الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اس فہم کے غلط ہونے کے لیے اتنا کافی نہیں کہ یہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے ، قرآن مجید کے مفسر اول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کے خلاف ہے ؟
اور پھر قرآن مجید سے رد کا مطالبہ تو یوں کیا جارہا ہے ، جیسے انہوں نے سب قرآن سے ثابت کیا ہے ، ذرا ملاحظہ فرمائیں :
اس اقتباس...
یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ مطلوب و محمود چیز ’ اعتدال ‘ ہے ، ’ تساہل ‘ اور ’ تشدد ‘ ایسے رویے ہیں ، جو نوٹ کیے گئے ہیں ۔
لہذا کسی بھی معاملے میں تساہل و تشدد ہر دو چیزوں سے بچنا چاہیے ۔
البتہ جن علماء جرح و تعدیل میں تساہل و تشدد سامنے آیا ہے ، وہ دونوں طرح کا ہے ، بعض توثیق میں تساہل کرتے ہیں...
خلاصۂ بحث
امام ابوزرعہ رازی نے صحیح مسلم پر دو قسم کے اعتراضات کیے:
1 راویوں پر اعتراض۔ 2 احادیث پر اعتراض۔
قسمِ اوّل کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے تین راویوں پر اعتراض کیا کہ انھیں صحیح مسلم میں جگہ کیوں دی گئی، ایک طرف الصحیح کا دعویٰ اور دوسری طری ایسے راوی! ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ اسباط...
روایتِ حدیث کے مختلف اسالیب:
راویان اس حدیث کو مختلف اسالیب سے بیان کرتے ہیں جن کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:
1۔ یقینی مرفوع۔ 2 یقینی موقوف۔ 3 عدمِ اضافہ۔
4۔ مرفوع یا موقوف میں شبہ۔ 5 محتمل بیان کرنا۔
اس اجمال کی تفصیل درج ذیل ہے:
یقینی مرفوع:
بالجزم مرفوع بیان کرنے والے امام مالک ہیں۔ (صحیح بخاري،...
نویں روایت:
امام ابن ابی حاتم نے امام ابوحاتم اور امام ابوزرعہ سے درج ذیل حدیث کی بابت دریافت کیا:
’’محمد بن عباد عن عبدالعزیز الدرواردي عن حمید عن أنس أن النبيﷺ قال: ((إن لم یثمرہا اللّٰہ فبم یستحل أحدکم مال أخیہ!))‘‘
یعنی رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ’’اگر اﷲ تعالیٰ اسے پھل دار نہ کرے تو تم میں سے کوئی...
آٹھویں حدیث:
’’و سئل أبوزرعۃ عن حدیث رواہ ابن فضیل عن الأعمش عن أبي صالح و أبي سفیان عن جابر قال: قال رسول اللّٰہﷺ: ((إذا أکل أحدکم فلا یمسح یدہ بالمندیل حتی یلعقہا أو یلعقہا، فإنہ لا یدري في أي طعام البرکۃ․))قال أبو زرعۃ: الناس یقولون: عن أبي سفیان عن جابر عن النبيﷺ فقط بلا أبي صالح․‘‘ (کتاب...
ساتویں حدیث:
امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:
’’و سئل أبو زرعۃ عن حدیث رواہ الأوزاعي و حسین المعلم عن یحي بن أبي کثیر عن سالم الدوسي، قال: دخلت مع عبدالرحمان بن أبي بکر علی عائشۃ فدعا بوضوء فقالت: یا عبدالرحمان! أسبغ الوضوء، فإني سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول: ((ویل للأعقاب من النار․)) و رواہ عکرمۃ بن...
متابعتًا روایات
چھٹی حدیث:
امام ابن ابی حاتم رقم طراز ہیں:
’’سألت أبازرعۃ عن حدیث النبيﷺ في تختمہ، أفي یمینہ أصح أم في یسارہ؟ فقال: في یمینہ الحدیث أکثر، و لم یصح ہذا و لا ہذا․‘‘ (کتاب العلل، رقم: ۱۴۳۹)
’’میں نے امام ابوزرعہ سے نبی کریمﷺ کی انگوٹھی والی حدیث کے بارے میں سوال کیا کہ دائیں ہاتھ کے...
پانچویں حدیث:
امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:
’’سألت أبي و أبا زرعۃ عن حدیث رواہ أبوعوانۃ عن الأعمش عن إبراہیم عن الأسود عن عائشۃ قالت: ما رأیت النبيﷺ صام العشر من ذي الحجۃ قط․و رواہ أبوالأحوص فقال: عن منصور عن إبراہیم عن عائشۃ؟ فقالا: ہذا خطأ․ و رواہ الثوري عن الأعمش و منصور عن إبراہیم قال: حدثت...
چوتھی حدیث:
امام ابوزرعہ سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں ربیعہ پر اختلاف ہوا۔ بشر بن مفضل نے یوں بیان کیا:
’’عن عمارۃ بن غزیۃ عن ربیعۃ عن عبدالملک بن سعید بن سوید الأنصاري عن أبي حُمید الساعدي أو عن أبي أسید الساعدي عن النبيﷺ أنہ قال: ((إذا دخل أحدکم المسجد...
