• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
120-بَاب وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلاةِ
۱۲۰-باب: صلاۃ میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان​


754- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: صَفُّ الْقَدَمَيْنِ، وَوَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْيَدِ مِنَ السُّنَّةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۶۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’زرعہ‘‘ لین الحدیث ہیں)
۷۵۴- زرعہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: دونوں قدموں کو برابر رکھنا، اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے ۔

755- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى، فَرَآهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى۔
* تخريج: ن/الافتتاح ۱۰ (۸۸۹)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۳ (۸۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۴۷) (حسن)

۷۵۵- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ وہ صلاۃ پڑھ رہے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (اس کیفیت میں) دیکھا تو آپ نے ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا ۔

756- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ عَلِيًّا -رَضِي اللَّه عَنْه- قَالَ: [مِنَ] السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۱۰) (ضعیف)

(اس کے راوی ’’عبدالرحمن بن اسحاق واسطی‘‘ متروک ہیں)
۷۵۶- ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ صلاۃ میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے ۔

757- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ -يَعْنِي ابْنَ أَعْيَنَ- عَنْ أَبِي بَدْرٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ عَبْدِالسَّلامِ، عَنِ ابْنِ جَرِيرٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه يُمْسِكُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ عَلَى الرُّسْغِ فَوْقَ السُّرَّةِ.
قَالَ أَبودَاود: وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ « فَوْقَ السُّرَّةِ »، وقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ: « تَحْتَ السُّرَّةِ »، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۳۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’جریر ضبّی‘‘ لین الحدیث ہیں)
۷۵۷- جریر ضَبّی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا پہنچا (گٹا) پکڑے ہوئے ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔
ابو داود کہتے ہیں: سعید بن جبیر سے ’’فوق السرة‘‘ (ناف کے اوپر) مروی ہے اور ابو مجلز نے ’’تحت السرة‘‘ (ناف کے نیچے) کہا ہے اور یہ بات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے لیکن یہ قوی نہیں۔

758- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَخْذُ الأَكُفِّ عَلَى الأَكُفِّ فِي الصَّلاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ.
قَالَ أَبودَاود: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُضَعِّفُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ إِسْحَاقَ الْكُوفِيَّ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۹۴) (ضعیف)
(اس سند میں بھی عبدا لرحمن بن اسحاق ہیں)
۷۵۸- ابو وائل کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صلاۃ میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ناف کے نیچے رکھنا (سنت ہے)۔
ابو داود کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو سنا، وہ عبد الرحمن بن اسحاق کوفی کو ضعیف قرار دے رہے تھے ۔

759- حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ -يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ- عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى؛ عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ، وَهُوَ فِي الصَّلاةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۸۲۹) (صحیح)

(دو صحابہ’’وائل اور ہلب‘‘ رضی اللہ عنہما کی صحیح مرفوع روایات سے تقویت پا کر یہ مرسل حدیث بھی صحیح ہے)
۷۵۹- طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ صلاۃ میں ہوتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
121-بَاب مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلاةُ مِنَ الدُّعَاءِ
۱۲۱-باب: صلاۃ کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے ؟​


760- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ؛ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: < وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا [مُسْلِمًا] وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ [لِي] إِلا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، [إِنَّهُ] لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ [وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ] أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ >، وَإِذَا رَكَعَ قَالَ: <اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي>، وَإِذَا رَفَعَ قَالَ: < سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَ[مِلْئَ] مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ >، وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: <اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ >، وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ قَالَ: < اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۲۶ (۷۷۱)، ت/ الدعوات ۳۲ (۳۴۲۱، ۳۴۲۲)، ن/ الافتتاح ۱۷ (۸۹۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۵، (۸۶۴)،۷۰ (۱۰۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۳، ۹۵، ۱۰۲، ۱۰۳، ۱۱۹)، دي/الصلاۃ ۳۳ (۱۲۷۴)، ویأتي ہذا الحدیث برقم: (۱۵۰۹) (صحیح)

۷۶۰- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے تو ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: ’’وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا [مُسْلِمًا] وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ؛ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ [لِي] إِلا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، [إِنَّهُ] لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ [ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ] أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ‘‘،( میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری صلاۃ، میری قربانی، میرا جینا ا ور مرنا سب اللہ ہی کے لئے ہے ،جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تابع دار ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عادتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بر ی عادتوں کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جا سکتی، میں تیرا ہوں، اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں)، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے: ’’اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي‘‘ (اے اللہ! میں نے تیرے لئے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابع دار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لئے جھک گئے)، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو فر ماتے:’’سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَ[مِلْئَ] مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ‘‘ (اللہ نے اس شخص کی سن لی (قبول کر لیا) جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے لئے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر)۔
اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کہتے : ’’اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ‘‘ (اے اللہ! میں نے تیرے لئے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بر دار و تابعدار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھ پھاڑے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے وہ بہترین تخلیق فرمانے والا ہے)۔
اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو کہتے: ’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ‘‘ (اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما، اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں)۔

761- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ [الأَعْرَجِ]، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَائَتَهُ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْئٍ مِنْ صَلاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ وَدَعَا، نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِالْعَزِيزِ فِي الدُّعَاءِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ الشَّيْئَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: < وَالْخَيْرُ [كُلُّهُ] فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ >، وَزَادَ فِيهِ: وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلاةِ: < اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۷۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۲۸) (حسن صحیح)

۷۶۱- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب فرض صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب اپنی قرأت پوری کر چکتے اور رکوع کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کر تے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور صلاۃ میں بیٹھنے کی حالت میں کسی بھی جگہ رفع یدین نہیں کرتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو تے تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور ’’الله أكبر‘‘ کہتے، اور عبد العزیز کی سابقہ حدیث میں گزری ہوئی دعا کی طرح کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ دعا کرتے، البتہ اس روایت میں: ’’وَالْخَيْرُ [كُلُّهُ] فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ‘‘ کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے: صلاۃ سے فارغ ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے: ’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ‘‘ (اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے سارے گناہوں کی مغفرت فرما، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں)۔

762- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ؛ حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ لِي [مُحَمَّدُ] بْنُ الْمُنْكَدِرِ وَابْنُ أَبِي فَرْوَةَ وَغَيْرُهُمَا مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: فَإِذَا قُلْتَ أَنْتَ ذَاكَ فَقُلْ: < وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ > يَعْنِي قَوْلَهُ: < وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۴۲۳) (صحیح)

۷۶۲- شعیب بن ابی حمزہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن منکدر، ابن ابی فر وہ، اور دیگر فقہائے اہل مدینہ نے کہا: جب تم اس مذکورہ دعا کو پڑھو تو ’’وأنا أول المسلمين‘‘ کی جگہ ’’وأنا من المسلين‘‘ کہا کرو۔

763- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ وَثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى الصَّلاةِ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلاتَهُ قَالَ: < أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا >، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِيَ النَّفَسُ فَقُلْتُهَا، فَقَالَ: < لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا >، وَزَادَ حُمَيْدٌ فِيهِ: < وَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْشِ نَحْوَ مَا كَانَ يَمْشِي فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَهُ، وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ >۔
* تخريج: م/المساجد ۲۷ (۶۰۰)، ن/الافتتاح ۱۹ (۹۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۳، ۱۱۵۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۶۷، ۱۶۸، ۱۸۸، ۲۵۲) (صحیح)

۷۶۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص صلاۃ کے لئے آیا، اس کی سانس پھول رہی تھی، تو اس نے یہ دعا پڑھی:’’اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ‘‘ (اللہ سب سے بڑا ہے، تمام تعریفیں اسی کو سزاوار ہیں، اور ہم خوب خوب اس کی پاکیزہ و بابرکت تعریفیں بیان کرتے ہیں) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے ہیں؟ اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی‘‘، تب اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے (کہا ہے )، جب میں جماعت میں حاضر ہوا تو میرے سانس پھول گئے تھے، اس حالت میں میں نے یہ کلمات کہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے سبھی جلدی کر رہے تھے کہ ان کلما ت کو کون پہلے اٹھا لے جائے‘‘۔
حمید نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ’’جب تم میں سے کوئی آئے تو (اطمینان و سکون سے) اس طرح چل کر آئے جیسے وہ عام چال چلتا ہے پھر جتنی رکعتیں ملیں انہیں پڑھ لے اور جو چھوٹ جائیں انہیں پورا کر لے‘‘۔

764- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ؛ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي صَلاةً، قَالَ عَمْرٌو: لا أَدْرِي أَيَّ صَلاةٍ هِيَ؟ فَقَالَ: <اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً -ثَلاثًا- أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ>، قَالَ: نَفْثُهُ: الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ: الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۲ (۸۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۸۰، ۸۳، ۸۵، ۴/۸۰، ۸۲، ۸۵) (ضعیف)

(اس کے ایک راوی ’’عاصم‘‘ کے نام میں بہت اختلاف ہے، تو گویا وہ مجہول ہوئے، ابن حجر نے ان کو لین الحدیث کہا ہے)
۷۶۴- جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صلاۃ پڑھتے دیکھا (عمرو کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی صلاۃ تھی؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار فر مایا:’’اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً ‘‘ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے لئے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لئے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، اللہ کے لئے بہت زیادہ تعریفیں ہیں اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں)، اور فرمایا: ’’أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ‘‘ (میں شیطان کے کبر و غرور، اس کے اشعار و جادو بیانی اور اس کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں)۔
عمرو بن مرہ کہتے ہیں: اس کا ’’نفث‘‘ شعر ہے، اس کا ’’نفخ ‘‘ کبر ہے اور اس کا ’’ہمز ‘‘ جنون یا موت ہے ۔

765- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مِسْعَرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ فِي التَّطَوُّعِ، ذَكَرَ نَحْوَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۹۹) (ضعیف)

(اس کے ایک راوی ’’رجل‘‘ مبہم ہیں، یہ وہی عاصم ہیں)
۷۶۵- جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل صلاۃ میں کہتے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی ۔

766- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَخْبَرَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَرَازِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْئٍ كَانَ يَفْتَتِحُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قِيَامَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْئٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، كَانَ إِذَا قَامَ كَبَّرَ عَشْرًا، وَحَمِدَ اللَّهَ عَشْرًا، وَسَبَّحَ عَشْرًا، وَهَلَّلَ عَشْرًا، وَاسْتَغْفَرَ عَشْرًا، وَقَالَ: < اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي >، وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
قَالَ ابو داود : وَرَوَاهُ خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۹ (۱۶۱۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۰ (۱۳۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۸۲، ۱۶۱۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۴۳)، ویأتي عند المؤلف برقم: (۵۰۸۵) (حسن صحیح)

۷۶۶- عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل (تہجد) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے تو دس بار ’’الله أكبر‘‘، دس بار ’’الحمدلله‘‘، دس بار ’’سبحان الله‘‘، دس بار ’’لا إله إلا الله‘‘، اور دس با ر’’أستغفر الله‘‘ کہتے اور یہ دعا کرتے: ’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي‘‘ (اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ)، پھر قیامت کے دن (سوال کے لئے) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پنا ہ مانگتے تھے۔
ابو داود کہتے ہیں: اِسے خالد بن معدان نے ربیعہ جر شی سے ربیعہ نے ام المومنین عائشہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

767- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْئٍ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَفْتَتِحُ صَلاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَفْتَتِحُ صَلاتَهُ: < اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ [أَنْتَ] تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ >۔
* تخريج: م/صلاۃ المسافرین ۲۶ (۷۷۰)، ت/الدعوات ۳۱ (۳۴۲۰)، ن/قیام اللیل ۱۱ (۱۶۲۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۰ (۱۳۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۷۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۵۶) (حسن)

۷۶۷- یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے کہا : میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قیام اللیل (تہجد) کے لئے اٹھتے تو اپنی صلاۃ کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل کرتے تو اپنی صلاۃ اس دعا سے شروع کرتے تھے: ’’اللَّهُمَّ رَبّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ [أَنْتَ] تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ‘‘ (اے اللہ! جبریل و میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور ظاہر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا، جن چیزوں میں اختلاف کیا گیا ہے، ان میں اپنی مرضی سے حق کی طرف میری رہنمائی کر، بے شک تو جسے چاہتا ہے اُسے سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے) ۔

768- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، بِإِسْنَادِهِ بِلاإِخْبَارٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: كَانَ إِذَا قَامَ بِاللَّيْلِ كَبَّرَ وَيَقُولُ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۷۹) (حسن)

۷۶۸- اس طریق سے بھی عکرمہ سے اسی سند سے اسی معنی کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے: جب آپ رات میں (صلاۃ کے لئے) کھڑ ے ہوتے تو ’’الله أكبر‘‘ کہتے اور یہ دعا پڑھتے ۔

769- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ قَالَ: لا بَأْسَ بِالدُّعَاءِ فِي الصَّلاةِ فِي أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَفِي آخِرِهِ، فِي الْفَرِيضَةِ وَغَيْرِهَا ۔
* تخريج: ط/کتاب القرآن ۹، عقیب حدیث (۳۹) (صحیح)

۷۶۹- مالک کہتے ہیں: صلاۃ کے شروع، بیچ اور اخیر میں دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں، فرض صلاۃ ہو یا نفل ۔

770- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: كُنَّا [يَوْمًا] نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم [رَأْسَهُ] مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : [اللَّهُمَّ] رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < مَنِ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا آنِفًا؟ >، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۲۶ (۷۹۹)، ن/الافتتاح ۳۶ (۹۳۲)، التطبیق ۲۲ (۱۰۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۰۵)، ط/القرآن ۷ (۲۵)، حم (۴/۳۴۰)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۸۴ (۴۰۴) (صحیح)

۷۷۰- رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صلاۃ پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر ’’سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ‘‘ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی نے ’’[اللَّهُمَّ] رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ‘‘ کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ’’ابھی ابھی یہ کلمات کس شخص نے کہے ہیں؟‘‘، اس آدمی نے کہا: میں نے، اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا جو ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون پہلے ان کلمات کو لکھے ‘‘۔

771- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ: < اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۲۶ (۷۶۹)، ت/الدعوات ۲۹ (۳۴۱۸)، ن/قیام اللیل ۹ (۱۶۲۰)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۰ (۱۳۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۵۱)، ط/القرآن ۸ (۳۴)، حم (۱/۲۹۸، ۳۵۸، ۳۶۶)، دي/الصلاۃ ۱۶۹ (۱۵۲۷)، وقد أخرجہ: خ/التھجد ۱ (۱۱۲۰)، والدعوات ۱۰ (۶۳۱۷)، والتوحید ۸ (۷۳۸۵)، ۲۴ (۷۴۴۲)، ۳۵ (۷۴۹۹) (صحیح)

۷۷۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جب صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: ’’اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ‘‘ (اے اللہ! تیرے لئے حمد و ثنا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، تیرے لئے حمد و ثنا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے، تیرے لئے حمد و ثنا ہے، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، سب کا رب ہے، تو حق ہے، تیرا قول حق ہے، تیر اوعدہ حق ہے، تجھ سے ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے، اے اللہ! میں تیرا فرماں بردار ہوا، تجھ پر ایمان لایا، صرف تجھ پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف توبہ کی، تیرے ہی لئے جھگڑا کیا، اور تیری ہی طرف فیصلہ کے لئے آیا، تو میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے سارے گناہ معاف فرما، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں)۔

772- حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَاوُسٌ؛ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ فِي التَّهَجُّدِ يَقُولُ بَعْدَ مَا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۰۲، ۵۷۴۴) (صحیح)

۷۷۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد میں’’الله أكبر‘‘ کہنے کے بعد دعا فرماتے تھے پھر انہوں نے اسی معنی کی حدیث ذکر کی ۔

773- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، [وَسَعِيدُ] بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ نَحْوَهُ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَعَطَسَ رِفَاعَةُ، لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ: رِفَاعَةُ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم انْصَرَفَ فَقَالَ: <مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاةِ؟> ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَتَمَّ مِنْهُ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۸۰ (۴۰۴)، ن/الافتتاح ۳۶ (۹۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۰، ۳۶۰۶) (حسن)

۷۷۳- رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صلاۃ پڑھی، مجھ کو (رفاعہ) کو چھینک آئی - اور قتیبہ نے اپنی روایت میں ’’رفاعة‘‘ کا لفظ ذکر نہیں کیا- تو میں نے یہ دعا پڑھی: ’’الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى‘‘ ( اللہ کے لئے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، ایسی تعریف جو پاکیزہ، بابرکت اور پائیدار ہو، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے)، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ سے فارغ ہوئے تو مڑے اور پوچھا: ’’صلاۃ میں کون بول رہا تھا؟‘‘، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے ہم مثل اور اس سے زیادہ کامل روایت ذکر کی ۔

774- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَطَسَ شَابٌّ مِنَ الأَنْصَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاةِ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَمَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ؟ >، قَالَ: فَسَكَتَ الشَّابُّ، ثُمَّ قَالَ: < مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا؟ >، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا قُلْتُهَا لَمْ أُرِدْ بِهَا إِلا خَيْرًا، قَالَ: < مَا تَنَاهَتْ دُونَ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى >۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۳۸) (ضعیف)

(اس کے دو راوی ’’شریک‘‘ اور ’’عاصم‘‘ ضعیف ہیں)
۷۷۴- عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حالت صلاۃ میں ایک انصاری نوجوان کو چھینک آگئی، تو اس نے کہا: ’’الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَمَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‘‘ (اللہ کے لئے بہت بہت تعریف ہے، ایسی تعریف جو پاکیزہ اور بابرکت ہو، یہاں تک کہ ہمارا رب خوش و راضی ہو جائے اور دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اس کے خوش ہو جانے کے بعد بھی یہ حمد و ثنا برقرار رہے)، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’یہ کلمات کس نے کہے؟‘‘، عامر بن ربیعہ کہتے ہیں: نوجوان انصاری خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا:ـ ’’یہ کلمات کس نے کہے؟ جس نے بھی کہا ہے اس نے برا نہیں کہا‘‘، تب اس نوجوان نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کلمات میں نے کہے ہیں، میری نیت خیر ہی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ کلمات عرش الٰہی کے نیچے نہیں رکے (بلکہ رحمن کے پاس پہنچ گئے)‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
122- بَاب مَنْ رَأَى الاسْتِفْتَاحَ بـ «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ»
۱۲۲-باب: ’’سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ‘‘ سے صلاۃ شروع کرنے والوں کی دلیل کا بیان​


775- حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ عَلِيِّ [بْنِ عَلِيٍّ] الرِّفَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ يَقُولُ: < سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلاإِلَهَ غَيْرَكَ >، ثُمَّ يَقُولُ: <لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ> ثَلاثًا، ثُمَّ يَقُولُ: <اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا -ثَلاثًا- أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ > ثُمَّ يَقْرَأُ.
قَالَ ابو داود : وَهَذَا الْحَدِيثُ يَقُولُونَ: هُوَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ عَنِ الْحَسَنِ [مُرْسَلا] الْوَهْمُ مِنْ جَعْفَرٍ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۶۵ (۲۴۲)، ن/الافتتاح ۱۸ (۹۰۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱ (۸۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۵۰، ۶۹)، دي/الصلاۃ ۳۳ (۱۲۷۵) (صحیح)
(یہ حدیث اور اگلی حدیث متابعات و شواہد سے تقویت پا کر صحیح ہیں، ورنہ خود ان کی سندوں میں کچھ کلام ہے جسے مؤلف نے بیان کر دیا ہے)
۷۷۵- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو (صلاۃ کے لئے) کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ کہتے پھر یہ دعا پڑھتے : ’’سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلا إِلَهَ غَيْركَ ‘‘ (یعنی اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، ہم تیری حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، تیرا نام بابرکت اور تیری ذات بلند و بالا ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں) پھر تین بار ’’لا إله إلا الله‘‘ کہتے، پھر تین بار ’’الله أكبر كبيرًا‘‘ کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے ’’أعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ‘‘ پھر قرآن کی تلاوت کرتے ۔
ابو داود کہتے ہیں: لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حدیث علی بن علی سے بواسطہ حسن مرسلا مروی ہے اور یہ وہم جعفر کا ہے۔

776- حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلائِيُّ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاةَ قَالَ: < سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلا إِلَهَ غَيْرَكَ >.
قَالَ أَبودَاود: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ عَنْ عَبْدِالسَّلامِ بْنِ حَرْبٍ، لَمْ يَرْوِهِ إِلا طَلْقُ ابْنُ غَنَّامٍ، وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ الصَّلاةِ عَنْ بُدَيْلٍ جَمَاعَةٌ لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ شَيْئًا مِنْ هَذَا۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۶۷ (۲۶۳)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱ (۸۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۴۱) (صحیح)

۷۷۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صلاۃ شروع کرتے تو ’’سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلا إِلَهَ غَيْرَكَ‘‘ پڑھتے تھے۔
ابو داود کہتے ہیں: عبد السلام بن حرب سے مروی یہ حدیث مشہور نہیں ہے کیونکہ اِسے عبد السلام سے طلق بن غنام کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور صلاۃ کا قصہ بدیل سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا (یعنی: افتتاح کے وقت اس دعا کے پڑھنے کی بابت)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
123- بَاب السَّكْتَةِ عِنْدَ الافْتِتَاحِ
۱۲۳-باب: صلاۃ شروع کرنے کے وقت (تکبیر تحریمہ کے بعد) سکتہ کا بیان​


777- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ: حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلاةِ: سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ عِنْدَ الرُّكُوعِ، قَالَ: فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيٍّ، فَصَدَّقَ سَمُرَةَ.
قَالَ ابو داود : كَذَا قَالَ حُمَيْدٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَائَةِ ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۷۴ (۲۵۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۲ (۸۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۰۹)، حم (۵/۱۱، ۲۱، ۲۳) (ضعیف)
(حسن بصری نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے عقیقہ کی حدیث کے سوا اور کوئی حدیث نہیں سنی ہے، نیز وہ مدلس ہیں)
۷۷۷- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے صلاۃ میں دو سکتے یاد ہیں: ایک امام کے تکبیر تحریمہ کہنے سے، قرأت شروع کرنے اور دوسرا جب فاتحہ اور سورت کی قرأت سے فا رغ ہو کر رکوع میں جانے کے قریب ہوا، اس پر عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار کیا، تو لوگوں نے اس سلسلے میں مدینہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو انہوں نے سمرہ کی تصدیق کی۔
ابو داود کہتے ہیں: حمید نے بھی اس حدیث میں اسی طرح کہا ہے کہ دوسرا سکتہ اس وقت کرتے جب آپ قراءت سے فارغ ہوتے۔

778- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ كَانَ يَسْكُتُ سَكْتَتَيْنِ: إِذَا اسْتَفْتَحَ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَائَةِ كُلِّهَا، فَذَكَرَ مَعْنَى [حَدِيثِ] يُونُسَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۷۶)، حم (۵/۱۵، ۲۰، ۲۱، ۲۲) (ضعیف)

(گذشتہ حدیث ملاحظہ فرمائیں)
۷۷۸- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو سکتے کرتے: ایک جب صلاۃ شروع کرتے اور دوسرا جب قرأت سے پورے طور سے فارغ ہو جاتے، پھر راوی نے یونس کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔

779- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ تَذَاكَرَا، فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم سَكْتَتَيْنِ، سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَائَةِ: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} فَحَفِظَ ذَلِكَ سَمُرَةُ، وَأَنْكَرَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَكَتَبَا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ ابْنِ كَعْبٍ فَكَانَ فِي كِتَابِهِ إِلَيْهِمَا أَوْ فِي رَدِّهِ عَلَيْهِمَا أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۷۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۸۹، ۴۶۰۹) (ضعیف)

