• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
96- بَاب مَا جَاءَ فِي الرُّؤْيَا
۹۶-باب: خواب کا بیان​


5017- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ زُفَرَ ابْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ: < هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا > وَيَقُولُ: < إِنَّهُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۰۰، ۱۳۵۰۸)، وقد أخرجہ: ط/ الرؤیا ۱ (۲)، حم (۲/۳۲۵) (صحیح الإسناد)
۵۰۱۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صلاۃِ فجر سے(سلام پھیر کر) پلٹتے تو پوچھتے:''کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے ؟ اور فرماتے: میرے بعد نیک خواب کے سوا نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی میری موت کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہو جائے گا اور مستقبل کی جو باتیں وحی سے معلوم ہوتی تھیں اب صرف سچّے خواب ہی کے ذریعہ جانی جاسکتی ہیں۔


5018- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْئٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْئًا مِنَ النُّبُوَّةِ >۔
* تخريج: خ/ التعبیر ۲ (۶۹۸۷)، م/ الرؤیا ۲ (۲۲۶۴)، ت/ الرؤیا ۱ (۲۲۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۸۵، ۵/۳۱۶، ۳۱۹)، دی/ الرؤیا ۱ (۲۱۸۲) (صحیح)
۵۰۱۸- عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ مومن کا خواب صحیح اور سچ ہوتا ہے اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ آپ کی نبوت کی کامل مدت کل تیئس سال ہے اس میں سے شروع کے چھ مہینے جو مکہ کا ابتدائی دور ہے اس میں آپ کے پاس وحی(بحالت خواب نازل ہوتی تھی اور یہ مدت کل نبوی مدت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے گویا سچّا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔


5019- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَنْ تَكْذِبَ وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، وَالرُّؤْيَا ثَلاثٌ: فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ بِهِ الْمَرْءُ نَفْسَهُ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ > قَالَ: < وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، وَالْقَيْدُ: ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ >.
قَالَ أَبو دَاود: إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ [يَعْنِي] إِذَا اقْتَرَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ [يَعْنِي] يَسْتَوِيَانِ ۔
* تخريج: م/الرؤیا (۲۲۶۳)، ت/الرؤیا ۱ (۲۲۷۰)، دي/الرؤیا ۶ (۲۱۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۴۴۴)، وقد أخرجہ: خ/التعبیر ۲۶ (۷۰۷۱) (صحیح)
۵۰۱۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:'' جب زمانہ قریب ہو جائے گا ، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہوگا، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہوگا ، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہو گا ، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں : بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوش خبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطا ن کی طرف سے تکلیف ورنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی (خواب میں) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہئے کہ اٹھ کر صلاۃ پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے ، فرمایا: میں قید (پیر میں بیڑی پہننے) کو ( خواب میں) پسند کرتا ہوں اور غل( گردن میں طوق ) کو نا پسند کرتا ہوں ۱؎ اور قید ( پیر میں بیڑی ہونے) کا مطلب دین میں ثابت قدم ہونا ہے''۔
ابو داود کہتے ہیں: ''جب زمانہ قریب ہوجائے گا '' کا مطلب یہ ہے کہ جب رات اور دن قریب قریب یعنی برابر ہوجائیں۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ اس میں قرض دار رہنے یا کسی کے مظالم کا شکار بننے اور محکوم علیہ ہونے کی جانب اشارہ ہوتا ہے۔


5020- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءِ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ، مَا لَمْ تُعَبَّرْ، فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ > قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: < وَلا تَقُصَّهَا إِلا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ >۔
* تخريج: ت/الرؤیا ۶ (۲۲۷۸)، ق/الرؤیا ۶ (۳۹۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۷۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۰، ۱۱، ۱۲، ۱۳) دي/الرؤیا ۱۱ (۲۱۹۴) (صحیح)
۵۰۲۰- ابو رزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''خواب پرندے کے پیر پر ہو تا ہے ۱؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کردی جائے، اور جب اس کی تعبیر بیان کردی جاتی ہے تو وہ وا قع ہو جاتا ہے''۔
میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: ''اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے''۔
وضاحت ۱؎ : یعنی تعبیر بیان کئے جانے تک اس خواب کے لئے جائے قرار اور ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔


5021- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ زُهَيْرًا يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ؛ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ لِيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا؛ فَإِنَّهَا لا تَضُرُّهُ >۔
* تخريج: خ/ الطب ۳۹ (۵۷۴۷)، التعبیر ۳ (۶۹۸۴)، ۱۰ (۶۹۹۵)، ۱۴ (۷۰۰۵)، ۴۶ (۷۰۴۴)، م/الرؤیا ح ۱ (۲۶۶۱)، ت/الرؤیا ۵ (۲۲۷۷)، ق/الرؤیا ۳ (۳۹۰۹)، ط/الرؤیا ۱ (۴)، حم (۵/۲۹۶، ۳۰۳، ۳۰۴، ۳۰۵، ۳۰۹)، دي/الرؤیا ۵ (۲۱۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۳۵) (صحیح)
۵۰۲۱- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خیالات شیطان کی طرف سے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( خواب میں) ایسی چیز دیکھے جسے وہ نا پسند کرتا ہے ، تو اپنے بائیں جانب تین بار تھوکے، پھر اس کے شر سے پناہ طلب کرے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا''۔


5022- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ [الثَّقَفِيُّ]، قَالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلاثًا، وَيَتَحَوَّلُ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْه >۔
* تخريج: م/الرؤیا ح ۲ (۲۲۶۲)، ق/تعبیرالرؤیا ۴ (۲۹۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۲۹۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۵۰) (صحیح)
۵۰۲۲- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جب تم میں سے کوئی خواب دیکھے جسے وہ نا پسند کرتا ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھو کے تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے ، اور اپنے اس پہلو کو بدل دے جس پر وہ تھا''۔


5023- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ > أَوْ: < لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ، وَلا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي >۔
* تخريج: خ/العلم ۳۸ (۱۱۰)، الأدب ۱۰۹ (۶۱۹۷)، التعبیر ۱۰ (۶۹۹۳)، م/الرؤیا ۱ (۲۲۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۱۰)، وقد أخرجہ: ق/تعبیر الرؤیا ۲ (۳۹۰۱)، حم (۱ /۲۳۱، ۳۴۲، ۴۱۰، ۴۱۱، ۴۲۵، ۴۶۳) (صحیح)
۵۰۲۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا :جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا، اور شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا ۔


5024- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَةً، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: خ/التعبیر ۴۵ (۷۰۴۲)، ت/اللباس ۱۹ (۱۷۵۱)، الرؤیا ۸ (۲۲۸۳)، ن/الزینۃ من المجتبی ۵۹ (۵۳۶۱)، ق/الرؤیا ۸ (۳۹۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۱۶، ۲۴۱، ۱۴۶، ۳۵۰ ، ۳۵۹، ۳۶۰) (صحیح)
۵۰۲۴- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی تصویر بنائے گا، اس کی وجہ سے اسے (اللہ) قیامت کے دن عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان ڈال دے، اور وہ اس میں جان نہیں ڈال سکتا،اور جو جھوٹا خواب بنا کر بیان کرے گا اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ وہ جو میں گرہ لگا ئے ۱؎ اور جو ایسے لوگوں کی بات سنے گا جو اسے سنانا نہیں چاہتے ہیں ، تو اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا''۔
وضاحت ۱؎ : اور وہ یہ نہیں کرسکے گا کیونکہ جَو میں گرہ لگانا ممکن نہیں۔


5025- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا، وَالْعَاقِبَةَ فِي الآخِرَةِ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ >۔
* تخريج: م/الرؤیا ۴ (۲۲۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۸۶) (صحیح)
۵۰۲۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن را فع کے گھر میں ہوں، اور ہمارے پاس ابن طاب ۱؎ کی رطب تازہ (کھجوریں )لائی گئیں ، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیامیں بلند ی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت ۲؎ بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہوگیا ''۔
وضاحت ۱؎ : ابن طاب ایک قسم کی کھجورہے ، اس سے دین کی عمدگی اور پاکی نکلی رافع کے لفظ سے دنیا میں رفعت اور بلندی ۔
وضاحت ۲؎ : اورعقبہ عاقبت کی بھلائی ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
97- بَاب مَا جَاءَ فِي التَّثَاؤُبِ
۹۷-باب: جمائی لینے کا بیان​


