• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا لفظ اہل الحدیث سے عوام خارج ہے؟

شمولیت
جولائی 27، 2015
پیغامات
137
ری ایکشن اسکور
62
پوائنٹ
56
کتاب حدیث اور اہلحدیث کی عبارت سے آصف بھائی کا فرار


پوسٹ نمبر118 میں لکھا تھا، کہ آصف بھائی کی مجبوری کو سامنے رکھتے ہوئے مزید دعویٰ پر دلائل لینے پر زور نہیں دونگا، کیونکہ موصوف نہ تو ثابت کرسکے ہیں، نہ کرسکتے ہیں، بلکہ اگر زیادہ زور دیا گیا تو ڈر ہے کہ موصوف بداخلاقی میں مزید بہتری لائیں گے، اس لیے ساتھ ساتھ اپنے جواب دعویٰ پر دلائل دینے شروع کیے تھے۔

دلیل نمبر1 پر موصوف کی اور میری بات چل رہی ہے، قارئین مطالعہ کرسکتے ہیں۔

دلیل نمبر2 پیش کی گئی کہ
’’ وہی یہ بھی معلوم ہوا کہ اصل اہلحدیث کہلانے کے مستحق بھی احناف ہیں نہ کہ غیر مقلد‘‘(حدیث اور اہلحدیث:88) پوسٹ نمبر118

جس کا دفاع پوسٹ نمبر127 میں آصف بھائی نے یوں کیا کہ

1۔ احناف بشمول عوام الناس اپنے آپ کو اہلحدیث نہیں کہتے
2۔غیرمقلدین پر الزامی جواب ہے کہ جناب اگر صرف حدیث پر عمل کرنا ہی اہل حدیث ہونا ہے تو پھر احناف اس کے زیادہ مستحق تھے کیونکہ وہ تو خبرواحد اور مرسل کو بھی قیاس پر حجت قرار دیتے ہیں۔ لہذا وہ اہل حدیث کہلوانے کے زیادہ مستحق تھے۔
3۔ دونوں کتابوں کے کن جملوں سے استدلال کیا کہ جہلاء کو بھی اہل حدیث کہا جاسکتا ہے؟


نمبر1 کا جواب یہ ہے کہ کہہ بھی نہیں سکتے۔ کیونکہ لفظ اہلحدیث اہل بدعت کے مقابلے میں ہے، اور کوئی بدعتی اپنے آپ کو اہلحدیث نہیں کہے گا۔
دوسری بات جب آپ نے خود تسلیم کرلیا کہ اس میں غیرمقلدین پر الزامی جواب ہے کہ جناب اگر صرف حدیث پر عمل کرنا ہی اہل حدیث ہونا ہے تو پھر احناف اس کے زیادہ مستحق تھے کیونکہ وہ تو خبرواحد اور مرسل کو بھی قیاس پر حجت قرار دیتے ہیں

جب احناف عاملین بالحدیث حدیث پر عمل کرکے اس چیز کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ اہلحدیث کہلوائیں، تو پھر اہلحدیث عاملین اس چیز کے حقدار کیوں نہیں کہ وہ اہلحدیث کہلوائیں؟

ارے بھائی مزید کتنا اقرار پھر انکار، انکار پھر اقرار کرتے جاؤ گے؟ اب جب خود تسلیم کرلیا کہ حنفی عاملین بالحدیث اصل میں اہلحدیث کہلوانے کے حقدار ہیں، کیونکہ یہ خبرواحد اور مرسل کو بھی قیاس پر حجت قرار دیتے ہیں، تو مزید باقی کیا رہ جاتا ہے؟ عامل بالحدیث اگر حنفی ہوں تو اہلحدیث لیکن اگر مذہب اہلحدیث سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں تو وہ اہلحدیث نہیں کہلائے جاسکتے؟ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا حنفی سب کے سب عمل کے ساتھ باقی شرائط پر پورے اترتے ہیں، جو اصل اہلحدیث کہلوانے کے حقدار ہیں؟


مجھے یقین ہے کہ اب یہاں پر آپ حنفی مذاہب کے مجتہدین کی بات کریں گے، لیکن یہ بات بھی آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گی، خیر جب آپ جواب دو گے، تو پھر مزید لکھونگا۔ ان شاءاللہ

آصف بھائی یہ عبارتیں ایسی ہیں، جتنا دفاع کرتے جاؤ گے، اتنا پھنستے چلے جاؤ گے۔ جیسا کہ اب خود تسلیم کرلیا۔
 
شمولیت
جولائی 27، 2015
پیغامات
137
ری ایکشن اسکور
62
پوائنٹ
56
دلائل جواب دعویٰ
میرے دوست نے اپنے دعویٰ خاص پر ابھی تک کوئی ایک بھی دلیل پیش نہیں کی، اور نہ کرسکتے ہیں، سوائے ٹائم پاس کے، اس لیے اپنے قابل دوست کی باتوں کے ساتھ ساتھ اب یہ بھی کیا جاتا رہے گا، کہ جو میرا جواب دعویٰ ہے، اس پر بھی دلائل دیےجاتے رہیں۔ کیونکہ اب آصف بھائی جو لکھیں گے، اس کا جواب تو دونگا، مگر مجبور نہیں کرونگا، اور ہاں بس اپنے قابل دوست سے ایک گزارش اور درخواست ضرور کرونگا، کہ دعویٰ وہ کیا کریں، جس کو ثابت بھی کرسکیں۔ کیونکہ مزید اصرار کیا جاتا رہا، تو بھائی کے اخلاق میں مزید بہتری آنا شروع ہوجائے گی۔(ابتسامہ)

دلیل نمبر1

آصف بھائی کے اعتراضات اور پھر اس کے جوابات دیکھنے کےلیے ان پوسٹس کا مطالعہ کریں۔(پوسٹ نمبر118، پوسٹ نمبر140)

دلیل نمبر2

آصف بھائی کے اعتراضات اور پھر اس کے جوابات دیکھنے کےلیے ان پوسٹس کا مطالعہ کریں۔(پوسٹ نمبر118، پوسٹ نمبر141)

دلیل نمبر3

دلیل نمبر3 میں ایک سوال چھوڑ رہا ہوں، جب آپ اس پر جواب دیں گے، تو آگے بات چلے گی۔ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہلحدیث تھے یا نہیں؟ یا آسان الفاظ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اہلحدیث لکھا، بولا اور کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کو جماعت اہلحدیث لکھ، بول اور کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟
 

asifchinioty

رکن
شمولیت
جولائی 27، 2015
پیغامات
138
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
37
الحمد للہ پوسٹ نمبر ۱۲۳ میں موصوف کے جو جھوٹ میں نے پیش کئے وہ دبے الفاظ میں تسلیم کرلئے گئے ہیں، درحقیقت وہ سات جھوٹ ایسے ہیں جنہیں ثابت کرنا موصوف کے بس کی بات نہیں ہے، اس لئے موصوف نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی یہ جھوٹ ایسے ہیں جن کا جواب دینا مناسب نہیں۔


ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنے سات جھوٹ دیکھنے کے بعد موصوف کو کچھ شرم آجاتی اور جھوٹ بولنے سے باز آجاتے لیکن موصوف نے اس سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے ایک سانس میں بہت سارے جھوٹ ایک دفعہ پھر بول دیئے جو کہ درج ذیل ہیں:
حقیقت یا مذاق
٭ایک بار کہا کہ ہماری بحث جہلاء نہیں
٭ایک بار کہا کہ ہماری بحث صرف محدثین ہی ہیں
٭ایک بار کہا کہ محدثین کے دعویٰ کو میں ثابت نہیں کرونگا
٭ایک بار کہا کہ جہلاء پر بات نہیں کرونگا اور نہ میری ذمہ داری ہے
٭دعویٰ کے دونوں حصوں کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری تھے، اور ثابت کرنے سے بھی انکار کردیا تھا۔
حقیقت یا مذاق
٭ایک بار کہا کہ ہماری بحث جہلاء نہیں
٭ایک بار کہا کہ ہماری بحث صرف محدثین ہی ہیں
٭ایک بار کہا کہ محدثین کے دعویٰ کو میں ثابت نہیں کرونگا
٭ایک بار کہا کہ جہلاء پر بات نہیں کرونگا اور نہ میری ذمہ داری ہے
٭دعویٰ کے دونوں حصوں کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری تھے، اور ثابت کرنے سے بھی انکار کردیا تھا۔
اب مان گئے کہ میرے دعویٰ کے دو حصے ہیں
پہلا حصہ
لفظ اہل حدیث کا اطلاق صرف محدثین پر ہوتا ہے
دوسرا حصہ
لفظ اہل حدیث کا اطلاق جہلاء پر نہیں ہوتا


حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں

چلو شکر ہے اب اپنے الفاظ میں تسلیم تو کرلیا کہ دعویٰ کے دو حصے ہیں، اور اسے ثابت بھی کرنا ہے۔
اللہ کے بندے پوسٹ نمبر ۲ سے لیکر آخر تک میرے دعوی کے دو ہی حصے رہے ہیں میں نے اپنے دعوی کے دو حصوں کا کبھی بھی انکار نہیں کیا، لیکن اپنی ناسمجھی کو میری سوچ بنانا یہ موصوف کی انفرادی حالت نہیں بلکہ تمام غیرمقلدین کے درمیان قدر مشترک ہے۔
اتنے دن جواب لکھنے پر ٹائم لگانے کے باوجود بھی کشکول سے سوائے تہمت بازیوں کے کچھ سامنے نہیں آیا، ارے میرے بھائی لفظ جہلاء استعمال کیا جائے، عوام لفظ استعمال کیا جائے، یا عامل بالحدیث لفظ استعمال کروں، الفاظ کا فرق آپ کے دعویٰ اور اثبات دعویٰ پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ کیونکہ اصل مسئلہ تو ایسے لوگوں کا ہے جو قرآن وحدیث پر عمل کرنے والے ہوں، چاہے وہ جہلاء ہوں، چاہے وہ عوام ہو، چاہے وہ عاملین بالحدیث ہوں۔ کیا انہیں اہلحدیث لکھا، بولا یا کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ ہم کہتے ہیں کہا جاسکتا ہے، جب کہ آپ اس سے انکار کر رہے ہیں۔
جناب میں نے تہمت نہیں لگائی بلکہ جناب کی ایک ایک بات کا اقتباس پیش کرکے اسے جھوٹ کہا ہے، اگر جناب کے نزدیک سچ تھا تو ثابت کیوں نہیں کر سکے، ثابت کرنے کی بجائے اسے تہمت قرار دینا جناب کے فرار کی دلیل ہے
آپ سے مؤدبانہ گزارش کرونگا کہ آپ نے جو میری طرف الفاظ کے بدلاؤ سے ہضم نہ ہونے کی بات کی ذرا ان دونوں میں فرق ہی ثابت کردیں بہت شاکر رہونگا

’’ کہ جہلاء اہل حدیث سے خارج ہیں‘‘ اور ’’ اہل حدیث سے عامل بالحدیث خارج ہیں‘‘
عقل اور فہم رکھنے والے جانتے ہیں کہ جہلاء وہ ہیں جو اہل حدیث کی شرائط پر پورا نہیں اترتے
جبکہ عامل بالحدیث میں وہ بھی شامل ہے جو اہل حدیث کی شرائط پوری کرتا ہے اور اہل حدیث کہلا سکتا ہے، اور وہ بھی شامل ہے جو اہل حدیث کی شرائط پوری نہیں کرتا اور اہل حدیث نہیں کہلا سکتا

اگر اس کے بعد بھی دونوں میں فرق سمجھ نہ آئے تو جناب کو علاج کی ضرورت ہے سمجھانے کی نہیں
جواب جاری ہے انتظار کیجئے
 

asifchinioty

رکن
شمولیت
جولائی 27، 2015
پیغامات
138
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
37
آپ کا دعویٰ ہے کہ لفظ اہل حدیث کا اطلاق جہلاء پر نہیں ہوتا، اور میں نے اسے لکھا، کہ کیا لفظ اہلحدیث سے عوام خارج ہے؟ آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ان دونوں میں فرق بتا دیں۔ فرق بتاتے ہوئے یہ لازمی یاد رکھ لینا کہ آپ اس سے اتفاق کرچکے ہیں۔ تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ ’’ لفظ اہل حدیث کا اطلاق جہلاء پر نہیں ہوتا ‘‘ یہ آپ کا دعویٰ ہے، جس کا مفہوم یہ ہے اور ’’ کیا لفظ اہلحدیث سے عوام خارج ہے؟‘‘ یہ آپ کے دعویٰ کا نتیجہ ہے۔ اور ان دونوں میں یہ یہ فرق ہے۔
جناب عالی!
میرے دعوی میں یہ الفاظ تھے کہ لفظ اہل حدیث کا اطلاق جہلاء پر نہیں ہوتا، جبکہ جناب فرماتے ہیں کہ عوام اہل حدیث سے خارج ہیں،
پھر موصوف کا کہنا یہ ہے کہ لفظ اہل حدیث کا اطلاق جہلاء پر نہیں ہوتا کا مطلب یہ ہے کہ عوام اہل حدیث سے خارج ہیں،
تو جناب نے میرے دعوی کے الفاظ کو درست تسلیم کر لیا کیونکہ جناب کے نزدیک بھی دونوں کا مطلب ایک ہی بنتا ہے، جب دونوں کا مطلب ایک ہی ہے تو پھر میرے دعوی میں مذکور الفاظ کیوں ہضم نہیں ہورہے جناب کو؟
دونوں کا مطلب ایک ہی تسلیم کر لینے کے بعد بھی اس پر اصرار کرنا کہ عوام کے اہل حدیث سے خارج ہونے پر ہی دلیل دی جائے اس بات کی دلیل ہے کہ میرے دعوی کے الفاظ میں جناب کی موت تھی اور اب تک ہے، اسی لئے شروع سے لے کر آخر تک میرے دعوی کے الفاظ کو تسلیم نہیں کر رہے حالانکہ میرے دعوی کے الفاظ جب ثات ہوجائیں گے تو پھر جناب کے مطلوبہ الفاظ بھی خود بخود ہی ثابت ہوجائیں گے،

