• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب فِي دِيَةِ الْمُكَاتَبِ
۲۲-باب: مکاتب غلام کی دیت کا بیان​


4581- [حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، و حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ، و] حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، [جَمِيعًا] عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي دِيَةِ الْمُكَاتَبِ يُقْتَلُ: يُودَى مَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ، وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْمَمْلُوكِ۔
* تخريج: ن/القسامۃ ۳۲ (۴۸۱۲، ۴۸۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۴۲)، وقد أخرجہ: حم ( ۱/۲۲۲، ۲۲۶، ۲۶۰، ۲۹۲، ۳۶۳) (صحیح)
۴۵۸۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکاتب غلام جسے قتل کر دیا جائے کی دیت میں فیصلہ فرمایا کہ قتل کے وقت جس قدر وہ بدل کتابت ادا کرچکا ہے اتنے حصہ کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہو گی اور جس قدر ادائیگی باقی ہے اتنے حصے کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہو گی ۔


4582- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ وَرِثَ مِيرَاثًا يَرِثُ عَلَى قَدْرِ مَاعَتَقَ مِنْهُ >.
قَالَ ابو داود: رَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ [عَنْ عَلِيٍّ] عَنِ النَّبِيِّ ﷺ [وَأَرْسَلَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَإِسْمَعِيلُ [عَنْ أَيُّوبَ] عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ]، وَجَعَلَهُ إِسْمَعِيلُ [ابْنُ عُلَيَّةَ] قَوْلَ عِكْرِمَةَ۔
* تخريج: ت/ البیوع ۳۵ (۱۲۵۹)، انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۹۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۶۹) (صحیح)
۴۵۸۲- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب مکاتب کوئی حد کا کام کرے یا تر کے کا وارث ہو تو جس قدر آزاد ہوا ہے وہ اسی قدر وارث ہو گا ''۔
ابو داود کہتے ہیں : اسے وہیب نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے،عکرمہ نے علی رضی اللہ عنہ سے اورعلی نے نبی اکرم ﷺ سے مر فوعاً روایت کیا ہے۔
اور حماد بن زید اور اسماعیل نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرمﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
اور اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول قرار دیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب فِي دِيَةِ الذِّمِّيِّ
۲۳-باب: ذمی کی دیت کا بیان​


4583- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ <دِيَةُ الْمُعَاهِدِ نِصْفُ دِيَةِ الْحُرِّ>.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ [اللَّيْثِيُّ] وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مِثْلَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۸۷)، وقد أخرجہ: ت/الدیات ۱۷ (۱۴۱۳)، ن/القسامۃ ۳۱ (۴۸۱۰)، ق/الدیات ۱۳ (۲۶۴۴)، حم ( ۲/۱۸۳، ۲۱۷، ۲۲۴) (حسن)
۴۵۸۳- عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:'' ذمی معاہد کی دیت آزاد کی دیت کی آدھی ہے'' ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے اسامہ بن زید لیثی اور عبدالرحمن بن حا رث نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔
وضاحت ۱؎ : یعنی جو کافر دارالاسلام میں معاہدہ کی رو سے رہتا ہے اس کی دیت مسلمان کی دیت کی آدھی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24 - بَاب فِي الرَّجُلِ يُقَاتِلُ الرَّجُلَ فَيَدْفَعُهُ عَنْ نَفْسِهِ
۲۴-باب: ایک شخص دوسرے سے لڑے اور دوسرا اپنا دفاع کرے تو اس پر سزا نہ ہوگی​


4584- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَائٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَاتَلَ أَجِيرٌ لِي رَجُلا فَعَضَّ يَدَهُ، فَانْتَزَعَهَا، فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ ، فَأَهْدَرَهَا، وَقَالَ: < أَتُرِيدُ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا كَالْفَحْلِ ؟ >.
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِي اللَّه عَنْه أَهْدَرَهَا، وَقَالَ: بَعِدَتْ سِنُّهُ ۔
* تخريج: خ/جزاء الصید ۱۹ (۱۸۴۷)، الإجارۃ ۵ (۲۲۶۵)، الجھاد ۱۲۰ (۲۹۷۳)، المغازي ۷۸ (۴۴۱۷)، الدیات ۱۸ (۶۸۹۳)، م/الحدود ۴ (۱۶۷۳)، ن/القسامۃ ۱۵ (۴۷۷۴، ۴۷۷۵، ۴۷۷۶)، ق/الدیات ۲۰ (۲۶۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۳۷، ۶۶۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲۲، ۲۲۳، ۲۲۴) (صحیح)
۴۵۸۴- یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک مزورنے ایک شخص سے جھگڑا کیا اور اس کے ہاتھ کو منہ میں کرکے دانت سے دبایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت باہر نکل آیا ، پھر وہ نبی اکرمﷺ کے پاس آیا،تو آپ نے اسے لغو کر دیا، اور فرمایا: ’’کیا چاہتے ہو کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دے دے، اور تم اسے سانڈ کی طرح چبا ڈالو‘‘، ابن ابی ملیکہ نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسے لغوقرار دیا اور کہا :(اللہ کرے) اس کا دانت نہ رہے ۔


