- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
8- بَاب الْمَعَارِيضِ فِي الْيَمِينِ
۸-باب: قسم کھانے میں توریہ کرنا یعنی اصل بات چھپاکردوسری بات ظاہرکرنا کیسا ہے؟ ۱؎
3255- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، [قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ] (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبَّادِ ابْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < يَمِينُكَ عَلَى مَايُصَدِّقُكَ عَلَيْهَا صَاحِبُكَ >.
قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ أَبو دَاود: هُمَا وَاحِدٌ: عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، وَعَبَّادُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ۔
* تخريج: م/الأیمان ۴ (۱۶۵۳)، ت/الأحکام ۱۹ (۱۳۵۴)، ق/الکفارات ۱۴ (۲۱۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۲۸)، دي/النذور ۱۱ (۲۳۹۴) (صحیح)
۳۲۵۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' تمہاری قسم کا اعتبار اسی چیز پر ہوگا جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے'' ۲؎ ۔
مسدد کی روایت میں : ''أَخْبَرَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ''ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں : عباد بن ابی صالح اور عبداللہ بن ابی صالح دونوں ایک ہی ہیں۔
وضاحت ۱؎ : حالات کے لحاظ سے کہیں ایسا کرنا جائز ہے (جیسے حدیث نمبر: ۳۲۵۶)، اور کہیں جائز نہیں ہے (جیسے حدیث نمبر: ۲۳۵۵)
وضاحت ۲؎ : یعنی مدعی کی مراد پرقسم ما نی جائے گی، قسم کھانا والا اگرکوئی لفظ آہستہ یا پکارکراپنے بچاؤ کی بات کہہ لے تومفیدنہ ہوگا، اور گناہ سے وہ بری الذمہ نہ ہوگا
3256- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِالأَعْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ: خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ، فَتَحَرَّجَ الْقَوْمُ أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ تَحَرَّجُوا أَنْ يَحْلِفُوا وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، قَالَ: < صَدَقْتَ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ >۔
* تخريج: ق/الکفارات ۱۴ (۲۱۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۰۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۷۹) (صحیح)
۳۲۵۶- سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نکلے، رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کا ارادہ کررہے تھے، اورہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہیں ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو اور ساتھیوں نے انہیں جھوٹی قسم کھا کر چھڑا لینے کو برا سمجھا ( لیکن ) میں نے قسم کھالی کہ وہ میرا بھائی ہے تو اس نے انہیں آنے دیا، پھر جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پا س آئے تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اور لوگوں نے تو قسم کھانے میں حرج و قباحت سمجھی، اور میں نے قسم کھالی کہ یہ میرے بھائی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:'' تم نے سچ کہا، ایک مسلما ن دوسرے مسلمان کا بھائی ہے'' ۔