عقائد علمائے دیوبند کفریہ وشرکیہ ہیں، کیا اس دعویٰ کی تنقیح یہ ہے کہ پہلے کفر کی تعریف کی جائے، پھر جو لوگ ان عقائد کو جاننے کے بعد ایسے حامل عقیدہ لوگوں کو کافر نہ کہیں، ان کا کیاحکم ہے؟ یہ کافر ہوجانا، یا کافر کہنا تنقیح ہے یا نتیجہ؟ کیونکہ اللے تھللے الاپتے جارہے ہو میرے دوست؟
دعوی میں کفریہ اور شرکیہ کے الفاظ واضح طور پر نظر آرہے ہیں، لہذا جو کفریہ اور شرکیہ ہونے کا فتوی لگا رہے ہیں انہی کی ذمہ داری ہے کہ کفر اور شرک کی تعریف بھی کر دیں تاکہ آئندہ کی گفتگو کے لئے ایک پیمانہ بن جائے، یہی مقصد ہوتا ہے دعوی کی تنقیحات کا تاکہ بعد میں کوئی اپنی بات سے فرار نہ ہوسکے
چلو شکر ہے اب یہ تو تسلیم کرلیا، کہ جو بات مولانا عمر صدیق اور مولانا الیاس صاحب کے مابین تھی، اس میں دعویٰ پہلے لکھا جاچکا تھا، ورنہ پہلے تو آپ دعویٰ نہ لکھنے کی بات کر رہے تھے۔خیر قارئین جب میری اور آپ کی پوسٹس کا مطالعہ کریں گے، اور آپ کی اس طرح کی بچگانہ باتیں پڑھیں گے تو آپ کی اہلیت وحقیقت وقابلیت جان ہی لیں گے۔
دعوی اور جواب دعوی ہمیشہ مناظرین بیان کیا کرتے ہیں، اور اسکے بعد اگر مزید وضاحت اور ابہام ہو تو اس کے لئے تنقیحات کی جاتی ہیں
اگر جناب نے ویڈیو دیکھی ہو تو عمر صدیق صاحب واضح طور پر دعوی کررہے تھے کہ علمائے دیوبند کے عقائد کفریہ شرکیہ ہیں، مولانا کا یہی مطالبہ تھا کہ بے شک دعوی پہلے لکھا ہوا ہے لیکن جو الفاظ عمر صدیق صاحب فرم رہے ہیں وہ بھی لکھ دیں لیکن مولوی صاحب کی جان نکل رہی تھی اور وہ مذکورہ الفاظ کو لکھنے کے لئے تیار ہی نہ تھے۔
٭ کیا اہلحدیث صرف محدثین کو کہا جاتا ہے۔صریح دلیل۔ مگر دلیل اب تک پیش کرنے کی ہمت نہیں کی۔
موصوف ایک طرف میرے ارے میں کہتے ہیں کہ میں اس پر دلیل پیش نہیں کر سکا کہ اہل حدیث صرف محدثین کو کہتے ہیں
دوسری طرف جب نے دلائل دیئے کہ اہل حدیث محدثین کو کہتے ہیں تو جناب کہتے ہیں کہ اس سے مراد اہل حدیث ہیں جیسا کہ درج ذیل اقتباس میں جناب نے تسلیم کیا ہے

پوسٹ نمبر128، 129، 130، اور 131
ان تمام پوسٹس میں حوالہ جات محدثین کےلیے ہے، اور محدثین ہماری بحث کا حصہ ہی نہیں۔اب اگر میں کہوں کہ آصف بھائی آپ کاپی پیسٹر ہیں، تو سب سے برا بھی میں کہلاؤنگا۔ ابتسامہ
موصوف کے پاس میرے دلائل کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ کاپی پیسٹ کر رہا ہوں، اس کے علاوہ ابھی تک موصوف کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا اور نہ ہی آنے کی امید ہے

گویا کہ ابھی تک میں نے جو دلائل پیش کئے ہیں ان کے مطابق اہل حدیث صرف محدثین کو ہی کہتے ہیں، یہ تو ابھی ابوعبد الرافع کی ذمہ داری ہے کہ وہ محدثین کے علاوہ جہلاء کے لئے لفظ اہل حدیث کا استعمال ایسی کتابوں سے ثابت کریں جو دونوں کے لئے معتبر ہوں، لیکن موصوف نے ابھی تک یہ ہمت نہیں کی اور نہ کر سکیں گے ان شاء اللہ
اکابر علمائے دیوبند کی دو کتابوں احسن الفتاوی اور حدیث اور اہل حدیث سے دو دلیلیں پیش کرنے کی ناکام کوشش کی اور وہاں پر صرف لفظ اہل حدیث کو دیکھ کر خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں لیکن ان دونوں کتابوں سے یہ بات کسی طور پر ثابت نہیں ہورہی کہ جہلاء کی کسی جماعت کو اہل حدیث کہتے ہیں، نامعلوم موصوف کو کہاں سے یہ مطلب نظر آگیا۔
٭ دلیل نہ دینے کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے جب کہا گیا کہ چلو اس پر دلیل دے دو کہ لفظ اہلحدیث سے عوام خارج ہے(لفظ اہلحدیث کا اطلاق جہلاء پر نہیں ہوتا) اس پر بھی دلیل دینے کی ہمت نہیں ہوئی۔بلکہ الٹا دونوں باتوں کو ثابت کرنے سے انکار ہی سامنے آیا۔مگر اب ادھر ادھر دوڑ بھاگ کرکے دعویٰ بھی تسلیم کرلیا، اتفاق بھی تسلیم کرلیا، دونوں حصوں کو ثابت کرنے کا بھی مان لیا، اور اب تو یہ بھی کہہ دیا کہ ’’ جو شخص عامل بالحدیث ہونے کے علاوہ اہل حدیث کی شرائط پوری نہیں کرتا وہ اہل حدیث نہیں ہوسکتا۔‘‘
ھاھاھاھاھا
دلیل نہ دینے کی مجبوری نہیں جناب بلکہ جناب نے یہ بات تسلیم کرکے کہ’’ لفظ اہل حدیث کے جہلاء پر عدم اطلاق اور عوام کے اہل حدیث سے خارج ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے‘‘ اپنی ہی کشتی میں بڑے بڑے پتھر رکھ لئے جس سے کشتی ڈوبنے لگی کیونکہ جناب نے میرے دعوی کے الفاظ کو درست تسلیم کر لیا تھا،
اس لئے پینترا بدلا اور عامل بالحدیث کی بات کرنے لگے اور پھر کہنے لگے کہ عامل بالحدیث کے اہلحدیث سے خارج ہونے اور جہلاء کے اہل حدیث سے خارج ہونے میں کوئی فرق نہیں حالانکہ اہل عقل و فہم جانتے ہیں کہ ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے۔
پوسٹ نمبر134
اس پوسٹ میں موصوف کی اخلاقی حالت دیکھنے کےلیے یہ الفاظ قارئین نوٹ فرما لیں
آپ کا صرف منہ ہی نہیں، بلکہ بہت کچھ بند ہوچکا ہے لیکن ابھی آپ کو محسوس نہیں ہورہا
یاد رہے موصوف نے یہ الفاظ میرے ان الفاظ کے جواب میں لکھے ہیں
میں تو سوچ رہا تھا، کہ آصف بھائی منہ بند جواب لکھنے میں مصروف ہیں، اس لیے لکھ رہے تھے، کہ میں مصروف ہوں، جلدی نہ کی جائے۔(ابتسامہ)
سوچ، فکر اور اخلاقیات کا قارئین خود اندازہ لگا لیں۔جبکہ کئی بار متنبہ کیا گیا، کہ محدث فورم بداخلاقی کی اجازت نہیں دیتا۔ خیر جو اندر ہوتا ہے، وہ باہر آتا ہے۔ اور کیا کرسکتے ہیں ہم لوگ۔
میں نے جو کچھ کہا ہے اس کامطلب ہر شخص اپنے اپنے ذوق و مزاق کے مطابق لے سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ موصوف ابوعبد الرافع صاحب کافی باذوق نظر آتے ہین اور اپنے ذوق کے مطابق میری بات کا مطلب لے رہے ہیں اور پھر اسے بداخلاقی کا نام دے کر بلاک کرنے کے بہانے کاراستہ ہموار کر رہے ہیں
 

