24- بَاب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ
۲۴-باب: خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان
3006- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: أَحْسَبُهُ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ، فَغَلَبَ عَلَى النَّخْلِ وَالأَرْضِ، وَأَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ، فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ الصَّفْرَاءَ وَالْبَيْضَاءَ وَالْحَلْقَةَ، وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُهُمْ عَلَى أَنْ لا يَكْتُمُوا، وَلايُغَيِّبُوا شَيْئًا، فَإِنْ فَعَلُوا فَلا ذِمَّةَ لَهُمْ وَلا عَهْدَ، فَغَيَّبُوا مَسْكًا لِحُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ كَانَ قُتِلَ قَبْلَ خَيْبَرَ، كَانَ وَاحْتَمَلَهُ مَعَهُ يَوْمَ بَنِي النَّضِيرِ حِينَ أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ فِيهِ حُلِيُّهُمْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِسَعْيَةَ: < أَيْنَ مَسْكُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ؟ > قَالَ: أَذْهَبَتْهُ الْحُرُوبُ وَالنَّفَقَاتُ، فَوَجَدُوا الْمَسْكَ، فَقَتَلَ ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ وَسَبَى نِسَائَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَهُمْ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ! دَعْنَا نَعْمَلْ فِي هَذِهِ الأَرْضِ وَلَنَا الشَّطْرُ مَا بَدَا لَكَ وَلَكُمُ الشَّطْرُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُعْطِي كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۸۷۷) (حسن الإسناد)
۳۰۰۶- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اہل خیبر سے جنگ کی،ان کی زمیں، اور ان کے کھجورکے باغات قابض ہو گئے اور انہیں اپنے قلعہ میں محصور ہو جانے پر مجبو ر کر دیا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس شر ط پر صلح کرلی کہ سونا چاندی اور ہتھیا ر جو کچھ بھی ہیں وہ سب رسول اللہ ﷺ کے لئے ہوں گے اور ان کے لئے صرف وہی کچھ ( مال واسباب) ہے جنہیں ان کے اونٹ اپنے ساتھ اٹھا کر لے جا سکیں، انہیں اس کا حق و اختیا ر نہ ہو گا کہ وہ کوئی چیز چھپائیں یا غائب کریں، اگر انہوں نے ایسا کیا تو مسلمانوں پر ان کی حفا ظت اور معا ہدے کی پاس داری کی کوئی ذمہ داری نہ رہے گی تو انہوں نے حیی بن اخطب کے چمڑے کی ایک تھیلی غائب کر دی، حیی بن اخطب خیبر سے پہلے قتل کیا گیا تھا، اور وہ جس دن بنو نضیر جلا وطن کئے گئے تھے اسے اپنے ساتھ اٹھا لایا تھا اس میں ان کے زیورات تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے سعیہ ( یہو دی ) سے پوچھا : ''حیی بن اخطب کی تھیلی کہاں ہے؟''، اس نے کہا: لڑائیوں میں کام آگئی اور مصارف میں خرچ ہو گئی پھر صحابہ کو وہ تھیلی مل گئی تو آپ ﷺ نے ابن ابی حقیق کو قتل کر دیا، ان کی عو رتوں کو قید ی بنا لیا، اور ان کی اولاد کو غلام بنا لیا، ان کو جلا وطن کر دینے کا ارا دہ کر لیا، تو وہ کہنے لگے: محمد ! ہمیں یہیں رہنے دیجئے، ہم اس زمین میں کا م کریں گے ( جو تیں بو ئیں گے ) اور جو پیدا وا ر ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا آپ کو دیں گے، رسول اللہ ﷺ (اس پیداوار سے) اپنی ہر ہر بیو ی کو (سال بھر میں)( ۸۰،۸۰) وسق کھجو ر کے اور (۲۰،۲۰ ) وسق جو کے دیتے تھے ۔
3007- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّا نُخْرِجُهُمْ إِذَا شِئْنَا فَمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلْيَلْحَقْ بِهِ فَإِنِّي مُخْرِجٌ يَهُودَ فَأَخْرَجَهُمْ۔
* تخريج: خ/ الشروط ۱۴ (۲۷۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۵۴) (حسن صحیح)
۳۰۰۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں سے یہ معاملہ کیا تھا کہ ہم جب چاہیں گے انہیں یہاں سے جلا وطن کر دیں گے،تو جس کا کوئی مال ان یہودیوں کے پاس ہو وہ اسے لے لے، کیونکہ میں یہودیوں کو ( اس سر زمین سے) نکال دینے والا ہوں، پھر آپ ﷺ نے انہیں نکال دیا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہودیوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں نکال رہے ہیں، حالانکہ آپ کے رسول ﷺ نے ہمیں یہاں رکھا تھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا کہ ہمارے رسول ﷺ نے کہا ہے کہ جزیرئہ عرب میں دو دین نہ رہیں، اسی وجہ سے میں تمہیں نکال رہا ہوں۔
