• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ دو رخی چھوڑجا یک رنگ ہوجا۔ یا سراسر موم یا سراسر سنگ ہوجا۔
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کوئی ہمدرد نہ پایا زمانے میں دل کو حسرت ہی رہی کوئی اپنا ہوتا۔
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک اس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دو قدم چل کے ہی چھاؤں کی آرزو سر اُٹھانے لگی میرے دل کو بھی شاید ترے حوصلوں کی ادا لگ گئی
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    خوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے موجِ ہوا کے ہاتھ میں اس کا سُراغ ہے
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    تارا ٹوٹا دیکھ کر دل نے کی پکار کوئی مجھے بھی دیکھتا میں ٹوٹا سو بار
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    رات خاموش تھی گنگناتے رہے، اجنبی شہر کے اجنبی راستے اجنبی تھا میں اپنا بناتے رہے، اجنبی شہر کے اجنبی راستے
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہم پہ جو گزری وہ اوروں پہ بھی گزری ہو گی ہائے وہ لوگ جو محسوس کریں کہہ نہ سکیں
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اپنی تو وہ مثال ھے جیسے کوئی درخت دنیا کو چھاؤں بخش کر خود دھوپ میں جلے
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کتابِ ماضی کے اوراق الٹ کے دیکھ ذرا نہ جانے کون سا صفحہ مڑآ ہوا نکلے
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    موجوں سے یہ کہتا ہے سمندر کا سکوت ساحل پہ جو رک جائے وہ طوفان نہیں ہوتا
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے اتنا بے سمت نہ چل، لوٹ کے گھر جانا ہے اُس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹھر جاتی ہے جیسے پانا ہی اسے، اصل میں مر جانا ہے بول اے شامِ سفر، رنگِ رہائی کیا ہے؟ دل کو رکنا ہے کہ تاروں کو ٹھہر جانا ہے کون اُبھرتے ہوئے مہتاب کا رستہ روکے اس کو ہر طور سوئے دشتِ سحر جانا ہے میں...
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اب ہے خوشی خوشی میں نہ غم ہے ملال میں دُنیا سے کھو گیا ہوں تمہارے خیال میں مُجھ کو نہ اپنا ہوش، نہ دُنیا کا ہوش ہے بیٹھا ہوں مست ہو کے تُمہارے خیال میں
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    تمھيں چاہا تھا اس دل نے اور چاہتا ھے يہ آج بھی چھپايا تھا يہ راز پہلے بھی اور چھپا ہوا ھے يہ آج بھی کچھ مجبوريوں کے واسطے تمھيں بے خبر رکھا اور مجبوريوں کی ذنجير سے بندھے ھے آج بھی چاھا تو نہيں تھا کہ تم بن ذندگی گزرے پر تمھارے مسکراتے چہرے نے قدم روکے ميرے آج بھی يہ سچ سہی کہ بنے تھے تم جينے کی...
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    نا ملا دل کا قدر دا ن اس زمانے میں یہ شیشہ ٹوٹ گیا دیکھنے اور دکھانے میں جی میں آ تا ہے اک روز شمع سے پوچھوں مزہ کس میں ہے جلنے میں یا جلانے میں
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اذیتوں کے تمام نشتر میری رگوں میں اُتار کر وہ بڑی محبت سے پوچھتی ہے تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جو دوست ہی نہ رہا، اُس سے اب گِلہ كیا ہے مِرے خُدا یہ محبت كا سِلسلہ كیا ہے چلو تو سیل كی صُورت نظر جُھكا كے چلو بلند و پست جو دیكھے وہ حوصلہ كیا ہے
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    كہنے كو میرا اُس سے كوئی واسطہ نہیں امجد مگر وہ شخص مجھے بُھولتا نہیں ڈرتا ہُوں آنكھ كھولوں تو منظر بدل نہ جائے مَیں جاگ تو رہا ہُوں مگر جاگتا نہیں صاحبِ نظر سے كرتا ہے پتّھر بھی گُفتگو ناجنس كے حضور زباں كھولتا نہیں
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ایك نظر دیكھا تھا اُس نے، آگے یاد نہیں كُھل جاتی ہے دریا كی اوقات سمندر میں
Top