• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب فِي فَضْلِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ
۱۰-باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان​


4657- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا (ح) وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ > وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لا < ثُمَّ يَظْهَرُ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلايُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلايُوفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ >۔
* تخريج: م/فضائل الصحابۃ ۵۲ (۲۵۳۵)، ت/الفتن ۴۵ (۲۲۲۲)، الشھادات ۴، (۲۳۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۲۴)، وقد أخرجہ: خ/الشہادات ۹ (۲۶۵۱)، فضائل الصحابۃ ۱ (۳۶۵۰)، الرقاق ۷ (۶۴۲۸)، الأیمان ۷ (۶۶۹۵)، ن/الأیمان والنذور ۲۸ (۳۸۴۰)، حم (۴/۴۲۶، ۴۲۷، ۴۳۶، ۴۴۰) (صحیح)
۴۶۵۷- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن میں مجھے مبعوث کیا گیا ، پھر وہ جو اُن سے قریب ہیں ، پھر وہ جو اُن سے قریب ہیں'' ،اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں ،'' پھر کچھ لوگ رونما ہوں گے جو بلا گواہی طلب کئے گواہی دیتے پھریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے، خیانت کرنے لگیں گے جس سے ان پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا، اور ان میں موٹاپا عام ہوگا'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ جواب دہی کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، عیش وآرام کے عادی ہو جائیں گے اور دین و ایمان کی فکر جاتی رہے گی جو ان کے مٹاپے کا سبب ہوگی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب فِي النَّهْيِ عَنْ سَبِّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ
۱۱-باب: صحا بہء کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنا منع ہے​


4658- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلا نَصِيفَهُ >۔
* تخريج: خ/فضائل الصحابۃ ۵ (۳۶۷۳)، م/فضائل الصحابۃ ۵۴ (۲۵۴۱)، ت/المناقب ۵۹ (۳۸۶۱)، ق/المقدمۃ ۲۰ (۱۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۰۱، ۱۲۵۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱، ۵۴، ۵۵، ۶۳) (صحیح)
۴۶۵۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم میں سے کوئی احد(پہاڑ) کے برابر سونا خر چ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہوگا‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس حدیث کاشان ورود یہ ہے کہ ایک بارعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اورخالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ کہا سنی ہوگئی جس پر خالد نے عبدالرحمن کوکچھ نا مناسب الفاظ کہہ دیئے، جس پر رسول اکرمﷺ نے یہ فرمایا،اس سے پتہ چلاکہ مخصوص اصحاب کے مقابلہ میں دیگر صحابہ کرام کایہ حال ہے تو غیر صحابی کا کیا ذکر، غیرصحابی کا احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرناصحابی کے ایک مُد غلہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا،اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام عالی کاپتہ چلتا ہے، اوریہیں سے ان بدبختوں کی بدبختی اور بدنصیبی کا اندازہ کیاجاسکتا ہے جن کے مذہب کی بنیاد صحابہ کرام کو سب وشتم کا نشانہ بنانا اور تبرا بازی کو دین سمجھناہے۔


4659- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَاصِرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ، فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي الْغَضَبِ، فَيَنْطَلِقُ نَاسٌ مِمَّنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ حُذَيْفَةَ فَيَأْتُونَ سَلْمَانَ فَيَذْكُرُونَ لَهُ قَوْلَ حُذَيْفَةَ، فَيَقُولُ سَلْمَانُ: حُذَيْفَةُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ، فَيَرْجِعُونَ إِلَى حُذَيْفَةَ، فَيَقُولُونَ لَهُ: قَدْذَكَرْنَا قَوْلَكَ لِسَلْمَانَ فَمَا صَدَّقَكَ وَلا كَذَّبَكَ، فَأَتَى حُذَيْفَةُ سَلْمَانَ وَهُوَ فِي مَبْقَلَةٍ فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ، مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَدِّقَنِي بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟ فَقَالَ سَلْمَانُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ فِي الْغَضَبِ لِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَيَرْضَى فَيَقُولُ فِي الرِّضَا لِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، أَمَا تَنْتَهِي حَتَّى تُوَرِّثَ رِجَالا حُبَّ رِجَالٍ وَرِجَالا بُغْضَ رِجَالٍ، وَحَتَّى تُوقِعَ اخْتِلافًا وَفُرْقَةً؟ وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَطَبَ فَقَالَ: < أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً فِي غَضَبِي فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ فَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ صَلاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ > وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لأَكْتُبَنَّ إِلَى عُمَرَ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۳۷، ۴۳۹) (صحیح)
۴۶۵۹- عمرو بن ابی قرہ کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے اور وہ ان باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے ، جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے بعض لوگوں سے غصہ کی حالت میں فر مائی تھیں ، پھر ان میں سے کچھ لوگ جو حذیفہ سے باتیں سنتے چل کر سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ تے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کی باتوں کا تذکرہ کرتے توسلمان رضی اللہ عنہ کہتے : حذیفہ ہی اپنی کہی باتوں کو بہتر جانتے ہیں، تو وہ لوگ حذیفہ کے پاس لوٹ کر آتے اور ان سے کہتے :ہم نے آپ کی باتوں کا تذکرہ سلمان سے کیا تو انہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی اور نہ تکذیب ،یہ سن کر حذیفہ سلمان کے پاس آئے ، وہ اپنی ترکاری کے کھیت میں تھے کہنے لگے:اے سلمان! ان باتوں میں میری تصدیق کرنے سے آپ کو کون سی چیز روک رہی ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں؟تو سلمان نے کہا: رسول اللہ ﷺ بلاشبہ کبھی غصے میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے اور کبھی خوش ہو تے تو خوشی میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے،تو کیا آپ اس وقت تک باز نہ آئیں گے جب تک کہ بعض لوگوں کے دلوں میں بعض لوگوں کی محبت اور بعض دوسروں کے دلوں میں بعض کی دشمنی نہ ڈال دیں اور ان کواختلاف میں مبتلا نہ کردیں،حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: ’’میں نے اپنی امت کے کسی فرد کو غصے کی حالت میں اگر برا بھلا کہا یا اسے لعن طعن کی تو میں بھی تو آدم کی اولاد میں سے ہوں ، مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے ،لیکن اللہ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجاہے تو ( اے اللہ) میرے برابھلا کہنے اورلعن طعن کو ان لوگوں کے لئے قیامت کے روز رحمت بنادے‘‘،اللہ کی قسم یاتو آپ اپنی اس حرکت سے باز آجائیں ورنہ میں عمربن الخطاب (امیر المومنین) کولکھ بھیجوں گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب فِي اسْتِخْلافِ أَبِي بَكْرٍ رَضِي اللَّه عَنْه
۱۲-باب: ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلا فت کا بیان​


4660- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ دَعَاهُ بِلالٌ إِلَى الصَّلاةِ، فَقَالَ: مُرُوا مَنْ يُصَلِّي لِلنَّاسِ، فَخَرَجَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ، فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا، فَقُلْتُ: يَا عُمَرُ! قُمْ فَصَلِّ بِالنَّاسِ، فَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ، فَلَمَّا سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلا مُجْهِرًا؛ قَالَ: < فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ؟ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ، يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ > فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلاةَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۲۲) (حسن صحیح)
۴۶۶۰- حارث بن ہشام عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری سخت ہوئی اور میں آپ ہی کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا تو بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو صلاۃ کے لئے بلا یا ، آپ ﷺ نے فرمایا :'' کسی سے کہو جو لوگوں کو صلاۃ پڑھائے'' ، عبداللہ بن زمعہ نکلے تو دیکھا کہ لوگوں میں عمر رضی اللہ عنہ موجود ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ موقع پر موجود نہ تھے ، میں نے کہا: اے عمر! اٹھیے صلاۃ پڑھائیے، تو وہ بڑھے اور انہوں نے اللہ اکبر کہا ، وہ بلند آواز شخص تھے، رسول اللہ ﷺ نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا: ''ابو بکر کہاں ہیں؟ اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی ،اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی''، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا ، وہ عمر کے صلاۃ پڑھا چکنے کے بعد آئے تو انہوں نے لوگوں کو (پھر سے ) صلاۃ پڑھائی ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس حدیث سے خلافت صدیقی کا صاف اشارہ ملتا ہے کیونکہ امامت صغریٰ امامت کبریٰ کا پیش خیمہ ہے۔