asifchinioty

رکن
شمولیت
جولائی 27، 2015
پیغامات
138
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
37
جب مفتی رشید احمد کی بات نقل کی گئی
مفتی رشید احمد لدھیانوی دیوبندی نے لکھا تقریباً دوسری تیسری صدی ہجری میں اہل حق میں فروعی اور جزئی مسائل کے حل کرنے میں اختلاف انظار کے پیش نظر پانچ مکاتب فکر قائم ہوگئے یعنی مذاہب اربعہ اور اہلحدیث۔اس زمانے سےلےکر آج تک انہی پانچ طریقوں میں حق کو منحصرسمجھا جاتا رہا۔ (احسن الفتاویٰ ج1 ص316)

پہلا۔حنفی، سنی، دیوبندی، اہلحدیث،بریلوی،شیعہ،وغیرہ جہالت کی پیداوار ہیں
دوسرا۔ہمارا ایمان ہے کہ اس ایک دعوت اور طریق کار کے علاوہ دوسری تمام دعوتیں اور طریقہائے کارسراسر باطل ہیں
تیسرا۔میں نے مسلک اہل حدیث کو اس کی تمام تفاصیل کے ساتھ صحیح سمجھتا ہوں اور نہ حنفیت یا شافعیت کا پابند ہوں
ٰیہاں تک تو جناب نے مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کے جواب اور مودودی کے نظریا ت بیان کر دیئے

اس کے بعد موصوف فرماتے ہیں کہ:

تو اس وقت پیشین گوئی کی گئی تھی کہ موصوف اس بات کو محدثین کے ساتھ جوڑ دیں گے۔اللہ اللہ کرکے وہی ہوا، جس کی اطلاع دی گئی تھی
جناب عالی! یہ آپ کی پشین گوئی نہیں تھی بلکہ جناب کے ضمیر کی گواہی تھی کہ یہاں پر اہل حدیث سے محدثین مراد ہیں، اپنے ضمیر کی گواہی کو پشین گوئی بنا کر پیش کررہے ہیں جناب
٭ یہاں کیا حنفی سے مرادصرف امام ابوحنیفہ ہیں عوام نہیں؟ سنی سے مراد صرف کون سے امام ہیں عوام نہیں؟ دیوبندی سے مراد صرف کس امام کیطرف اشارہ ہے عوام نہیں؟ اہلحدیث سے مراد آپ کہتے ہیں کہ صرف محدثین ہیں عوام نہیں؟۔ بریلوی، شیعہ سے کون سےان کے صرف امام مراد ہیں؟ عوام مراد نہیں؟
مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ مذاھب اربعہ لکھا ہے اور مذاھب اربعہ سے مراد کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ مقلدین ہوتے ہیں بلکہ اس مذھب کے مجتھدین کے فقہی مذاھب ہوتے ہیں
اسی طرح مفتی صاحب رحمہ اللہ نے اہل حدیث لکھا ہے یہ انہوں نے کہیں بھی نہیں لکھا کہ اہلحدیث سے مراد جہلاء ہیں، بلکہ اہل حدیث کے فقہی مذاھب مراد لئے ہیں
اسکی دلیل یہ ہے:
کہ حضرت نے فرمایا ہے کہ: اہل حق میں فروعی اور جزئی مسائل کے حل کرنے میں اختلاف انظار کے پیش نظر پانچ مکاتب فکر قائم ہوگئے لہذا فروعی اور جزئی مسائل میں اختلاف انظار کن کے درمیان میں ہوتا ہے، جہلاء کے درمیان یا مجتھدین اور محدثین کے درمیان، میرے اس سوال کا جواب ابھی تک موصوف دینے سے قاصر ہین کہ یہ اختلاف کن کے درمیان میں پیدا ہوا جہلاء کے درمیان یا مجتھدین اور محدثین کے درمیان؟
جن کے درمیان میں فروعی اور جزئی مسائل میں حل کرنے میں اختلاف انظار پیدا ہوا وہی ا س سے مراد ہیں، لہذا یہ موصوف کے ذمہ ہے کہ وہ بتائیں کہ یہ اختلاف انظار کن کے درمیان پیدا ہوا تھا، جہلاء کے درمیان یا مجتہدین اور محدثین کے درمیان؟ ہوسکتا ہے اس کا جواب موصول نہ ہو


پوسٹ نمبر117 کا آصف بھائی نے جواب پوسٹ نمبر126 میں دیا۔اور کہا کہ

1۔اختلافات مجتہدین کے مابین ہوتے ہیں، جہلاء کے بیچ نہیں
2۔مفتی صاحب نے اہلحدیث کو گروہ کے طور پر نہیں لیا
3۔ مفتی صاحب کے لفظ ’’آج تک‘‘ کا مطلب فروعی اختلافات کی بنیاد پر آج تک یہی پانچ مذاھب موجود ہیں


