الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ بقیہ بن ولید سے پوچھا کہ ابو محمد ! تم ان لوگوں کے بارے میں کیا کہتے ہو جو لوگ اپنے نبیﷺ کی حدیث سے بغض رکھیں ؟
انہوں نے کہا : وہ بڑے برے لوگ ہیں۔
فرمایا : دیکھو ! جس کسی بدعتی کے سامنے تم اس کی بدعت کے خلاف حدیث رسول اللہﷺ بیان کرو گے وہ فوراً اس حدیث سے چڑ...
قال الإمام ابن كثير رحمه الله:-
أهل السنة يقولون في كل فعل أو قول لم يثبت عن الصحابة هو بدعة ، لأنه لو كان خيراً لسبقونا إليه.
(تفسير ابن كثير : ٢٧٨/٧)
اہلِ سنت ہر اُس قول و فعل کو بدعت کہتے ہیں جو صحابہؓ سے ثابت نہ ہو کہ اگر یہ خیر ہوتا تو وہ ہم سے پہلے اِسے کرتے!
حافظ ابن کثیرؒ
اگر بندہ نبی کریم ﷺ پر اپنی سانسوں کے برابر بھی درود پڑھے تو آپ کا حق ادا نہ ہو۔
[امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ]
[امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ - جلاء الأفهام : 388]
جب جب میں نے کسی عالم دین سے دلائل کا مناقشہ کیا، میں اس پر غالب آگیا۔
اور جب کبھی کسی جاہل سے بحث کر بیٹھا، مجھے ہار مانتے ہی بنی۔
امام شافعی رحمہ اللہ
اجادلتُ عالماً إلّا وغلبتُه ،
وما جادلتُ جاهلاً إلّا وغلبني .
الإمام محمد بن إدريس الشافعي
وہ لذت جو موت کے بعد بھی باقی رہے گی اور آخرت میں نفع دے گی وہ اللہ کے بارے میں علم اور اسکے مطابق عمل کی لذت ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله :
" واللذة التي تبقى بعد الموت وتنفع في الآخرة : هي لذة العلم بالله ، والعمل له" .
[ مجموع الفتاوى - ١٦٢/١٤ ]
قال ابن تيمية رحمه الله :
تغلظت #الغيبة بحسب حال المؤمن،
فكلما كان أعظم إيمانا كان اغتيابه أشد.
مجموع الفتاوى (٢٨-٢٢٥)
مؤمن کے (درجے) کے حساب سے غیبت کا گناہ سنگین ہوتا ہے،جتنا مؤمن نیک ہوگا اسی حساب سے اسکی غیبت کا گناہ ہوگا
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
ابن قیم فرماتے ہیں:
جب کمر گناہوں کے بوجھ سےبھاری ہوجائےتو دل اللہ کی طرف جانے سے اور اعضاء اسکی اطاعت میں جھکنےسے منع کردیتے ہیں
قال ابن قيم الجوزية :
" وإذا ثقل الظهر بالأوزار منع القلب من السير إلى الله والجوارح من النهوض في طاعته "
بدائع التفسير ٣٣٢/٣
ابن الجوزی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں :
'' گناہوں کی شدید ترین سزا یہ ہے کہ اللہ تعالی تمھارے دل سے ان کے بُرا ہونے کا احساس ختم کر دے ۔''
قال ابن الجوزي رحمه الله : من أشد عقوبات المعاصي أن ينزع الله من قلبك استقباحها
- التبصرة
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
” دل کی خطائیں کم ہوں تو آنسو جلد بہاتا ہے ۔“
قال ابن رجب رحمه الله ''القلب إذا قلت خطاياه أسرعت دمعتہ ''
( مجموع رسائل 1/262 )
امام شافعی رحمه الله نے فرمایا :
جب تم کسی شخص کو پانی پر چلتا یا ہوا میں اڑتا دیکھو تو اُس سے دھوکہ مت کھانا جب تک تُم اسکے اعمال کو کتاب و سنت کے مطاق پرکھ نا لو
تفسیر ابن کثیر ، 1/140
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
علم کے بہت سے دعوے دار تکبّر کا شکار ہو جاتے ہیں، جیسے کئی عبادت گزار شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں- تو علم کی آفت تکبّر ہے اور عبادت کی آفت ریاکاری- پھر ایسے لوگ علم کی حقیقت سے بے بہرہ ہی رہتے ہیں!
(الرد على الشاذلي، 207)
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"علم کو ضائع کرنے میں یہ بھی ہے کہ آپ ہر سوال کرنے والے کو جواب دینے بیٹھ جائیں" ۔
واسنادہ حسن
العلل دمعرفۃ الرجال للاِمام احمد ٥٣٤ دسندہ حسن