3008- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُقِرَّهُمْ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى النِّصْفِ مِمَّا خَرَجَ مِنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: <أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا > فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ، وَكَانَ التَّمْرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْخُمُسَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَطْعَمَ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِهِ مِنَ الْخُمُسِ مِائَةَ وَسْقٍ تَمْرًا وَعِشْرِينَ وَسْقًا شَعِيرًا، فَلَمَّا أَرَادَ عُمَرُ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ لَهُنَّ: مَنْ أَحَبَّ مِنْكُنَّ أَنْ أَقْسِمَ لَهَا نَخْلا بِخَرْصِهَا مِائَةَ وَسْقٍ فَيَكُونَ لَهَا أَصْلُهَا وَأَرْضُهَا وَمَاؤُهَا وَمِنَ الزَّرْعِ مَزْرَعَةَ خَرْصٍ عِشْرِينَ وَسْقًا فَعَلْنَا، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ نَعْزِلَ الَّذِي لَهَا فِي الْخُمُسِ كَمَا هُوَ فَعَلْنَا۔
* تخريج: م/المساقاۃ ۱ (۱۵۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۷۲)، وقد أخرجہ: خ/الحرث ۸ (۲۳۲۸)، ت/الأحکام ۴۱ (۱۳۸۳)، ق/الرھون ۱۴ (۲۴۶۷)، حم (۲/۱۷، ۲۲، ۳۷) (صحیح)
۳۰۰۸- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہو ا تو یہو دیوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخوا ست کی کہ: آپ ہمیں اس شرط پر یہیں رہنے دیں کہ ہم محنت کریں گے اور جو پیدا وار ہو گی اس کا نصف ہم لیں گے اور نصف آپ کو دیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اچھاہم تمہیں اس شر ط پر رکھ رہے ہیں کہ جب تک چا ہیں گے رکھیں گے'' چنانچہ وہ اسی شرط پر رہے، خیبر کی کھجور کے نصف کے کئی حصے کئے جاتے، رسول اللہ ﷺ اس میں سے پانچو اں حصہ لیتے، اور اپنی ہر بیوی کو سووسق کھجو ر اور بیس وسق جو ( سال بھر میں ) دیتے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے یہود کو نکال دینے کا ارادہ کر لیا تو امہا ت المو منین کو کہلا بھیجا کہ آپ میں سے جس کا جی چاہے کہ میں اس کو اتنے درخت دے دوں جن میں سے سو وسق کھجو ر نکلیں مع جڑ کھجو ر اور پانی کے اور اسی طرح کھیتی میں سے اس قدر زمین دے دوں جس میں بیس وسق جو پیدا ہو، تو میں دے دوں اور جو پسند کرے کہ میں خمس میں سے اس کا حصہ نکالا کروں جیسا کہ ہے تو میں ویسا ہی نکالا کروں گا۔
3009- حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ (ح) وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ [بْنِ مَالِكٍ] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ غَزَا خَيْبَرَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجُمِعَ السَّبْيُ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۱۲ (۳۷۱)، م/الجھاد ۴۳ (۱۳۶۵)، ن/النکاح ۶۴ (۳۳۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۹) (صحیح)
۳۰۰۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل خیبر سے جہادکیا، ہم نے اسے لڑکر حاصل کیا، پھر قید ی اکٹھا کئے گئے ( تا کہ انہیں مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے)۔
3010- حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَيْبَرَ نِصْفَيْنِ: نِصْفًا لِنَوَائِبِهِ وَحَاجَتِهِ، وَنِصْفًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، قَسَمَهَا بَيْنَهُمْ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۴۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲) (حسن صحیح)
۳۰۱۰- سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو دو برا برحصو ں میں تقسیم کیا: ایک حصہ تو اپنی حوائج و ضر وریات کے لئے رکھا اور ایک حصہ کے اٹھا رہ حصے کر کے مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔
