، اس میں کوئی علت بھی نہیں ہے، لہٰذا ابو داود کا یہ کہنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے جب کہ عطا سے مروی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت موقوف ہے، اور دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق بھی ممکن ہے جیسا کہ نووی نے شرح مسلم میں ذکر کیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
45-بَاب فِي صِلَةِ الرَّحِمِ
۴۵- باب: رشتے داروں سے صلہ رحمی (اچھے برتاؤ) کا بیان​

1689- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ [هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ] عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَارَسُولَ اللَّهِ أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا، فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بِأَرِيحَاءَ لَهُ، فَقَالَ [لَهُ] رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ >، فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
قَالَ أَبودَاود: بَلَغَنِي عَنِ الأَنْصَارِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الأَسْوَدِ ابْنِ حَرَامِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، وَحَسَّانُ: ابْنُ ثَابِتِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ حَرَامٍ، يَجْتَمِعَانِ إِلَى حَرَامٍ وَهُوَ الأَبُ الثَّالِثُ، وَأُبَيُّ: ابْنُ كَعْبِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَتِيكِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، فَعَمْرٌو يَجْمَعُ حَسَّانَ وَأَبَا طَلْحَةَ وَأُبَيًّا، قَالَ الأَنْصَارِيُّ: بَيْنَ أُبَيٍّ وَأَبِي طَلْحَةَ سِتَّةُ آبَائٍ۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن (آل عمران) ۶ (۲۹۲۷)، ( تحفۃ الأشراف :۳۱۵)، وقد أخرجہ: خ/الوکالۃ ۱۵ (۲۳۱۸)، والوصایا ۱۰ (۲۷۵۲)، وتفسیر القرآن ۵ (۴۵۵۴)، والأشربۃ ۱۳ (۵۶۱۱)، م/الزکاۃ ۱۳ (۹۹۸)، ط/الجامع ۸۳، حم (۳/۱۱۵، ۲۸۵)، دي/الزکاۃ ۲۳ (۱۶۹۵) (صحیح)

۱۶۸۹- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ کی آیت نازل ہوئی تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مال مانگ رہا ہے، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اریحاء نامی اپنی زمین اسے دے دی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو‘‘، تو انہوں نے اسے حسّان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کے درمیان تقسیم کر دیا۔
ابو داود کہتے ہیں: مجھے محمد بن عبد اللہ انصاری سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ابو طلحہ کا نام: زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو ابن زید مناۃ بن عدی بن عمر و بن مالک بن النجار ہے، اور حسان: ثابت بن منذر بن حرام کے بیٹے ہیں، اس طرح ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اور حسان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب حرام پر مل جاتا ہے وہی دونوں کے تیسرے باپ (پر دادا) ہیں، اور ابی رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے: ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار، اس طرح عمرو: حسان، ابو طلحہ اور ابی تینوں کو سمیٹ لیتے ہیں یعنی تینوں کے جدّ اعلیٰ ہیں، انصاری (محمد بن عبد اللہ) کہتے ہیں: ابی رضی اللہ عنہ اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے نسب میں چھ آباء کا فاصلہ ہے۔

1690- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَتْ: كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ فَأَعْتَقْتُهَا، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ ﷺ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: < آجَرَكِ اللَّهُ، أَمَا إِنَّكِ لَوْ [كُنْتِ] أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لأَجْرِكِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۱۸۰۵۸)، وقد أخرجہ: خ/الہبۃ ۱۵ (۲۵۹۲)، م/الزکاۃ ۱۴ (۹۹۹)، ن/الکبری/المعتق (۴۹۳۲) (صحیح)

۱۶۹۰- ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی، میں نے اسے آزاد کر دیا، میرے پاس نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی خبر دی، اس پرآپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی تمہیں اجرعطا کرے، لیکن اگر تو اس لونڈی کو اپنے ننھیال کے لوگوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لئے بڑے اجر کی چیز ہوتی‘‘۔

1691- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ؛ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عِنْدِي دِينَارٌ، فَقَالَ: < تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ >، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: < تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ >، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: < تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ > أَوْ قَالَ: <زَوْجِكَ >، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: < تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ >، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: < أَنْتَ أَبْصَرُ >۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۵۴ (۲۵۳۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵۱، ۴۷۱) (حسن)

۱۶۹۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے اپنے کام میں لے آو‘‘، تو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے اپنے بیٹے کو دے دو‘‘، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے اپنی بیوی کو دے دو‘‘، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے اپنے خادم کو دیدو‘‘، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو (کہ کسے دیا جائے)‘‘۔

1692- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ الْخَيْوَانِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۸۹۴۳)، وقد أخرجہ: م/الزکاۃ ۱۲ (۹۹۶)، ن/الکبری/عشرۃ النساء (۹۱۷۶)، حم (۲/۱۶۰، ۱۹۴، ۱۹۵) (صحیح)

۱۶۹۲- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آدمی کے گنہگار ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے ضائع کر دے‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎ : یعنی جن کی کفالت اس کے ذمہ ہو ان سے قطع تعلق کرکے نیکی کے دوسرے کاموں میں اپنا مال خرچ کرے۔

1693- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٌ وَيَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ عَلَيْهِ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۱۵۱۶، ۱۵۵۵)، وقد أخرجہ: خ/البیوع ۱۳ (۲۰۶۷)، والأدب ۱۲ (۵۹۸۶)، م/البر والصلۃ ۶ (۲۵۵۹)، حم (۲۳۹۳، ۲۴۷) (صحیح)

۱۶۹۳- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس کے لئے یہ بات باعث مسرت ہو کہ اس کے رزق میں اور عمر میں درازی ہو جائے تو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے (یعنی قرابت داروں کا خیال رکھے)‘‘۔

