- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
143- بَاب فِي تَعْظِيمِ الْغُلُولِ
۱۴۳-باب: مالِ غنیمت میں چوری بڑا گناہ ہے
2710- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَاهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ [الْجُهَنِيِّ] أَنَّ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ > فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ، فَقَالَ: < إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ >، فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ لا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ۔
* تخريج: ن/الجنائز ۶۶ (۱۹۶۱)، ق/الجھاد ۳۴ (۲۸۴۸)، ط/الجھاد ۱۳ (۲۳)، حم (۴/۱۱۴، ۵/۱۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۶۷) (ضعیف)
(اس کی سند میں ابوعمرہ مولی زید بن خالد مقبول راوی ہیں ، یعنی متابعت کے بعد قوی ہیں، اور متابعت نہ ہونے پر ضعیف اور لین الحدیث حافظ ابن حجرنے ان کو مقبول کہا ہے ، یعنی متابعت کی موجودگی میں )
۲۷۱۰- زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی کا غزوہ خیبر کے دن انتقال ہوگیا، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا :'' اپنے ساتھی کی صلاۃِ جنازہ پڑھ لو''، یہ سن کر لوگوں کے چہرے بدل گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:'' تمہارے ساتھی نے جہاد میں خیانت کی ہے''، پھر جب ہم نے اس کا سامان ڈھونڈا تو یہود کے مونگوں میں سے ہمیں چند مونگے ملے جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہ تھی۔
2711- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدَّيْلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ -مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَامَ خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلا وَرِقًا إِلاالثِّيَابَ وَالْمَتَاعَ وَالأَمْوَالَ، قَالَ: فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ نَحْوَ وَادِي الْقُرَى -وَقَدْ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَبْدٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ- حَتَّى إِذَا كَانُوا بِوَادِي الْقُرَى، فَبَيْنَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِذْ جَائَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < كَلا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا >، فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ>، أَوْ قَالَ: < شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ >۔
* تخريج: خ/المغازي ۳۸ (۴۲۳۴)، والأیمان ۳۳ (۶۷۰۷)، م/الإیمان ۴۸ (۱۱۵)، ن/الأیمان والنذور ۳۷ (۳۸۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۱۶)، وقد أخرجہ: ط/الجھاد ۱۳ (۲۵) (صحیح)
۲۷۱۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کے سال نکلے، تو ہمیں غنیمت میں نہ سونا ہاتھ آیا نہ چاندی، البتہ کپڑے اور مال و اسباب ملے، رسول اللہ ﷺ وادی القری کی جانب چلے اور آپ کو ایک کالا غلام ہدیہ میں دیا گیا تھا جس کا نام مدعم تھا، جب لوگ وادی القری میں پہنچے تو مدعم آپ ﷺ کے اونٹ کا پالان اتار رہا تھا، اتنے میں اس کو ایک تیر آلگا اور وہ مرگیا، لوگوں نے کہا:اس کے لئے جنت کی مبارک بادی ہو، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ''ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ چادر جو اس نے خیبر کی لڑائی میں غنیمت کے مال سے تقسیم سے قبل لی تھی اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے ''، جب لوگوں نے یہ سنا تو ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' یہ آگ کا ایک تسمہ ہے''، یا فرمایا:'' آگ کے دو تسمے ہیں''۔