پہلے نمبر سے کوئی اختلاف نہیں، دوسرے نمبر کی مفتی صاحب سے دلیل دی جائے، تیسرے نمبر میں خود ہی جواب دے دیا کہ پانچ مذاہب قائم ہیں۔ جب پانچ مذاہب قائم ہیں، تو پھر ان پانچ مذاہب کو ماننے والے بھی قائم ہیں۔ جب باقی چاروں مذاہب کے ماننے والوں کو حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی کہا جاتا ہے، تو اسی طرح مذہب اہلحدیث کو ماننے والوں کو اہلحدیث کہا جاتا ہے۔
الحمد للہ جو بات جناب سے منوانا چاہتا تھا وہ جناب مان گئے کہ اختلاف مجتہدین اور محدثین کے درمیان میں ہوا،
جب اختلاف مجتہدین اور محدثین کے درمیان میں پیدا ہوا ہے تو پھر اسی اختلاف کی بات اختلاف انظار کے نام سے احسن الفتاوی میں ذکر ہورہا، لہذا یہ تسلیم کر لینے کے بعد دوبارہ اس سے استدلال نہ کرین تو بہتر ہوگا

جناب عالی دوسرے نمبر کی دلیل یہی ہے کہ احسن الفتاوی میں فروعی اور جزئی مسائل کے حل کرنے میں اختلاف انظار کی بات ہے اور جناب نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ یہ اختلاف مجتہدین اور محدثین کے درمیان میں ہوا ہے۔ لہذا اس اختلاف انظار سے جہلاء مراد نہیں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جناب میں اختلاف پیدا ہوا ہے
مذاہب اربعہ اور اہل حدیث کے مذہب کا مطلب بہت واضح بتا چکا ہوں،
اب موصوف کا کہنا ہے کہ مذاھب سے مراد ان مذاھب کے متبعین ہیں، تو جناب میں پھر یہ چیلنج کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں کہ جس طرح مذاھب اربعہ اور ان کے مقلدین سند کے ساتھ، اپنی کتب کے ساتھ ثابت ہیں، اسی طرح جناب اہل حدیث کا مدون مذھب اور ان کے مقلدین کو سند کے ساتھ ثابت کر دیں

مذاہب اربعہ میں جس طرح ان مذاہب پر ان کے عاملین شامل ہیں، اسی طرح اہلحدیث مذہب میں بھی ان کے عاملین شامل ہیں۔یعنی جس طرح حنفی، شافعی، مالک اور حنبلی الفاظ کا اطلاق عوام پر بھی ہوتا ہے، اسی طرح اہلحدیث لفظ کا اطلاق عوام پر کیوں نہیں ہوسکتا؟
ھاھاھاھا
مذاہب اربعہ سے مراد عاملین مذاھب اربعہ کہاں سے اور کیسے مراد لئے ہیں جناب نے
اسی طرح مذہب اہل حدیث سے عاملین مذھب اہل حدیث کہاں سے اور کسیے مراد لیئے ہیں، اگر عاملین مذھب اہل حدیث کو سند سے ثابت کرنے کا مطالبہ کریں تو جناب کو برا محسوس ہوتا ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اسی ثابت کرنا موصوف ہی نہیں ان کے بڑوں کے بھی بس کی بات نہیں

٭پھر ایک بچگانہ چیلنج کردیا کہ اہل حدیث نامی جماعت جو کہ جہلاء پر مشتمل ہو سند کے ساتھ محدثین تک ثابت کر دیں تو میں ابھی اور اسی وقت شکست لکھ کر دینے کو تیار ہوں
آصف بھائی یہ جانتے ہیں کہ اہلحدیث ہم ان لوگوں کو کہتے ہیں جو قرآن وحدیث پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔اب آصف بھائی کے اس چیلنج نے یہ ثابت کردیا کہ کوئی دور ایسا بھی آیا ہے کہ قرآن وحدیث پر عمل کرنے والی کوئی جماعت تھی ہی نہیں۔ دماغی حالت کا قارئین آصف بھائی کی اس بات سے اندازہ لگا لیں۔اور میں کیا لکھ سکتا ہوں۔
جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو بچگانہ چیلنج کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں جناب ھاھااھاھاھاھاھاھا
جناب عالی! یہ بچگانہ چیلنج نہیں ہے بلکہ حقیقت پسندانہ چیلنج ہے جناب کے نزدیک احسن الفتاوی میں اہل حدیث سے مراد جہلاء کی جماعت ہےجبکہ ہمارے نزدیک احسن الفتاوی میں اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں کیونکہ اختلاف انظار کی بات ہورہی ہے اور جناب خود تسلیم کر چکے ہیں کہ اختلاف مجتہدین اور محدثین کے درمیان ہوتا ہے
لہذا جب جناب کے نزدیک اہل حدیث سے مراد ایسی جماعت ہے جو تیسری صدی سے لیکن کر آج تک موجود ہے جس میں جہلاء بھی شامل ہیں تو پھر ہم پوچ سکتے ہیں کہ سند کے ساتھ اہل حدیث (یعنی ایسی جماعت جس میں جہلاء بھی شامل ہوں)کا انگریز سے پہلے وجود ثابت کر دو

٭ یہاں کیا حنفی سے مرادصرف امام ابوحنیفہ ہیں عوام نہیں؟ سنی سے مراد صرف کون سے امام ہیں عوام نہیں؟ دیوبندی سے مراد صرف کس امام کیطرف اشارہ ہے عوام نہیں؟ اہلحدیث سے مراد آپ کہتے ہیں کہ صرف محدثین ہیں عوام نہیں؟۔ بریلوی، شیعہ سے کون سےان کے صرف امام مراد ہیں؟ عوام مراد نہیں؟
مذاہب اربعہ کے مقلدین ہر دور میں رہے، مذاہب اربعہ باقاعدہ مدون شکل میں موجود ہیں لہذا اس کا انکار تو جناب عالی بھی نہیں کر سکتے
البتہ مذہب اہل حدیث کے مقلدین کب، کس دور میں تھے، ان کی کتب کے کیا نام ہیں جن میں فقہی اور فروعی مسائل لکھے ہیں اس کو ثابت کرنے کی ہمت جناب میں نہیں ہے
بات یہ ہے کہ مذاہب اربعہ اہل حدیث میں اختلاف انظار کن لوگوں میں پیدا ہوا جہلاء میں یا مجتہدین اور محدثین میں، جن میں اختلاف انظار پیدا ہوا وہی احسن الفتاوی میں مراد ہیں

٭ دوسری بات جب اس فتوے کی روشنی میں مذاہب اربعہ میں عوام اور علماء سب شامل ہیں تو اہل حدیث میں عوام کیوں شامل نہیں؟
مذاہب اربعہ سے مراد کس نے کہا کہ عوام ہیں،
حالانکہ جناب نے خد تسلیم کیا ہے کہ اختلاف مجتہدین اور محدثین میں پیدا ہوا پھر یہی لوگو احسن الفتای میں مراد ہیں عوام کو زبدستی کہاں گھسیڑ رہے ہو جناب؟
مجھے کہیں سے اس بات کی دلیل دے دیں کہ مذاھب اربعہ کا لفظ جب بولا جائے تو اس سے مراد عوام ہوتی ہے؟؟؟؟؟؟
مذاھب اربعہ کے علاوہ کسی کے متبعین ہیں یا نہیں، آپ کے گھر سے حوالہ دے رہا ہوں اے کاپی پیسٹ کا نام دو یار جو بھی نام دو آپ کی مرضی لیکن اسے غور سے پڑھ ضرور لینا