1694- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < قَالَ اللَّهُ: أَنَا الرَّحْمَنُ وَهِيَ الرَّحِمُ، شَقَقْتُ لَهَا اسْمًا مِنِ اسْمِي، مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ > ۔
* تخريج: ت/البر والصلۃ ۹ (۱۹۰۷)، ( تحفۃ الأشراف :۹۷۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۹۱، ۱۹۴) (صحیح)

۱۶۹۴- عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں رحمن ہوں اور رَحِم ْ (ناتا) ہی ہے جس کا نام میں نے اپنے نام سے مشتق کیا ہے، لہٰذا جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے کاٹے گا، میں اسے کاٹ دوں گا‘‘۔

1695- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ الرَّدَّادَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، بِمَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف :۹۷۲۸) (صحیح)

۱۶۹۵- اس سند سے بھی عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث سنی ہے۔

1696- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ، قَالَ: < لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ [رَحِمٍ] >۔
* تخريج: خ/الأدب ۱۱ (۵۹۸۴)، م/البر والصلۃ ۶ (۲۵۵۶)، ت/البر والصلۃ ۱۰ (۱۹۰۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۳۱۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۰، ۸۳، ۸۴، ۸۵، ۳۸۲، ۳۸۹، ۳۹۷، ۴۰۳) (صحیح)

۱۶۹۶- جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’رشتہ ناتا توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا‘‘۔

1697- حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو وَفِطْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ سُفْيَانُ: وَلَمْ يَرْفَعْهُ سُلَيْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، وَرَفَعَهُ فِطْرٌ وَالْحَسَنُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنْ [هُوَ] الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا >۔
* تخريج: خ/الأدب ۱۵ (۵۹۹۱)، ت/البر والصلۃ ۱۰ (۱۹۰۸)، ( تحفۃ الأشراف :۸۹۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۳، ۱۹۰، ۱۹۳) (صحیح)

۱۶۹۷- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’رشتہ ناتا جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں ناتا جوڑے بلکہ ناتا جوڑنے والا وہ ہے کہ جب ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
46- بَاب فِي الشُّحِّ
۴۶- باب: حرص اور بخل کی برائی کا بیان​

1698- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: <إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالشُّحِّ: أَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۸۶۲۸)، وقد أخرجہ: ن/الکبری (۱۱۵۸۳)، حم (۲/۱۵۹، ۱۶۰، ۱۹۱، ۱۹۵) (صحیح)

۱۶۹۸- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا:’’بخل و حرص سے بچو اس لئے کہ تم سے پہلے لوگ بخل و حرص کی وجہ سے ہلاک ہوئے، حرص نے لوگوں کو بخل کا حکم دیا تو وہ بخیل ہو گئے، بخیل نے انہیں ناتا توڑنے کو کہا تو لوگوں نے ناتا توڑ لیا اور اس نے انہیں فسق و فجور کا حکم دیا تو وہ فسق و فجور میں لگ گئے‘‘۔

1699- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا لِي شَيْئٌ إِلا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ بَيْتَهُ أَفَأُعْطِي مِنْهُ؟ قَالَ: < أَعْطِي وَلا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ >۔
* تخريج: ت/البروالصلۃ ۴۰ (۱۹۶۰)، ن/الزکاۃ ۶۲ (۲۵۵۱، ۲۵۵۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۱۸)، وقد أخرجہ: خ/الزکاۃ ۲۱ (۱۴۳۳)، ۲۲ (۱۴۳۴)، والھبۃ ۱۵ (۲۵۹۰)، م/الزکاۃ ۲۸ (۱۰۲۹)، حم (۶/۱۳۹، ۳۴۴، ۳۵۳، ۳۵۴) (صحیح)

۱۶۹۹- اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں جو زبیر میرے لئے گھر میں لا دیں، کیا میں اس میں سے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’دو اور اسے بند کر کے نہ رکھو کہ تمہارا رزق بھی بند کر کے رکھ دیا جائے‘‘۔

1700- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ؛ عَنْ عَائِشَةِ أَنَّهَا ذَكَرَتْ عِدَّةً مِنْ مَسَاكِينَ، قَالَ أَبودَاود: وقَالَ غَيْرُهُ: أَوْ عِدَّةً مِنْ صَدَقَةٍ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَعْطِي وَلا تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۳۴)، وقد أخرجہ: ن/الزکاۃ ۶۲ (۲۵۵۲)، حم (۶/۱۰۸، ۱۳۹، ۱۶۰) (صحیح)

۱۷۰۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کئی مسکینوں کا ذکر کیا (ابو داود کہتے ہیں: دوسروں کی روایت میں ’’عِدَّةٌ مِنْ صَدَقَةٍ‘‘ (کئی صدقوں کا ذکر ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’دو اور گنو مت کہ تمہیں بھی گن گن کر رزق دیا جائے‘‘۔


* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لقطہ کے احکام و مسائل

{ 4- كِتَاب اللُّقَطَةِ }
۴- کتاب: لقطہ کے احکام و مسائل۱؎
وضاحت ۱؎ : ’’لقطة‘‘: راستہ سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیزیں۔
1- بَاب التَّعْرِيفِ بِاللُّقَطَةِ
۱- باب: لقطہ کی پہچان کرانے کا بیان​