5026- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا تَثَائَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ عَلَى فِيهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ >۔
* تخريج: م/الزہد ۹ (۲۹۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۱۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۱، ۳۷، ۹۳، ۹۶)، دي/الصلاۃ ۱۰۶ (۱۴۲۲) (صحیح)
۵۰۲۶- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ کو بند کر لے ، اس لئے کہ شیطان (منہ میں) داخل ہوجاتا ہے''۔


5027- حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاءِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ، نَحْوَهُ، قَالَ: < فِي الصَّلاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۱۹) (صحیح)
۵۰۲۷- سہیل سے بھی اسی طرح مروی ہے ، اس میں یہ ہے'' (جب جمائی) صلاۃ میں ہوتو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھے''۔


5028- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ [الْمَقْبُرِيِّ] عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا تَثَائَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، وَلا يَقُلْ هَاهْ هَاهْ؛ فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ >۔
* تخريج: خ/بدء الخلق ۱۱ (۳۲۸۹)، الأدب ۱۲۵ (۶۲۲۳)، ۱۲۶ (۶۲۶۲)، ت/الصلاۃ ۶ ۱۵ (۳۷۰)، الأدب ۷ (۲۷۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۳۲۲)، وقد أخرجہ: م/الزہد والرقاق ۹ (۲۹۹۵)، حم (۲ /۲۶۵، ۴۲۸، ۵۱۷) (صحیح)
۵۰۲۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اللہ تعالی چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو نا پسند، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے ، تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے رہے، اور ہاہ ہاہ نہ کہے، اس لئے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ، وہ اس پر ہنستا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
98- بَاب فِي الْعُطَاسِ
۹۸-باب: چھینک کا بیان​


5029- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا عَطَسَ وَضَعَ يَدَهُ، أَوْ ثَوْبَهُ، عَلَى فِيهِ، وَخَفَضَ، أَوْ غَضَّ بِهَا صَوْتَهُ، شَكَّ يَحْيَى۔
* تخريج: ت/الأدب ۶ (۲۷۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۳۹) (حسن صحیح)
۵۰۲۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب چھینک آتی تھی تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور آہستہ آواز سے چھینکتے ۔


5030- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ وَخُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ: رَدُّ السَّلامِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَازَةِ >۔
* تخريج: خ/الجنائز ۲ (۱۲۴۰ تعلیقًا)، م/السلام ۳ (۲۱۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۲۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۲۱، ۳۷۲، ۴۱۲، ۵۴۰) (صحیح)
۵۰۳۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' پانچ چیز یں ہر مسلمان پر اپنے بھائی کے لئے واجب ہیں ، سلام کا جواب دینا ، چھینکنے والے کا جواب دینا، دعوت قبول کر نا ، مریض کی عیادت کر نا اور جنازے کے ساتھ جانا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
99- بَاب مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ
۹۹-باب: چھینکنے والے کا جواب کیسے دے؟​


