• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    نہ آنکھیں ہی برسی نہ تم ہی ملے بہاروں میں ابکے نئے گل کھلے نہ جانے کہاں لے گئے قافلے مسافر بڑی دور جاکر ملے
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جب سے دیکھیں ہیں وہ بھیگی ہوئی اختر ہنستے چہروں پہ بھی رونے کا گماں ہوتا ہے
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو کہ طبیعت میری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    آنکھوں میں جل رہا ہے کیوں بجھتا نہیں دھواں اُٹھتا تو ہے گھٹا سے برستا نہیں دھواں چولہے نہیں جلائے یا بستی ہی جل گئی کچھ روز ہو گئے ہیں اب اُٹھتا نہیں دھواں آنکھوں سے پَوچنے سے لگا آنچ کا پتہ یوں چہرہ پھیر لینے سے چھپتا نہیں دھواں آنکھوں سے آنسوؤں کے مراسم پرانے ہیں مہمان یہ گھر میں آئیں تو...
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہماری آنکھوں سے خواب و خس کے تمام پشتے ہٹائے جائیں ہمارا ناراض پانیوں سے معاہدہ ختم ہو گیا اب اس لئے بھی ہمیں محبّت کو طول دینا پڑے گا تابش کسی نے پوچھا تو کیا کہیں گے کہ سلسلہ ختم ہو گیا
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یار کے غم کو عجب نقش گری آتی ہے پور پور آنکھ کی مانند بھری جاتی ہے بےتعلق نہ ہمیں جان کہ ہم جانتے ہیں کتنا کچھ جان کے یہ بےخبری آتی ہے
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے ایک محبّت اور وہ بھی ناکام محبّت لیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    پسند کرنے کا شکریہ جناب
  9. ساجد تاج

    اسلام و علیکم

    ویسے آصف بھائی دوستی تو میری کئی لوگوں‌سے مثالی ہے ، آپ کیا اُس لسٹ میں‌شامل نہیں؟
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    چھلکی نہیں اک عرصہ سے جلتی ہوئی آنکھیں کچھ دیر ستاؤ، مجھے کچھ دیر رُلاؤ
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    آیا ہی تھا خیال کہ آنکھیں چھلک پڑیں آنسو کسی کی یاد کے کتنے قریب تھے
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ھیں تیری آنکھوں کو پڑھتا ھوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ھیں تیرے کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ھے مگر جب بھی گزرتا ھوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ھیں
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    انہیں کبھی نہ بتانا میں ان کی آنکھیں ھوں وہ لوگ پھول سمجھ کر مجھے مسلتے ھیں کئ ستاروں کو میں جانتا ھوں بچپن سے جہاں بھی جائوں میرے ساتھ ساتھ چلتے ھیں (بشیر بدر)
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جاتی ھے کسی جھیل کی گہرائ کہاں تک آنکھوں میں تیری ڈوب کے دیکھیں گے کسی دن
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ھر موڑ پہ دو آنکھیں مجھ سے یہی کہتی ھیں جس طرح بھی ممکن ھو تم لوٹ کے گھر آنا
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا یہ اچھا ھے کہ آپس کے بھرم نہ ٹوٹنے پایئں کبھی بھی دوستوں کو آزما کر کچھ نہیں ملتا
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ اور بات چشم نہ ہو معنی آشنا عبرت كا ایک درس تھی، تحریر جو بھی تھی امجد ہماری بات وہ سُنتا تو ایک بار آنكھوں سے اُس كو چُومتے، تعزیر جو بھی تھی
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اس ایک خواب کی حسرت میں جل بجھیں آنکھیں وہ ایک خواب کہ اب تک نظر نہیں آیا افتخار عارف
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا آنکھیں تو کہیں تھیں دلِ غم دیدہ کہیں تھا کس رات نظر کی ہے سوۓ چشمکِ انجم آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انہوں کا جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیرِ نگیں تھا میر
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کسی آنکھ کو صدا دو ، کسی زلف کو پکارو بڑی دھوپ پڑ رھی ھے کوئی سائباں نہیں ھے انہی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ھے
Top