3011- حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَسْوَدِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ آدَمَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ قَالُوا: فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: فَكَانَ النِّصْفُ سِهَامَ الْمُسْلِمِينَ وَسَهْمَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، وَعَزَلَ النِّصْفَ لِلْمُسْلِمِينَ لِمَا يَنُوبُهُ مِنَ الأُمُورِ وَالنَّوَائِبِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۳۵، ۱۸۴۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۶) (صحیح الإسناد)
۳۰۱۱- بشیر بن یسا ر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے سنا، انہوں نے کہا، پھر راوی نے یہی حدیث ذکر کی اور کہا کہ نصف میں سب مسلمانوں کے حصے تھے اور رسول اللہ ﷺ کا بھی حصہ تھا اور باقی نصف مسلمانوں کی ضروریا ت اور مصائب و مشکلا ت کے لئے رکھا جا تا تھا جو انہیں پیش آتے۔
3012- حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الأَنْصَارِ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَى سِتَّةٍ وَثَلاثِينَ سَهْمًا، جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَلِلْمُسْلِمِينَ النِّصْفُ مِنْ ذَلِكَ، وَعَزَلَ النِّصْفَ الْبَاقِيَ لِمَنْ نَزَلَ بِهِ مِنَ الْوُفُودِ وَالأُمُورِ وَنَوَائِبِ النَّاسِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۰۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۳۵، ۱۸۴۵۶) (صحیح الإسناد)
۳۰۱۲- بشیر بن یسا ر جو انصا ر کے غلام تھے بعض اصحاب رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب خیبر پر غالب آئے تو آپ نے اسے چھتیس حصو ں میں تقسیم فرمایا، ہر ایک حصے میں سوحصے تھے تو اس میں سے نصف رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے لئے ہوا اور با قی نصف آنے والے وفو د اور دیگر کا موں اور اچانک مسلمانوں کو پیش آنے والے حادثات ومصیبتوں میں خرچ کرنے کے لئے الگ کر کے رکھ دیا۔
3013- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ -يَعْنِي سُلَيْمَانَ- عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ ﷺ خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَى سِتَّةٍ وَثَلاثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ، فَعَزَلَ نِصْفَهَا لِنَوَائِبِهِ وَمَا يَنْزِلُ بِهِ الْوَطِيحَةَ وَالْكُتَيْبَةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا، وَعَزَلَ النِّصْفَ الآخَرَ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الشِّقَّ وَالنَّطَاةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا، وَكَانَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِيمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۰۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۳۵، ۱۸۴۵۶) (صحیح)
(یہ روایت گرچہ مرسل ہے پچھلی سے تقویت پا کر صحیح ہے، أغلب یہی ہے کہ وہی صحابی یہاں بھی واسطہ ہیں)
۳۰۱۳- بشیر بن یسا ر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب اللہ تعا لی نے خیبر اپنے نبی اکرم ﷺ کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے (۳۶ چھتیس ) حصے کئے اور ہر حصے میں سو حصے رکھے، تو اس کے نصف حصے اپنی ضر ورتوں و کا موں کے لئے رکھا اور اسی میں سے و طیحہ و کتیبہ ۱؎ اور ان سے متعلق جائدادبھی ہے اور دوسرے نصف حصے کو جس میں شق و نطاۃ ۲؎ ہیں اور ان سے متعلق جائیداد بھی شامل تھی الگ کر کے مسلمانوں خیں تقسیم کردیا اور رسول اللہ ﷺ کا حصہ ان دونو ں گائوں کے متعلقات میں تھا۔
وضاحت ۱؎ : یہ دونوں گاؤوں کے نام ہیں۔
وضاحت ۲؎ : یہ بھی دو گاؤں کے نام ہیں۔
3014- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ -يَعْنِي ابْنَ بِلالٍ- عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ قَسَمَهَا سِتَّةً وَثَلاثِينَ سَهْمًا جَمْعُ، فَعَزَلَ لِلْمُسْلِمِينَ الشَّطْرَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا يَجْمَعُ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةً النَّبِيُّ ﷺ مَعَهُمْ، لَهُ سَهْمٌ كَسَهْمِ أَحَدِهِمْ، وَعَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا -وَهُوَ الشَّطْرُ- لِنَوَائِبِهِ وَمَا يَنْزِلُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، فَكَانَ ذَلِكَ الْوَطِيحَ وَالْكُتَيْبَةَ وَالسَّلالِمَ وَتَوَابِعَهَا، فَلَمَّا صَارَتِ الأَمْوَالُ بِيَدِ النَّبِيِّ ﷺ وَالْمُسْلِمِينَ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ عُمَّالٌ يَكْفُونَهُمْ عَمَلَهَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْيَهُودَ فَعَامَلَهُمْ ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۰۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۳۵، ۱۸۴۵۶) (صحیح)