4661- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ زَمْعَةَ أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: لَمَّا سَمِعَ النَّبِيُّ ﷺ صَوْتَ عُمَرَ، قَالَ ابْنُ زَمْعَةَ: خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى أَطْلَعَ رَأْسَهُ مِنْ حُجْرَتِهِ ثُمَّ قَالَ: < لا، لا، لا، لِيُصَلِّ لِلنَّاسِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ > يَقُولُ ذَلِكَ مُغْضَبًا۔
* تخريج: انظر ماقبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۹۵) (صحیح)
۴۶۶۱- عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہی بات بتائی اور کہا: جب نبی اکرم ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو آپ نکلے یہاں تک کہ حجرے سے اپنا سر نکالا، پھر فرمایا:'' نہیں ، نہیں ، نہیں، ابن ابی قحافہ(یعنی ابوبکر) کو چاہئے کہ لوگوں کو صلاۃ پڑھائیں ''،آپ ﷺ یہ غصے میں فرما رہے تھے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلامِ فِي الْفِتْنَةِ
۱۳-باب: فتنہ و فسادکے وقت خاموش رہنے کا بیان​


4662- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ(ح) و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: < إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِي، وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ: < وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ >۔
* تخريج: خ/الصلح ۹ (۲۷۰۰۴)، المناقب ۲۵ (۳۶۲۹)، فضائل الصحابۃ ۲۲ (۳۷۴۶)، الفتن ۲۰ (۷۱۰۹)، ت/المناقب ۳۱ (۳۷۷۳)، ن/الجمعۃ ۲۷ (۱۴۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۵ /۳۷، ۴۴، ۴۹، ۵۱) (صحیح)
۴۶۶۲- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا: ’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا‘‘۔
حماد کی روایت میں ہے: ’’شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ پیشین گو ئی رسول اللہ ﷺکی اس طرح سچ ثابت ہوئی کہ حسن رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلی اور ایک عظیم فتنہ کوختم کردیایہ سال اتحادملت کا سال تھا (رضی اللہ عنہم )۔


4663- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تُدْرِكُهُ الْفِتْنَةُ إِلا أَنَا أَخَافُهَا عَلَيْهِ إِلا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا تَضُرُّكَ الْفِتْنَةُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۸۱) (صحیح)
۴۶۶۳- محمدبن سیرین کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا:لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کوفتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کاخوف نہ ہو، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا‘‘۔


4664- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ ثَعْلَبَةَ ابْنِ ضُبَيْعَةَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: إِنِّي لأَعْرِفُ رَجُلا لا تَضُرُّهُ الْفِتَنُ شَيْئًا، قَالَ: فَخَرَجْنَا فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ، فَدَخَلْنَا، فَإِذَا فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا أُرِيدُ أَنْ يَشْتَمِلَ عَلَيَّ شَيْئٌ مِنْ أَمْصَارِكُمْ حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَتْ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۸۱) (صحیح)
(اس کے راوی ’’ ثعلبہ ‘‘ یا ’’ ضبیعہ‘‘ مجہول ہیں لیکن سابقہ حدیث کی تقویت سے صحیح ہے)
۴۶۶۴- ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ نے کہا : میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے ، ہم اندر گئے تو اس میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ملے ، ہم نے ان سے پوچھا (کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں؟) تو فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے، اس لئے جب تک فتنہ فرو نہ ہوجائے اور معاملہ واضح اورصاف نہ ہوجائے شہر کونہیں جاؤں گا۔


4665- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ ضُبَيْعَةَ ابْنِ حُصَيْنٍ الثَّعْلَبِيِّ، بِمَعْنَاهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۸۱) (صحیح)
(’’ثعلبہ بن ضبیعہ‘‘ اور’’ ضبیعہ‘‘ بن حصین‘‘ ایک ہی ہیں جو مجہول ہیں اورسابقہ حدیث سے تقویت پاکریہ حدیث صحیح ہے)
۴۶۶۵- ضبیعہ بن حصین ثعلبی سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔


4666- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه: أَخْبِرْنَا عَنْ مَسِيرِكَ هَذَا، أَعَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَمْ رَأْيٌ رَأَيْتَهُ؟ فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِشَيْئٍ، وَلَكِنَّهُ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۴۲، ۱۴۸) (صحیح الإسناد)
۴۶۶۶- قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں آپ (معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کے لئے ) اپنی اس روانگی کے متعلق بتائیے کہ آیا رسول اللہ ﷺ کا کوئی حکم ہے جو انہوں نے آپ کو دیا ہے یا آپ کا اپنا خیال ہے جسے آپ درست سمجھتے ہیں، وہ بو لے : مجھے رسول اللہ ﷺ نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ میری رائے ہے۔


4667- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ >۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۴۷ (۱۰۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۳۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۲، ۹۷) (صحیح)
۴۶۶۷- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمانوں میں اختلاف کے وقت ایک فرقہ نکلے گا جسے دونوں گروہوں میں سے جو حق سے قریب تر ہوگا قتل کرے گا ‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت۱؎ : اس سے مراد فرقہ خوارج ہے جوعلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے پھر ان سے جداہوکر گمراہی کاشکار ہوئے، علی نے ان سے قتال کیا جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ معاویہ کے مقابلہ میں علی ؓ حق سے زیادہ قریب تھے،
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14- بَاب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاةُ وَالسَّلامُ
۱۴-باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟​


4668- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو -يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < لا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ >۔
* تخريج: خ/الخصومات ۴ (۲۴۱۲)، الأنبیاء ۲۵ (۳۳۹۸)، الدیات ۳۲ (۶۹۱۷)، م/الفضائل (۲۳۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۱، ۳۳، ۴۰) (صحیح)
۴۶۶۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکر مﷺ نے فرمایا:''نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس کے یہ معنی نہیں کہ انبیاء فضیلت میں برابر ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے ایسا مت کرو ، یا مطلب یہ ہے کہ ایک کو دوسرے پر ایسی فضیلت نہ دو کہ دوسرے کی تنقیص لازم آئے، یا یہ ہے کہ نفس نبوت میں سب برابر ہیں، خصائص اور فضائل میں ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں ،جیسا کہ اللہ نے فرمایا:{تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىْ بَعْضٍ}۔


4669- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: < مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى >۔
* تخريج: خ/الأنبیاء ۲۴ (۳۳۹۵)، وتفسیر القرآن ۴ (۴۶۳۰)، م/الفضائل ۴۳ (۲۳۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۴۲، ۲۵۴، ۳۴۲، ۳۴۸) (صحیح)
۴۶۶۹- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: '' کسی بندے کے لئے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس میں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے کو یونس علیہ السلام سے افضل کہے، کیونکہ غیر نبی کبھی کسی بھی نبی سے افضل نہیں ہوسکتا، یا یہ کہ یونس علیہ السلام پر نبی اکرمﷺ کو فضیلت دے اس صورت میں آپ کا یہ فرمانا بطور تواضع ہوگا۔


4670- حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ ابْنِ مَتَّى >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۰۵) (صحیح لغیرہ)
(اس میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں ، لیکن سابقہ شاہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
۴۶۷۰- عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے :'' کسی نبی کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں''۔


4671- حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ وَعَبْدِالرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى، فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < لا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى؛ فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ فِي جَانِبِ الْعَرْشِ؛ فَلا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ>.
قَالَ أَبو دَاود: وَحَدِيثُ بْنِ يَحْيَى أَتَمّ۔
* تخريج: خ/الخصومات ۱ (۲۴۱۲)، الأنبیاء ۳۲ (۲۳۹۸)، التفسیر ۴ (۴۶۳۸)، والرقاق ۴۳ (۶۵۱۷)، التوحید ۳۱ (۷۴۷۲)، م/الفضائل ۴۲ (۲۳۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۹۵۶)، وقد أخرجہ: ت/تفسیر القرآن ۴۰ (۳۲۴۵)، حم (۲/۲۶۴) (صحیح)
۴۶۷۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے موسی علیہ السلام کو چن لیا، یہ سن کرمسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کر دیا، یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: '' مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو،(پہلا صور پھونکنے سے) سب لوگ بے ہوش ہوجائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بے ہوش ہو گئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بے ہوش ہونے سے محفوظ رکھا '' ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
وضاحت ۱؎ : چونکہ اس یہودی نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام عالم سے افضل قرار دیا تھا اس لئے مسلمان نے اُسے طمانچہ رسید کر دیا، رسول اکرم ﷺ نے جس چیز سے منع کیا وہ انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک دوسرے پر حمیت وعصبیت کی بنا پر فضیلت دینا ہے، ورنہ اس میں شک نہیں کہ نبی اکرمﷺ موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں، آپ نے موسیٰ علیہ السلام کے بے ہوش نہ ہونے وغیرہ کی بات صرف اس لئے فرمائی کہ ہر نبی کواللہ نے کچھ خصوصیات عنایت فرمائی ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر دوسرے انبیاء کی کسر شان درست نہیں، ہمارے لئے سارے انبیاء علیہ السلام قابل احترام ہیں۔