1701- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا، فَقَالا لِيَ: اطْرَحْهُ، فَقُلْتُ: لا، وَلَكِنْ إِنْ وَجَدْتُ صَاحِبَهُ وَإِلا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ، فَحَجَجْتُ، فَمَرَرْتُ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَسَأَلْتُ أُبَيَّ ابْنَ كَعْبٍ، فَقَالَ: وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: < عَرِّفْهَا حَوْلاً >، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: < عَرِّفْهَا حَوْلا >، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: < عَرِّفْهَا حَوْلا >، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: <احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِكَائَهَا وَوِعَائَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا >، وَقَالَ: [وَ]لا أَدْرِي أَثَلاثًا، قَالَ: < عَرِّفْهَا > أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً .
* تخريج: خ/اللقطۃ ۱ (۲۴۲۶)، ۱۰ (۲۴۳۷)، م/اللقطۃ ۱ (۱۷۲۳)، ت/الأحکام ۳۵ (۱۳۷۴)، ن/الکبری/ اللقطۃ (۵۸۲۰، ۵۸۲۱)، ق/اللقطۃ ۲ (۲۵۰۶)، ( تحفۃ الأشراف :۲۸)، وقدأخرجہ: حم (۵/۱۲۶، ۱۲۷) (صحیح)

۱۷۰۱- سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ساتھ جہاد کیا، مجھے ایک کوڑا پڑا ملا، ان دونوں نے کہا: اسے پھینک دو، میں نے کہا: نہیں، بلکہ اگر اس کا مالک مل گیا تو میں اسے دے دوں گا اور اگر نہ ملا تو خود میں اپنے کام میں لاؤں گا، پھر میں نے حج کیا، میرا گزر مدینے سے ہوا، میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک تھیلی ملی تھی، اس میں سو دینار تھے، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ نے فرمایا: ’’ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ‘‘، چنانچہ میں ایک سال تک اس کی پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک سال اور پہچان کراؤ‘‘، میں نے ایک سال اور پہچان کرائی، اس کے بعد پھر آپ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک سال پھر پہچان کراؤ‘‘، چنانچہ میں ایک سال پھر پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے عرض کیا: مجھے کوئی نہ ملا جو اسے جانتا ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس کی تعداد یاد رکھو اور اس کا بندھن اور اس کی تھیلی بھی، اگر اس کا مالک آجائے (تو بہتر) ورنہ تم اسے اپنے کام میں لے لینا‘‘۔
شعبہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ سلمہ نے’’عرفها‘‘ تین بار کہا تھا یا ایک بار۔

1702- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلا، وَقَالَ: ثَلاثَ مِرَارٍ، قَالَ: فَلا أَدْرِي قَالَ لَهُ ذَلِكَ فِي سَنَةٍ أَوْ فِي ثَلاثِ سِنِينَ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف :۲۸) (صحیح)

۱۷۰۲- اس سند سے بھی شعبہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، وہ کہتے ہیں :’’عَرِّفْهَا حَوْلاً‘‘ تین بار کہا، البتہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ نے اسے ایک سال میں کرنے کے لئے کہا یا تین سال میں۔

1703- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ؛ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ فِي التَّعْرِيفِ قَالَ: عَامَيْنِ أَوْ ثَلاثَةً، وَقَالَ: < اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِعَائَهَا وَوِكَائَهَا > زَادَ: < فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عَدَدَهَا وَوِكَائَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ >.
[قَالَ أَبودَاود: لَيْسَ يَقُولُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ إِلا حَمَّادٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، يَعْنِي <فَعَرَفَ عَدَدَهَا >]۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : ۱۷۰۱، ( تحفۃ الأشراف :۲۸) (صحیح)

۱۷۰۳- حماد کہتے ہیں سلمہ بن کہیل نے ہم سے اسی سند سے اور اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں ہے: آپ ﷺ نے (لقطہ کی) پہچان کرانے کے سلسلے میں فرمایا: ’’دو یا تین سال تک (اس کی پہچان کراؤ)‘‘، اور فرمایا: ’’اس کی تعداد جان لو اور اس کی تھیلی اور اس کے سر بندھن کی پہچان کر لو‘‘، اس میں اتنا مزید ہے: ’’اگر اس کا مالک آجائے اور اس کی تعداد اور سر بندھن بتا دے تو اسے اس کے حوالے کر دو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: ’’فَعَرَفَ عَدَدَهَا‘‘ کا کلمہ اس حدیث میں سوائے حماد کے کسی اور نے نہیں ذکر کیا ہے۔

1704- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ اللُّقَطَةِ، قَالَ: < عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَائَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ >، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ: < خُذْهَا، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ > قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الإِبِلِ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ؟ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، وَقَالَ: < مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا >۔
* تخريج: خ/العلم ۲۸ (۹۱)، المساقاۃ ۱۲ (۲۳۷۲)، اللقطۃ ۲ (۲۴۲۷)، ۳ (۲۴۲۸)، ۴ (۲۴۲۹)، ۹ (۲۴۳۶)، ۱۱ (۲۴۳۸)، الطلاق ۲۲ (۵۲۹۲مرسلاً)، الأدب ۷۵ (۶۱۱۲)، م/اللقطۃ ۳۱ (۱۷۲۲)، ت/الأحکام ۳۵ (۱۳۷۲)، ن/ الکبری /اللقطۃ (۵۸۱۴، ۵۸۱۵، ۵۸۱۶)، ق/اللقطۃ ۱ (۲۵۰۴)، ( تحفۃ الأشراف : ۳۷۶۳)، وقد أخرجہ: ط/الأقضیۃ ۳۸ (۴۶، ۴۷)، حم (۴/۱۱۵، ۱۱۶، ۱۱۷) (صحیح)