4585- حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ. أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَعَبْدُالْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، بِهَذَا، زَادَ: ثُمَّ قَالَ -يَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ - لِلْعَاضِّ: < إِنْ شِئْتَ أَنْ تُمَكِّنَهُ مِنْ يَدِكَ فَيَعَضُّهَا ثُمَّ تَنْزِعُهَا مِنْ فِيهِ > وَأَبْطَلَ دِيَةَ أَسْنَانِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۴۶) (صحیح الإسناد)
۴۵۸۵- اس سند سے بھی یعلی بن امیہ سے یہی حدیث مروی ہے ، البتہ اتنا اضافہ ہے’’ پھر آپ نے( یعنی نبی اکرمﷺ نے) دانت کا ٹنے والے سے فرمایا:’’ اگر تم چا ہو تویہ ہوسکتا ہے کہ تم بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دووہ اسے کاٹے پھر تم اسے اس کے منہ سے کھینچ لو‘‘ اور اس کے دانتوں کی دیت باطل قرار دے دی ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25 - بَاب فِيمَنْ تَطَبَّبَ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَأَعْنَتَ
۲۵-باب: جس نے طب جانے بغیر کسی کا علاج کیا اور اس کو نقصان پہنچا دیا تو اس کی سزا کیا ہے ؟​


4586 - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الأَنْطَاكِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ تَطَبَّبَ وَلا يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ > قَالَ نَصْرٌ: قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ.
قَالَ أَبو دَاود: هَذَا لَمْ يَرْوِهِ إِلا الْوَلِيدُ، لا نَدْرِي هُوَ صَحِيحٌ أَمْ لا۔
* تخريج: ن/القسامۃ ۳۴ (۴۸۳۴)، ق/الطب ۱۶ (۳۴۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۴۶) (حسن)
۴۵۸۶- عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جو طب نہ جانتا ہو اور علاج کرے تو وہ (مریض کا) ضامن ہوگا''۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ولید کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ، ہمیں نہیں معلوم یہ صحیح ہے یا نہیں۔


4587- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ الْوَفْدِ الَّذِينَ قُدِمُوا عَلَى أَبِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <أَيُّمَا طَبِيبٍ تَطَبَّبَ عَلَى قَوْمٍ لا يُعْرَفُ لَهُ تَطَبُّبٌ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَعْنَتَ فَهُوَ ضَامِنٌ > قَالَ عَبْدُالْعَزِيزِ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بِالنَّعْتِ إِنَّمَا هُوَ قَطْعُ الْعُرُوقِ وَالْبَطُّ وَالْكَيُّ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۳۱) (حسن)
۴۵۸۷- عبدالعزیزبن عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: میرے والد کے پاس آنے والوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جو کسی قوم میں طبیب بن بیٹھے ، حالاں کہ اس سے پہلے اس کی طب دانی معروف نہ ہو اور مریض کا مرض بگڑ جائے اور اس کو نقصان لاحق ہوجائے تو وہ اس کا ضامن ہو گا''۔
عبدالعزیز کہتے ہیں: اعنت نعت سے نہیں (بلکہ عنت سے ہے جس کے معنی ) رگ کاٹنے ، زخم چیرنے یا داغنے کے ہیں ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب فِي دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ
۲۶-باب: شبہ عمد کی دیت کا بیان ۱؎​


4588- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ ابْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، قَالَ مُسَدَّدٌ: خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ، ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ: < أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تُذْكَرُ وَتُدْعَى تَحْتَ قَدَمَيَّ، إِلا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ، وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ > ثُمَّ قَالَ: < أَلا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ: مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۵۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۸۹) (حسن)
۴۵۸۸- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا: ''سنو! جاہلیت کے خون یا مال کی جتنی فضیلتیں بھی تھیں جن کا ذکر کیا جاتا تھا یا جن کے دعوے کئے جاتے تھے و ہ سب میرے قدموں تلے ہیں ، سوائے حاجیوں کو پانی پلا نے اور بیت اللہ کی دیکھ ریکھ کے''، پھر فرمایا:'' سنو! قتل خطا جو کوڑے یا لاٹھی سے ہوا ہو شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے ، جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچّے ہوں گے''۔
وضاحت ۱؎ : یہ اس سے پہلے حدیث نمبر (۴۵۴۷) کے تحت بھی گزر چکا ہے۔


4589 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، نَحْوَ مَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۵۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۸۹)
۴۵۸۹- اس سند سے بھی خالد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27 - بَاب فِي جِنَايَةِ الْعَبْدِ يَكُونُ لِلْفُقَرَاءِ
۲۷-باب: فقیر کا غلام کوئی جرم کرے تواس کی سزا کا حکم​