هذه المذاهب إنما يبقى منها ما كان له أتباع أو أشياع، أو ما قامت عليه الدول ورعته الحكومات،
وقد حظي المذهب الحنفي
باعتماد في الدولة العباسية عندما ولى هارون الرشيد أبا يوسف صاحب أبي حنيفة القضاء، وهو أول من تولى القضاء العام في الدولة الإسلامية، سمي قاضي القضاة،
وكذلك عندما اعتمدت الدول المختلفة في مصر وبلاد المغرب والأندلس على المذهب المالكي فكان سحنون بن سعيد التنوخي اسمه عبد السلام قاضي تونس والقيروان، وكان عبد الملك بن حبيب قاضي الأندلس، وكان البهلول بن راشد وعبد الله بن فروخ وعبد الله بن غانم في برقة مرجعا للإفتاء والقضاء، وهؤلاء من أصحاب مالك إلا أن سحنونا وعبد الملك بن حبيب لم يلقيا مالكا وإنما هما من أصحاب أصحابه، فهما تلميذا عبد الرحمن بن القاسم العتقي وأشهب والحارث بن مسكين من أصحاب مالك،
فكذلك حظي المذهب الشافعي بأخذ المتوكل بن المعتصم به، فهو أول خليفة للمسلمين يتمذهب، لأنه من المعلوم أن خليفة المسلمين يشترط له أن يكون مجتهدا في الدين، وأن لا يكون مقلدا لأحد سواه، لأنه متبوع فلا يمكن أن يكون تابعا، وأول من قلد من خلفاء المسلمين هو المتوكل وهو عاشر خلفاء بني العباس، قلد المذهب الشافعي،
ولم تكن للمذهب الحنبلي في البداية صفة رسمية، لكنه مع هذا انتشر في بلاد فلسطين، وبالأخص في نابلس والقدس، استمر فيهما قرونا من الزمن، ثم عين بعض علمائه في الوزارة في بعض الدول، فكان لذلك صدى رفع المذهب وأعان على انتشاره،
أما المذاهب الأخرى غير هذه الأربعة فلم يبق لها أتباع ولم تقم عليها دول،
إلا أنه ظهرت بعض المذاهب في العصور المتأخرة عن هذه، [محاضرات سلسلة العلوم الشرعية للددو الشنقيطي ]


اس پر ضروری غور کر لینا


أما المذاهب الأخرى غير هذه الأربعة فلم يبق لها أتباع ولم تقم عليها دول،
إلا أنه ظهرت بعض المذاهب في العصور المتأخرة عن هذه، [محاضرات سلسلة العلوم الشرعية للددو الشنقيطي ]


یہاں سے تفصیل مل جائے گی
http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=291856
جواب جاری ہے انتظار کریں
 
شمولیت
جولائی 27، 2015
پیغامات
137
ری ایکشن اسکور
62
پوائنٹ
56
جی آصف بھائی کب سے انتظار تھا بھی، اور ہے بھی، اور کر بھی رہا ہوں، کوئی بات نہیں ایک دو ہفتے اور بھی جواب لکھنے میں لگ گئے تو کوئی پریشانی مول نہ لینا، کیونکہ الحمدللہ مجھ میں صبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
 

asifchinioty

رکن
شمولیت
جولائی 27، 2015
پیغامات
138
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
37
پوسٹ نمبر81

میرے عزیز نہ تو ان شرائط سے کسی نے انکار کیا؟ اور نہ ان شرائط کے حاملین مطلب محدثین ہماری بحث میں شریک ہیں۔ بلکہ ہماری بحث عامل بالحدیث پر ہے۔ کہ عاملین بالحدیث کو اہلحدیث کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ آپ کہتے ہیں نہیں کہا جاسکتا، جب کہ ہم کہتے ہیں کہ کہا جاسکتا ہے۔ دعویٰ آپ کا ہے، اس لیے آپ ثابت کرنے کی کوشش میں اب تک ناکام ہوچکے ہیں۔ میں نے تو صراحت کے ساتھ کہا تھا کہ صرف ایک صریح دلیل دے دیں، آپ کی بات ختم، پھر میں اپنے جوابی دعویٰ کو ثابت کرونگا۔ لیکن پتہ نہیں کیوں نہیں دے رہے؟
اس لیے گزارش ہے کہ اگر آپ کے پاس دلیل ہے تو دیں، ورنہ اپنے دعویٰ کے دونوں حصوں کے ثابت نہ کرنے کا آپ کہہ چکے ہیں، اب آپ یہ لکھ دیں کہ میرے پاس اپنے دعویٰ پر بس یہی دلائل تھے۔ تاکہ پھر میں اپنے دلائل پیش کروں۔
اس پوسٹ میں جناب نے تسلیم کیا تھا کہ یہ شرائط محدثین کی ہیں حالانکہ یہ بات جناب کو معلوم ہونی چاہیے کہ اہل حدیث، اصحاب الحدیث اور صاحب الحدیث محدثین کو کہتے ہیں، لہذا یہ شرائط اہل حدیث ، اصحاب الحدیث کی ہیں
کتب میں جہاں کہیں بھی اہل الحدیث اور اصحاب الحدیث کا لفظ آیا ہے وہاں پر محدثین ہی مراد ہیں
اہل حدیث اور اصحاب الحدیث سے مراد محدثین ہی ہیں اس کا ثبوت جناب کے گھر سے پیش کر رہا ہوں ذرا غور سے دیکھ لیں
اہل حدیث محدثین کو کہتے ہیں.jpg
اہل حدیث محدثین کو کہتے ہیں۔.jpg

موصوف نے اس پوسٹ میں بھی جھوٹ بولا کہ اصل موضوع بحث عامل بالحدیث ہیں ، یہ موضوع کہاں پر ، کس جگہ، کس دن طے ہوا تھا یہ بتانے کی زحمت ابھی تک نہیں کر سکے اور یقیناکربھی نہیں سکیں گے کیونکہ یہ موضوع طے ہی نہیں ہوا بلکہ موصوف اپنی سہولت کے لئے خود ہی موضوع بنا لیتے ہیں کہ شاید کوئی یہ دعوی علی الاطلاق کر دے اور ان کے لئے آسانی ہوجائے لیکن عامل بالحدیث کے بارے میں ہمارا موقف روز روشن کی طرح واضح ہے لیکن پھر بھی اصرار مضحکہ خیز ہے

پوسٹ میں اگر کوئی الفاظ ناگوار ہوں تو معذرت چاہتا ہوں کیونکہ ایڈٹ کرنے کا موقع نہیں ملا
جواب جاری ہے
 

asifchinioty

رکن
شمولیت
جولائی 27، 2015
پیغامات
138
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
37
عامل بالحدیث کے بارے میں میرا موقف بالکل واضح ہے، پہلے میرے موقف کو غور سے پڑھ لو اسے سمجھ لو اور پھر عامل بالحدیث کی بات کرنا