۱۷۰۴- زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے لقطہ (پڑی ہوئی چیز) کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ، پھر اس کی تھیلی اور سر بندھن کو پہچان لو، پھراسے خرچ کر ڈالو، اب اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو‘‘، اس نے کہا: اللہ کے رسول! گم شدہ بکری کو ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس کو پکڑ لو، اس لئے کہ وہ یا تو تمہارے لئے ہے، یا تمہارے بھائی کے لئے، یا بھیڑیے کے لئے‘‘، اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! گم شدہ اونٹ کو ہم کیا کریں؟ تو رسول اللہ ﷺ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے یا آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا: ’’تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اس کا جوتا۱؎ اور اس کا مشکیزہ اس کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک آجائے‘‘۔
وضاحت۱؎: جوتے سے مراد اونٹ کا پاؤں ہے، اور مشکیزہ سے اس کا پیٹ جس میں وہ کئی دن کی ضرورت کا پانی ایک ساتھ بھر لیتا ہے اور بار بار پانی پینے کی ضرورت نہیں محسوس کرتا، اسے بکری کی طرح بھیڑیے وغیرہ کا بھی خوف نہیں کہ وہ خود اپنا دفاع کر لیتا ہے، اس لئے اسے پکڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

1705- حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: < سِقَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ >، وَلَمْ يَقُلْ: < خُذْهَا فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ >، وَقَالَ فِي اللُّقَطَةِ: < عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهَا >، وَلَمْ يَذْكُرِ: < اسْتَنْفِقْ >.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَسُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ رَبِيعَةَ مِثْلَهُ لَمْ يَقُولُوا: < خُذْهَا >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف :۳۷۶۳) (صحیح)

۱۷۰۵- اس سند سے بھی مالک سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ: ’’وہ اپنی سیرابی کے لئے پانی پر آجاتا ہے اور درخت کھا لیتا ہے‘‘، اس روایت میں گمشدہ بکری کے سلسلے میں ’’خُذْهَا‘‘ (اسے پکڑ لو) کا لفظ نہیں ہے، البتہ لقطہ کے سلسلے میں فرمایا:’’ ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک آجائے تو بہتر ہے ورنہ تم خود اس کو استعمال کر لو‘‘، اس میں ’’اسْتَنْفِقْ‘‘ کا لفظ نہیں ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: ثوری، سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے اسے ربیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے ’’خُذْهَا‘‘ کا لفظ نہیں کہا ہے۔

1706- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ -يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ- عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: < عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَإِلا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَائَهَا ثُمَّ كُلْهَا، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ >۔
* تخريج: م/اللقطۃ ۱(۱۷۲۲)، ت/الأحکام ۳۵ (۱۳۷۳)، ن/الکبری (۵۸۱۱)، ق/ اللقطۃ ۱ (۵۰۷)، (تحفۃ الأشراف :۳۷۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۱۶، ۵/۱۹۳) (صحیح)

۱۷۰۶- زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا ڈھونڈنے والا آجائے تو اسے اس کے حوالے کر دو ورنہ اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان رکھو اور پھر اسے کھا جاؤ، اب اگر اس کا ڈھونڈھنے والا آجائے تو اسے (اس کی قیمت) ادا کر دو‘‘۔

1707- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ رَبِيعَةَ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: < تُعَرِّفُهَا حَوْلا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ، وَإِلا عَرَفْتَ وِكَائَهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ أَفِضْهَا فِي مَالِكَ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ > ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۷۰۴)، ( تحفۃ الأشراف :۳۷۶۳) (صحیح)

۱۷۰۷- زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے (لقطے کے متعلق) پوچھا گیا پھر راوی نے ربیعہ کی طرح حدیث ذکر کی اور کہا: لقطے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک سال تک تم اس کی تشہیر کرو، اب اگر اس کا مالک آجائے تو تم اسے اس کے حوالہ کر دو، اور اگر نہ آئے تو تم اس کے ظرف اور سر بندھن کو پہچان لو پھر اسے اپنے مال میں ملا لو، پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے اس کو دے دو‘‘۔

1708- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ؛ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَرَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ قُتَيْبَةَ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِيهِ: < فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ >، وَقَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِثْلَهُ.
قَالَ أَبودَاود : وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ الَّتِي زَادَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَعُبَيْدِاللَّهِ [بْنِ عُمَرَ] وَرَبِيعَةَ: < إِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَائَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ> لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ < فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَائَهَا > وَحَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَيْضًا، قَالَ: < عَرِّفْهَا سَنَةً > وَحَدِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < عَرِّفْهَا سَنَةً >.
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۷۰۴)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (۱۷۱۳)، ( تحفۃ الأشراف :۲۸، ۳۷۶۳، ۸۷۵۵، ۸۷۸۴) (صحیح)

۱۷۰۸- یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے قتیبہ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے:’’اگر اس کا ڈھونڈنے والا آجائے اور تھیلی اور گنتی کی پہچان بتائے تو اسے اس کو دے دو‘‘۔
اور حماد نے بھی عبید اللہ بن عمر سے، عبید اللہ نے عمر و بن شعیب نے عن ابیہ عن جدہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً روایت کی ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ زیادتی جو حماد بن سلمہ نے سلمہ بن کہیل، یحییٰ بن سعید، عبید اللہ اور ربیعہ کی حدیث (یعنی حدیث نمبر: ۱۷۰۲ -۱۷۰۳) میں کی ہے:’’إِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَائَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ‘‘ یعنی: ’’اگر اس کا مالک آجائے اور اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے تو اس کو دے دو‘‘، اس میں: ’’فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَائَهَا‘‘ ’’تھیلی اور سربندھن کی پہچان بتا دے‘‘ کا جملہ محفوظ نہیں ہے۔
اورعقبہ بن سوید کی حدیث میں بھی جسے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے یعنی’’عَرِّفْهَا سَنَةً‘‘ (ایک سال تک اس کی تشہیر کرو) موجود ہے۔
اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:’’عَرِّفْهَا سَنَةً‘‘ تم ایک سال تک اس کی تشہیرکرو۱؎ ۔
وضاحت۱؎: کسی روایت میں تین سال پہچان (شناخت) کراتے رہنے کا تذکرہ ہے، اور کسی میں ایک سال، یہ سامان اور حالات پر منحصر ہے، یا ایک سال بطور وجوب اور تین سال بطور استحباب و ورع، ان دونوں روایتوں کا اختلاف تضاد کا اختلاف نہیں کہ ایک کو ناسخ قرار دیا جائے اور دوسرے کو منسوخ (ملاحظہ ہو: فتح الباری)۔