4672- حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، يَذْكُرُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ : يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ >۔
* تخريج: م/الفضائل ۴۱ (۲۳۶۹)، ت/تفسیر البینۃ ۸۶ (۳۳۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۷۸، ۱۸۴) (صحیح)
۴۶۷۲- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو کہا: اے مخلوق میں سے سب سے بہتر! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یہ شان تو ابراہیم علیہ السلام کی ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ممکن ہے خیرالبریۃ ابراہیم علیہ السلام کالقب ہو،یا وہ اپنے زمانہ کے سب سے بہتر تھے،آپ نے ازراہ انکسار ایسا فرمایا ورنہ آپ یقینا خیرالبریۃ ہیں۔


4673- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ فَرُّوخَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ >۔
* تخريج: م/ الفضائل ۲ (۲۲۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۹۵، ۲۸۱) (صحیح)
۴۶۷۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا، سب سے پہلے سفارش کر نے والا ہوں اورمیری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہوگی''۔


4674- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلانِيُّ وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَا أَدْرِي أَتُبَّعٌ لَعِينٌ هُوَ أَمْ لا، وَمَا أَدْرِي أَعُزَيْرٌ نَبِيٌّ هُوَ أَمْ لا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۳۳) (صحیح)
۴۶۷۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مجھے نہیں معلوم کہ تبع قابل ملامت ہے یا نہیں، اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ عزیر نبی ہیں یا نہیں '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : تبع کے بارے میں یہ فرمان آپ ﷺ کا اس وقت کا ہے جب آپ کو اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا، بعد میں آپ کو بتا دیا گیا کہ وہ ایک مرد صالح تھے۔


4675- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ [قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ]، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الأَنْبِيَاءُ أَوْلادُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ >۔
* تخريج: م/الفضائل ۴۰ (۲۳۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۲۴)، وقد أخرجہ: خ/أحادیث الأنبیاء ۴۸ (۳۴۴۲)، حم (۲/۴۸۲، ۵۴۱) (صحیح)
۴۶۷۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : ''میں ابن مریم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کی مائیں مختلف ہوں اور باپ ایک ہو، انبیاء کی شریعتیں مختلف اور دین ایک تھا ،یا یہ مراد ہے کہ زمانے مختلف ہیں اور دین ایک ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب فِي رَدِّ الإِرْجَاءِ
۱۵-باب: إرجاء کی تردیدکا بیان ۱؎​


4676- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ، أَفْضَلُهَا قَوْلُ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْعَظْمِ عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ >۔
* تخريج: خ/الإیمان ۳ (۹)، م/الإیمان ۱۲ (۳۵)، ت/الإیمان ۶ (۲۶۱۴)، ن/الإیمان ۱۶ (۵۰۰۷، ۵۰۰۸، ۵۰۰۹)، ق/المقدمۃ ۹ (۵۷) ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۱۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۱۴، ۴۴۲، ۴۴۵) (صحیح)
۴۶۷۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل ’’لا إله إلا الله‘‘ کہنا، اور سب سے کم تر راستے سے ہڈی ہٹانا ۲؎ہے، اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘ ۳؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ارجاء کے معنی تاخیر کے ہیں اسی سے فرقہ مرجئہ ہے جس کاعقیدہ ہے کہ ایمان کے ساتھ کوئی معصیت نقصان دہ نہیں، اور کفر کے ساتھ کوئی نیکی نفع بخش نہیں، یہ قدیم گمراہ فرقوں میں سے ایک ہے، اس کی تردیدمیں محدثین کرام نے مستقل کتابیں لکھی ہیں، اس کتاب میں بھی ان کاردوابطال مقصود ہے، ان کے نزدیک اعمال ایمان کاجزء نہیں، بلکہ ایمان محض تصدیق اوراقرار کا نام ہے، جب کہ اہل سنت واہل حدیث کے یہاں ایمان کے ارکان تین ہیں ، دل سے تصدیق، زبان سے اقرار، اور اعضاء و جوارح سے عملی ثبوت فراہم کرنا۔
وضاحت ۲؎ : بعض نسخوں میں عظم کے بجائے اذی کالفظ ہے گویا کوئی بھی تکلیف دہ چیز ۔
وضاحت۳؎ : حدیث سے ظاہر ہے کہ اعمال صالحہ سے مومن کوفائدہ اور اعمال بد سے نقصان اور ضرر ہوتا ہے، جب کہ مرجئہ کہتے ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل نہیں۔


4677- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُوجَمْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِالْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ، قَالَ: < أَتَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ > قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: < شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمْسَ مِنَ الْمَغْنَمِ >۔
* تخريج: خ/الإیمان ۴۰ (۵۳)، العلم ۲۵ (۸۷)، المواقیت ۲ (۵۲۳)، الزکاۃ ۱ (۱۳۹۸)، فرض الخمس ۲ (۳۰۹۵)، المناقب ۵ (۳۵۱۰)، المغازي ۶۹ (۴۳۶۸)، الأدب ۹۸ (۶۱۷۶)، خبر الواحد ۵ (۷۲۶۶)، التوحید ۵۶ (۷۵۵۶)، م/الإیمان ۶ (۱۷)، الأشربۃ ۶ (۱۹۹۵)، ت/السیر ۳۹ (۱۵۹۹)، الإیمان ۵ (۲۶۱۱)، ن/الإیمان ۲۵ (۵۰۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۱ /۱۲۸، ۲۷۴، ۲۹۱، ۳۰۴، ۳۳۴، ۳۴۰، ۳۵۲، ۳۶۱)، وقد مضی ہذا الحدیث برقم : (۳۶۹۲) (صحیح)
۴۶۷۷- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے انہیں ایمان باللہ کا حکم دیا اور پوچھا:’’ کیا تم جانتے ہو:ایمان باللہ کیا ہے؟‘‘، وہ بولے: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس بات کی شہادت دینی کہ اللہ کے سواکوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ، صلاۃ کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، رمضان کے صیام رکھنا،اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ اداکرو‘‘۔


4678- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاةِ >۔
* تخريج: ت/الإیمان ۹ (۲۶۲۰)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۷۷ (۱۰۷۸)، حم (۳/۳۷۰، ۳۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۴۶)، وقد أخرجہ: م/الإیمان ۳۵ (۸۲) (صحیح)
۴۶۷۸- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بندے اور کفر کے درمیان حدفاصل صلاۃ کا تر ک کرناہے ‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی کفر اور بندے میں صلاۃ حد فاصل ہے، اگر صلاۃ اداکرتا ہے تو صاحب ایمان ہے، نہیں ادا کرتا ہے توکافر ہے،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی عمل کے ترک کوکفر نہیں خیال کرتے تھے سوائے صلاۃ کے،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:’’صلاۃ کاترک کرناکفر ہے‘‘،عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کااسلام سے کوئی تعلق نہیں جوصلاۃ چھوڑدے،امام شا فعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: تارک صلاۃ مرتد ہے اگرچہ دین سے خارج نہیں ہوتا،اصحاب الرای کامذہب ہے کہ اس کو قیدکیاجائے تاوقتیکہ صلاۃ پڑھنے لگے، امام احمد بن حنبل، اور امام اسحاق بن راہویہ، اور ائمہ کی ایک بڑی جماعت تارک صلاۃ کو کافرکہتی ہے، اس لئے ہرمسلمان کو اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے صلاۃ کا سخت اہتمام کرنا چاہئے، اور عام لوگوں میں اس عظیم عبادت ،اور اسلامی رکن کی اہمیت کی تبلیغ کرنی چاہئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ
۱۶-باب: ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان​


