- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
7- بَاب مَا جَاءَ فِي رَبْطِ الأَسْنَانِ بِالذَّهَبِ
۷-باب: سونے سے دا نت بندھوانے کا بیان
4232- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوالأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ، أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ قُطِعَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلابِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ؛ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ ﷺ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ.
* تخريج: ت/اللباس ۳۱ (۱۷۷۰)، ن/الزینۃ ۴۱ (۵۱۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۴۲، ۵/۲۳) (حسن)
۴۲۳۲- عبدالرحمن بن طرفہ کہتے ہیں کہ کے دادا عر فجہ بن اسعد کی ناک جنگ کّلاب ۱؎ کے دن کاٹ لی گئی، تو انہوں نے چاندی کی ایک ناک بنوائی، انہیں اس کی بد بو محسوس ہوئی، تو نبی اکرمﷺ نے انہیں حکم دیا، تو انہوں نے سونے کی ناک بنوالی ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : بصرہ اور کوفہ کے مابین ایک چشمہ کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں یہاں ایک جنگ ہوئی تھی (النہا یۃ لا ِ بن الا ٔ ثیر)
وضاحت ۲؎ : اگرچہ حدیث میں دانت بندھوانے کا ذکر نہیں ہے، مگر مصنف نے دانت کو ناک پر قیاس کیا کہ جب ناک جو ایک عضو ہے سونے کی بنوانی جائز ہے تو سونے سے دانتوں کا بندھوانا بھی جائز ہوگا، اسی لئے '' دانت بندھوانے کا باب'' باندھا۔
4233- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَأَبُو عَاصِمٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوالأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ يَزِيدُ: قُلْتُ لأَبِي الأَشْهَبِ: أَدْرَكَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۹۵) (حسن)
۴۲۳۳- اس سند سے بھی عرفجہ بن اسعد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، یز ید کہتے ہیں: میں نے ابو اشہب سے پوچھا: عبد الرحمن بن طرفہ نے اپنے دا دا عر فجہ کا زمانہ پایا ہے، تو انہوں نے کہا: ہاں (پایا ہے)۔
4234- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَبِي الأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ، عَنْ أَبِيهِ [أَنَّ عَرْفَجَةَ] بِمَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۲۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۹۵) (حسن)
۴۲۳۴- اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