9- بَاب [فِي] الْمَوَاقِيتِ
۹- باب: میقات کا بیان
1737- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ، وَبَلَغَنِي أَنَّهُ وَقَّتَ لأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ.
* تخريج: خ/الحج ۸ (۱۵۲۵)، م/الحج ۲ (۱۱۸۲)، ت/الحج ۱۷ (۸۳۱)، ن/المناسک ۱۷ (۲۶۵۲)، ق/المناسک ۱۳ (۲۹۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۲۶)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۸ (۲۲)، حم (۲/۴۸، ۵۵، ۶۵)، دي/المناسک ۵ (۱۸۳۱) (صحیح)
۱۷۳۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات۱؎ مقرر کیا، اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ﷺ نے اہل یمن کے لئے یلملم۲؎ کو میقات مقرر کیا۔
وضاحت۱؎: میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج یا عمرہ کی نیت کرتا ہے۔
وضاحت۲؎: یلملم ایک پہاڑ ہے جو مکہ سے دو دن کے فاصلہ پر واقع ہے۔
1738- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو [بْنِ دِينَارٍ]، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالا: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ أَحَدُهُمَا: وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَلَمْلَمَ، قَالَ: < فَهُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ > -قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ:- < مِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، قَالَ: وَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا >.
* تخريج: خ/جزاء الصید ۱۸ (۱۸۴۵)، م/الحج ۲ (۱۱۸۳)، ن/الحج ۲۰ (۲۶۵۵)، ۲۳ (۲۶۵۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۷۳۸، ۱۸۸۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۸، ۲۴۹) (صحیح)
۱۷۳۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میقات مقرر کیا پھر ان دونوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، ان دونوں (راویوں میں سے) میں سے ایک نے کہا:’’اہل یمن کے لئے یلملم‘‘، اور دوسرے نے کہا:
’’ألملم‘‘، اس روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ یہ ان لوگوں کی میقاتیں ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کی بھی جو ان جگہوں سے گزر کر آئیں اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں، اور جو لوگ ان کے اندر رہتے ہوں‘‘۔
ابن طاؤس (اپنی روایت میں) کہتے ہیں: ان کی میقات وہ ہے جہاں سے وہ سفر شروع کریں یہاں تک کہ اہل مکہ مکہ ہی۱؎ سے احرام باندھیں گے۔
وضاحت۱؎: معلوم ہوا کہ حاجی یا معتمر اگر مکہ یا مذکورہ مواقیت کے اندر رہتا ہو تو اس کا حکم عام لوگوں سے مختلف ہے اس کے لئے میقات پر جانا ضروری نہیں بلکہ اپنے گھر سے نکلتے وقت ہی احرام باندھ لینا اس کے لئے کافی ہو گا۔
1739- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَافِىُّ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ أَفْلَحَ -يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ- عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَقَّتَ لأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ۔
* تخريج: ن/الحج ۱۹ (۲۶۵۴)، ۲۲ (۲۶۵۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۳۸) (صحیح)
۱۷۳۹- ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل عراق کے لئے ذات عرق۱؎ کو میقات مقرر کیا۔
وضاحت۱؎: سنن ترمذی کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اہل عراق کے لئے ذات عرق کو میقات عمر رضی اللہ عنہ نے متعین کیا تھا، لیکن یہ روایت ضعیف ہے، علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث نہیں معلوم تھی، آپ نے اپنے اجتہاد سے یہ میقات مقرر کی جو نبی کریم ﷺ کی بتائی ہوئی میقات کے عین مطابق ہو گئی۔
1740- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ [مُحَمَّدِ بْنِ] حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ۔
* تخريج: ت/الحج ۱۷ (۸۳۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۴۴۳) (ضعیف) (اس کے راوی ’’یزید‘‘ ضعیف ہیں، نیز ’’محمد بن علی‘‘ کا اپنے دادا ’’ابن عباس‘‘ سے سماع نہیں ہے)
۱۷۴۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل مشرق کے لئے عقیق کو میقات مقرر کیا۔
1741- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنَّسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الأَخْنَسِيِّ، عَنْ جَدَّتِهِ حُكَيْمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ الأَقْصَى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ > أَوْ <وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ > شَكَّ عَبْدُاللَّهِ أَيَّتُهُمَا قَالَ.
[قَالَ أَبودَاود: يَرْحَمُ اللَّهُ وَكِيعًا! أَحْرَمَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، يَعْنِي إِلَى مَكَّةَ]۔
* تخريج: ق/المناسک ۴۹ (۳۰۰۱، ۳۰۰۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۵۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۹) (ضعیف) (اس کی راویہ ’’حکیمہ‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث تمام صحیح روایات کے مخالف ہے)
۱۷۴۱- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جو مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام تک حج اور عمرہ کا احرام باندھے تو اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، یا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی‘‘، راوی عبد اللہ کو شک ہے کہ انہوں نے دونوں میں سے کیا کہا۔
ابو داود کہتے ہیں: اللہ وکیع پر رحم فرمائے کہ انہوں نے بیت المقدس سے مکہ تک کے لئے احرام باندھا۔
1742- حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ ابْنُ عَبْدِالْمَلِكِ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي زُرَارَةُ بْنُ كُرِيْمٍ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو السَّهْمِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ، وَقَدْ أَطَافَ بِهِ النَّاسُ، قَالَ: فَتَجِيئُ الأَعْرَابُ فَإِذَا رَأَوْا وَجْهَهُ قَالُوا: هَذَا وَجْهٌ مُبَارَكٌ، قَالَ: وَوَقَّتَ ذَاتَ عِرْقٍ لأَهْلِ الْعِرَاقِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۲۷۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۸۵) (حسن)
۱۷۴۲- حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ منیٰ میں تھے یا عرفات میں، اور لوگوں نے آپ ﷺ کو گھیر رکھا تھا، تو اعراب (دیہاتی) آتے اور جب آپ کا چہرہ دیکھتے تو کہتے یہ برکت والا چہرہ ہے، آپ ﷺ نے اہل عراق کے لئے ذات عرق کو میقات مقرر کیا۔