138 - بَاب كَمْ مَرَّةً يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاسْتِئْذَانِ
۱۳۸-باب: گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لئے آدمی کتنی بار سلام کرے؟
5180- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الأَنْصَارِ، فَجَاءَ أَبُو مُوسَى فَزِعًا، فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَفْزَعَكَ؟ قَالَ: أَمَرَنِي عُمَرُ أَنْ آتِيَهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي؟ قُلْتُ: قَدْ جِئْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ > قَالَ: لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا بِالْبَيِّنَةِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لا يَقُومُ مَعَكَ إِلا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ: فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ مَعَهُ فَشَهِدَ لَهُ۔
* تخريج: خ/البیوع ۹ (۲۰۶۲)، الاستئذان ۱۳ (۶۲۴۵)، م/الآداب ۷ (۲۱۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۷۰)، وقد أخرجہ: ت/الاستئذان ۳ (۲۶۹۰)، ق/الأدب ۱۷ (۳۷۰۶)، ط/الاستئذان ۱ (۳)، حم (۴/۳۹۸)، دي /الاستئذان ۱ (۲۶۷۱) (صحیح)
۵۱۸۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے، تو ہم نے ان سے کہا:کس چیز نے آپ کو گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا تھا، میں ان کے پاس آیا، اور تین بار ان سے اند ر آنے کی اجات طلب کی، مگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا (دو بارہ ملاقات پر) انہوں نے کہا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس گیا تھا، تین بار اجازت مانگی، پھر مجھے اجازت نہ دی گئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اندر آنے کی اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ لوٹ جائے(یہ سن کر) عمرنے کہا: تم اس بات کے لئے گواہ پیش کرو،اس پر ابوسعید نے کہا:(اس کی گواہی کے لئے تو) تمہارے ساتھ قوم کا ایک معمولی شخص ہی جا سکتا ہے، پھر ابو سعید ہی اٹھ کر ابوموسیٰ کے ساتھ گئے اور گواہی دی۔
5181- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ أَتَى عُمَرَ فَاسْتَأْذَنَ ثَلاثًا، فَقَالَ: يَسْتَأْذِنُ أَبُو مُوسَى، يَسْتَأْذِنُ الأَشْعَرِيُّ، يَسْتَأْذِنُ عَبْدُاللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَرَجَعَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ عُمَرُ: مَا رَدَّكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < يَسْتَأْذِنُ أَحَدُكُمْ ثَلاثًا، فَإِنْ أُذِنَ لَهُ، وَإِلا فَلْيَرْجِعْ > قَالَ: ائْتِنِي بِبَيِّنَةٍ عَلَى هَذَا، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: هَذَا أُبَيٌّ، فَقَالَ أُبَيٌّ: يَاعُمَرُ! لا تَكُنْ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ عُمَرُ: لا أَكُونُ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: م/ الآداب ۷ (۲۱۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۹۸) (حسن الإسناد)
(اس کے راوی ''طلحہ'' سے غلطی ہوجایا کرتی تھی، ویسے پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے)
۵۱۸۱- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے اندر آ نے کی اجازت تین مرتبہ مانگی: ابو مو سی اجازت کا طلب گار ہے، اشعری اجازت مانگ رہا ہے، عبداللہ بن قیس اجازت مانگ رہا ہے ۱؎ انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے بلانے کے لئے بھیجا( جب وہ آئے تو پوچھا: لوٹ کیوں گئے ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:تم میں سے ہر کوئی تین بار اجا زت مانگے، اگر اسے اجازت دے دی جائے (تو اند ر چلا جائے) اور اگر اجازت نہ ملے تو لوٹ جائے، عمر نے کہا: اس بات کے لئے گواہ پیش کرو، وہ گئے اور( ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لے کر) واپس آئے اور کہا یہ ابی (گواہ) ہیں ۱؎ ، ابی نے کہا:اے عمر! رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے لئے باعث عذاب نہ بنو تو عمر نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے لئے باعث اذیت نہیں ہو سکتا۔
وضاحت ۱؎ : ابوموسیٰ اشعری کا نام عبداللہ بن قیس ہے، آپ نے نام سے، کنیت سے، قبیلہ کی طرف نسبت سے، تینوں طریقوں سے اجازت مانگی۔
وضاحت ۲؎ : اس سے پہلے والی حدیث میں ہے کہ شاہد ابوسعید تھے اور اس میں ہے ابی بن کعب تھے دونوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ ابوسعید خدری نے پہلے گواہی دی اس کے بعد ابی بن کعب آئے اور انہوں نے بھی گواہی دی۔
5182- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَائٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ فِيهِ: فَانْطَلَقَ بِأَبِي سَعِيدٍ، فَشَهِدَ لَهُ، فَقَالَ: أَخَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟ أَلْهَانِي السَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ، وَلَكِنْ سَلِّمْ مَا شِئْتَ وَلا تَسْتَأْذِنْ ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۵۱۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۴۶) (صحیح)
(لیکن آخری ٹکڑا '' جتنی بار چاہو...'' صحیح نہیں ہے، اور یہ صحیحین میں ہے بھی نہیں)
۵۱۸۲- عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، پھر راوی نے یہی قصہ بیان کیا، اس میں ہے یہاں تک کہ ابو مو سیٰ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے، اور انہوں نے گواہی دی، عمر نے کہا رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث مجھ سے پو شیدہ رہ گئی، بازاروں کی خرید وفروخت اور تجارت کے معاملا ت نے اس حدیث کی آگاہی سے مجھے غافل و محروم کر دیا، (اب تمہارے لئے اجازت ہے) سلام جتنی بار چاہو کرو، اندر آنے کے لئے اجازت طلب کر نے کی حاجت نہیں ہے۔
5183- حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ابْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَقَالَ [عُمَرُ] لأَبِي مُوسَى: إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ، وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ شَدِيدٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (۵۱۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۸۴) (صحیح الإسناد)
