اہل حدیث سے کون مراد ہیں محدثین یا جہلاء حوالے ملاحظہ ہوں کہ اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں، (جہلاء کے اہل حدیث ہونے کے دلائل فریق مخالف پیش کرے گا)
”
افظ محمد بن ابراہیم الوزیر رح (٧٧٥775-840٨٤٠ ہجری)لکھتے ہیں:
"من المعلوم أنّ أهل الحديث اسم لمن عني به, وانقطع في طلبه...... فهؤلاء هم من أهل الحديث من أي مذهب كانوا"۔
(الروض الباسم لابن الوزیر:۱/۱۲۲)
ترجمہ:یہ بات معلوم ہے کہ اہلِ حدیث اس طبقے کا نام ہے جو اس فن کے درپے ہو اس کی طلب میں منہمک رہے...... ایسے سب لوگ اہلِ حدیث ہیں؛ خواہ وہ کسی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔
غیرمقلدین کے مولانا محمد ابراہیم صاحب میر کے نزدیک بھی اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں
مولانا محمدابراہیم صاحب میر بھی لکھتے ہیں:
"بعض جگہ توان کا ذکرلفظِ اہل حدیث سے ہوا ہے اور بعض جگہ اصحاب حدیث سے، بعض جگہ اہل اثر کے نام سے اور بعض جگہ محدثین کے نام سے، مرجع ہرلقب کا یہی ہے"۔
(تاریخ اہلحدیث:۱۲۸)
ابن دمیہ کے نزدیک بھی اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں
حافظ جمال الدین الزیلعی (۷۶۲ھ) ابن دمیہ سے نقل کرتے ہیں:
"وَيَجِبُ عَلَى أَهْلِ الْحَدِيثِ أَنْ يَتَحَفَّظُوا مِنْ قَوْلِ الْحَاكِمِ، فَإِنَّهُ كَثِيرُ الْغَلَطِ ظَاهِرُ السَّقْطِ، وَقَدْ غَفَلَ عَنْ ذَلِكَ كَثِيرٌ مِمَّنْ جَاءَ بَعْدَهُ، وَقَلَّدَهُ فِي ذَلِكَ"۔
ترجمہ: اہل حدیث پرلازم ہے کہ حاکم کے قول سے بچیں وہ بہت غلطیاں کرتے ہیں، ناقابل اعتماد ہیں، بہت سے لوگ جو ان کے بعد آئے اور اس میں اس کی پیروی کرتے رہے اس حقیقت سے ناواقف ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں
أنه لايثبته أهل الحديث ولكن العامة تلقته بالقبول وعملوا به"۔
(فتح المغیث:۱/۲۸۹، شاملہ،الناشر: دار الكتب العلمية،لبنان)
ترجمہ:اہلحدیث تواسے ثابت نہیں مانتے لیکن عامۃ الناس نے اسے قبول کیا اور اس پر عمل کیا۔
امام ترمذی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اہل الحدیث سے مراد محدثین ہیں
"وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْحَدِيثِ فِي هَذَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ"۔
(ترمذی، كِتَاب الصَّلَاةِ،بَاب مَاجَاءَ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ،حدیث نمبر:۲۱۳، شاملہ، موقع الإسلام)
ترجمہ:اہلحدیث کا اس میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں عمروبن مرہ کی روایت زیادہ صحیح اور بعض کہتے ہیں حصین کی روایت زیادہ صحیح ہے۔
"لَيْسَ ہُوَبِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ"۔
(ترمذی:۱/۲۱)
ترجمہ:وہ اہلحدیث کے ہاں قوی نہیں ہے۔
ایک اور راوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ"۔
(ترمذی،كِتَاب الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ،بَاب مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر:۳۶۹۹، شاملہ، موقع الإسلام)
ترجمہ:اس میں بعض اہلحدیث نے حفظ کی رو سے کلام کیا ہے۔
پھرایک اور جگہ لکھتے ہیں:
"وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ"۔
(ترمذی،كِتَاب الصَّلَاةِ،بَاب مَاجَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ،حدیث نمبر:۱۷۳، شاملہ، موقع الإسلام)
ترجمہ:وہ اہلِ حدیث کے ہاں ضعیف ہے۔
امام ترمذی اہلحدیث کوکہیں کہیں اصحاب الحدیث کہہ کربھی ذکر کرتے ہیں، حدیث "لاتزال طائفۃ من امتی ظاہرین علی الحق" کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان سے مراد اصحاب الحدیث ہیں،
خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے نزدک بھی اصحاب الحدیث سے مراد محدثین ہیں
"فانکرعلیہ اصحاب الحدیث ذلک ولم یلتفتوا الی قولہ ولاصوبوہ علی فعلہ"۔
(تاریخ بغداد۵/۴۷۴)
ترجمہ:اصحاب الحدیث نے اس پرانکار کیا ہے اور اس کی بات پرتوجہ نہیں کی اور اسے اس کے عمل میں درست نہیں کہا۔
ابن عبد البر رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اہل الحدیث سے مراد محدثین ہیں
حافظ ابن عبدالبر مالکی (۴۶۳ھ) بھی ایک جگہ لکھتے ہیں:
"وقالت فرقة من أهل الحديث: إن وطئ في الدم فعليه دينار، وإن وطئ في انقطاعه فنصف دينار ورأت فرقہ من اھل الحدیث تطویل السجود فی ذلک"۔(تمہید:۳/۱۷۶)