(یہ روایت بھی سابقہ روایت سے تقویت پا کر صحیح ہے)
۳۰۱۴- بشیر بن یسا ر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوجب اللہ نے خیبرکا مال عطا کیا تو آپ نے اس کے کل چھتیس حصے کئے، پھر آپ ﷺ نے آدھے یعنی اٹھا رہ حصے مسلمانوں کے لئے الگ کر دئیے، ہر حصے میں سو حصے تھے نبی اکرم ﷺ بھی انہیں کے ساتھ تھے آپ کا بھی ویسے ہی ایک حصہ تھا جیسے ان میں سے کسی دوسرے شخص کا تھا، اور رسول اللہ ﷺ نے اٹھا رہ حصے (یعنی نصف آخر) اپنی ضر وریات اور مسلمانوں کے امو ر کے لئے الگ کر دیے، اسی نصف میں وطیح، کتیبہ اور سلالم (دیہا ت کے نام ہیں) اور ان کے متعلقات تھے، جب یہ سب اموال رسول اللہ ﷺ کے قبضے میں آئے تومسلمانوں کے پاس ان کی دیکھ بھا ل اور ان میں کا م کرنے والے نہیں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے یہود کو بلا کران سے ( بٹائی پر )معاملہ کرلیا۔
3015- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَعْقُوبَ بْنَ مُجَمِّعٍ يَذْكُرُ [لِي]، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ -وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَئُوا الْقُرْآنَ- قَالَ: قُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا، وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ فِيهِمْ ثَلاثُ مِائَةِ فَارِسٍ، فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ، وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا۔
* تخريج: انظرحدیث رقم : (۲۷۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۱۴) (حسن)
۳۰۱۵- مجمع بن جا ریہ انصا ری (جو قر آن کے قا ریوں میں سے ایک تھے) کہتے ہیں کہ خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۱؎ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو اٹھا رہ حصو ں میں تقسیم کیا، لشکر کی تعدا د ایک ہز ار پانچ سو تھی، ان میں تین سو سوا ر تھے تو رسول اللہ ﷺ نے سواروں کو دودو حصے دئے اور پیا دوں کو ایک ایک حصہ دیا ۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ یہی لوگ مکہ سے آکر خیبر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے۔
3016- حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَجْلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ آدَمَ- حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَعَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَبَعْضِ وَلَدِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالُوا: بَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ تَحَصَّنُوا، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَحْقِنَ دِمَائَهُمْ وَيُسَيِّرَهُمْ، فَفَعَلَ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ أَهْلُ فَدَكَ، فَنَزَلُوا عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ خَاصَّةً؛ لأَنَّهُ لَمْ يُوجَفْ عَلَيْهَا بِخَيْلٍ وَلا رِكَابٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۸۸۶) (ضعیف الإسناد)
(یہ روایت مرسل ہے جیساکہ سند سے ظاہر ہے )
۳۰۱۶- ابن شہاب زہری، عبداللہ بن ابوبکر اور محمد بن مسلمہ کے بعض لڑکوں سے روایت ہے یہ لوگ کہتے ہیں (جب خیبر فتح ہوگیا) خیبر کے کچھ لو گ رہ گئے وہ قلعہ بند ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے در خوا ست کی کہ ان کا خون نہ بہا یا جائے اور انہیں یہاں سے نکل کر چلے جانے دیا جائے، آپ نے ان کی در خواست قبول کر لی) یہ خبر فدک والوں نے بھی سنی، تو وہاں کے لوگ بھی اس جیسی شرط پراترے تو فدک ( اللہ کی جانب سے،رسول اللہ ﷺ کے لئے خا ص ( عطیہ ) قرار پا یا، اس لئے کہ اس پر اونٹ اور گھوڑے نہیں دو ڑائے گئے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی بغیر جنگ کے حاصل ہوا جنگ سے حاصل ہوتا تو اس میں مسلمانوں کا بھی حق ہوتا۔
3017- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ افْتَتَحَ بَعْضَ خَيْبَرَ عَنْوَةً.
