51-بَاب فِي الرَّمَلِ
۵۱-باب: طواف میں رمل کا بیان
1885- حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا، وَ(مَا) كَذَبُوا؟ قَالَ: صَدَقُوا، قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لأَصْحَابِهِ: < ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلاثًا > وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ، قُلْتُ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ ، فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا؟ قَالَ صَدَقُوا، قَدْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، وَكَذَبُوا: لَيْسَ بِسُنَّةٍ، كَانَ النَّاسُ لا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَلا يُصْرَفُونَ عَنْهُ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ، لِيَسْمَعُوا كَلامَهُ، وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ، وَلا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ۔
* تخريج: م/الحج ۳۹ (۱۲۶۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۷۷۶)، وقد أخرجہ: ق/المناسک ۲۹ (۲۹۵۳)، حم (۱/ ۲۲۹، ۲۳۳، ۲۹۷، ۲۹۸، ۳۶۹، ۳۷۲، ۳۷۳) (صحیح)
۱۸۸۵- ابو طفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا:آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور یہ سنت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی ، میں نے دریافت کیا: لوگوں نے کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ اور غلط ؟ فرمایا: انہوں نے یہ سچ کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمل کیا لیکن یہ جھوٹ اور غلط کہا کہ رمل سنت ہے (واقعہ یہ ہے) کہ قریش نے حدیبیہ کے مو قع پر کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو وہ اونٹ کی مو ت خود ہی مر جائیں گے، پھر جب ان لوگوں نے آپ ﷺ سے اس شرط پرمصالحت کرلی کہ آپ آئندہ سال آکر حج کریں اور مکہ میں تین دن قیام کریں تو رسول اللہ ﷺ آئے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے، آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ’’تین پھیروں میں رمل کرو‘‘، اور یہ سنت نہیں ۱؎ ہے، میں نے کہا:آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہوکر سعی کی اور یہ سنت ہے، وہ بولے: انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ ؟ وہ بولے: یہ سچ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی لیکن یہ جھوٹ اور غلط ہے کہ یہ سنت ہے، دراصل لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے نہ جا رہے تھے اورنہ سرک رہے تھے، تو آپ ﷺ نے اونٹ پر سوار ہوکر سعی کی تا کہ لوگ آپ کی بات سنیں اور لوگ آپ کو دیکھیں اور ان کے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکیں۔
وضاحت ۱ ؎ : مراد ایسی سنت نہیں ہے جسے آپ ﷺ نے تقرب کے لئے بطور عبادت کی ہو، بلکہ مسلمانوں کو یہ حکم آپ ﷺ نے اس لئے دیا تھا تاکہ وہ کافروں کے سامنے اپنے طاقت وراور توانا ہونے کا مظاہرہ کرسکیں، کیونکہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ مدینہ کے بخار نے انہیں کمزور کر رکھا ہے، لیکن بہرحال اب یہ طواف کی سنتوں میں سے ہے جس کے ترک پر دم نہیں۔
1886- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ،أَنَّهُ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَكَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدَمُ (عَلَيْكُمْ) قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى، وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا، فَأَطْلَعَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ نَبِيَّهُ ﷺ عَلَى مَا قَالُوهُ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ الثَّلاثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، فَلَمَّا رَأَوْهُمْ رَمَلُوا قَالُوا: هَؤُلاءِ الَّذِينَ ذَكَرْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ، هَؤُلاءِ أَجْلَدُ مِنَّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلا إِبْقَائً عَلَيْهِمْ۔
* تخريج:خ/الحج ۵۵ (۱۶۰۲)، والمغازي ۴۴ (۴۲۵۶)، م/الحج ۳۹ (۱۲۶۶)، ن/الکبری/ الحج (۳۹۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۳۸)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۳۹ (۸۶۳)، حم (۱/۲۲۱، ۲۵۵، ۳۰۶،۳۱۰، ۳۱۱، ۳۷۳) (صحیح)