4590 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ غُلامًا لأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلامٍ لأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ، فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ ﷺ ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا أُنَاسٌ فُقَرَاءُ فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا۔
* تخريج: ن/القسامۃ ۱۵، ۱۶ (۴۷۵۵)، دي/الدیات ۳ (۲۳۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۶۳) (صحیح)
۴۵۹۰- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فقیر لوگوں کے ایک غلام نے کچھ مال دار لوگوں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، تو جس غلام نے کان کاٹا تھا اس کے مالکان نے نبی اکرمﷺ کے پاس آکرکہا : اللہ کے رسول! ہم فقیر لوگ ہیں، تو آپ نے ان پر کوئی دیت نہیں ٹھہرائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28 - بَاب فِيمَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا بَيْنَ قَوْمٍ
۲۸-باب: ایسا مقتول جس کے قاتل کا پتہ نہ چل سکے اس کے حکم کا بیان​


4591- قَالَ أَبو دَاود: حُدِّثْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيًّا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ أَوْ بِسَوْطٍ فَعَقْلُهُ عَقْلُ خَطَإٍ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَقَوَدُ يَدَيْهِ، فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۵۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۸۲۸، ۵۷۳۹) (صحیح)
۴۵۹۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اندھادھند مارا جائے یا کسی دنگے فساد میں جو ان میں چھڑ گیا ہو، یا کسی پتھر یا کوڑے سے مارا جائے تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی، اور جو جان بوجھ کر عمداً کسی کو قتل کرے تو وہ موجب قصاص ہے، اب اگر کوئی ان دونوں کے بیچ میں پڑ کر(قاتل کو بچانا چاہے) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29 - بَاب فِي الدَّابَّةِ تَنْفَحُ بِرِجْلِهَا
۲۹-باب: جانور کسی کو لات مار دے تو اس کے مالک سے مواخذہ نہ ہوگا​


4592- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < الرِّجْلُ جُبَارٌ >.
[قَالَ أَبو دَاود: الدَّابَّةُ تَضْرِبُ بِرِجْلِهَا وَهُوَ رَاكِبٌ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۲۰) (ضعیف)
۲۵۹۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' (جانور کا) پائوں باطل و رائگاں ہے اس کی کوئی دیت نہیں ہوگی''۔
ابو داود کہتے ہیں: جانور پیر سے مار دے جب کہ وہ اس پہ سوار ہو تو اس کی کوئی دیت نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30 - بَاب الْعَجْمَاءُ وَالْمَعْدِنُ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ
۳۰-باب: اگر بے زبان جانور کسی کوزخمی کردے اور آدمی کان یا کنواں اپنی زمین میں کھدوائے اور اس میں کوئی مرجائے تو ان چیزوں میں تاوان لازم نہ ہوگا​


4593- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وأَبِي سَلَمَةَ، سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ >.
قَالَ أَبو دَاود: الْعَجْمَاءُ الْمُنْفَلِتَةُ الَّتِي لا يَكُونُ مَعَهَا أَحَدٌ، وَتَكُونُ بِالنَّهَارِ لاتَكُونُ بِاللَّيْلِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۰۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۲۸، ۱۵۱۴۷) (صحیح)
۴۵۹۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جا نور کسی کو زخمی کردے تو اس میں ہرجانہ نہیں ہے ، کان میں ہلاک ہونے والے کا ہرجانہ نہیں ہے اور کنواں میں ہلاک ہوجانے والے کا ہرجانہ نہیں ہے ۱؎ اور رکاز میں پانچواں حصہ دینا ہو گا''۔
ابو داود کہتے ہیں: جا نور سے مراد وہ جا نور ہے جو چھڑا کر بھاگ گیا ہو اور اس کے ساتھ کوئی نہ ہو اور دن ہو، رات نہ ہو۔
وضاحت ۱؎ : یعنی جانور کسی کوزخمی کردے یا کان اور کنویں میں گر کر کوئی ہلاک ہوجائے تو ان کے مالکوں پر اس کی دیت نہ ہوگی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب فِي النَّارِ تَعَدَّى
۳۱-باب: پھیل جانے والی آگ کے حکم کا بیان​


4594- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ (ح) و حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ الصَّنْعَانِيُّ، كِلاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <النَّارُ جُبَارٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۷۹۶، ۱۴۶۹۹)، وقد أخرجہ: ق/الدیات ۲۷ (۲۶۷۶) (صحیح)
۴۵۹۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہـ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' آگ باطل ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی کسی نے اپنی زمین پر آگ جلائی اور وہ وہاں سے اڑ کر کسی کے گھر یا سامان میں لگ گئی تو جلا نے والے پر کوئی تاوان نہ ہو گا۔
 
Top