ترجمہ: اہل حدیث کی ایک جماعت نے کہا ہے اگراس نے ایام میں اس سے صحبت کی تواسے ایک دینار صدقہ لازم آئے گا اور بعض اہلِ حدیث نے کہا ہے کہ اس پر دراز سجدہ اس کے ذمہ ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں
"جرت عادت اہل الحدیث بحذف قال ونحوہ فیمابین رجال الاسناد فی الخط وینبغی للقاری ان یلفظ بھا"۔(مقدمہ شرح نووی:۱۹، دہلی)
ترجمہ:اہل حدیث کا طریقہ تحریری رجال اسناد میں قال وغیرہ کے الفاظ کوحذف کرتا رہا ہے؛ لیکن قاری کو چاہیے کہ وہ انہیں بولاکرے۔
"یجوز عند اہل الحدیث التساہل فی الاسانید الضعیفۃ وروایۃ ماسوی الموضوع من الضعیف والعمل بہ"۔(تقریب بشرح التدریب:۱۹۶)
ترجمہ:اہلِ حدیث کے ہاں اسانید ضعیفہ میں بشرطیکہ موضوع کی حد تک نہ ہوں؛ درگزر سے کام لینا اور اس پرعمل کرنا جائز رکھا گیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اہل حدیث سے مراد محدثین ہیں
صحیح البخاری کے الفاظ "فاجازوہ" کی شرح میں حافظ ابن حجرعسقلانی (۸۵۲ھ) لکھتے ہیں:
"فمعنى قول البخاري فأجازوه أي قبلوه منه ولم يقصد الاجازه المصطلحة بين أهل الحديث"۔
(فتح الباری:۱/۱۶۴)
ترجمہ:امام بخاریؒ نے "فاجازوہ" کےالفاظ اجازت کے اس معنی میں استعمال نہیں کیئے جو اہل حدیث کی اصطلاح ہے۔
حافظ ابن حجر کے ان الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ ان دنوں اہلحدیث سے کوئی فقہی مکتبِ فکرہرگز مراد نہ تھا؛ بلکہ اس سے اہلِ فن محدثین ہی مراد لیئے جاتے تھے اور ان کی اپنی اپنی اصطلاحات تھیں اور اس سے یقیناً اہلِ علم کا ہی ایک طبقہ مراد ہوتا تھا، حافظ ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ ایک اور مقام پر حدیث "لَنْ تزال ھذہ الامۃ قائمۃ علی امراللہ" کی شرح میں لکھتے ہیں:
"وقد جزم البخاري بأن المراد بهم أهل العلم بالآثار وقال أحمد بن حنبل إن لم يكونوا أهل الحديث فلا أدري من هم"۔
(فتح الباری:۱/۱۶۴)
ترجمہ:امام بخاری نے پورے یقین سے کہا ہے کہ اس سے مراد احادیث کے اہلِ علم ہیں اور امام احمد فرماتے ہیں کہ اگراس سے اہلحدیث مراد نہ ہوں تومیں نہیں جانتا کہ پھرکون لوگ مراد ہوں گے۔
"لَانورث ماترکناہ صدقۃ" مشہور حدیث ہے، حضورﷺ نے فرمایا: انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی، ہم جوچیز چھوڑیں وہ صدقہ میں جائے گی، شیعہ علماء نے اسے اپنے مقصد کے خلاف سمجھتے ہوئے "لَانُورث" کے الفاظ کو"لَایورث" سے بدل دیا، اب معنی یہ ہوگئے کہ ہم مسلمان جوچیز صدقہ میں چھوڑیں اسے وراثت میں نہ لایا جائے، اب یہ مسئلہ وراثت انبیاء سے نکل کر ایک عام ضابطہ میں آگیا کہ صدقہ میں دی گئی چیز پھراپنی ملکیت میں نہیں لی جاتی، حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ یہاں دیکھنا چاہیے محدثین کی اصل روایت کیا ہے اور انہوں نے حدیث کوکن الفاظ میں ضبط کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
"والذي توارد عليه أهل الحديث في القديم والحديث لا نورث بالنون"۔
(فتح الباری کما فی حاشیۃ ابی داؤد:۲/۴۱۴)
یہاں اہلِ حدیث سے مراد فنِ حدیث کے ماہرین ہیں، اس وقت تک اہلحدیث کا لفظ انہی معنوں میں بولا جاتا تھا جوعہد قدیم میں اس لفظ کے معنی تھے، یہ لفظ اہلِ علم کے اس طبقہ کے لیئے استعمال ہوتا تھا جومحدثین تھے، یہ کسی ایک مکتبِ فکر یافرقے کا نام نہ تھا، یہ ماہرین فن سب اس پرمتفق ہیں کہ اصل روایت نون سے ہے یاسے نہیں، اہلِ حدیث الفاظ حدیث کوان کے اصل مراجع ومصادر سے پہچانتے ہیں اور وہ محدثین ہیں؛ سومیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اہلحدیث باصطلاح قدیم سے مراد فن حدیث کے جاننے والے تھے، اہل العلم بالآثار سے یہی مراد ہے، علامہ شامی محقق ابن ہمام (۸۶۱ھ) سے یہ بحث نقل کرتے ہیں کہ خوارج کوکافر کہا جائے یانہ؟ محقق ابنِ ہمام نے لکھا ہے:
"وَذَهَبَ بَعْضُ الْمُحَدِّثِينَ إلَى كُفْرِهِمْ، قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: وَلَاأَعْلَمُ أَحَدًا وَافَقَ أَهْلَ الْحَدِيثِ عَلَى تَكْفِيرِهِمْ"۔
(ردالمحتار:۳/۴۲۸)
ترجمہ: بعض محدثین ان کی تکفیر کے قائل ہیں ابن المنذر نے کہا ہے میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس پرمحدثین کی موافقت کی ہو۔