1709- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي الطَّحَّانَ- (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، الْمَعْنَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ، أَوْ ذَوِي عَدْلٍ، وَلا يَكْتُمْ، وَلا يُغَيِّبْ، فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ، وَإِلا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ >۔
* تخريج: ن/ الکبری (۵۸۰۸، ۵۸۰۹)، ق/اللقطۃ ۲ (۲۵۰۵)، ( تحفۃ الأشراف :۱۱۰۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۲) (صحیح)

۱۷۰۹- عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جسے لقطہ ملے تو وہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے۱؎ اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے، اگر اس کے مالک کو پا جائے تو اسے واپس کر دے، ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے‘‘۔
وضاحت۱؎: گواہ بنانا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ مال کی چاہت میں ا ٓگے چل کر آدمی کی نیت کہیں بری نہ ہو جائے، اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ اچانک مر جائے اوراس کے ورثاء اسے میراث سمجھ لیں۔

1710- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ، فَقَالَ: < مَنْ أَصَابَ بِفِيهِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلا شَيْئَ عَلَيْهِ، وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْئٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ، وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ >، وَذَكَرَ فِي ضَالَّةِ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ كَمَا ذَكَرَ[هُ] غَيْرُهُ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: <مَاكَانَ مِنْهَا فِي طَرِيقِ الْمِيتَاءِ أَوِ الْقَرْيَةِ الْجَامِعَةِ فَعَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَهِيَ لَكَ، وَمَا كَانَ فِي الْخَرَابِ يَعْنِي فَفِيهَا وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ >۔
* تخريج: ت/البیوع ۵۴ (۱۲۸۹)، ن/قطع السارق ۹ (۴۹۶۱)، ( تحفۃ الأشراف :۸۷۹۸)ویأتی عند المؤلف برقم (۴۳۹۰) (حسن)

۱۷۱۰- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے درخت پر لٹکتے ہوئے پھل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو حاجت مند اسے کھائے اور چھپا کر نہ لے جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، اور جو اس میں سے کچھ چھپا کر لے جائے تو اس کا دوگنا جرمانہ دے اور سزا الگ ہو گی، اور جب میوہ پک کر سوکھنے کے لئے کھلیان میں ڈال دیا جائے اور اس میں سے کوئی اس قدر چرا کر لے جائے جس کی قیمت سپر (ڈھال) کی قیمت کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کا ٹا جائے گا‘‘۔
اس کے بعد گمشدہ اونٹ اور بکری کا ذکر کیا جیسا کہ اوروں نے ذکر کیا ہے، اس میں ہے: ’’آپ سے لقطے کے سلسلے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو لقطہ گزرگاہ عام یا آباد گاؤں میں ملے تو ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو اور اگر نہ آئے تو وہ تمہارا ہے اور جو لقطہ کسی اجڑے یا غیر آباد مقام پر ملے تو اس میں اور رکاز( جاہلیت کے دفینہ) میں پانچواں حصہ حاکم کو دینا ہو گا‘‘۔

1711- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا أَبُوأُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ -يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ-، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ: قَالَ: < فَاجْمَعْهَا > ۔
* تخريج: ق/الحدود ۲۸ (۲۵۹۶)، ( تحفۃ الأشراف :۸۸۱۲) (حسن)

۱۷۱۱- اس طریق سے بھی عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے کہ گمشدہ بکری کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا: ’’اسے پکڑے رکھو‘‘۔

1712- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ -بِهَذَا بِإِسْنَادِهِ- قَالَ فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ: < لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، خُذْهَا قَطُّ >، وَكَذَا قَالَ فِيهِ أَيُّوبُ وَيَعْقُوبُ ابْنُ عَطَائٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <فَخُذْهَا> ۔
* تخريج: ن/ قطع السارق ۸ (۴۹۶۰)، ( تحفۃ الأشراف :۸۷۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸۶) (حسن)

۱۷۱۲- اس طریق سے بھی عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے:’’ گمشدہ بکری کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیے کی، تو اسے پکڑے رکھو‘‘۔
اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’تو تم اسے پکڑے رکھو‘‘۔

1713- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِهَذَا، قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ: < فَاجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم: (۱۷۰۸)، ( تحفۃ الأشراف :۸۷۸۴) (حسن)

۱۷۱۳- اس سند سے بھی عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے: ’’گم شدہ بکری کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا: اسے پکڑے رکھو، یہاں تک کہ اس کا ڈھونڈھنے والا اس تک آجائے‘‘۔

1714- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، حَدَّثَهُ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [الْخُدْرِيِّ] أَنَّ عَلِيَّ ابْنَ أَبِي طَالِبٍ وَجَدَ دِينَارًا فَأَتَى بِهِ فَاطِمَةَ، فَسَأَلَتْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < هُوَ رِزْقُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ > فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَكَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَا عَلِيُّ، أَدِّ الدِّينَارَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۴۴۴۳) (حسن)

