• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    يہ ميری عمر ميرے ماہ و سال دے اس کو ميرے خدا ميرے دکھ سے نکال دے اس کو وہ جس کا حرف دعا روشنی ھے ميرے ليے ميں بجھ بھی جاؤں تو مولا اُجال دے اس کو
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن قاری نظر آتا ھے حقیقت میں ھے قرآن
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    يوں جو تکتا ھے آسمان کو تو کوئ رھتا ھے آسمان ميں کيا يہ مجھے چين کيوں نہيں پڑتا ايک ھی شخص تھا جہان ميں کيا
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ سلسلہ یہ واسطہ عجیب ھے وہ رہ کے دور بھی مرے قریب ھے
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یوں تو ہر ایک شخص اکیلا ہے بھری دُنیا میں پھر بھی ہر دل کے مُقدّر میں نہیں تنہائی رات بھر جاگتے رہتے ہو بھلا کیوں ناصر تم نے یہ دولت بیدار کہاں سے پائی
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    يہاں کے لوگوں کی يہ خاصيت ھے سب سے بڑی حبيب لگتے ہيں ليکن رقيب ھوتے ہيں
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ پھول مُجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں تم نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا جس دن سے چلا ہوں میری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا__________________
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ آزمائش صبر گُریز پا کب تک قسم تُمہاری بہت غم اُٹھا چُکا ہوں میں غلط تھا دعوٰی صبرو شکیب، آ جاؤ قرار خاطر بیتاب تھک گیا ہوں میں
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے ان سے مت مل کہ انہیں روگ ہیں خوابوں والے زندہ رہنے کی تمنا ہو تو ہو جاتے ہیں فاختاؤں کے بھی کردار عقابوں والے
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یار تھا، گُلزار تھا، باد صبا تھی، میں نہ تھا لائق پابوس جاں، کیا حنا تھی میں نہ تھا میں سسکتا رہ گیا اور مر گئے قیس و فرہاد کیا انہی دونوں کے حصے میں قضا تھی، میں نہ تھا
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یقیں محکم ، عمل پیہم ، محبت فا تح عالم جہادِزندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یاد کے بے نشاں جزیروں سے تیری آواز آ رہی ہے ابھی
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یوں داد سخن مجھ کو دیتے ہیں عرق و پارس یہ کافرِ ہندی ہے بے تیغ و سناں خون ریز
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجیئے ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یاد ماضی ہے کہ نیزے کی انی کیا کہئے ذہن میں ایسی چبھن ایسی چبھن ہوتی ہے
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یوں پہنچے اُس کی زُلف میں عارض سے جان و دل منزل پہ پہنچیں رات کو جوں رہروان صبح
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یاروں نے جا کہ خوب زمانے سے صُلح کی میں ایسا بد دماغ، یہاں بھی بچھڑ گیا
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یھی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انھیں کھلونوں سے تم بھی بھل سکو تو چلو__________________
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ رنگِ خوں ہے گلوں پر نکھار اگر ہے بھی حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے بھی یہ پیش خیمۂ بیدادِ تازہ ہو نہ کہیں بدل رہی ہے ہوا سازگار اگر ہے بھی
Top