الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
قال ابن القيَّم:
الشكرُ شكران
شكرٌ على المطعم والمشرب والملبس وقوت الأبدان
وشكرٌ على #التوحيد والإيمان وقوت القلوب.
مدارج السالكين
"شکر" دو ہیں:
ایک کھانے پینے،لباس اور بدن کی غذا کا
اور دوسرا توحید، ایمان اور غذائے قلب کا!
ابن قیمؒ
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٧٢٨ھ) فرماتے ہیں :
إنما ظهرت البدع والفتن لما خفيت آثار الصحابة.
(جامع المسائل : ١٥٨/٥ ، طبع دار عالم الفوائد للنشر و التوزيع)
"بدعات و فتن تب ظاہر ہوئے جب آثارِ صحابہ اوجھل ہوئے۔"
حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ
نیک لوگ تین چیزوں کی وصیت کیا کرتے تھے:
زبان بند رکھنے کی، کثرتِ استغفار کی اور لوگوں سے کنارہ کش رہنے کی!
مالک بن دینار رحمہ اللہ
قال مالك بن دينار - رحمه الله :
"كان الأبرار يتواصَون بثلاث ؛
بسَجن اللسان
وكثرة الاستغفار والعزلة".
صفة الصفوة / (١٩٦/٣).
جاہل کی طرف سے تکلیف اور اذیت کا پہنچنا ایک لازمی امر ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جاہل سے اعراض اور درگزر سےکام لیا جائے اور اس کی جہالت کا مقابلہ نہ کیا جائے۔ پس جو کوئی آپ کو اپنے قول و فعل سے اذیت دیتا ہے آپ اس کو اذیت نہ دیں۔
(تفسیر السعدی - الأعراف ١٩٩)
امام ابن شوذب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
کچھ لوگ اکٹھے ہو کر آپس میں تذکرہ کررہے تھے کہ سب سے افضل نعمت کون سی ہے؟ایک آدمی کہنے لگا اللہ تعالی نے همارے عیوب پہ ایک دوسرے سے جو پردہ پوشی کی ہے یہ سب سے بڑی نعمت ہے۔
[ حلية الأولياء ۱٣۱/٦ ]
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمه اللہ فرماتے ہیں :
اہل سنت کا اس بات پر ایمان ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد آپ ﷺ کے خلیفہ ابوبکر ہیں۔ پھر عمر ہیں۔ پھر عثمان۔ پھر علی رضی اللہ عنہم ہیں۔
جو شخص ان چاروں خلفائے راشدین میں سے کسی کی خلافت میں بھی طعن و تشنیع کرے وہ اپنے گھریلو گدھے سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔...
سیدنا ابو بکر صدیق رضى الله عنه فرماتے ہیں :
"اور جب کسی قوم میں بدکاری عام ہو جائے تو اللہ پوری قوم کو مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔"
(الزهد لأبي داود : 41 ، إسناده صحيح)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جب بندہ یہ دیکھے کہ اس سے رشتہ داروں ، بیویوں ، اولاد ہمسائے اور بھائیوں کے حقوق ادا کرنے میں کمی ہو گئی ہے تو اسے چاہیے کہ ان کے لیے دعا اور استغفار کرے ۔
(الفتاوى #٦٩٧/١١)
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" گناہ سرزد ہوتے ہی توبہ کی طرف جلدی کرنا فرض ہے، اور اس میں تاخیر جائز نہیں، پس جب گناہ گار توبہ میں تاخیر کرے گا تو اُسے تاخیر کا بھی گناہ ملے گا۔"
|[ مدارج السالکین : ١/ ٢٠٥ ]
"اِدھر کی باتیں اُدھر لگانے والے، محبت کرنے والوں میں جدائی ڈالنے والے اور نیک لوگوں کے عیوب پر گھات لگا کر بیٹھ جانے والے اللہ کے غصے کے سب سے زیادہ مستحق، اور نبیﷺ سے سب سے زیادہ دوری اختیار کرنے والے ہیں۔"
(الكافي في فقه أهل المدينة لابن عبد البر : 1144/2)
خبردار ان لوگوں میں سے مت ہونا جن کو خبط ہوتا ہے کہ ہمارے فتووں پر عمل کیا جائے، ہماری آراء کو پھیلایا جائے، اور ہماری باتوں کو سنا جائے۔
(امام سفیان ثوری رحمہ الله)
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : ٨٧/١، رجاله ثقات)
متقی ہونے کیلیے ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ ان سے کبھی کوئی گناہ ہی سرزد نہ ہو،یا وہ خطا ومعصیت سے معصوم پیدا کیےگئے ہوں،اگر ایسی کوئی شرط ہوتی تو پوری امت میں کوئی بھی متقی نہ ہوتا۔متقی تو وہ ہے جو اپنے گناہوں سے توبہ کرلیتا ہے اور جو گناہوں کو مٹا دینے والی نیکیاں کرتارہتا ہے۔
"شیخ الاسلام ابن...
عِفّت کی حفاظت اور فقہی فائدہ ...
اگر کسی خاتون نے وضو کرنا ہو مگر اس کے اور پانی کے درمیان فاسق لوگ حائل ہوں تو وہ تیمم کر لے، کہ عِفّت کی حفاظت اولی ہے۔
(المغني لابن قدامة : 176/1)
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
" دنیا عمل کا گهر اور آخرت جزا کا گهر هے، جو یہاں عمل نہیں کرے گا وه وہاں نادم هو گا۔"
[ الزهد للبيهقي 282 ]
حافظ ابن القيم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"بلاشبہ اللہ تعالٰی نے آنکھ کو دل کا آئینہ بنایا ہے لہذا جب انسان اپنی نظر کو جھکا لیتا ہے تو دل اپنی شہوت و ارادے کو جھکا دیتا ہے اور جب انسان اپنی نظر کو کھلا چھوڑ دیتا ہے تو دل بھی اپنی شہوت کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے۔"
( روضة المحبين و نزهة المشتاقين : ٩٢ ،...
قال شيخ الإسلام ابن تيمية: ليس تحت أديم السماء كتاب أصح من البخاري ومسلم
بعد القرآن (مجموع الفتاوى 18/74)
آسمان کے نیچے قرآن مجید کے بعد بخاری ومسلم سے بڑھ کر صحیح ترین کتاب اور کوئی نہیں!
ابن تیمیہ رحمہ اللہ
قال ابن تيمية : ( الشهوة والغضب خُلِقا لمصلحة ومنفعة ، لكنّ المذموم هو العدوان فيهما )
مجموع الفتاوى ١٣/ ٨٣
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
شہوت اور غصے (جیسی صفات) کو مصلحت اور فائدے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، لیکن جو قابل مذمت بات ہے وہ ان صفات میں حد سے بڑھنا ہے