۱۸۸۶- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آئے اور لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا تھا، تو مشرکین نے کہا: تمہارے پاس وہ لوگ آرہے ہیں جنہیں بخار نے ضعیف بنا دیا ہے ، اور انہیں بڑی تباہی اٹھانی پڑی ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کو ان کی اس گفتگو سے مطلع کر دیا، تو آپ نے حکم دیا کہ لوگ (طواف کعبہ کے) پہلے تین پھیروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلیں ،تو جب مشرکین نے انہیں رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے: یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم لوگوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے، یہ لوگ تو ہم لوگوں سے زیا دہ تندرست ہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آپ ﷺ نے انہیں تمام پھیروں میں رمل نہ کرنے کا حکم صرف ان پرنرمی اور شفقت کی وجہ سے دیا تھا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ فی الواقع یہ لوگ کمزور اور دبلے پتلے تھے۔
1887- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: فِيمَ الرَّمَلانُ (الْيَوْمَ)، وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ؟ وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الإِسْلامَ وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ، مَعَ ذَلِكَ لا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: ق/المناسک ۲۹(۲۹۵۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۵) (حسن صحیح)
۱۸۸۷- اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: اب رمل اور مو نڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو اللہ نے اسلام کو مضبوط کر دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کر دیا ہے، اس کے باوجود ہم ان باتوں کو نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہ ﷺ کے وقت میں کیا کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : معلوم ہوا کہ شرع کی جس بات کی علت وحکمت سمجھ میں نہ آئے اس کو علی حالہ چھوڑ دینا چاہئے، کیونکہ ایسی صورت میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ یہ اللہ کے رسول کی اتباع ہے۔
1888- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ >۔
* تخريج: ت/الحج ۶۴ (۹۰۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۶۴، ۷۵، ۱۳۸)، دي/المناسک ۳۶ (۱۸۹۵) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبیداللہ‘‘ ضعیف ہیں)
۱۸۸۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بیت اللہ کا طواف کرنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اور کنکریاں مارنا ، یہ سب اللہ کی یا د قائم کرنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں‘‘۔
1889- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيّ،ُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ، وَكَانُوا إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَتَغَيَّبُوا مِنْ قُرَيْشٍ مَشَوْا، ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ يَرْمُلُونَ، تَقُولُ قُرَيْشٌ: كَأَنَّهُمُ الْغِزْلانُ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكَانَتْ سُنَّةً۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۵۷۷۷، ۵۷۷۹) (صحیح)
۱۸۸۹- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اضطباع کیا، پھر استلام کیا ،اور تکبیر بلند کی ، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، جب لوگ (یعنی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ) رکن یمانی پر پہنچتے اور قریش کی نظروں سے غائب ہوجاتے تو عام چال چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے تو رمل کرتے، قریش کہتے تھے :گویا یہ ہر ن ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :تو یہ فعل سنت ہوگیا۔
1890- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ (بْنُ عُثْمَانَ) بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنَ الْجِعْرَانَةِ، فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلاثًا، وَمَشَوْا أَرْبَعًا۔
* تخريج: ق/ الحج ۲۹ (۲۹۵۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۷۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۴۷، ۲۹۵، ۳۰۵، ۳۰۶، ۳۱۴) (صحیح)
۱۸۹۰- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلی۔
1891- حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ، إِلَى الْحَجَرِ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَعَلَ ذَلِكَ۔
* تخريج: م/الحج ۳۹ (۱۲۶۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۹۰۶)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۶۳ (۱۶۱۶)، ن/الحج ۱۵۰ (۲۹۴۳)، ت/الحج ۳۳ (۸۵۶)، ق/المناسک ۲۹ (۲۹۵۰)، ط/الحج ۳۴(۱۰۸)، حم (۲/۱۰۰، ۱۱۴)، دي/المناسک ۲۷ (۱۸۸۲) (صحیح)
۱۸۹۱- نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا، اور بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا ہے۔