پہلا جھوٹ یہ بولا کہ جھلاء سے مراد عامل بالحدیث ہے، دوسرے جھوٹ کی بنیاد پہلے جھوٹ کو بنایا اور کہا کہ میں عامل بالحدیث کو اہل حدیث نہیں کہتا
جناب من! اب آپ کا سہارا یہ جھوٹ ہی رہ گئے ہیں،
حالانکہ اہل الحدیث کی دیگر صفات کے ساتھ ساتھ عامل بالحدیث ہونا بھی شرائط میں داخل ہے،
میں یہ کہتا ہوں کہ ایسا عامل بالحدیث جو دیگر شرائط اہل الحدیث پر پورا نہیں اترتا وہ اہل الحدیث نہیں کہلا سکتا
 

asifchinioty

رکن
شمولیت
جولائی 27، 2015
پیغامات
138
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
37
بلکہ ابھی تو آپ کے علماء کے میں نے حوالے لکھنے شروع کرنے ہیں کہ جنہوں نے کہا کہ اصل اہلحدیث تو صرف مقلدین ہیں
یہ بات کس کتاب میں لکھی ہے ذرا حوالہ اور اسکین پیش کریں

حدیث اور اہل الحدیث میں ایسے بات نہیں لکھی بلکہ وہاں پر یہ ثابت کیا ہے احناف حدیث پر عمل کرتےہیں اور غیرمقلدین کو ان کے دعوی کے مطابق کہہ رہے ہیں کہ اہل حدیث کہلانے کے مستحق تو احناف ہیں کیونکہ وہ تو مرسل روایات پر بھی عمل کرتے ہیں، در اصل یہ بات اس لئے نہیں کہی کہ ہر حنفی اہل حدیث ہے بلکہ اس لئے کہی ہے کہ اس سے غیرمقلدین کا منہ بند ہوجائے کہ ہر حدیث پر عمل کرنے والا اہل حدیث نہیں ہوتا بالکہ اہل حدیث کی شرائط جس میں ہوں وہی اہل حدیث ہوگا کیونکہ حدیث پر عمل کے باوجود کبھی کسی حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی نے اپنے آپ کو اہل حدیث نہیں کہا
میری اس بات کو تاویل کہہ کر رد کر دیا جائے گا کیونکہ موصوف کے پاس کسی بات کو رد کرنے کے دو ہی طریقے ہیں تاویل کہہ دو یا کاپی پیسٹ کا نام لے دو پس بس

جواب جاری ہے
 

asifchinioty

رکن
شمولیت
جولائی 27، 2015
پیغامات
138
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
37
اہل حدیث سے کون مراد ہیں محدثین یا جہلاء حوالے ملاحظہ ہوں کہ اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں، (جہلاء کے اہل حدیث ہونے کے دلائل فریق مخالف پیش کرے گا)


افظ محمد بن ابراہیم الوزیر رح (٧٧٥775-840٨٤٠ ہجری)لکھتے ہیں:
"من المعلوم أنّ أهل الحديث اسم لمن عني به, وانقطع في طلبه...... فهؤلاء هم من أهل الحديث من أي مذهب كانوا"۔
(الروض الباسم لابن الوزیر:۱/۱۲۲)

ترجمہ:یہ بات معلوم ہے کہ اہلِ حدیث اس طبقے کا نام ہے جو اس فن کے درپے ہو اس کی طلب میں منہمک رہے...... ایسے سب لوگ اہلِ حدیث ہیں؛ خواہ وہ کسی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔
غیرمقلدین کے مولانا محمد ابراہیم صاحب میر کے نزدیک بھی اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں


مولانا محمدابراہیم صاحب میر بھی لکھتے ہیں:
"بعض جگہ توان کا ذکرلفظِ اہل حدیث سے ہوا ہے اور بعض جگہ اصحاب حدیث سے، بعض جگہ اہل اثر کے نام سے اور بعض جگہ محدثین کے نام سے، مرجع ہرلقب کا یہی ہے"۔
(تاریخ اہلحدیث:۱۲۸)

ابن دمیہ کے نزدیک بھی اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں

حافظ جمال الدین الزیلعی (۷۶۲ھ) ابن دمیہ سے نقل کرتے ہیں:
"وَيَجِبُ عَلَى أَهْلِ الْحَدِيثِ أَنْ يَتَحَفَّظُوا مِنْ قَوْلِ الْحَاكِمِ، فَإِنَّهُ كَثِيرُ الْغَلَطِ ظَاهِرُ السَّقْطِ، وَقَدْ غَفَلَ عَنْ ذَلِكَ كَثِيرٌ مِمَّنْ جَاءَ بَعْدَهُ، وَقَلَّدَهُ فِي ذَلِكَ"۔
ترجمہ: اہل حدیث پرلازم ہے کہ حاکم کے قول سے بچیں وہ بہت غلطیاں کرتے ہیں، ناقابل اعتماد ہیں، بہت سے لوگ جو ان کے بعد آئے اور اس میں اس کی پیروی کرتے رہے اس حقیقت سے ناواقف ہیں۔

امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں

أنه لايثبته أهل الحديث ولكن العامة تلقته بالقبول وعملوا به"۔
(فتح المغیث:۱/۲۸۹، شاملہ،الناشر: دار الكتب العلمية،لبنان)
ترجمہ:اہلحدیث تواسے ثابت نہیں مانتے لیکن عامۃ الناس نے اسے قبول کیا اور اس پر عمل کیا۔
امام ترمذی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اہل الحدیث سے مراد محدثین ہیں

"وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْحَدِيثِ فِي هَذَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ"۔
(ترمذی، كِتَاب الصَّلَاةِ،بَاب مَاجَاءَ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ،حدیث نمبر:۲۱۳، شاملہ، موقع الإسلام)
ترجمہ:اہلحدیث کا اس میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں عمروبن مرہ کی روایت زیادہ صحیح اور بعض کہتے ہیں حصین کی روایت زیادہ صحیح ہے۔
"لَيْسَ ہُوَبِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ"۔
(ترمذی:۱/۲۱)
ترجمہ:وہ اہلحدیث کے ہاں قوی نہیں ہے۔
ایک اور راوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ"۔
(ترمذی،كِتَاب الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ،بَاب مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر:۳۶۹۹، شاملہ، موقع الإسلام)
ترجمہ:اس میں بعض اہلحدیث نے حفظ کی رو سے کلام کیا ہے۔
پھرایک اور جگہ لکھتے ہیں:
"وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ"۔
(ترمذی،كِتَاب الصَّلَاةِ،بَاب مَاجَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ،حدیث نمبر:۱۷۳، شاملہ، موقع الإسلام)
ترجمہ:وہ اہلِ حدیث کے ہاں ضعیف ہے۔
امام ترمذی اہلحدیث کوکہیں کہیں اصحاب الحدیث کہہ کربھی ذکر کرتے ہیں، حدیث "لاتزال طائفۃ من امتی ظاہرین علی الحق" کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان سے مراد اصحاب الحدیث ہیں،
خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے نزدک بھی اصحاب الحدیث سے مراد محدثین ہیں