4679- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: < مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَلادِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ > قَالَتْ: وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ؟ قَالَ: < أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ شَهَادَةُ رَجُلٍ، وَأَمَّا نُقْصَانُ الدِّينِ فَإِنَّ إِحْدَاكُنَّ تُفْطِرُ رَمَضَانَ وَتُقِيمُ أَيَّامًا لا تُصَلِّي >۔
* تخريج: م/الإیمان ۳۴ (۷۹)، ق/الفتن ۱۹ (۴۰۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۶۶) (صحیح)
۴۶۷۹- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عقل اور دین میں ناقص ہوتے ہوئے عقل والے پر غلبہ پانے والا میں نے تم عورتوں سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا''، ( ایک عورت) نے کہا: عقل اور دین میں کیا نقص ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''عقل کا نقص تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے، اور دین کا نقص یہ ہے کہ (حیض ونفاس میں) تم میں کوئی نہ صیام رکھتی ہے اور نہ صلاۃ پڑھتی ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : چونکہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اس مدت میں صلاۃ و صیام کے ترک سے ایمان میں نقص ثابت ہوا۔


4680- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا تَوَجَّهَ النَّبِيُّ ﷺ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ}۔
* تخريج: ت/تفسیرالقرآن ۳ (۲۹۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۹۵، ۳۰۴، ۳۴۷) (صحیح)
(صحیح بخاری کی براء رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ عکرمہ سے سماک کی روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے)
۴۶۸۰- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب(صلاۃ میں) نبی اکرمﷺ نے کعبہ کی طرف رخ کرنا شروع کیا تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا کیا ہو گا جو مر گئے ، اور وہ بیت المقدس کی طرف صلاۃ پڑھتے تھے؟ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ} ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ''ایسا نہیں ہے کہ اللہ تمہارے ایمان یعنی صلاۃ ضائع فرمادے'' (البقرۃ : ۱۴۳)، اس آیت میں صلاۃ کو اللہ تعالیٰ نے ایمان قرار دیا ہے، کیونکہ سوال ان صلاتوں کے بارے میں تھا جو بیت اللہ کی طرف رخ کرنے سے پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے اداکی گئی تھیں، اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انتقال بھی کرچکے تھے تو اللہ نے فرمایا:بیت المقدس کی طرف رخ کرکے پڑھی گئی صلاتیں ضائع نہیں کرے گا، پس ایمان سے مراد صلاۃ ہے۔


4681- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۰۳) (صحیح)
۴۶۸۱- ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے اللہ ہی کے رضا کے لئے محبت کی ، اللہ ہی کے رضا کے لئے دشمنی کی ، اللہ ہی کے رضا کے لئے دیا ، اللہ ہی کے رضا کے لئے منع کر دیا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس حدیث میں اعمال کو ایمان کی تکمیل کا سبب قرار دیا گویا ان اعمال کی کمی ایمان کی کمی ٹھہری، پتہ چلا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔


4682- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۰۹)، وقد أخرجہ: ت/الرضاع ۱۱ (۱۱۶۲)، حم (۲/۴۷۲، ۵۲۷) (حسن صحیح)
۴۶۸۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والا ہے''۔


4683- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رِجَالا وَلَمْ يُعْطِ رَجُلا مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعْطَيْتَ فُلانًا وَفُلانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < أَوْ مُسْلِمٌ > حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلاثًا، وَالنَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: < أَوْ مُسْلِمٌ > ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < إِنِّي أُعْطِي رِجَالا وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُمْ لاأُعْطِيهِ شَيْئًا، مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ >۔
* تخريج: خ/الإیمان ۱۹(۲۷)، الزکاۃ ۵۳ (۱۴۷۸)، م/الإیمان ۶۷ (۱۵۰)، الزکاۃ ۴۵ (۱۵۰)، ن/الإیمان وشرائعہ ۷ (۴۹۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۹۱) (صحیح)
۴۶۸۳- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو دیا اور ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا تو سعد نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں اور فلاں کو دیا لیکن فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:''یا مسلم ہے''، سعد نے تین بار یہی عرض کیا اور نبی اکرمﷺ کہتے رہے:'' یا مسلم ہے''، پھر آپ نے فرمایا: ''میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور ان میں تجھے جو زیادہ محبوب ہے اسے چھوڑ دیتا ہوں ، میں اسے کچھ بھی نہیں دیتا، ایسا اس اندیشے سے کہ کہیں وہ جہنم میں اوندھے منہ نہ ڈال دیئے جائیں '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ یہ شخص پکا سچا مومن ہے اگر میں اس کو نہ دوں گا تو بھی اس کے ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، لیکن یہ لوگ جن کو دیتا ہوں ناقص ایمان والے ہیں نہ دوں گا توان کے ایمان میں فرق پڑے گا کہ ان کا ایمان ابھی پختہ نہیں، لہٰذا مصلحتا میں ایسا کرتا ہوں، پتہ چلا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔


4684- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: {قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا} قَالَ: نَرَى أَنَّ الإِسْلامَ الْكَلِمَةُ وَالإِيمَانَ الْعَمَلُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۳۷۷) (صحیح الإسناد)
۴۶۸۴- ابن شہاب زہری آیت کریمہ {قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا} ۱؎ کی تفسیر میں کہتے ہیں: ہم سمجھتے ہیں کہ(اس آیت میں) اسلام سے مراد زبان سے کلمے کی ادائیگی اور ایمان سے مراد عمل ہے ۔
وضاحت ۱؎ : ''آپ کہہ دیجئے تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ مسلمان ہوئے'' (سورۃ الحجرات : ۱۴)


4685- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ(ح) و حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَسَمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: أَعْطِ فُلانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، قَالَ: <أَوْ مُسْلِمٌ، إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ الْعَطَاءَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، مَخَافَةَ أَنْ يُكَبَّ عَلَى وَجْهِهِ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۶۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۹۱) (صحیح)
۴۶۸۵- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے مسلمانوں میں کچھ تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کیا: فلاں کو بھی دیجئے ، وہ بھی مومن ہے،آپ ﷺ نے فرمایا:''یا مسلم ہے، میں ایک شخص کو کچھ عطا کرتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے(جس کو نہیں دیتا) اس اندیشے سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس کو نہ دوں تو وہ اوندھے منہ(جہنم میں) ڈال دیا جائے''۔


4686- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَاقِدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < لا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ >۔
* تخريج:خ/المغازي ۷۷ (۴۴۰۲)، الأدب ۹۵ (۶۱۶۶)، الحدود ۹ (۶۷۸۵)، الدیات ۲ (۶۸۶۸)، الفتن ۸ (۷۰۷۷)، م/الإیمان ۲۹ (۶۶)، ن/المحاربۃ ۲۵ (۴۱۳۰)، ق/الفتن ۵ (۲۹۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۱۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۸۵، ۸۷، ۱۰۴، ۱۳۵) (صحیح)
۴۶۸۶- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس حدیث میں ایک دوسرے کی گردن مارنے کو ایمان کے منافی قرار دیا،حدیث کا معنی یہ ہے کہ: میرے بعد فرقہ بندی میں پڑ کر ایک دوسرے کی گردن مت مارنے لگ جانا کہ یہ کام کافروں کے مشابہ ہے کیونکہ کافر آپس میں دشمن اور مومن آپس میں بھائی ہیں۔


4687- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْفَرَ رَجُلا مُسْلِمًا: فَإِنْ كَانَ كَافِرًا، وَإِلاكَانَ هُوَ الْكَافِرُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۵۴)، وقد أخرجہ: خ/الأدب ۷۳ (۶۱۰۴)، م/الإیمان ۲۶ (۱۱۱)، ت/الإیمان ۱۶ (۱۲۳۷)، حم (۲/۲۳، ۶۰) (صحیح)
۴۶۸۷- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو مسلمان کسی مسلمان کو کافر قرار دے تو اگر وہ کافر ہے ( تو کوئی بات نہیں ) ورنہ وہ (قائل) خود کافر ہوجائے گا''۔