5031- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ سَالِمٌ: وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ مِمَّا قُلْتُ لَكَ، قَالَ: لَوَدِدْتُ أَنَّكَ لَمْ تَذْكُرْ أُمِّي بِخَيْرٍ وَلا بِشَرٍّ؟ قَالَ: إِنَّمَا قُلْتُ لَكَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، إِنَّا بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : $ وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ # ثُمَّ قَالَ: <إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ > قَالَ: فَذَكَرَ بَعْضَ الْمَحَامِدِ، < وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَرُدَّ -يَعْنِي عَلَيْهِمْ- يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ >۔
* تخريج: ت/الأدب ۳ (۲۷۴۰)، النسائی في الکبری ۱۰۰۵۳، وعمل الیوم واللیلۃ ۸۶ (۲۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۷) (ضعیف)
(سند میں ہلال بن یساف اورسالم بن عبید کے درمیان ایک راوی ساقط ہے ، اور عمل الیوم واللیلۃ (۲۲۹) سے ظاہر ہوتا ہے کہ دور اوی ساقط ہیں اوردونوں مبہم ہیں، مؤلف کی آگے آنے والی روایت (۵۰۳۲) سے ایک راوی ''خالد بن عرفجہ '' کا ساقط ہونا ظاہر ہوتا ہے ،انہی اختلافات کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے )
۵۰۳۱- ہلا ل بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا ''السَّلامُ عَلَيْكُمْ'' ( تم پر سلامتی ہو) تو سالم نے کہا:''عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ'' ( تم پر بھی اور تمہاری ماں پر بھی) پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے : شاید جوبات میں نے تم سے کہی تمہیں ناگوار لگی ، اس نے کہا: میری خواہش تھی کہ آپ میری ماں کا ذکر نہ کرتے ، نہ خیر کے ساتھ نہ شرکے ساتھ ، وہ بولے ، میں نے تم سے اسی طرح کہا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کہا، اسی دوران کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اچانک لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: ''السَّلامُ عَلَيْكُمْ'' ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ'' ، پھر آپ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو ''الْحَمْدُ لِلَّهِ'' کہے اللہ کی تعریف کرے پھر آپ نے حمد کے بعض کلمات کا تذکرہ کیا (جو چھینک آنے والا کہے) اور چاہئے کہ وہ جو اس کے پاس ہو ''يَرْحَمُكَ اللَّهُ'' ( اللہ تم پر رحم کرے) کہے، اور چاہئے کہ وہ (چھینکنے والا) ان کو پھر جواب دے، '' يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ'' (اللہ ہماری اور آپ کی مغفرت فرمائے)۔


5032- حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ -يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ- عَنْ أَبِي بِشْرٍ وَرْقَاءَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْفَجَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ الأَشْجَعِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ ، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۸۶) (ضعیف)
۵۰۳۲- اس سند سے سالم بن عبید اشجعی سے یہی حدیث نبی اکرمﷺ سے مرفوعا مروی ہے ۔


5033- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلْ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَيَقُولُ هُوَ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ >۔
* تخريج: خ/الأدب ۱۲۶ (۶۲۲۴)، ن/الیوم واللیلۃ (۲۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۱۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۵۳) (صحیح)
۵۰۳۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: '' جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو چاہئے کہ وہ کہے : ''الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ '' (ہرحالت میں تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں) اور چاہئے کہ اس کا بھائی یا اس کا ساتھی کہے: ''يَرْحَمُكَ اللَّهُ'' ( اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اب وہ پھر کہے: ''يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ'' ( اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہیں ٹھیک رکھے) (اور تمہاری حالت درست فرمادے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
100- بَاب كَمْ مَرَّةً يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ
۱۰۰-باب: چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟​


5034- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلاثًا، فَمَا زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۵۱) (حسن)
۵۰۳۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:تین بار اپنے بھائی کی چھینک کا جواب دو اور جو اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام ہے۔


5035- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لا أَعْلَمُهُ إِلا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ ، بِمَعْنَاهُ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ مُوسَى بْنِ قَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۵۱) (حسن)
۵۰۳۵-سعید بن ابی سعید ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث کومرفوعاً روایت کرتے ہیں۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ابونعیم نے مو سی بن قیس سے ، موسیٰ نے محمد بن عجلا ن سے ، ابن عجلان نے سعید سے ، سعید نے ابوہریرہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرمﷺ سے روایت کیا ہے۔


5036- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْدَةَ أَوْ عُبَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهَا، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < تُشَمِّتُ الْعَاطِسَ ثَلاثًا، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُشَمِّتَهُ فَشَمِّتْهُ، وَإِنْ شِئْتَ فَكُفَّ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۴۶)، وقد أخرجہ: ت/الأدب ۵ (۲۷۴۴) (ضعیف)
(سند میں راوی یزید بن عبدالرحمن کثیر الخطاء اورحمیدہ یا عبیدہ بنت عبید مجہول راوی ہیں )
۵۰۳۶- عبید بن رفا عہ زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''چھینکنے والے کا جواب تین بار دو اس کے بعد اگر جواب دینا چاہو تو دو، اور نہ دینا چاہو تو نہ دو۔