۷۷۹- حسن سے روایت ہے کہ سمرہ بن جندب اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے آپس میں (سکتہ کا) ذکر کیا تو سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں: ایک سکتہ اس وقت جب آپ تکبیر تحریمہ کہتے اور دوسرا سکتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم {غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّاْلِّيْنْ} ۱؎ کی قرأت سے فارغ ہوتے، ان دونوں سکتوں کو سمرہ نے یاد رکھا، لیکن عمران بن حصین نے اس کا انکار کیا تو دونوں نے اس کے متعلق ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو انہوں نے ان دونوں کے خط کے جواب میں لکھا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے( ٹھیک) یاد رکھا ہے ۔ وضاحت ۱؎: سورة الفاتحة: ( ۷)

780- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، بِهَذَا، قَالَ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، قَالَ فِيهِ: قَالَ سَعِيدٌ: قُلْنَا لِقَتَادَةَ: مَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ؟ قَالَ: إِذَا دَخَلَ فِي صَلاتِهِ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَائَةِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: وَإِذَا قَالَ: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ}۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۷۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۸۹، ۴۶۰۹) (ضعیف)

(گذشتہ حدیث ملاحظہ فرمائیں)
۷۸۰- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، سعید کہتے ہیں: ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ میں داخل ہوتے اور جب آپ قراءت سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم {غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلاالضَّاْلِيْن} کہہ لیتے۔

781- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ، عَنْ عُمَارَةَ -الْمَعْنَى- عَنْ أَبِي زُرْعَةَ؛ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَائَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَائَةِ؟ أَخْبِرْنِي مَا تَقُولُ، قَالَ: < اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۸۹ (۷۴۴)، م/المساجد ۲۷ (۵۹۸)، ن/الافتتاح ۱۵ (۸۹۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱ (۸۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۹۶)، حم (۲/۲۳۱، ۴۴۸، ۴۹۴)، دي/الصلاۃ ۳۶ (۱۲۸۰) (صحیح)

۷۸۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صلاۃ کے لئے تکبیر (تحریمہ) کہتے تو تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان (تھو ڑی دیر) خاموش رہتے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان آپ جو سکتہ کرتے ہیں، مجھے بتائیے آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ ‘‘ (اے اللہ! جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے اسی طرح میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری فرما دے، اے اللہ! تو مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک و صاف کر دے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو برف پانی اور اولوں سے دھو دے) ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
124- بَاب مَنْ لَمْ يَرَ الْجَهْرَ بِـ <بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ>
۱۲۴-باب: ’’بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ‘‘ زور سے نہ پڑھنے کے قائلین کی دلیل کا بیان​


782- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ؛ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَائَةَ بِـ{الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۲)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۸۹ (۷۴۳)، م/الصلاۃ ۱۳ (۳۹۹)، ت/الصلاۃ ۶۸ (۲۴۶)، ن/الافتتاح ۲۰ (۹۰۳)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۴ (۸۱۳)، ط/الصلاۃ ۶ (۳۰)، حم (۳/۱۰۱، ۱۱۱، ۱۱۴، ۱۸۳، ۲۷۳)، دي/الصلاۃ ۳۴ (۱۲۷۶) (صحیح)

۷۸۲- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ او عثمان رضی اللہ عنہ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} سے قرأت شروع کرتے تھے ۔

783- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَفْتَتِحُ الصَّلاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَائَةِ بِـ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشَخِّصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُوْدِ لمَْيَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِىَ قَاعِداً، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ: < التَّحِيَّاتُ > وَكَانَ إِذَا جَلَسَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَعَنْ فَرْشَةِ السَّبُعِ وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلاةَ بِالتَّسْلِيمِ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۴۶ (۴۹۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۴ (۸۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۱، ۱۱۰، ۱۷۱، ۱۹۴، ۲۸۱)، دي/الصلاۃ ۳۱ (۱۲۷۲) (صحیح)

۷۸۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ کو تکبیر تحریمہ(اللہ اکبر) اور {الحمد لله رب العالمين} کی قرأت سے شروع کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے اور نہ اُسے جھکائے رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ بالکل سیدھے بیٹھ جاتے، اور ہر دو رکعت کے بعد ’’التحيات‘‘ پڑھتے، اور جب بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور اپنا داہنا پاؤں کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے ۱؎ سے اور درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے ۲؎ سے منع کرتے اور صلاۃ سلام سے ختم کرتے ۔
وضاحت ۱؎: اس سے مراد شیطان کی مانند دونوں قدموں کا گاڑ کر ایڑیوں پر بیٹھنا ہے تشہد میں یہ بیٹھک حرام ہے جبکہ دونوں سجدوں کے درمیان اس طرح کی بیٹھک مسنون و مشروع ہے ۔
وضاحت ۲؎ : اس سے مراد سجدہ میں دونوں ہاتھوں کو زمین پر بچھانا ہے ۔

784- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ ابْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ > فَقَرَأَ: {بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ} حَتَّى خَتَمَهَا، قَالَ: < هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟ > قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: < فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ >۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۱۴ (۴۰۰)، الفضائل ۹ (۲۳۰۴)، ن/الافتتاح ۲۱ (۹۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۵)، حم (۳/۱۰۲، ۲۸۱)، وقد أخرجہ: ت/تفسیر الکوثر (۳۳۵۹)، ویأتي عند المؤلف في السنۃ برقم: (۴۷۴۷) (حسن)

۷۸۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابھی ابھی مجھ پر ایک سورہ نازل ہوئی ہے‘‘، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: { بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ} یہاں تک کہ آپ نے پوری سورہ ختم فرما دی، پھر پو چھا: ’’ تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ؟‘‘، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کو زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کوثر ایک نہر کا نام ہے، جسے میرے رب نے مجھے جنت میں دینے کا وعدہ کیا ہے ‘‘۔

785- حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَذَكَرَ الإِفْكَ، قَالَتْ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ: < أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ: {إِنَّ الَّذِينَ جَائُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ} > الآيَةَ.
قَالَ ابو داود : وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ لَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْكَلامَ عَلَى هَذَا الشَّرْحِ، وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ الاسْتِعَاذَةِ مِنْ كَلامِ حُمَيْدٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۹۷) (ضعیف شاذ)

