میرے ظرف کا یہ قصور تھا
کہ میں درد دل نہ چھپا سکا
میرے ظرف نے بھی دغا دیا
میں تو ظرف بھی نہ بچا سکا
میرا نفس ایک آلاؤ تھا
میری روح تک کو نگل گیا
کہ میں خواہیشوں کے آلاؤ کو
نہ جلا سکا نہ بجھا سکا
جو دیں اک دوست نے اذیتیں
تھیں وہ دشمنوں کی عنایتیں
میں تمام عمر ڈرتا رہا
کوئی دوست پھر نہ بنا سکا...