5037- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلا عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ لَهُ: <يَرْحَمُكَ اللَّهُ> ثُمَّ عَطَسَ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : <الرَّجُلُ مَزْكُومٌ >۔
* تخريج: م/الزہد ۹ (۲۹۹۳)، ت/الأدب ۵ (۲۷۴۳)، ق/الأدب ۲۰ (۳۷۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۱۳)، وقد أخرجہ: دي/الاستئذان ۳۲ (۲۷۰۳) (صحیح)
۵۰۳۷-سلمہ بن الاکو ع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی اکرمﷺ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا: ''يَرْحَمُكَ اللَّهُ'' ( اللہ تم پر رحم فرمائے) اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: ''آدمی کو زکام ہوا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
101- بَاب كَيْفَ يُشَمَّتُ الذِّمِّيُّ
۱۰۱-باب: ذمی کی چھینک کا جواب کیسے دیا جائے؟​


5038- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتِ الْيَهُودُ تَعَاطَسُ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهَا يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ فَكَانَ يَقُولُ: < يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ >۔
* تخريج: ت/الأدب ۳ (۲۷۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۰۰، ۴۱۱) (صحیح)
۵۰۳۸- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کے پاس یہود جان بوجھ کر اس امید میں چھینکا کرتے کہ آپ ان کے لئے ''يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ'' ( تم پر اللہ کی رحمت ہو) کہہ دیں، لیکن آپ فرماتے: اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
102- بَاب فِيمَنْ يَعْطِسُ وَلا يَحْمَدُ اللَّهَ
۱۰۲-باب: چھینکنے والا ''الحمدلله'' نہ کہے تو اس کا جواب دینا کیسا ہے؟​


5039- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ [ح]، و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلانِ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكَ الآخَرَ، قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلانِ عَطَسَا فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا، قَالَ أَحْمَدُ: أَوْ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكْتَ الآخَرَ، فَقَالَ: < إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ >۔
* تخريج: خ/الأدب ۱۲۳(۶۲۲۱)، م/الزہد ۹ (۲۹۹۱)، ت/الأدب ۴ (۲۷۴۲)، ق/الأدب ۲۰ (۳۷۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۰۰، ۱۱۷، ۱۷۶) (صحیح)
۵۰۳۹- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو لوگوں کو نبی اکرمﷺ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے ان میں سے ایک کی چھینک کا جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا ، تو آپ سے پوچھا گیا :اللہ کے رسول! دو لوگوں کو چھینک آئی ، تو آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا؟۔
احمد کی روایت میں اس طرح ہے: کیا آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو جواب دیا ،دوسرے کو نہیں دیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: در اصل اُس نے 'الْحَمْدُ لِلَّهِ' کہاتھا اور اس نے 'الْحَمْدُ لِلَّهِ' نہیں کہاتھا۔



* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

{ أَبْوَاب النَّوْمِ }
نیند سے متعلق احکام ومسائل


103- بَاب فِي الرَّجُلِ يَنْبَطِحُ عَلَى بَطْنِهِ
۱۰۳-باب: آدمی پیٹ کے بل لیٹے تو کیسا ہے؟​