۱۷۱۴- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک دینار ملا تو وہ اسے لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، انہوں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’وہ اللہ عزوجل کا دیا ہوا رزق ہے‘‘، چنانچہ اس میں سے رسول اللہ ﷺ نے کھایا اور علی اور فا طمہ رضی اللہ عنہما نے کھایا، اس کے بعد ان کے پاس ایک عورت دینار ڈھونڈھتی ہوئی آئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’علی! دینار ا دا کر دو‘‘۔

1715- حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه أَنَّهُ الْتَقَطَ دِينَارًا، فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا، فَعَرَفَهُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الدِّينَارَ، فَأَخَذَهُ عَلِيٌّ وَقَطَعَ مِنْهُ قِيرَاطَيْنِ، فَاشْتَرَى بِهِ لَحْمًا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۱۰۰۲۸) (صحیح)

۱۷۱۵- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں ایک دینار پڑا ملا، جس سے انہوں نے آٹا خریدا، آٹے والے نے انہیں پہچان لیا، اور دینار واپس کر دیا تو علی نے اسے واپس لے لیا اور اسے بھنا کر اس میں سے دو قیراط۱؎ کا گوشت خریدا۔
وضاحت۱؎ : قیراط: دینار کا بیسواں حصہ۔

1716- حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ؛ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيهِمَا؟ قَالَتِ الْجُوعُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ، فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتِ: اذْهَبْ إِلَى فُلانٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ لَنَا دَقِيقًا، فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ حَتَّى جَاءَ بِهِ فَاطِمَةَ، فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتِ: اذْهَبْ إِلَى فُلانٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا، فَذَهَبَ فَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمِ لَحْمٍ، فَجَاءَ بِهِ، فَعَجَنَتْ، وَنَصَبَتْ، وَخَبَزَتْ، وَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا، فَجَائَهُمْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَذْكُرُ لَكَ، فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلالاً أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ مَعَنَا، مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: < كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ > فَأَكَلُوا، فَبَيْنَمَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلامٌ يَنْشُدُ اللَّهَ وَالإِسْلامَ الدِّينَارَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَدُعِيَ لَهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < يَا عَلِيُّ! اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ لَكَ: أَرْسِلْ إِلَيَّ بِالدِّينَارِ، وَدِرْهَمُكَ عَلَيَّ >، فَأَرْسَلَ بِهِ فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَيْهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۴۷۷۰) (حسن)

۱۷۱۶- ابو حازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے بتایا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے تھے، تو انہوں نے پوچھا: یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟ فاطمہ نے کہا: بھوک سے رو رہے ہیں)، علی باہر نکلے تو بازار میں ایک دینار پڑا پایا، وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: فلاں یہودی کے پاس جائیے اور ہمارے لئے آٹا لے لیجئے، چنانچہ وہ یہودی کے پاس گئے اور اس سے آٹا خریدا، تو یہودی نے پوچھا: تم اس کے داماد ہو جو کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ وہ بولے: ہاں، اس نے کہا: اپنا دینار رکھ لو اور آٹا لے جاؤ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آٹا لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو وہ بولیں: فلاں قصاب کے پاس جائیے اور ایک درہم کا گوشت لے آئیے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ گئے اور اس دینار کو ایک درہم کے بدلے گروی رکھ دیا اور ایک درہم کا گو شت لے آئے، فاطمہ نے آٹا گوندھا، ہانڈی چڑھائی اور روٹی پکائی، اور اپنے والد (رسول اللہ ﷺ) کو بلا بھیجا، آپ تشریف لائے تو وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں آپ سے واقعہ بیان کرتی ہوں اگر آپ اسے ہمارے لئے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور ہمارے ساتھ آپ بھی کھائیں، اس کا واقعہ ایسا اور ایسا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کا نام لے کر کھاؤ‘‘، ابھی وہ لوگ اپنی جگہ ہی پر تھے کہ اسی دوران ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کراپنے کھوئے ہوئے دینار کے متعلق پوچھ رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: بازار میں مجھ سے (میرا دینار) گر گیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’علی! قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: اللہ کے رسول ﷺ تم سے کہہ رہے ہیں: دینار مجھے بھیج دو، تمہارا درہم میرے ذمّے ہے‘‘، چنانچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اس (لڑ کے ) کو دے دیا۔

1717- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِالسَّلامِ عَنِ الْمُغِيرَةِ -أَبِي سَلَمَةَ- بِإِسْنَادِهِ، وَرَوَاهُ شَبَابَةُ عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانُوا، لَمْ يَذْكُرُ[وا] النَّبِيَّ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۲۹۶۶) (ضعیف)
(ابو الزبیر مدلس راوی ہیں اور بذریعہ ’’عن‘‘ روایت کئے ہیں)
۱۷۱۷- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں لکڑی، کوڑے، رسی اور ان جیسی چیزوں کے بارے میں رخصت دی کہ اگر آدمی انہیں پڑا پائے تو اسے کام میں لائے۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے نعمان بن عبد السلام نے مغیرہ ابو سلمہ سے اسی طریق سے روایت کیا ہے اور اسے شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے انہوں نے ابو الزبیر سے ابو الزبیر نے جابر سے روایت کیا ہے، راوی کہتے ہیں: لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے یعنی اسے جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف کہا ہے۔

1718- حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَحْسَبُهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < ضَالَّةُ الإبِلِ الْمَكْتُومَةُ غَرَامَتُهَا وَمِثْلُهَا مَعَهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۱۴۲۵۱) (صحیح)

۱۷۱۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’گم شدہ اونٹ اگر چھپا دیا جائے تو (چھپا نے والے پر) اس کا جرمانہ ہو گا، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو گا‘‘۔