4688- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ خَالِصٌ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ كَانَ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ >۔
* تخريج: خ/الإیمان ۲۴ (۳۴)، المظالم ۱۷ (۲۴۵۹)، الجزیۃ ۱۷ (۳۱۷۸)، م/الإیمان ۲۵ (۵۸)، ت/الإیمان ۱۴ (۲۶۳۲)، ن/الإیمان وشرائعہ۲۰ (۵۰۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸۹، ۱۹۸، ۲۰۰) (صحیح)
۴۶۸۸- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''چار خصلتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے ، معاہدہ کرے تو اس کو نہ نبھائے، اگر کسی سے جھگڑا کرے تو گالی گلوج دے ''۔


4689- حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَنْطَاكِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلايَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ >۔
* تخريج: خ/المظالم ۳۰ (۲۴۷۵)، الأشربۃ ۱ (۵۵۷۸)، الحدود ۱ (۶۷۷۲)، م/الإیمان ۲۳ (۵۷)، ت/الإیمان ۱۱ (۲۶۲۵)، ن/قطع السارق ۱ (۴۸۷۴)، الأشربۃ ۴۲ (۵۶۶۲، ۵۶۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۶۳، ۱۲۴۸۹)، وقد أخرجہ: دي/الأشربۃ ۱۱ (۲۱۵۲)، الأضاحی ۲۳ (۲۰۳۷) (صحیح)
۴۶۸۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''زانی زنا کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا (یعنی ایمان اس سے جدا ہو جاتا ہے پھر بعد میں واپس آجاتا ہے) توبہ کا دروازہ اس کے بعد بھی کھلا ہوا ہے''(یعنی اگر توبہ کرلے تو توبہ قبول ہو جائے گی اللہ بخشنے والا ہے) ۱؎ ۔


4690- حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا زَنَى الرَّجُلُ خَرَجَ مِنْهُ الإِيمَانُ كَانَ عَلَيْهِ كَالظُّلَّةِ، فَإِذَا انْقَطَعَ رَجَعَ إِلَيْهِ الإِيمَانُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۷۹) (صحیح)
۴۶۹۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ : رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: ''جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس کے اوپر لٹکا رہتا ہے، پھر جب زنا سے الگ ہوتا ہے تو دوبارہ ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے''۔
 
شمولیت
مارچ 14، 2013
پیغامات
22
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
19
* تخريج: ت/الصوم ۳۸ (۷۳۸)، ق/الصیام ۵ (۱۶۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۵۱)، وقد أخرجہ: دي/الصوم ۳۴ (۱۷۸۱) (صحیح)
مجھے سمجھ نہیں آئی یہ ریفرنس کے ساتھ "تخریج" کیوں لکھا ہے ؟؟؟ کیا ان احادیث کی تخریج ہی ہے ؟؟؟؟؟؟ براہ مہربانی واضح کر دیں
 
شمولیت
مارچ 14، 2013
پیغامات
22
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
19
* تخريج: ت/الصوم ۳۸ (۷۳۸)، ق/الصیام ۵ (۱۶۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۵۱)، وقد أخرجہ: دي/الصوم ۳۴ (۱۷۸۱) (صحیح)
مجھے سمجھ نہیں آئی یہ ریفرنس کے ساتھ "تخریج" کیوں لکھا ہے ؟؟؟ کیا ان احادیث کی تخریج ہوئی ہے ؟؟؟؟؟؟ براہ مہربانی واضح کر دیں
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب فِي الْقَدَرِ
۱۷-باب: تقدیر (قضا و قدر) کا بیان​


4691- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بِمِنًى عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الأُمَّةِ: إِنْ مَرِضُوا فَلاتَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلا تَشْهَدُوهُمْ > ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۸۶) (حسن)
(شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ ابو حازم کا سماع ابن عمر سے نہیں ہے)
۴۶۹۱- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''قدریہ (منکرین تقدیر) اس امت (محمدیہ) کے مجوس ہیں، اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک مت ہو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : قدریہ ایک گمراہ فرقہ ہے جو تقدیر کا منکر ہے، اس کا عقیدہ ہے کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے، اس فرقہ کو مجوس سے اس لئے تشبیہ دی کہ مجوس دو خالق کے قائل ہیں، یعنی خالق شر وخالق خیر: خالق شر کو اہرمن اور خالق خیر کو یزداں کہتے ہیں، جبکہ اسلام کاعقیدہ یہ ہے کہ خالق صرف ایک ہے چنانچہ {هل من خالق غير الله} فرما کر قرآن نے دوسرے کسی خالق کی تردید فرما دی، انسان جو کچھ کرتا ہے اس کو اس کا اختیار اللہ ہی نے دیا ہے، اگر نیک عمل کرے گا تو ثواب پائے گا، بد کرے گا توعذاب پائے گا، ہر فعل کا خالق اللہ ہی ہے، دوسرا کوئی نہیں، یہ مسئلہ نہایت معرکۃ الآراء ہے، عام آدمی کو اس کی ٹوہ میں نہیں پڑنا چاہئے، سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ مسلمان تقدیر پر ایمان رکھے اور شیطان کے وسوسہ سے بچے، تقدیر کے منکروں سے ہمیشہ دور رہنا چاہئے ان سے میل جول بھی درست نہیں۔


4692- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أبي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : $لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسٌ، وَمَجُوسُ هَذِهِ الأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ لا قَدَرَ، مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ فَلا تَشْهَدُوا جَنَازَتَهُ، وَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ فَلا تَعُودُوهُمْ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ، وَحَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِالدَّجَّالِ#۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۰۶) (ضعیف)
(اس کے راوی ''عمر مولی غفرہ'' ضعیف ہیں، نیز اس کی سند میں ایک راوی انصاری مبہم ہے)
۴۶۹۲- حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں، اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہیں، ان میں کوئی مر جائے تو تم اس کے جنازے میں شرکت نہ کرو، اور اگر کوئی بیمار پڑے ، تو اس کی عیادت نہ کرو، یہ دجال کی جماعت کے لوگ ہیں، اللہ ان کو دجال کے زمانے تک باقی رکھے گا''۔


4693- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ وَيَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَاهُمْ، قَالا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الأَرْضِ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الأَرْضِ: جَاءَ مِنْهُمُ الأَحْمَرُ، وَالأَبْيَضُ، وَالأَسْوَدُ، وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَالسَّهْلُ، وَالْحَزْنُ، وَالْخَبِيثُ، وَالطَّيِّبُ >.
زَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى < وَبَيْنَ ذاَلكَ > وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ ۔
* تخريج: ت/تفسیرالقرآن ۳ (۲۹۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۰۰، ۴۰۶) (صحیح)
۴۶۹۳- ابو مو سی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا جس کو اس نے ساری زمین سے لیا تھا ، چنانچہ آدم کی اولاد اپنی مٹی کی مناسبت سے مختلف رنگ کی ہے، کوئی سفید ، کوئی سرخ، کوئی کالا اور کوئی ان کے درمیان ، کوئی نرم خو، تو کوئی درشت خو، سخت گیر ،کوئی خبیث تو کوئی پاک باز''۔