۵۱۸۳- اس سند سے بھی ابو مو سی رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسی سے کہا: میں تم پر (جھوٹی حدیث بیان کر نے کا)اتہام نہیں لگا تا، لیکن رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کر نے کا معا ملہ سخت ہے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی: حدیث کو روایت کرنے میں بڑی احتیاط اور ہوشیاری لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ بھول چوک ہو جائے یا غلط فہمی سے الفاظ بدلنے میں مطلب کچھ کا کچھ ہوجائے۔
5184- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ، وَعَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مَنْ عُلَمَائِهِمْ فِي هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ لأَبِي مُوسَى: أَمَا إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ، وَلَكِنْ خَشِيتُ أَنْ يَتَقَوَّلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۵۱۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۷۰) (صحیح الإسناد)
۵۱۸۴- ربیعہ بن ابو عبد الرحمن اور دوسرے بہت سے علماء سے اس سلسلہ میں مروی ہے۔عمر رضی اللہ عنہ نے ابو مو سی اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے تمہیں جھوٹا نہیں سمجھا لیکن میں ڈرا کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے منسوب کر کے جھوٹی حدیثیں نہ بیان کرنے لگیں۔
5185- حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - الْمَعْنَى - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ: < السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ > فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا، قَالَ قَيْسٌ: فَقُلْتُ: أَلا تَأْذَنُ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ: ذَرْهُ يُكْثِرُ عَلَيْنَا مِنَ السَّلامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ > فَرَدَّ سَعْدُ رَدًّا خَفِيًّا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ > ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلامِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلٍ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ، أَوْ وَرْسٍ، فَاشْتَمَلَ بِهَا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: < اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ > قَالَ: ثُمَّ أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَمَّا أَرَادَ الانْصِرَافَ قَرَّبَ لَهُ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا قَيْسُ! اصْحَبْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ : قَالَ قَيْسٌ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < ارْكَبْ > فَأَبَيْتُ، ثُمَّ قَالَ: < إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ > قَالَ: فَانْصَرَفْتُ.
قَالَ هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَابْنُ سَمَاعَةَ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ مُرْسَلا [وَ] لَمْ يَذْكُرَا قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۹۶)، وقد أخرجہ: ق/الطھارۃ ۵۹ (۴۶۶)، اللباس۲۲ (۳۶۰۴)، حم (۳/۴۲۱، ۶/۷) (ضعیف الإسناد)
۵۱۸۵- قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر ملا قات کے لئے تشریف لائے ( باہر رک کر) السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے (سعد سے) کہا: آپ رسول اللہ ﷺ کو اندر تشریف لا نے کی اجازت کیوں نہیں دیتے ؟ سعد نے کہا چھوڑو ( جلدی نہ کرو) ہمارے لئے رسول اللہ ﷺ کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو، رسول اللہ ﷺ نے پھر السلام علیکم رحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ ﷺ نے کہا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ ( اور جواب نہ سن کر ) لوٹ پڑے، تو سعد نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پالیا، اور عرض کیا : اللہ کے رسول!ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہو جائے تب رسول اللہ ﷺ سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ ﷺ کے غسل کے لئے ( پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری )کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھرسعد نے رسول اللہ ﷺ کو زعفران یاورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، آپ دعا فرمارہے تھے: ''اے اللہ! سعد بن عبادہ کی اولاد پر اپنی برکت و رحمت نازل فرما''، پھر آپ نے کھانا کھایا، اور جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو سعد نے ایک گدھا پیش کیا جس پر چادر ڈال دی گئی تھی، رسول اللہ ﷺ اس پر سوار ہو گئے، تو سعد نے کہا: اے قیس! تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا، قیس کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:''تم بھی سوار ہو جاؤ''، تو میں نے انکار کیا، آپ نے فرمایا:'' سوار ہو جاؤ ورنہ واپس جاؤ ''۔ قیس کہتے ہیں: میں لوٹ آیا ۔
ابو داود کہتے ہیں:اسے عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعۃ نے اوزاعی سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔
5186- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ [بْنُ الْوَلِيدِ]، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْهِهِ، وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الأَيْمَنِ أَوِ الأَيْسَرِ، وَيَقُولُ: < السَّلامُ عَلَيْكُمُ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ > وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ سُتُورٌ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۸۹) (صحیح)
۵۱۸۶- عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہو تے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: ''السلام عليكم، السلام عليكم '' یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