6- بَاب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ
۶-باب: حسنِ معا شرت کا بیان
4788- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْحَمِيدِ -يَعْنِي الْحِمَّانِيَّ- حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا بَلَغَهُ عَنِ الرَّجُلِ الشَّيْئُ لَمْ يَقُلْ: مَا بَالُ فُلانٍ يَقُولُ؟ وَلَكِنْ يَقُولُ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا؟.
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۴۰) (صحیح)
۴۷۸۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کسی شخص کے با رے میں کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے : ’’فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسا کہتا ہے؟‘‘ ، بلکہ یوں فرماتے : ’’ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسا اور ایسا کہتے ہیں‘‘۔
4789- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلا دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَلَّمَا يُوَاجِهُ رَجُلا فِي وَجْهِهِ بِشَيْئٍ يَكْرَهُهُ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: < لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ ذَا عَنْهُ >.
قَالَ أَبو دَاود: سَلْمٌ لَيْسَ هُوَ عَلَوِيًّا، كَانَ يُبْصِرُ فِي النُّجُومِ، وَشَهِدَ عِنْدَ عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلالِ فَلَمْ يُجِزْ شَهَادَتَهُ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۱۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۷) (ضعیف)
(اس میں سلم العلوی ضعیف ہیں)
۴۷۸۹- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ،اس پر زردی کا نشان تھا، رسول اللہ ﷺ کا حال یہ تھا کہ آپ بہت کم کسی ایسے شخص کے روبرو ہوتے ، جس کے چہرے پر کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند کرتے تو جب وہ نکل گیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’ کاش تم لوگ اس سے کہتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: سلم علوی(یعنی اولاد علی میں سے) نہیں تھا بلکہ وہ ستارے دیکھا کرتا تھا ۱؎اور اس نے عدی بن ارطاۃ کے پاس چاند دیکھنے کی گواہی دی تو انہوں نے اس کی گواہی قبول نہیں کی۔
وضاحت ۱؎ : یعنی علو (بلندی) کی طرف دیکھتا تھا کیونکہ ستارے بلندی ہی میں ہوتے ہیں، اسی وجہ سے علو کی طرف نسبت کرکے اُسے علوی کہا جاتا تھا۔
4790- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَاهُ جَمِيعًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ >۔
* تخريج: ت/البر والصلۃ ۴۱ (۱۹۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۹۴) (حسن)
۴۷۹۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر فسادی اورکمینہ ہوتا ہے‘‘۔
4791- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ ، فَقَالَ: < بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ > أَوْ < بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ > ثُمَّ قَالَ: < ائْذَنُوا لَهُ > فَلَمَّا دَخَلَ أَلانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ وَقَدْ قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ، قَالَ: < إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَاللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ، أَوْ تَرَكَهُ، النَّاسُ لاتِّقَاءِ فُحْشِهِ >۔
* تخريج: خ/الأدب ۳۸ (۶۰۳۲)، ۴۸ (۶۰۵۴)، ۸۲ (۶۱۳۱)، م/البر والصلۃ ۲۲ (۲۵۹۱)، ت/البر والصلۃ ۵۹ (۱۹۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۵۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۸) (صحیح)
۴۷۹۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے ( اند ر آنے کی) اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: ’’ اپنے خاندان کا لڑکا یا خاندان کا آدمی برا شخص ہے‘‘، پھر فرمایا : اسے اجازت دے دو ، جب وہ اندر آگیا تو آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو کی ،اس پر عائشہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس سے نرم گفتگو کی حالاں کہ آپ اس کے متعلق ایسی ایسی باتیں کہہ چکے تھے ، آپ نے فرمایا: ’’ لوگوں میں سب سے برا شخص اللہ کے نز دیک قیامت کے دن وہ ہو گا جس سے لوگوں نے اس کی فحش کلا می سے بچنے کے لئے علیحدگی اختیار کر لی ہو یا اسے چھوڑ دیا ہو۔
4792- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْروٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّ رَجُلا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : <بِئْسَ أَخُوالْعَشِيرَةِ > فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَكَلَّمَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَارَسُولَ اللَّهِ، لَمَّا اسْتَأْذَنَ قُلْتَ: < بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ > فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطْتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: < يَا عَائِشَةُ؛ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۵۵) (حسن صحیح)
۴۷۹۲- ا م المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کے پاس اند ر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: ’’ اپنے کنبے کا برا شخص ہے‘‘ ، جب وہ اند ر آگیا ، تو رسول اللہ ﷺ اس سے کشادہ دلی سے ملے اور اس سے باتیں کیں ، جب وہ نکل کر چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب اس نے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: ’’ اپنے کنبے کا برا شخص ہے ، اور جب وہ اند ر آگیا تو آپ اس سے کشادہ دلی سے ملے‘‘ ، آپ نے فرمایا: ’’عائشہ! اللہ تعالی کو فحش گو اور منہ پھٹ شخص پسند نہیں‘‘۔
4793- حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَتْ: فَقَالَ -تَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ -: < يَا عَائِشَةُ، إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ الَّذِينَ يُكْرَمُونَ اتِّقَاءَ أَلْسِنَتِهِمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۱۱) (ضعیف الإسناد)
۴۷۹۳- اس سند سے بھی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ سے یہی واقعہ مروی ہے، وہ کہتی ہیں:آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اے عائشہ! لوگوں میں سب سے بد ترین لوگ وہ ہیں وہ جن کا احترام و تکریم ان کی زبانوں سے بچنے کے لئے کیا جائے‘‘۔
4794- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، أَخْبَرَنَا مُبَارَكٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَجُلا الْتَقَمَ أُذُنَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَيُنَحِّي رَأْسَهُ، حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يُنَحِّي رَأَسَهُ، وَمَا رَأَيْتُ رَجُلا أَخَذَ بِيَدِهِ فَتَرَكَ يَدَهُ، حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَدَعُ يَدَهُ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۳) (حسن)
۴۷۹۴- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے رسول اللہ ﷺ کے کان پر منہ رکھا ہو (کچھ کہنے کے لئے) تو آپ نے اپنا سر ہٹا لیا ہو یہاں تک کہ خود وہی شخص نہ ہٹا لے ، اور میں نے ایسا بھی کوئی شخص نہیں دیکھا ،جس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو ، تو آپ نے اس سے ہاتھ چھڑالیا ہو ، یہاں تک کہ خود اس شخص نے آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیا ہو۔