1719- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ يَتْرُكُهَا حَتَّى يَجِدَهَا صَاحِبُهَا، قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ: عَنْ عَمْرٍو۔
* تخريج: م /اللقطۃ ۱ (۱۷۲۴)، ن/ الکبری/ اللقطۃ (۵۸۰۵)، ( تحفۃ الأشراف :۹۷۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۹۹) (صحیح)

۱۷۱۹- عبد الرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حاجی کے لقطے سے منع فرمایا۔
احمد کہتے ہیں: ابن وہب نے کہا: یعنی حاجی کے لقطے کے بارے میں کہ وہ اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے، ابن موہب نے’’أخبرني عمرو‘‘ کے بجائے ’’عن عمرو‘‘ کہا ہے۔

1720- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ جَرِيرٍ بِالْبَوَازِيجِ، فَجَاءَ الرَّاعِي بِالْبَقَرِ، وَفِيهَا بَقَرَةٌ لَيْسَتْ مِنْهَا، فَقَالَ لَهُ جَرِيرٌ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ لا نَدْرِي لِمَنْ هِيَ، فَقَالَ جَرِيرٌ: أَخْرِجُوهَا، [فَقَدْ] سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلا ضَالٌّ >۔
* تخريج: ن/الکبری (۵۷۹۹)، ق/اللقطۃ ۱ (۲۵۰۳)، ( تحفۃ الأشراف :۳۲۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۶۰، ۳۶۲) (صحیح) (مرفوع حصہ صحیح ہے )

۱۷۲۰- منذر بن جریر کہتے ہیں: میں جریر کے ساتھ بوازیج۱؎ میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا تو ان میں ایک گائے ایسی تھی جو ان کی گایوں میں سے نہیں تھی، جریر نے اس سے پوچھا: یہ کیسی گائے ہے؟ اس نے کہا: یہ گایوں میں آکر مل گئی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہے، جریر نے کہا: اسے نکالو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ’’گم شدہ جانور کو کوئی گم راہ ہی اپنے پاس جگہ دیتا ہے‘‘ ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: ’’بوازيج‘‘: (عراق میں) نہر دجلہ کے قریب ایک شہر کا نام ہے۔
وضاحت۲؎: مطلب یہ ہے کہ کسی گم شدہ جانور کو اپنا بنا لینے کے لئے اس کو پکڑ لے تو وہ گمراہ ہے، رہا وہ شخص جو اسے اس لئے پکڑے تاکہ اس کی پہچان کرا کر اسے اس کے مالک کے حوالہ کر دے تواس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:’’مَنْ آوَىْ ضَاْلَّةً فَهُوَ ضَالٌ مَاْ لَمْ يُعَرِّفها‘‘ اور نسائی کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: ’’مَنْ أَخَذَ لُقْطَةً فَهُوَ ضَاْلٌ مَاْ لَمْ يُعَرِّفْهَا‘‘(جو آدمی گم شدہ چیز اپنے پاس رکھے وہ گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی تشہیر نہ کرے)۔



* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{ 5- كِتَاب الْمَنَاسِكِ }
۵- کتاب: حج اور عمرہ کے مناسک (احکام و مسائل)


1- بَاب فَرْضِ الْحَجِّ
۱- باب: حج کی فرضیت کا بیان​

1721- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ -الْمَعْنَى- قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْحَجُّ فِي كُلِّ سَنَةٍ أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً؟ قَالَ: < بَلْ مَرَّةً وَاحِدَةً، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ >.
قَالَ أَبودَاود : هُوَ أَبُو سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، كَذَا قَالَ عَبْدُالْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، و قَالَ عُقَيْلٌ: [عَنْ سِنَانٍ].
* تخريج: ن/المناسک ۱ (۲۶۲۱)، ق/المناسک ۲ (۲۸۸۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۵۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۵۵، ۲۹۰، ۳۰۱، ۳۰۳، ۳۲۳، ۳۲۵، ۳۵۲، ۳۷۰، ۳۷۱)، دي/الحج ۴ (۱۸۲۹) (صحیح)
(متابعات کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کی سند میں واقع سفیان بن حسین کی زھری سے روایت میں ضعف ہے)
۱۷۲۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال (فرض) ہے یا ایک بار؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’(ہر سال نہیں) بلکہ ایک بار ہے اور جو ایک سے زائد بار کرے تو وہ نفل ہے‘‘۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: ابو سنان سے مراد ابو سنان دؤلی ہیں، اسی طرح عبد الجلیل بن حمید اور سلیمان بن کثیر نے زہری سے نقل کیا ہے، اور عقیل سے ابو سنان کے بجائے صرف سنان منقول ہے۔
وضاحت۱؎: حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے، جس کی فرضیت ۵ھ یا ۶ھ میں ہوئی۔

1722- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنٍ لأَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ لأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: < هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصْرِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۱۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۱۸، ۲۱۹، ۶/۳۲۴) (صحیح)
(ابو واقد رضی اللہ عنہ کے لڑکے کا نام واقد ہے)
۱۷۲۲- ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے سنا: ’’یہی حج ہے پھر چٹائیوں کے پشت ہیں‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎ : یعنی اس کے بعد تمہیں گھروں میں ہی رہنا ہے تم پر کوئی اور حج واجب نہیں، مؤلف نے اس حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ حج زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب فِي الْمَرْأَةِ تَحُجُّ بِغَيْرِ مَحْرَمٍ
۲- باب: عورت کا محرم کے بغیر حج کرنا جائز نہیں ہے​

1723- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا >۔
* تخريج: م/الحج ۷۴ (۱۳۳۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۳۵، ۱۴۳۱۶)، وقد أخرجہ: خ/تقصیرالصلاۃ ۴ (۱۰۸۸)، ت/الرضاع ۱۵ (۱۶۶۹)، ق/المناسک ۷ (۲۸۹۹)، ط/الاستئذان ۱۴(۳۷)، حم (۲/۲۳۶، ۳۴۰، ۳۴۷، ۴۲۳، ۴۳۷، ۴۴۵، ۴۹۳) (صحیح)