4694- حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلام، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَجَلَسَ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِالْمِخْصَرَةِ فِي الأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: < مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ، مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلا كَتَبَ [اللَّهُ] مَكَانَهَا مِنَ النَّارِ أَوْ [مِنَ] الْجَنَّةِ، إِلا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً > قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَفَلا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ لَيَكُونَنَّ إِلَى السَّعَادَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ لَيَكُونَنَّ إِلَى الشِّقْوَةِ؟ قَالَ: < اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ: أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِلسَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشِّقْوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِلشِّقْوَةِ > ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: <{فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى}>۔
* تخريج: خ/الجنائز ۸۲ (۱۳۶۲)، تفسیر سورہ اللیل ۳ (۴۹۴۵)، الأدب ۱۲۰ (۶۲۱۷)، القدر ۴ (۶۶۰۵)، التوحید ۵۴ (۷۵۵۲)، م/القدر ۱ (۲۶۴۷)، ت/القدر ۳ (۲۱۳۶)، والتفسیر ۸۰ (۳۳۴۴)، ق/المقدمۃ ۱۰ (۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۶۷)، وقد أخرجہ: حم ۱/۸۲، ۱۲۹، ۱۳۲، ۱۴۰) (صحیح)
۴۶۹۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ کے قبرستان بقیع غرقد میں ایک جنازے میں شریک تھے، جس میں رسول اللہ ﷺ بھی تھے ، آپ آئے اور بیٹھ گئے ، آپ کے پاس ایک چھڑی تھی ، چھڑی سے زمین کرید نے لگے ، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک متنفس کا ٹھکانہ جنت یا دوزخ میں لکھ دیا ہے، اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت''، لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے نبی! پھر ہم کیوں نہ اپنے لکھے پر اعتماد کر کے بیٹھ رہیں اور ''عمل ترک کر دیں کیونکہ جو نیک بختوں میں سے ہو گا وہ لازماً نیک بختی کی طرف جائے گا اور جو بدبختوں میں سے ہو گا وہ ضرور بدبختی کی طرف جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: '' عمل کرو، ہر ایک کے لئے اس کا عمل آسان ہے، اہل سعادت کے لئے سعادت کی راہیں آسان کر دی جاتی ہیں اور بدبختوں کے لئے بدبختی کی راہیں آسان کر دی جاتی ہیں''، پھر نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا:''جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرے، اللہ سے ڈرے ،اور کلمہ توحید کی تصدیق کرے تو ہم اس کے لئے آسانی اور خوشی کی راہ آسان کردیں گے، اور جو شخص بخل کرے ، دنیوی شہوات میں پڑ کر جنت کی نعمتوں سے بے پروائی برتے اور کلمہ توحید کو جھٹلائے تو ہم اس کے لئے سختی اور بدبختی کی راہ آسان کردیں گے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس حدیث میں اس شیطانی وسوسہ کا جواب رسول اللہ ﷺ نے دیا، جو اکثر لوگوں کے ذہن میں آتا ہے، اور ان کو بدعملی پر ابھارتا ہے، جب جنتی اور جہنمی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے توعمل کیوں کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''کسی کومعلوم نہیں کہ اس کے مقدر میں کیا لکھا ہے''، لہٰذا ہر شخص کو نیک عمل کرنا چاہئے کہ یہی نیکی کی راہ ، اور یہی جنت میں جانے کا سبب ہے ،بندے کو اس بحث میں پڑے بغیر کہ وہ کہاں جائے گا نیک عمل کرتے رہنا چاہئے، تاکہ وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہو، اور نتیجے میں جنت نصیب ہو، آمین۔


4695- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ، أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ، فَقُلْنَا: لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلاءِ فِي الْقَدَرِ، فَوَفَّقَ اللَّهُ لَنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ دَاخِلا فِي الْمَسْجِدِ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلامَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ، إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَفَقَّرُونَ الْعِلْمَ يَزْعُمُونَ: أَنْ لا قَدَرَ، وَالأَمْرَ أُنُفٌ، فَقَالَ: إِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيئٌ مِنْهُمْ، وَهُمْ بُرَآءُ مِنِّي، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ أَنَّ لأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لايُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلا نَعْرِفُهُ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَخْبِرْنِي عَنِ الإِسْلامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < الإِسْلامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمَ الصَّلاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلا > قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ، قَالَ: < أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ > قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِحْسَانِ، قَالَ: < أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ > قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: < مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ > قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا، قَالَ: < أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّائِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ > قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ، فَلَبِثْتُ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ: < يَا عُمَرُ! هَلْ تَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟ > قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: < فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ >۔
* تخريج: م/الإیمان ۱ (۸)، ت/الإیمان ۴ (۲۶۱۰)، ن/الإیمان ۵ (۴۹۹۳)، ق/المقدمۃ ۹ (۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۷۲)، وقد أخرجہ: خ/الإیمان ۳۷ (۵۰)، تفسیر سورۃ لقمان 2 (7774)، حم (۱/۲۷، ۲۸، ۵۱، ۵۲) (صحیح)
۴۶۹۵- یحییٰ بن یعمرکہتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا، ہم اور حمید بن عبدالرحمن حمیری حج یا عمرے کے لئے چلے ، تو ہم نے دل میں کہا: اگر ہماری ملاقات رسول اللہ ﷺ کے کسی صحابی سے ہوئی تو ہم ان سے تقدیر کے متعلق لوگ جو باتیں کہتے ہیں اس کے بارے میں دریافت کریں گے، تو اللہ نے ہماری ملاقات عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے کرادی، وہ ہمیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا ، میرا خیال تھا کہ میرے ساتھی گفتگو کا موقع مجھے ہی دیں گے اس لیے میں نے کہا: ابو عبدالرحمن! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے اور اس میں علمی باریکیاں نکالتے ہیں ، کہتے ہیں: تقدیر کوئی چیز نہیں ۱؎ ، سارے کام یوں ہی ہوتے ہیں ، تو آپ نے عرض کیا: جب تم ان سے ملنا تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں، اور وہ مجھ سے بری ہیں(میرا ان سے کوئی تعلق نہیں)، اُس ہستی کی قسم ، جس کی قسم عبداللہ بن عمر کھایا کرتا ہے، اگر ان میں ایک شخص کے پاس احد کے برابر سونا ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردے تو بھی اللہ اس کے کسی عمل کو قبول نہ فرمائے گا، جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے ، پھر آپ نے کہا: مجھ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ اچانک ایک شخص ہمارے سامنے نمودار ہوا جس کا لباس نہایت سفید اور بال انتہائی کالے تھے، اس پر نہ تو سفر کے آثار دکھائی دے رہے تھے، اور نہ ہی ہم اسے پہچانتے تھے، یہاں تک کہ وہ نبی اکرمﷺ کے پاس جا کر بیٹھ گیا ، اس نے اپنے گھٹنے نبی اکرمﷺ کے گھٹنوں سے ملا دئیے، اور اپنی ہتھیلیوں کو آپ کی رانوں پر رکھ لیا اور عرض کیا:محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، صلاۃ قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روز ے رکھو، اور اگر پہنچنے کی قدرت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو'' ، وہ بولا: آپ نے سچ کہا ،عمر بن خطاب کہتے ہیں: ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے ۔
اس نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ،آپ ﷺ نے فرمایا:''ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ، آخرت کے دن پراورتقدیر ۲؎ کے بھلے یابُرے ہونے پر ایمان لاؤ''، اس نے کہا: آپ نے سچ کہا۔
پھر پوچھا: مجھے احسان کے بارے میں بتا ئیے ، آپ ﷺ نے فرمایا:'' تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہوسکے تو(یہ تصور رکھو کہ) وہ تو تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے'' ، اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے ، آپ ﷺ نے فرمایا: ''جس سے پوچھا جا رہا ہے ، وہ اس بارے میں پو چھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا'' ۳؎ ۔
اس نے کہا: تو مجھے اس کی علامتیں ہی بتا دیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی ۴؎ ، اور یہ کہ تم ننگے پیر اور ننگے بدن ، محتاج، بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں فخرومباہات کریں گے''،پھروہ چلاگیا، پھرمیں تین ۵؎ (ساعت) تک ٹہرا رہا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ''اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ پو چھنے والا کو ن تھا؟''، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:'' وہ جبریل تھے، تمہیں تمہارا دین سکھانے آ ئے تھے''۔
وضاحت ۱؎ : بندہ اپنے افعال میں خود مختار ہے اور وہی ان کا خالق ہے۔
وضاحت ۲؎ : یعنی اللہ تعالی نے ہر چیز کا اندازہ مقرر فرما دیا ہے اب ہر شیٔ اسی اندازے کے مطابق اس کے پیدا کرنے سے ہورہی ہے کوئی چیز اس کے ارادے کے بغیر نہیں ہوتی۔
وضاحت ۳؎ : مطلب یہاں یہ ہے کہ قیامت کے وقوع کاعلم چونکہ اللہ نے کسی کو نہیں دیا اس لئے نہ تم جانتے ہو اور نہ میں، بلکہ ہر سائل اور مسئول قیامت کے بارے میں ایسا ہی ہے یعنی نہیں جانتا، ہاں قیامت علامات بتلائی گئی ہیں جس سے عبرت حاصل کر کے نیک عمل کرنا چاہئے۔
وضاحت ۴؎ : اس کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ چھوٹے بڑے کا فرق مٹ جائے گا، اولاد اپنے والدین کے ساتھ غلاموں جیسا برتاؤ کرنے لگے گی۔
وضاحت ۵؎ : تین ساعت یا تین رات یا چند لمحے۔