تیسری حدیث:
امام ابن ابی حاتم رقم طراز ہیں:
’’سألت أبازرعۃ عن حدیث رواہ ابن عیینۃ عن عمر بن سعید بن مسروق عن أبیہ عن عبایۃ بن رفاعۃ بن رافع بن خدیج عن رافع بن خدیج، قال: أعطی النبيﷺ أبا سفیان -یوم حنین- و صفوان بن أمیۃ و عیینۃ بن حصن و الأقرع بن حابس مائۃ من الإبل …… إلخ․فقال أبو زرعۃ: ہذا...
دوسری حدیث:
امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:
’’و سألت أبا زرعۃ عن حدیث رواہ جماعۃ عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي ہریرۃ عن النبيﷺ: ((من نفس عن مؤمن کربۃ ……إلخ․))‘‘ قال أبوزرعۃ: منہم من یقول: الأعمش عن رجل عن أبي ہریرۃ عن النبيﷺ․و الصحیح عن رجل عن أبي ہریرۃ عن النبيﷺ․‘‘ (العلل، رقم: ۱۹۷۹)
یعنی اس حدیث...
حصہ دوم :صحیح مسلم کی احادیث پر نقد
ان راویان کے علاوہ امام ابوزرعہ رازی نے صحیح مسلم کی متعدد روایات پر نقد و تبصرہ کیا ہے۔ ان کی کل تعداد نو ہے۔ جن میں اُصول میں مذکور روایات کی تعداد پانچ، متابعات میں ذکر کردہ روایات تین، جب کہ بہ طور شاہد ایک روایت ہے۔ اس حوالے سے راقم الحروف نے کتاب العلل...
تیسرا راوی أحمد بن عیسی:
ان کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:
1 امام ابن معین نے حلفاً کہا ہے کہ وہ کذاب ہے۔ (سؤالات الآجري أبا داود: ۲۸۳/۲، رقم: ۱۸۵۷(
2 امام ابوزرعہ کی جرح اسی مضمون کی ابتدا میں گزر چکی ہے۔
3 امام ابو حاتم:
’’مجھے بتلایا گیا کہ وہ مصر گیا، وہاں سے ابن وہب...
امام صاحب کا اٹل فیصلہ
(۱) امام صاحب فرماتے ہیں :
" لست اعرف كليب بن ذهل، ولا عبيد بن جبير، ولا أقبل دين من لا اعرفه بعدالة" ( ۳/۲۶۶)
دیکھیں ! امام صاحب کس قدر واضح الفاظ میں فرما رہے ھیں کہ جس کی عدالت کا مجھے علم نہیں، اس سے میں دین نہیں لیتا، یعنی امام صاحب کے نزدیک اس راوی کی حدیث حجت ہی...
دوسرا راوی قطن بن نُسیر:
امام مسلم نے اس کی حدیث دو مقامات پر ذکر کی ہے، ایک جگہ متابعتاً دوسری جگہ مقروناً، جیسا کہ آئندہ آ رہا ہے۔ گویا ایسا راوی صحیح مسلم کی شرط پر نہیں۔ حافظ ابن حبان نے اسے کتاب الثقات (۲۲/۹) میں ذکر کیا ہے۔ امام مسلم نے ان سے براہِ راست روایت لی ہے اور یہ بات ان کے ہاں اس...
حدیثِ اسباط:
امام مسلم فرماتے ہیں:
’’حدثنا عمرو بن حماد بن طلحۃ القناد، حدثنا أسباط-و ہو ابن نصر الہمداني-عن سماک عن جابر بن سمرۃ، قال: صلیت مع رسول اللّٰہﷺ صلاۃ الأولی، ثم خرج إلی أہلہ و خرجت معہ، فاستقبلہ ولدان فجعل یمسح خدي أحدہم واحدا واحدا․ قال: وأما أنا فمسح خدي․ قال: فوجدت لیدہ بردا أو...
پہلا راوی اسباط بن نصر:
اسباط کے بارے میں محدثین کی آراء ملاحظہ فرمائیں:
1: امام ابونعیم فضل بن دکین اسے ضعیف کہتے تھے، نیز فرماتے تھے:
’’اس کی عمومی احادیث عامی، ردّی اور الٹ پلٹ اسانید والی ہیں۔” ’’کوئی حرج نہیں، مگر وہ کم عقل ہے۔‘‘ (الجرح و التعدیل: ۳۳۲/۲․ الأجوبۃ لأبي مسعود الدمشقي، ص: ۳۳۰،...
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابوزرعہ نے صحیح مسلم پر دو قسم کے اعتراضات وارد کیے ہیں:
اولًا: امام مسلم نے بعض متکلم فیہ راویوں کی روایات تو ذکر کی ہیں، جب کہ بعض ثقہ راویوں کی احادیث اصالتاً بیان کرنا تو کجا متابعتاً اور شاہداً بھی بیان نہیں کیں!
ثانیاً: انھوں نے اپنی کتاب کا نام...
حصہ اول :صحیح مسلم کے راویوں پر اعتراض
امام ابوزرعہ رازی نے صحیح مسلم کے جن راویوں پر شدید تنقید کی ہے وہ تین ہیں: اسباط بن نصر، قطن بن نُسیر اور احمد بن عیسیٰ مصری۔ چنانچہ امام ابوزرعہ کے شاگرد ابو عثمان سعید بن عمرو بن عمار (وفات: ۲۹۲ھ) جو برذعی کی نسبت سے معروف ہیں، کا بیان ہے:
’’میں ابوزرعہ...