(یہ حدیث ’’شاذ‘‘ اس لئے ہے کہ حمید اگرچہ ثقہ ہیں مگر انہوں نے ثقہ جماعت کی مخالفت کی ہے)
۷۸۵- عروہ نے ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے واقعہ افک کا ذکر کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ نے اپنا چہرہ کھولا اور فرمایا: ’’أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ: {إِنَّ الَّذِينَ جَائُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ } ‘‘ ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، اسے ایک جماعت نے زہری سے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے یہ بات اس انداز سے ذکر نہیں کی اور مجھے اندیشہ ہے کہ استعاذہ کا معاملہ خود حمید کا کلام ہو۔
وضاحت ۱؎ : ’’یعنی بے شک جو لوگ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں یہ بھی تم ہی میں سے ایک گروہ ہے‘‘ (سورہ نور : ۱۱)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
125- بَاب مَنْ جَهَرَ بِهَا
۱۲۵-باب: ’’بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ‘‘ زور سے پڑھنے کے قائلین کی دلیل کا بیان​


786- أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: مَا حَمَلَكُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى بَرَائَةَ وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ وَإِلَى الأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي فَجَعَلْتُمُوهُمَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ، وَلَمْ تَكْتُبُوا بَيْنَهُمَا سَطْرَ < بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ >؟ قَالَ عُثْمَانُ: كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم مِمَّا تَنَزَّلُ عَلَيْهِ الآيَاتُ فَيَدْعُو بَعْضَ مَنْ كَانَ يَكْتُبُ لَهُ وَيَقُولُ لَهُ: < ضَعْ هَذِهِ الآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا > وَتَنْزِلُ عَلَيْهِ الآيَةُ وَالآيَتَانِ فَيَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَكَانَتِ الأَنْفَالُ مِنْ أَوَّلِ مَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ بَرَائَةُ مِنْ آخِرِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ وَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهَةً بِقِصَّتِهَا، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا، فَمِنْ هُنَاكَ وَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ < بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ >۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۱۰ (۳۰۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۱۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۵۷، ۶۹) (ضعیف)
(یزید الفارسی لین الحدیث ہیں)
۷۸۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو کس چیز نے اُبھارا کہ آپ سورہ براءت کا جو کہ مئین ۱؎ میں سے ہے، اور سورہ انفال کا جو کہ مثانی ۲؎ میں سے ہے قصد کریں تو انہیں سات لمبی سورتوں میں کر دیں اور ان دونوں (یعنی انفال اور براءت) کے درمیان میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ نہ لکھیں؟ عثمان نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیتیں نازل ہوتی تھیں تو آپ کاتب کو بلاتے اور ان سے فرماتے: ’’اس آیت کو اس سورہ میں رکھو، جس میں ایسا ایسا (قصہ) مذکور ہے‘‘، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ایک دو دو آیتیں اترا کرتیں تو آپ ایسا ہی فرمایا کرتے، اور سورہ انفال ان سورتوں میں ہے جو پہلے پہل مدینہ میں آپ پر اتری ہیں، اور براءت ان سورتوں میں سے ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آخر میں اتری ہیں اور سورہ براءت کا مضمون سورہ انفال کے مضمون سے ملتا جلتا ہے، اس وجہ سے مجھے گمان ہوا کہ شاید براءت (توبہ) انفال میں داخل ہے، اسی لئے میں نے دونوں کو ’’سبع طوال‘‘ ۳؎ میں رکھا اور دونوں کے بیچ میں ’’بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‘‘ نہیں لکھا ۔
وضاحت۱؎: مئین : ان سورتوں کو کہتے ہیں جو سو (۱۰۰) سے زیادہ آیتوں پر مشتمل ہوں ۔
وضاحت۲؎: مثانی : وہ سورتیں ہیں جو مئین سے چھوٹی ہیں۔
وضاحت۳؎: سبع طوال : سے مراد بقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، انعام اور اعراف ہیں اور ساتویں کے بارے میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ وہ انفال اور براءہ (دونوں ایک ساتھ) ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ سورہ یونس ہے۔

787- حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ -يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ- أَخْبَرَنَا عَوْفٌ الأَعْرَابِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ: فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا.
قَالَ أَبودَاود: قَالَ الشَّعْبِيُّ وَأَبُو مَالِكٍ وَقَتَادَةُ وَثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ: إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم لَمْ يَكْتُبْ: {بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} حَتَّى نَزَلَتْ سُورَةُ النَّمْلِ، هَذَا مَعْنَاهُ [وهذا مرسل] ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۱۹) (ضعیف)

۷۸۷- اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے، اس میں ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، اور آپ نے ہم سے بیان نہیں کیا کہ سورہ براءت انفال میں سے ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: شعبی، ابو مالک ، قتادہ اور ثابت بن عمارہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‘‘ نہیں لکھا یہاں تک کہ سورہ نمل نازل ہوئی، یہی اس کا مفہوم ہے ۔

788- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ فِيهِ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم لا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّورَةِ حَتَّى تَنَزَّلَ عَلَيْهِ: { بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۸۴، ۱۸۶۷۸) (صحیح)

۷۸۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورہ کی حد و انتہا کو نہیں جان پاتے تھے، جب تک کہ ’’بِسْم اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‘‘ آپ پر نہ اتر جاتی، یہ ابن سرح کی روایت کے الفاظ ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
126-بَاب تَخْفِيفِ الصَّلاةِ لِلأَمْرِ يَحْدُثُ
۱۲۶-باب: کسی حادثہ کے پیش آ جانے پر صلاۃ ہلکی کردینے کا بیان​


789- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْوَاحِدِ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ؛ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < إِنِّي لأَقُومُ إِلَى الصَّلاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۶۵ (۷۰۷)، ۱۶۳ (۸۶۸)، ن/الإمامۃ ۳۵ (۸۲۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۹ (۹۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۱۰)، وقد أخرجہ: (حم ۵/۳۰۵) (صحیح)

۷۸۹- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں صلاۃ کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ اسے لمبی کروں پھر میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو اسے مختصر کر دیتا ہوں، اس اندیشہ سے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
127-بَاب فِي تَخْفِيفِ الصَّلاةِ
۱۲۷-باب: صلاۃ ہلکی پڑھنے کا بیان​


790- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَسَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا، قَالَ مَرَّةً: ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِهِ، فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَيْلَةً الصَّلاةَ -وَقَالَ مَرَّةً: الْعِشَاءَ- فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم، ثُمَّ جَاءَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى، فَقِيلَ: نَافَقْتَ يَا فُلانُ، فَقَالَ: مَا نَافَقْتُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَارَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، وَإِنَّهُ جَاءَ يَؤُمُّنَا فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: < يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ بِكَذَا، اقْرَأْ بِكَذَا >، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى}، فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو فَقَالَ: أُرَاهُ قَدْ ذَكَرَهُ ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۶۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۳۳) (صحیح)

۷۹۰- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے - ایک روایت میں ہے : پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو صلاۃ پڑھاتے تھے-، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات صلاۃ دیر سے پڑھائی -اور ایک روایت میں ہے : عشاء دیر سے پڑھائی-، چنانچہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورہ بقرہ کی قرأت شروع کر دی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے صلاۃ پڑھ لی، لوگ کہنے لگے: اے فلاں! تم نے منافقت کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! معاذ آپ کے ساتھ صلاۃ پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کر تے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں (اس لئے تھکے ماندے رہتے ہیں) معاذ نے آکر ہماری امامت کی اور سورہ بقرہ کی قرأت شروع کر دی (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے؟ فلاں اور فلاں سورہ پڑھا کرو‘‘۔
ابو زبیر نے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ’’تم {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} پڑھا کرو‘‘، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔

791- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ حَزْمِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ أَتَى مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِقَوْمٍ صَلاةَ الْمَغْرِبِ فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < يَا مُعَاذُ، لا تَكُنْ فَتَّانًا، فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَائَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ، وَذُو الْحَاجَةِ وَالْمُسَافِرُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۹۹) (منکر)
(اس حدیث میں مسافر کا تذکرہ منکر ہے)۔
۷۹۱- حزم بن ابی ّبن کعب سے اس واقعہ کے سلسلہ میں روایت ہے کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ لوگوں کو مغرب پڑھا رہے تھے، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے معاذ! لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے نہ بنو، کیو نکہ تمہارے پیچھے بوڑھے، کمزور، حاجت مند اور مسافر صلاۃ پڑھتے ہیں ‘‘۔

792- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ؛ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم لِرَجُلٍ: <كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلاةِ؟> قَالَ: أَتَشَهَّدُ وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم: < حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، حم ۳/۴۷۴، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۶۵)، وقد أخرجہ: ق/إقامۃ الصلاۃ ۲۶ (۹۱۰) (صحیح)

۷۹۲- ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پو چھا: ’’تم صلاۃ میں کون سی دعا پڑھتے ہو؟‘‘، اس نے کہا : میں تشہد پڑھتا ہوں اور کہتا ہوں:’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ ‘‘ (اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں)، البتہ آپ اور معاذ کیا گنگناتے ۱؎ ہیں اس کا مجھے صحیح ادراک نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہم بھی اسی ۲؎ (جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ) کے اردگرد پھرتے ہیں‘‘۔
وضاحت۱؎ : حدیث میں دندنہ کا لفظ آیا ہے، یعنی انسان کی آواز کی گنگناہٹ سنائی دے لیکن اس کے معنی و مطلب سمجھ میں نہ آئیں۔
وضاحت۲؎: ’’حولها‘‘ میں ’’ها‘‘ کی ضمیر اس آدمی کے قول کی طرف لوٹتی ہے، یعنی ہمارا اور معاذ کا کلام بھی تمہارے ہی کلام جیسا ہے، ان کا ماحصل بھی جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ مانگنا ہے۔

793- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، ذَكَرَ قِصَّةَ مُعَاذٍ قَالَ: وَقَالَ -يَعْنِي النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم - [لِلْفَتَى]: <كَيْفَ تَصْنَعُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ؟ > قَالَ: أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَإِنِّي لا أَدْرِي مَا دَنْدَنَتُكَ وَلا دَنْدَنَةُ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < إِنِّي وَمُعَاذًا حَوْلَ هَاتَيْنِ > أَوْ نَحْوَ هَذَا۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۲) (صحیح)

۷۹۳- جابر رضی اللہ عنہ معاذ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان سے پوچھا: ’’میرے بھتیجے! جب تم صلاۃ پڑھتے ہو تو اس میں کیا پڑھتے ہو؟‘‘، اس نے کہا: میں (صلاۃ میں) سورہ فاتحہ پڑھتا ہوں، اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں، اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن مجھے آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ سمجھ میں نہیں آتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں اور معاذ بھی انہی دونوں کے اردگرد ہوتے ہیں‘‘، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی۔

794- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ؛ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۶۲ (۷۰۳)، ن/الإمامۃ ۳۵ (۸۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۱۵)، وقد أخرجہ: م/الصلاۃ ۳۷ (۴۶۷)، ت/الصلاۃ ۶۳ (۲۳۶)، ط/صلاۃ الجماعۃ ۴ (۱۳)، حم (۲ /۲۵۶، ۲۷۱، ۳۱۷، ۳۹۳، ۴۸۶، ۵۰۲، ۵۳۷) (صحیح)

۷۹۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو صلاۃ پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ جماعت میں کمزور، بیمار اور بوڑھے لوگ ہوتے ہیں، البتہ جب تنہا صلاۃ پڑھے تو اسے جتنی چاہے لمبی کر لے ‘‘۔

795- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۰۴، ۱۵۲۸۸) (صحیح)

۷۹۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو صلاۃ پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ ان میں بیمار، بڑے بوڑھے، اور حاجت مند لوگ (بھی) ہوتے ہیں‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
128-بَاب مَا جَاءَ فِي نُقْصَانِ الصَّلاةِ
۱۲۸-باب: صلاۃ کے ثواب میں کمی ہونے کا بیان​

796- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بَكْرٍ -يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ- عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ الْمُزَنِيِّ؛ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: < إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْصَرِفُ وَمَا كُتِبَ لَهُ إِلا عُشْرُ صَلاتِهِ، تُسْعُهَا، ثُمْنُهَا، سُبْعُهَا، سُدْسُهَا، خُمْسُهَا، رُبْعُهَا، ثُلُثُهَا، نِصْفُهَا >۔
* تخريج: ن/الکبری: کتاب السہو ۱۳۰ (۶۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۲۱) (حسن)

۷۹۶- عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ’’آدمی (صلاۃ پڑھ کر) لوٹتا ہے تو اسے اپنی صلاۃ کے ثواب کا صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور آدھا ہی حصہ ملتا ہے‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جب صلاۃ کے شرائط، ارکان یا خشوع و خضوع میں کسی طرح کی کمی ہوتی ہے تو پوری صلاۃ کا ثواب نہیں لکھا جاتا بلکہ ثواب کم ہو جاتا ہے، بلکہ کبھی وہ صلاۃ الٹ کر پڑھنے والے کے منہ پر مار دی جاتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
129- بَاب مَا جَاءَ فِي الْقِرَائَةِ فِي الظُّهْرِ
۱۲۹-باب: ظہر کی قرأت کا بیان

797- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ مَيْمُونٍ، وَحَبِيبٍ؛ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: فِي كُلِّ صَلاةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۱۱ (۳۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۷۲)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۰۴ (۷۷۲)، ن/الافتتاح ۵۴ (۹۷۰)، حم (۲/ ۲۵۸، ۲۷۳، ۲۸۵، ۳۰۱، ۳۴۳، ۳۴۸، ۴۱۱، ۴۱۶، ۴۳۵، ۴۸۷) (صحیح)

۷۹۷- عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’ہر صلاۃ میں قرأت کی جاتی ہے تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بالجہر سنایا ہم نے بھی تمہیں (جہراً) سنا دیا اور جسے آپ نے چھپایا ہم نے بھی اسے تم سے چھپایا‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی اس میں جہر نہیں کیا اُسے آہستہ سے پڑھا۔

798- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِاللَّهِ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ الْحَجَّاجِ -وَهَذَا لَفْظُهُ- عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ -قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: وَأَبِي سَلَمَةَ، ثُمَّ اتَّفَقَا- عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ.
قَالَ أَبودَاود: لَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ: فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً ۔
* تخريج: خ/الأذان ۹۶ (۷۵۹)، ۹۷ (۷۶۲)، ۱۰۷ (۷۷۶)، ۱۰۹ (۸۸۷)، ۱۱۰ (۷۷۹)، م/الصلاۃ ۳۴ (۴۵۱)، ن/الافتتاح ۵۶(۹۷۵)، ۵۷(۹۷۶)، ۵۸ (۹۷۷)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۸ (۸۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۸۳، ۵/۲۹۵، ۲۹۷، ۳۰۰، ۳۰۱، ۳۰۵، ۳۰۷، ۳۰۸، ۳۱۰، ۳۱۱، ۳۸۳) (صحیح)

۷۹۸- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صلاۃ پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی ہمیں (ایک آدھ) آیت سنا دیتے تھے، اور آپ ظہر کی پہلی رکعت لمبی اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح صبح کی صلاۃ میں کر تے۔
ابو داود کہتے ہیں: مسدد نے ’’فاتحة الكتاب‘‘ اور ’’سورة‘‘ کا ذکر نہیں کیا ہے۔

799- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، بِبَعْضِ هَذَا وَزَادَ فِي الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَزَادَ [عَنْ] هَمَّامٍ: قَالَ: وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مَا لا يُطَوِّلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي صَلاةِ الْعَصْرِ، وَهَكَذَا فِي صَلاةِ الْغَدَاةِ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۰۸) (صحیح)

۷۹۹- اس سند سے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے گزشتہ حدیث کے بعض حصے مروی ہیں، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ پچھلی دونوں رکعتوں میں (صرف) سورہ فاتحہ پڑھتے تھے اور حسن بن علی نے بواسطہ ’’يزيد بن هارون عن همام‘‘ اتنی زیادتی اور کی ہے کہ آپ پہلی رکعت اتنی لمبی کرتے جتنی دوسری نہیں کرتے تھے اور اسی طرح عصر میں اور اسی طرح فجر میں (بھی کر تے تھے) ۔

800- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يُدْرِكَ النَّاسُ الرَّكْعَةَ الأُولَى۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : ۷۹۸، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۰۸) (صحیح)

۸۰۰- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اس لئے کرتے تھے کہ لوگ پہلی رکعت پا جائیں ۔

801- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ: قُلْنَا لِخَبَّابٍ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْنَا : بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ۔
* تخريج: خ/الأذان ۹۱ (۷۴۶)، ۹۶ (۷۶۰)، ۹۷، ۱۰۸ (۷۷۷)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۷ (۸۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۱۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۰۹،۱۱۰، ۱۱۲، ۶/۳۹۵) (صحیح)

۸۰۱- ابو معمر کہتے ہیں کہ ہم نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں قرأت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں (قرأت کر تے تھے)، ہم نے کہا: آپ لوگوں کو یہ بات کیسے معلوم ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی کے ہلنے سے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: امام بیہقی نے اس حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ سری قرأت میں یہ ضروری ہے کہ آدمی خود کو سنا سکے کیونکہ ’’اضطراب لحية‘‘ زبان اور دونوں ہونٹ ہلے بغیر ممکن نہیں اگر آدمی اپنے دونوں ہونٹ بند رکھے اور صرف زبان ہلائے تو داڑھی نہیں ہل سکتی اور قرأت خود کو نہیں سنا سکتا (فتح الباری، حدیث: ۷۶۰)۔

802- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لا يُسْمَعَ وَقْعُ قَدَمٍ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداو، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۶) (ضعیف)

(اس کی سند میں ’’رجل‘‘ مبہم راوی ہیں)
۸۰۲- عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں اتنی دیر تک قیام کرتے تھے کسی قدم کی آہٹ نہیں سنی جاتی ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎: یعنی جماعت میں آنے والے سب آچکے ہوتے کوئی باقی نہیں رہتا۔
 
Top