۱۷۲۳- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی مسلمان عورت کے لئے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں ایک رات کی قید اتفاقی ہے، مقصد یہ نہیں کہ اس سے کم کا سفرغیر محرم کے ساتھ جائز ہے، محرم شوہر ہے یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہو، مثلاً باپ، دادا، نانا، بیٹا، بھائی، چچا، ماموں، بھتیجا، بھانجا، داماد وغیرہ وغیرہ، یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار۔

1724- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ وَالنُّفَيْلِيُّ، عَنْ مَالِكٍ (ح) وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ أَبِيهِ [ثُمَّ اتَّفَقُوا]: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ يَوْمًا وَلَيْلَةً > فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. [قَاْلَ النُّفَيْلِيُّ: حَدَّثَنَا مَاْلِكُ] [قَالَ أَبودَاود: وَلَمْ يَذْكُرِ الْقَعْنَبِيُّ وَالنُّفَيْلِيُّ عَنْ أَبِيهِ، رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكٍ كَمَا قَالَ الْقَعْنَبِيُّ] ۔* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۶۰، ۱۳۰۱۰، ۱۴۳۱۷)، انظر حدیث رقم (۱۷۲۳) (صحیح)
۱۷۲۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لئے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر کرے‘‘۔
پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر گزری۔

1725- حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: < بَرِيدًا >۔
ٍ * تخريج: انظرحدیث رقم : (۱۷۲۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۶۰) (شاذ)
(جریر نے ’’یوم‘‘ یا ’’لیلۃ‘‘ کی جگہ ’’برید‘‘ کی روایت کی ہے جو جماعت کی روایت کے مخالف ہے)
۱۷۲۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی البتہ اس میں (دن رات کی مسافت کے بجائے) ’’بريدًا‘‘۱؎ کہا ہے۔
وضاحت۱؎: ’’بريد‘‘: چار فرسخ کا ہوتا ہے، اور ایک فرسخ تین میل کا، اس طرح برید بارہ میل کا ہوا۔

1726- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعًا حَدَّثَاهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلا وَمَعَهَا أَبُوهَا،أَوْ أَخُوهَا، أَوْ زَوْجُهَا، أَوِ ابْنُهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا >۔
* تخريج: م/الحج ۷۴ (۱۳۴۰)، ت/الرضاع ۱۵ (۱۱۶۹)، ق/المناسک ۷ (۲۸۹۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۴۰۰۴)، وقد أخرجہ: خ/فضل الصلاۃ في مسجد مکۃ والمدینۃ ۶ (۱۱۹۷)، وجزاء الصید ۲۶ (۱۸۶۴)، والصوم ۶۷ (۱۹۹۵)، حم (۳/۵۴)، دي/الاستئذان ۴۶ (۲۷۲۰) (صحیح)

۱۷۲۶- ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخر ت پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ تین یا اس سے زیادہ دنوں کی مسافت کا سفر کرے سوائے اس صورت کے کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جیسے: نانا، دادا، چچا، ماموں، بھتیجا، اور بھانجا وغیرہ جو سب کے سب سگے ہوں، یا رضاعی۔

1727- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلاثًا إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ>۔
* تخريج: خ/تقصیر الصلاۃ ۴ (۱۰۸۶)، م/الحج ۷۴ (۱۳۳۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۱۴۷) (صحیح)

۱۷۲۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ’’عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو‘‘۔

1728- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُرْدِفُ مَوْلاةً لَهُ، يُقَالُ لَهَا صَفِيَّةُ، تُسَافِرُ مَعَهُ إِلَى مَكَّةَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود (صحیح)

۱۷۲۸- نا فع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی لونڈی کو جسے صفیہ کہا جاتا تھا اپنے ساتھ سواری پر بیٹھا کر مکہ لے جاتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب < لا صَرُورَةَ > [فِي الإِسْلامِ]
۳- باب: صرورت (حج اور نکاح نہ کرنا) اسلام میں نہیں ہے​

1729- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ -يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الأَحْمَرَ- عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَائٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا صَرُورَةَ فِي الإِسْلامِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۶۱۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۱۲) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’عمر بن عطاء بن دراز‘‘ ضعیف ہیں)
۱۷۲۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول االلہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسلام میں صرورت نہیں ہے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب التَّزَوُّدِ فِي الْحَجِّ
۴- باب: سفر حج میں زاد راہ لینے کا بیان​

1730- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ -يَعْنِي أَبَامَسْعُودٍ الرَّازِيَّ- وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْمَخْرَمِيُّ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانُوا يَحُجُّونَ وَلا يَتَزَوَّدُونَ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ، [أَوْ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ] يَحُجُّونَ وَلايَتَزَوَّدُونَ، وَيَقُولُونَ: نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى} الآيَةَ۔
* تخريج: خ/الحج ۶ (۱۵۲۳)، ن/الکبری/السیر (۸۷۹۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۱۶۶) (صحیح)

۱۷۳۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لے جاتے۔
ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اہل یمن یا اہل یمن میں سے کچھ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لیتے اور کہتے: ہم متوکل (اللہ پر بھروسا کرنے والے) ہیں تو اللہ نے آیت کریمہ {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى}۱؎ ( زاد راہ ساتھ لے لو اس لئے کہ بہترین زاد راہ یہ ہے کہ آدمی سوال سے بچے) نازل فرمائی۔
وضاحت۱؎: سورة البقرة: (۱۹۸)
 
Top