- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
85- بَابٌ
۸۵- باب
4981- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَالَ: < قُمْ > أَوْ قَالَ: <اذْهَبْ فَبِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۰۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۵۰) (صحیح)
۴۹۸۱- عدی بن حا تم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خطیب نے نبی اکرمﷺ کے پاس خطبہ دیا، تو اس نے (خطبہ میں) کہا:''مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا'' جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے ، وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نا فرما نی کرتا ہے ...(ابھی اس نے اتنا ہی کہاتھا کہ) آپ نے فرمایا: ''کھڑے ہوجاؤ'' یا یوں فرمایا: چلے جائو تم بہت بُرے خطیب ہو ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : علماء کا کہنا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے اس خطیب کو اس لئے برا کہا کہ اس نے''مَنْ یَعْصِھِمَا'' کہہ کر اللہ اور رسول دونوں کو ایک ہی ضمیر میں جمع کردیا تھا، خطبہ میں باتوں کو تفصیل سے کہنے کا موقع ہوتا ہے، اور سامعین میں ہر سطح کے لوگ ہوتے ہیں، مقام کا تقاضا تفصیل کا تھا''، یعنی : من یعص اللہ ویعص رسولہ'' کہنے کا ، تا کہ کسی طرح کا التباس نہ رہ جاتا۔
4982- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِاللَّهِ- عَنْ خَالِدٍ -يَعْنِي الْحَذَّاءَ- عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ ﷺ ، فَعَثَرَتْ دَابَّتُه، فَقُلْتُ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: < لا تَقُلْ تَعِسَ الشَّيْطَانُ؛ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَعَاظَمَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الْبَيْتِ، وَيَقُولُ: بِقُوَّتِي، وَلَكِنْ قُلْ: بِسْمِ اللَّهِ؛ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّبَابِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۵۹، ۷۱) (صحیح)
۴۹۸۲- ابو الملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں نبی اکرمﷺ کے پیچھے سوار تھا ، کہ آپ کی سواری پھسل گئی ، میں نے کہا: شیطان مرے ، تو آپ نے فرمایا: '' یوں نہ کہو کہ ''شیطان مرے'' اس لئے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھرکے برابر ہو جائے گا، اور کہے گا: میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کر لیا ، بلکہ یوں کہو: اللہ کے نام سے اس لئے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہوجائے گا جیسے مکھی۔
4983- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ (ح) و حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <إِذَا سَمِعْتَ > وَقَالَ مُوسَى: < إِذَا قَالَ الرَّجُلُ هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ >.
قَالَ أَبو دَاود: قَالَ مَالِكٌ: إِذَا قَالَ ذَلِكَ تَحَزُّنًا لِمَا يَرَى فِي النَّاسِ -يَعْنِي فِي أَمْرِ دِينِهِمْ- فَلا أَرَى بِهِ بَأْسًا، وَإِذَا قَالَ ذَلِكَ عُجْبًا بِنَفْسِهِ وَتَصَاغُرًا لِلنَّاسِ فَهُوَ الْمَكْرُوهُ الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ۔
* تخريج: م/البر والصلۃ ۴۱ (۲۶۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۲۳، ۱۲۷۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۷، ۳۴۲) (صحیح)
۴۹۸۳- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جب تم سنو!(اور موسی کی روایت میں یوں ہے ، کہ جب آدمی کہے) کہ لوگ ہلاک ہوگئے تو وہی ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے'' ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: مالک نے کہا: جب وہ یہ بات دینی معاملات میں لوگوں کی روش دیکھ کر رنج سے کہے تو میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا ، اور جب یہ بات وہ خو د پر ناز کر کے اور لوگوں کو حقیر سمجھ کر کہے تو یہی وہ مکروہ و ناپسند یدہ چیز ہے ، جس سے روکا گیا ہے۔
وضاحت ۱؎ : مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص لوگوں کی عیب جوئی اور برائیاں برابر بیان کرتارہے، اور اپنی زبان سے لوگوں کے فساد میں مبتلا ہونے اور ان کی ہلاکت وتباہی کا ذکر کرتا رہے گا تو ایسا شخص بسبب اس گناہ کے جو اسے اپنے اس کرتوت کی وجہ سے لاحق ہو رہا ہے سب سے زیادہ ہلاکت وبربادی کا مستحق ہے، اور بسا اوقات وہ خود پسندی کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