5040- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طَخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ > رَضِي اللَّه عَنْهَا، فَانْطَلَقْنَا، فَقَالَ: < يَا عَائِشَةُ! أَطْعِمِينَا > فَجَائَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ: < يَا عَائِشَةُ! أَطْعِمِينَا > فَجَائَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلِ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ: < يَا عَائِشَةُ! اسْقِينَا > فَجَائَتْ بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَالَ: <يَاعَائِشَةُ! اسْقِينَا > فَجَائَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَالَ: < إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ > قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ السَّحَرِ عَلَى بَطْنِي إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: < إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ > قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: ق/ المساجد ۶ (۷۵۲)، الأدب ۲۷ (۳۷۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۲۹) (ضعیف)
(سند میں سخت اضطراب ہے، طخفۃ بن قیس (ف) سے یا طھفہ (ہ) سے، اس کو قیس بن طخفۃ نیز یعیش بن طخفۃ ابو تغفۃ کہتے ہیں، حتی کہ یہ بھی کہا گیا کہ وہ نہیں بلکہ ان کے والد صحابی تھے، لیکن پیٹ کے بل لیٹنے کی ممانعت ثابت ہے)
۵۰۴۰- یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو(ایک با ر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو''، تو ہم گئے، آپ ﷺ نے فرمایا:'' عائشہ !ہمیں کھانا کھلائو''، وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: '' عائشہ ! ہمیں کھانا کھلائو ''،تو وہ تھوڑا سا حیس ۱؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو(اسے بھی) ہم نے کھایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: '' عائشہ! ہم کو پلائو''، تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ ﷺ نے(ہم لوگوں سے) فرمایا: '' تم لوگ چاہو (ادھر ہی ) سو جائو، اور چاہو تو مسجد چلے جائو''،وہ کہتے ہیں: تو میں ( مسجد میں) صبح کے قریب اوندھا (پیٹ کے بل) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے ہلا کر جگانے لگا، اس نے کہا: اس طرح لیٹنے کو اللہ نا پسند کرتا ہے، میں نے ( آنکھ کھول کر) دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے۔
وضاحت ۱؎ : حیس ایک عربی کھانا ہے جو کھجور، ستو، پنیر اور گھی سے بنتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
104- بَاب فِي النَّوْمِ عَلَى سَطْحٍ غَيْرِ مُحَجَّرٍ
۱۰۴-باب: بغیر چہار دیواری کی چھت پر سوئے تو کیسا ہے؟​


5041- حَدَّثَنَا [مُحَمَّدُ] بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمٌ -يَعْنِي ابْنَ نُوحٍ- عَنْ عُمَرَ بْنِ جَابِرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ وَعْلَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ -يَعْنِي ابْنَ شَيْبَانَ- عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ حِجَارٌ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۲۰) (صحیح)
۵۰۴۱- علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''جو شخص گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پتھر (کی مڈیر ) نہ ہو ( یعنی کوئی چہار دیواری نہ ہو تو اس سے ( حفاظت کا) ذمہ اٹھ گیا''، ( گر ے یا بچے وہ جا نے )۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
105- بَاب فِي النَّوْمِ عَلَى طَهَارَةٍ
۱۰۵-باب: با وضو سونے کی فضیلت کا بیان


5042- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرٍ طَاهِرًا فَيَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ فَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ >.
قَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو ظَبْيَةَ فَحَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ .
قَالَ ثَابِتٌ: قَالَ فُلانٌ: لَقَدْ جَهِدْتُ أَنْ أَقُولَهَا حِينَ أَنْبَعِثُ فَمَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا۔
* تخريج: ق/الدعاء ۱۶(۳۸۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۳۵، ۲۴۴) (صحیح)
۵۰۴۲- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:'' جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہوا با وضو سوتا ہے پھر رات میں ( کسی بھی وقت) چونک کر اٹھتا ہے اور اللہ سے دنیاا ور آخر ت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دیتا ہے''۔
ثابت بنانی کہتے ہیں: ہمارے پاس ابو ظبیہ آئے تو انہوں نے ہم سے معاذ بن جبل کی یہ حدیث بیان کی، جسے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
ثابت بنانی کہتے ہیں: فلاں شخص نے کہا ۱؎ کہ میں نے اپنی نیندسے بیدار ہو تے وقت کئی بار اس کلمہ کے ۲؎ ادا کرنے کی کو شش کی مگر کہہ نہ سکا ۳؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ثابت بنانی نے کسی وجہ سے کہنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا۔
وضاحت ۲؎ : اس سے مراد دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے خیر کاسوال ہے۔
وضاحت ۳؎ : شاید ایسا نسیان یا دنیاوی امور میں مشغولیت کے سبب ہوا ہو۔ واللہ اعلم


5043- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ.
قَالَ أَبو دَاود: يَعْنِي بَالَ۔
* تخريج: خ/الدعوات ۱۰ (۶۳۱۶)، م/الحیض ۵ (۷۶۳)، ن/التطبیق ۶۳ (۱۱۲۲)، ق/الطھارۃ ۷۱ (۵۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۴، ۲۸۳، ۲۸۴، ۳۴۳) (صحیح)
۵۰۴۳- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے ۔ابو داود کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا ۔
 
Top