"فانکرعلیہ اصحاب الحدیث ذلک ولم یلتفتوا الی قولہ ولاصوبوہ علی فعلہ"۔
(تاریخ بغداد۵/۴۷۴)
ترجمہ:اصحاب الحدیث نے اس پرانکار کیا ہے اور اس کی بات پرتوجہ نہیں کی اور اسے اس کے عمل میں درست نہیں کہا۔
ابن عبد البر رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اہل الحدیث سے مراد محدثین ہیں

حافظ ابن عبدالبر مالکی (۴۶۳ھ) بھی ایک جگہ لکھتے ہیں:
"وقالت فرقة من أهل الحديث: إن وطئ في الدم فعليه دينار، وإن وطئ في انقطاعه فنصف دينار ورأت فرقہ من اھل الحدیث تطویل السجود فی ذلک"۔(تمہید:۳/۱۷۶)
ترجمہ: اہل حدیث کی ایک جماعت نے کہا ہے اگراس نے ایام میں اس سے صحبت کی تواسے ایک دینار صدقہ لازم آئے گا اور بعض اہلِ حدیث نے کہا ہے کہ اس پر دراز سجدہ اس کے ذمہ ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں

"جرت عادت اہل الحدیث بحذف قال ونحوہ فیمابین رجال الاسناد فی الخط وینبغی للقاری ان یلفظ بھا"۔(مقدمہ شرح نووی:۱۹، دہلی)
ترجمہ:اہل حدیث کا طریقہ تحریری رجال اسناد میں قال وغیرہ کے الفاظ کوحذف کرتا رہا ہے؛ لیکن قاری کو چاہیے کہ وہ انہیں بولاکرے۔
"یجوز عند اہل الحدیث التساہل فی الاسانید الضعیفۃ وروایۃ ماسوی الموضوع من الضعیف والعمل بہ"۔(تقریب بشرح التدریب:۱۹۶)
ترجمہ:اہلِ حدیث کے ہاں اسانید ضعیفہ میں بشرطیکہ موضوع کی حد تک نہ ہوں؛ درگزر سے کام لینا اور اس پرعمل کرنا جائز رکھا گیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں

صحیح البخاری کے الفاظ "فاجازوہ" کی شرح میں حافظ ابن حجرعسقلانی (۸۵۲ھ) لکھتے ہیں:
"فمعنى قول البخاري فأجازوه أي قبلوه منه ولم يقصد الاجازه المصطلحة بين أهل الحديث"۔
(فتح الباری:۱/۱۶۴)
ترجمہ:امام بخاریؒ نے "فاجازوہ" کےالفاظ اجازت کے اس معنی میں استعمال نہیں کیئے جو اہل حدیث کی اصطلاح ہے۔
حافظ ابن حجر کے ان الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ ان دنوں اہلحدیث سے کوئی فقہی مکتبِ فکرہرگز مراد نہ تھا؛ بلکہ اس سے اہلِ فن محدثین ہی مراد لیئے جاتے تھے اور ان کی اپنی اپنی اصطلاحات تھیں اور اس سے یقیناً اہلِ علم کا ہی ایک طبقہ مراد ہوتا تھا، حافظ ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ ایک اور مقام پر حدیث "لَنْ تزال ھذہ الامۃ قائمۃ علی امراللہ" کی شرح میں لکھتے ہیں:
"وقد جزم البخاري بأن المراد بهم أهل العلم بالآثار وقال أحمد بن حنبل إن لم يكونوا أهل الحديث فلا أدري من هم"۔
(فتح الباری:۱/۱۶۴)
ترجمہ:امام بخاری نے پورے یقین سے کہا ہے کہ اس سے مراد احادیث کے اہلِ علم ہیں اور امام احمد فرماتے ہیں کہ اگراس سے اہلحدیث مراد نہ ہوں تومیں نہیں جانتا کہ پھرکون لوگ مراد ہوں گے۔
"لَانورث ماترکناہ صدقۃ" مشہور حدیث ہے، حضورﷺ نے فرمایا: انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی، ہم جوچیز چھوڑیں وہ صدقہ میں جائے گی، شیعہ علماء نے اسے اپنے مقصد کے خلاف سمجھتے ہوئے "لَانُورث" کے الفاظ کو"لَایورث" سے بدل دیا، اب معنی یہ ہوگئے کہ ہم مسلمان جوچیز صدقہ میں چھوڑیں اسے وراثت میں نہ لایا جائے، اب یہ مسئلہ وراثت انبیاء سے نکل کر ایک عام ضابطہ میں آگیا کہ صدقہ میں دی گئی چیز پھراپنی ملکیت میں نہیں لی جاتی، حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ یہاں دیکھنا چاہیے محدثین کی اصل روایت کیا ہے اور انہوں نے حدیث کوکن الفاظ میں ضبط کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
"والذي توارد عليه أهل الحديث في القديم والحديث لا نورث بالنون"۔
(فتح الباری کما فی حاشیۃ ابی داؤد:۲/۴۱۴)
یہاں اہلِ حدیث سے مراد فنِ حدیث کے ماہرین ہیں، اس وقت تک اہلحدیث کا لفظ انہی معنوں میں بولا جاتا تھا جوعہد قدیم میں اس لفظ کے معنی تھے، یہ لفظ اہلِ علم کے اس طبقہ کے لیئے استعمال ہوتا تھا جومحدثین تھے، یہ کسی ایک مکتبِ فکر یافرقے کا نام نہ تھا، یہ ماہرین فن سب اس پرمتفق ہیں کہ اصل روایت نون سے ہے یاسے نہیں، اہلِ حدیث الفاظ حدیث کوان کے اصل مراجع ومصادر سے پہچانتے ہیں اور وہ محدثین ہیں؛ سومیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اہلحدیث باصطلاح قدیم سے مراد فن حدیث کے جاننے والے تھے، اہل العلم بالآثار سے یہی مراد ہے، علامہ شامی محقق ابن ہمام (۸۶۱ھ) سے یہ بحث نقل کرتے ہیں کہ خوارج کوکافر کہا جائے یانہ؟ محقق ابنِ ہمام نے لکھا ہے:
"وَذَهَبَ بَعْضُ الْمُحَدِّثِينَ إلَى كُفْرِهِمْ، قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: وَلَاأَعْلَمُ أَحَدًا وَافَقَ أَهْلَ الْحَدِيثِ عَلَى تَكْفِيرِهِمْ"۔
(ردالمحتار:۳/۴۲۸)
ترجمہ: بعض محدثین ان کی تکفیر کے قائل ہیں ابن المنذر نے کہا ہے میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس پرمحدثین کی موافقت کی ہو۔
 
Top