4696- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ يَعْمَرَ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، قَالا: لَقِيَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَذَكَرْنَا لَهُ الْقَدَرَ وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، زَادَ قَالَ: وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ، أَوْ جُهَيْنَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيْمَا نَعْمَلُ؟ أَفِي شَيْئٍ قَدْ خَلا أَوْ مَضَى، أَوْ فِي شَيْئٍ يُسْتَأْنَفُ الآنَ؟ قَالَ: < فِي شَيْئٍ قَدْ خَلا وَمَضَى > فَقَالَ الرَّجُلُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: < إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۷۲) (صحیح)
۴۶۹۶- یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ملے تو ہم نے آپ سے تقدیر کے بارے میں جو کچھ لوگ کہتے ہیں اس کا ذکر کیا۔
پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ سے مزینہ یا جہینہ ۱؎ کے ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم کیا جان کرعمل کریں ؟ کیا یہ جان کر کہ جو کچھ ہم کررہے ہیں وہ سب پہلے ہی تقدیر میں لکھا جاچکا ہے، یا یہ جان کر کہ(پہلے سے نہیں لکھا گیا ہے) نئے سرے سے ہونا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا :''یہ جان کر کہ جو کچھ ہونا ہے سب تقدیر میں لکھا جاچکا ہے''، پھر اس شخص نے یا کسی دوسرے نے کہا : تو آخر یہ عمل کس لئے ہے؟ ۲؎ ، آپ ﷺ نے فرمایا : ''اہل جنت کے لئے اہل جنت والے اعمال آسان کردئے جاتے ہیں اور اہل جہنم کو اہل جہنم کے اعمال آسان کر دیئے جاتے ہیں''۔
وضاحت ۱؎ : دو قبیلوں کے نام ہیں۔
وضاحت ۲؎ : یعنی جب جنت و جہنم کا فیصلہ ہوچکا ہے توعمل کیوں کریں، یہی سوچ گمراہی کی ابتداء تھی۔


4697- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ يَعْمَرَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، قَالَ: فَمَا الإِسْلامُ؟ قَالَ: < إِقَامُ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَحَجُّ الْبَيْتِ، وَصَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَالاغْتِسَالُ مِنَ الْجَنَابَةِ >.
قَالَ أَبو دَاود: عَلْقَمَةُ مُرْجِئٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۷۲) (صحیح)
۴۶۹۷- یحیی بن یعمر سے یہی حدیث کچھ الفاظ کی کمی اور بیشی کے ساتھ مروی ہے : اس نے پوچھا: اسلام کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''صلاۃ کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، بیت اللہ کا حج ، ماہ رمضان کے صیام رکھنا اور جنابت لاحق ہونے پر غسل کرنا''۔
ابو داود کہتے ہیں: علقمہ مرجئی ہیں۔


4698- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ابْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَيْ أَصْحَابِهِ، فَيَجِيئُ الْغَرِيبُ فَلا يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ، فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ، قَالَ: فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنَ الطِينٍ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، وَكُنَّا نَجْلِسُ بِجَنْبَتَيْهِ، وَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ، فَذَكَرَ هَيْئَتَهُ، حَتَّى سَلَّمَ مِنْ طَرَفِ السِّمَاطِ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ ! قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ ۔
* تخريج: وحدیث أبی ذر قد أخرجہ: ن/ الإیمان ۶ (۴۹۹۴)، مختصراً، وحدیث أبی ہریرۃ قد أخرجہ: خ/الإیمان ۳۸ (۵۰)، تفسیر سورۃ لقمان ۲ (۴۷۷۷)، م/ الأیمان ۱ (۹)، ق/ المقدمۃ ۹ (۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۲۹۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۲۶) (صحیح)
۴۶۹۸- ابو ذر اور ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے بیچ میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ جب کوئی اجنبی شخص آتا تو وہ بغیر پوچھے آپ کو پہچان نہیں پاتا تھا، تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ہم آپ کے لئے ایک ایسی جائے نشست بنا دیں کہ جب بھی کوئی اجنبی آئے تو وہ آپ کو پہچان لے، ابوہریرہؓ کہتے ہیں : چنانچہ ہم نے آپ کے لئے ایک مٹی کا چبوترا بنا دیا، تو آپ ﷺ اس پر بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے ، آگے ابوہریرہ نے اسی جیسی روایت ذکر کی، اس میں ہے کہ ایک شخص آیا ، پھر انہوں نے اس کی ہیئت ذکر کی ،یہاں تک کہ اس نے بیٹھے ہوئے لوگوں کے کنارے سے ہی آپ کو یوں سلام کیا: السلام علیک یا محمد!، تو نبی اکرمﷺ نے اسے سلام کا جواب دیا ۔


4699- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَالِدٍ الْحِمْصِيِّ عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْئٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَحَدِّثْنِي بِشَيْئٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَهُ مِنْ قَلْبِي، قَالَ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَ [أَنَّ] مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَلَوْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِثْلَ ذَلِكَ۔
* تخريج: ق/المقدمۃ ۱۰ (۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۸۲، ۱۸۵، ۱۸۹) (صحیح)
۴۶۹۹- ابن دیلمی ۱؎ کہتے ہیں کہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہہ پیدا ہو گیا ہے ، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے یہ امید ہو کہ اللہ اس شبہ کو میرے دل سے نکال دے گا، فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور عذاب دینے میں وہ ظالم نہیں ہوگا ،اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے لئے ان کے اعمال سے بہت بہتر ہے ، اگر تم احد کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کردو تو اللہ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرما ئے گاجب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آئو اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ نہ پہنچتا، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا، اور اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گئے تو ضرور جہنم میں داخل ہو گے۔
ابن دیلمی کہتے ہیں : پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم ﷺ کی ایک مر فو ع روایت بیان کی۔
وضاحت ۱؎ : یعنی ابوالبسرعبداللہ بن فیروز الدیلمی۔


4700- حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لابْنِهِ: يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: رَبِّ! وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْئٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ > يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۸۲)، وقد أخرجہ: ت/القدر ۱۷ (۲۱۵۵)، تفسیر سورۃ النون ۶۶ (۳۳۱۹) (صحیح)
۴۷۰۰- ابو حفصہ کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے ! تم ایمان کی حقیقت کا مزہ ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے وہ ایسا نہیں کہ نہ ملتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے ایسا نہیں کہ وہ تمہیں مل جاتا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے :'' سب سے پہلی چیز جسے اللہ تعالی نے پیدا کیا ، قلم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا : لکھ، قلم نے کہا:اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ''، اے میرے بیٹے ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: '' جو اس کے علاوہ ( کسی اور عقیدے) پر مرا تو وہ مجھ سے نہیں''۔


4701- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ (ح) وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلامِهِ وَخَطَّ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ، تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى >.
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ۔
* تخريج: خ/أحادیث الأنبیاء ۳۱ (۳۴۰۹)، القدر ۱۱ (۶۶۱۴)، م/القدر ۲ (۲۶۵۲)، ق/المقدمۃ ۱۰(۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۲۹)، وقد أخرجہ: ت/القدر ۲ (۲۱۳۴)، ط/القدر ۱ (۱)، حم (۲/۲۴۸، ۲۶۸) (صحیح)
۴۷۰۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' آدم اور موسیٰ نے بحث کی تو موسیٰ نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ ہی نے ہمیں محرومی سے دو چار کیا، اور ہمیں جنت سے نکلوایا، آدم نے کہا: تم موسیٰ ہو تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی گفتگو کے لئے چن لیا، اور تمہارے لئے تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا، تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جسے اس نے میرے لئے مجھے پیدا کر نے سے چالیس سال پہلے ہی لکھ دیا تھا، پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ بحث و تکرار اللہ کے سامنے ہوئی جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔


4702- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ ابْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <إِنَّ مُوسَى قَالَ: يَا رَبِّ! أَرِنَا آدَمَ الَّذِي أَخْرَجَنَا وَنَفْسَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، فَأَرَاهُ اللَّهُ آدَمَ، فَقَالَ: أَنْتَ أَبُونَا آدَمُ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ الَّذِي نَفَخَ اللَّهُ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَعَلَّمَكَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا، وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ أَخْرَجْتَنَا وَنَفْسَكَ مِنَ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ: أَنْتَ نَبِيُّ بَنِي إِسْرَائِيلَ الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ لَمْ يَجْعَلْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ رَسُولا مِنْ خَلْقِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَمَا وَجَدْتَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فِيمَ تَلُومُنِي فِي شَيْئٍ سَبَقَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى فِيهِ الْقَضَاءُ قَبْلِي؟ > قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عِنْدَ ذَلِكَ: < فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۹۷) (حسن)
۴۷۰۲- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: اے میرے رب! ہمیں آدم کو دکھا جنہوں نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوایا ، تو اللہ نے انہیں آدم کو دکھایا ، موسیٰ نے کہا: آپ ہمارے باپ آدم ہیں ؟ تو آدم نے ان سے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: آپ ہی ہیں جس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی ، جسے تمام نام سکھائے اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا : تو پھر کس چیز نے آپ کو اس پر آمادہ کیا کہ آپ نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوا دیا ؟ تو آدم نے ان سے کہا: اور تم کون ہو؟ وہ بولے: میں موسیٰ ہوں، انہوں نے کہا : تم بنی اسرائیل کے وہی نبی ہو جس سے اللہ نے پر دے کے پیچھے سے گفتگو کی اور تمہارے اور اپنے درمیان اپنی مخلوق میں سے کوئی قاصد مقرر نہیں کیا؟ کہا: ہاں، آدم نے کہا: تو کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ وہ (جنت سے نکالا جا نا) میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی کتاب میں لکھا ہوا تھا؟ کہا: ہاں معلوم ہے، انہوں نے کہا: پھر ایک چیز کے بارے میں جس کے متعلق اللہ تعالی کا فیصلہ میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا کیوں مجھے ملامت کرتے ہو؟''، یہاں پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تو آدم موسیٰ پر غالب آگئے ، تو آدم موسیٰ پر غالب آگئے''۔


4703- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ [الْقَعْنَبِيُّ]، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُنَيْسَةَ، أَنَّ عَبْدَالْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ [بْنِ الْخَطَّابِ] أَخْبَرَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ} قَالَ: قَرَأَ الْقَعْنَبِيُّ الآيَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلاءِ لِلنَّارِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ > فَقَالَ رَجُلٌ: يَارَسُولَ اللَّهِ! فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُدْخِلَهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ،حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيُدْخِلَهُ بِهِ النَّارَ> ۔
* تخريج: ت/تفسیر سورۃ الأعراف (۳۰۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۵۴)، وقد أخرجہ: ط/القدر ۱ (۲)، حم (۱/۴۵) (صحیح)
۴۷۰۳-مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ} کے متعلق پوچھا گیا ۱؎ ۔ (حدیث بیان کرتے وقت) قعنبی نے آیت پڑھی،) تو آپ نے کہا: جب نبی اکرم ﷺ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:''اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا، پھر ان کی پیٹھ پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرا، اس سے اولاد نکالی اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لئے پیدا کیا ہے ،اور یہ جنتیوں کے کام کریں گے ، پھر ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے بھی اولاد نکالی اور کہا : میں نے انہیں جہنمیوں کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جہنم کے کام کریں گے''، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! پھرعمل سے کیا فائدہ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''اللہ تعالی جب بندے کو جنت کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے جنتیوں کے کام کراتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے، تو اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے، اور جب کسی بندے کو جہنم کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنمیوں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے''۔
وضاحت ۱؎ : اور یاد کرو اس وقت کو جب تمہارے رب نے آدم کی اولاد کو اُن کی پشتوں سے نکالا۔


4704- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ جُعْثُمٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِالْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۵۴) (صحیح)
۴۷۰۴- نعیم بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث روایت کی ، مالک کی روایت زیادہ کامل ہے ۔


4705- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <الْغُلامُ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا، وَلَوْ عَاشَ لأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا>۔
* تخريج: م/القدر ۶ ( ۲۶۶۱)، ت/التفسیر ۱۹ (۳۱۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۴۰)، وقد أخرجہ: خ/العلم ۴۴ (۱۲۲)، حم (۵/۱۲۱) (صحیح)
۴۷۰۵- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''وہ لڑکا جسے خضر (علیہ السلام) نے قتل کردیا تھا طبعی طور پر کافرتھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو سر کشی اور کفر میں مبتلا کر دیتا۔


4706- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُوإِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ {وَأَمَّا الْغُلامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ}: < وَكَانَ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰) (صحیح)
۴۷۰۶- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَأَمَّا الْغُلامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ} ۱؎ کے بارے میں فرماتے سنا کہ وہ پیدائش کے دن ہی کافر پیدا ہوا تھا۔
وضاحت ۱؎ : ''اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے'' (سورۃ الکہف : ۸۰)


4707- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < أَبْصَرَ الْخَضِرُ غُلامًا يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَتَنَاوَلَ رَأْسَهُ فَقَلَعَهُ، فَقَالَ مُوسَى: {أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً}> الآيَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (۴۷۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵) (صحیح)
۴۷۰۷- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''خضر(علیہ السلام) نے ایک لڑکے کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو اس کا سرپکڑا ، اور اسے اکھاڑ لیا، تو موسیٰ (علیہ السلام)نے کہا: کیا تم نے بے گناہ نفس کو مار ڈالا؟''۔


4708- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (ح) و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: < إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: فَيُكْتَبُ رِزْقُهُ وَأَجَلُهُ وَعَمَلُهُ ثُمَّ يُكْتَبُ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلا ذِرَاعٌ، أَوْ قِيدُ ذِرَاعٍ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلا ذِرَاعٌ، أَوْ قِيدُ ذِرَاعٍ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا >۔
* تخريج: خ/بدء الخلق ۶ (۳۲۰۸)، الأنبیاء ۱ (۳۳۹۳)، القدر ۱ (۶۵۹۴)، م/القدر ۱(۲۶۴۳)، ت/القدر ۴ (۲۱۳۷)، ق/المقدمۃ ۱۰ (۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۲، ۴۱۴، ۴۳۰) (صحیح)
۴۷۰۸- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم سے رسول اللہ ﷺ نے (آپ صادق اور آپ کی صداقت مسلم ہے) بیان فرمایا: ''تم میں سے ہر شخص کا تخلیقی نطفہ چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ خون کا جما ہوا ٹکڑا رہتا ہے ، پھر وہ اتنے ہی دن گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فر شتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے : تو وہ اس کا رزق ، اس کی عمر، اس کا عمل لکھتا ہے، پھر لکھتا ہے :آیا وہ بدبخت ہے یا نیک بخت ، پھر وہ اس میں روح پھو نکتا ہے ، اب اگر تم میں سے کوئی جنتیوں کے عمل کرتا ہے ، یہاں تک کہ اس (شخص) کے اور اس ( جنت ) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب(تقدیر) اس پر سبقت کر جاتی ہے اور وہ جہنمیوں کے کام کر بیٹھتا ہے تو وہ داخل جہنم ہو جاتا ہے ،اور تم میں سے کوئی شخص جہنمیوں کے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس (شخص) کے اور اس (جہنم ) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب(تقدیر) اس پر سبقت کر جاتی ہے، اب وہ جنتیوں کے کام کرنے لگتا ہے تو داخل جنت ہو جاتا ہے''۔


4709- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ : يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: < نَعَمْ > قَالَ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: < كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ >۔
* تخريج: خ/القدر ۲ (۶۵۹۶)، والتوحید ۵۳ (۷۵۵۱)، م/القدر ۱ (۲۶۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۲۷، ۴۳۱) (صحیح)
۴۷۰۹- عمرا ن بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا جنتی اور جہنمی پہلے ہی معلوم ہو چکے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں''، اس نے کہا: پھرعمل کر نے والے کس بنا پر عمل کریں ؟ آپ نے فرمایا: ''ہر ایک کو توفیق اسی بات کی دی جاتی ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے ''۔


4710- حَدَّثَنَا [أَحْمَدُ] بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ [بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِيُّ] أَبُوعَبْدِالرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ [الْهُذَلِيِّ]، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ، وَلا تُفَاتِحُوهُمْ >۔
* تخريج:تفردبہ أبوداود، حم (۱/۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۶۹) (ضعیف)
(اس کے راوی'' حکیم بن شریک ھذلی'' مجہول ہیں)
۴۷۱۰- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا:'' تم منکرین تقدیر کے پاس نہ بیٹھو اور نہ ہی ان سے سلام وکلام کی ابتداء کرو ''۔
 
Top