• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    پھر سے نکلیں گے تلاشِ زندگی کے لیے دوست۔ دُعا کرنا اس سال کوئی بیوفا نہ ملے۔
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہجوم اتنا ہو تیری زندگی میں‌خوشیوں‌کا دوست۔ غم گزرنا بھی چاہے تو اُسے راستہ نہ ملے۔
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    زندگی کا راز ہر تنہائی میں پا لیا جسکا بھی غم ملا اپنا بنا لیا غم ہمارا سننے کو کوئی نہ ملا تو رکھا آئینہ سامنے اور خود کو ہی سنا دیا
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    مانا کے زمانے کے لاکھ عیب ہیں‌مجھ میں‌وسی مگر دوستوں کو بھول جانا مجھے آج بھی نہیں‌آیا
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہم یاد تو تم کو آتے ہوں گے جب پنچھی گیت سناتے ہوں گے جب ساون کی رت آتی ہو گی جب پھول خوشبو مہکاتے ہوں گے جب پیلے پتے گرتے ہوں گے جب جدائی کے درد ستاتے ہوں گے جب دوستی کسی سے ہوتی ہو گی جب دوست بچھڑ کر جاتے ہوں گے
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ مت سوچنا کہ غافل ہو گئے ہیں تمھاری یاد سے اے دوست بس تمھیں مصروف سمجھ کر تم سے بات نہیں کرتے
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ مت سوچنا کہ غوفل ہو گئے ہیں تمھاری یاد سے اے دوست بس تمھیں مصروف سمجھ کر تم سے بات نہیں کرتے
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    میری ہر خطا کو معاف کر دینا اے دوست شاید کہ یہ رمضان میری زندی گا آخری رمضان ہو
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یارب میرے دوستوں کو سلامت رکھنا ورنہ میری زندگی کی دعا کون کرے گا
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    میرے ظرف کا یہ قصور تھا کہ میں درد دل نہ چھپا سکا میرے ظرف نے بھی دغا دیا میں تو ظرف بھی نہ بچا سکا میرا نفس ایک آلاؤ تھا میری روح تک کو نگل گیا کہ میں خواہیشوں کے آلاؤ کو نہ جلا سکا نہ بجھا سکا جو دیں اک دوست نے اذیتیں تھیں وہ دشمنوں کی عنایتیں میں تمام عمر ڈرتا رہا کوئی دوست پھر نہ بنا سکا...
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اے دوست ذرا اور قریب رگ جاں ہو کیا جانے کہاں تک شب ہجراں کا دھواں ہو میں ایک زمانے سے تجھے ڈھونڈ رہا ہوں تم ایک زمانے سے خدا جانے کہاں ہو میں اس کو ترے نام سے منسوب کرونگا وہ پھول جسے قربت شبنم بھی گراں ہو شاید یہ میری آنکھ سے گرتا ہوا آنسو احباب کی بھولی ہوئی منزل کا نشاں ہو
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دوستوں سے بچھڑ کر حقیقت کھلی فراز، دنیا بہت حسین ہے مگر دوستوں کے ساتھ۔۔۔۔
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یاروں نے جو كہا ميرے منہ پر نہیں کہا اتنى مروتیں تو کہاں دشمنوں ميں تھیں !
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ديكھا جو تير كھا كے كميں گاہ كى طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی !
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    بے فيضاں دى ياری كولوں فيض كسے نہ پایا كِكَّر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا !
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہمیں بھی دوستوں سے آ پڑے ہیں كام كچھ يعنى ہمارے دوستوں كے بے وفا ہونے كا وقت آيا !
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ہم دوستی میں دھڑکنوں کی طرح ہیں محسن جہاں کھڑے ہوں مدتوں قائم رہتے ہیں
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دن تو کٹ جاتا ہے شہر کی رونق میں‌ کچھ لوگ یاد بہت آتے ہیں‌شام ڈھل جانے کے بعد
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    برسوں بعد بھی اُس کی عادت نہ بدلی ضد کی ساگر کاش میں‌دوست نہیں‌اُس کی عادت ہوتا
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کتابِ تقدیر سے کیا شکوہ اے دلِ ناداں جب ہر شہ نے مٹ جانا ہے تو خواہشیں‌کیسی
Top