قَالَ أَبو دَاود: [وَ] قُرِءَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ، وَأَنَا شَاهِدٌ: أَخْبَرَكُمُ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ خَيْبَرَ كَانَ بَعْضُهَا عَنْوَةً، وَبَعْضُهَا صُلْحًا، وَالْكَتِيبَةُ أَكْثَرُهَا عَنْوَةً، وَفِيهَا صُلْحٌ . قُلْتُ لِمَالِكٍ: وَمَا الْكُتيبَةُ؟ قَالَ: أَرْضُ خَيْبَرَ، وَهِيَ أَرْبَعُونَ أَلْفَ عَذْقٍ۔
قال أبو داود: العَذْقُ: النخلة، والعِذْق: العُرجون.
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۷۳۲، ۱۹۳۶۷) (ضعیف)
(یہ روایت بھی مرسل ہے)
۳۰۱۷- ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کا کچھ حصہ طاقت سے فتح کیا۔
ابو داود کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ آپ لوگوں کو ابن وہب نے خبردی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا ہے وہ ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں کہ '' خیبر کا بعض حصہ زور وطاقت سے حاصل ہوا ہے، اور بعض صلح کے ذریعہ اور کتیبہ (جو خیبر کا ایک گائوں ہے) کا زیادہ حصہ زور وطاقت سے فتح ہوا اور کچھ صلح کے ذریعہ ''۔
ابن وہب کہتے ہیں: میں نے مالک سے پوچھا کہ کتیبہ کیا ہے؟ بولے: خیبر کی زمین کا ایک حصہ ہے، اور وہ چالیس ہزار کھجور کے درختوں پر مشتمل تھا ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: ''عَذْق'' کھجور کے درخت کو کہتے ہیں، اور ''عِذْق'' کھجور کے گچھے کی جڑ جو ٹیڑھی ہوتی ہے، اور گچھے کو کاٹنے پر درخت پر خشک ہوکر باقی رہ جاتی ہے اس کو کہتے ہیں۔
وضاحت ۱؎ : خیبر کے زیادہ تر درخت کھجور ہی کے تھے اور کچھ زراعت (کھیتی باڑی) بھی ہوتی تھی ۔
3018- حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ [بْنُ يَزِيدَ]، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ افْتَتَحَ خَيْبَرَ عَنْوَةً بَعْدَ الْقِتَالِ، وَنَزَلَ مَنْ نَزَلَ مِنْ أَهْلِهَا عَلَى الْجَلاءِ بَعْدَ الْقِتَالِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۴۰۲) (ضعیف)
(اس سند میں انقطاع ہے، زہری اور نبی کریم ﷺ کے درمیان واسطے کا پتہ نہیں ہے مگر بات یہی صحیح ہے کہ خبیربزورطاقت (جنگ سے) فتح کیا گیا تھا جیساکہ صحیح اور متصل مرفوع روایات میں وارد ہے)
۳۰۱۸- ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو طاقت کے ذریعہ لڑ کر فتح کیا اور خیبر کے جو لوگ قلعہ سے نکل کر جلا وطن ہوئے وہ بھی جنگ کے بعد ہی جلا وطنی کی شرط پر قلعہ سے باہر نکلے تھے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : پھر انہوں نے منت سماجت کی اور کہنے لگے کہ ہمیں یہاں رہنے دو، ہم زراعت(کھیتی باڑی) کریں گے، اور نصف پیداوار آپ کو دیں گے، تو آپ ﷺ نے انھیں رکھ لیا، اس شرط کے ساتھ کہ جب ہم چاہیں گے، نکال دیں گے۔
3019- حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: خَمَّسَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَيْبَرَ، ثُمَّ قَسَمَ سَائِرَهَا عَلَى مَنْ شَهِدَهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۴۰۱) (حسن)
(یہ روایت بھی مرسل ہے مگر واقعہ شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ۸؍ ۳۵۸)
۳۰۱۹- ابن شہاب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے مال میں سے ( جو غنیمت میں آیا ) خمس (پانچواں حصہ) نکال لیا اور جو با قی بچ رہا اسے ان لوگوں میں تقسیم کر دیا جو جنگ میں مو جو د تھے اور جو موجودنہیں تھے لیکن صلح حدیبیہ میںحاضر تھے ۔
3020- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: لَوْلا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فُتِحَتْ قَرْيَةٌ إِلا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَيْبَرَ۔
* تخريج: خ/الحرث ۱۴ (۲۳۳۴)، فرض الخمس ۱۴ (۳۱۲۵)، المغازي ۳۸ (۴۲۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۱، ۳۲) (صحیح)
۳۰۲۰- عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا ( یعنی ان کی محتاجی کا ) خیال نہ ہوتا توجو بھی گائوں و شہر فتح کیا جاتااسے میں اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا۔