الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وہ انگریزی کے بغیر ترقی اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ ’’ چینی ‘‘ ہیں ، ہم اس لیے نہیں کرسکتے کیونکہ ہم ’’ چینی ‘‘ نہیں ہیں ۔ انگریزی نہیں سیکھیں گے تو کیا ’’ چینی ‘‘ سیکھ کر ترقی کریں ؟
ہاں ’’ اردو ‘‘ میں ترقی کی بات نہ کریں ، کیونکہ اردو جیسی نرم و نازک زبان ، غزل وزل کے ناز نخرے اٹھا لے تو اتنا ہی...
بعض کتابوں میں یہ روایت عروہ بن زبیر کی سند سے مرسل منقول ہے ، لیکن صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتابوں میں عبد اللہ بن عمر سے متصل ثابت ہے ۔
صحیح البخاری ، رقم الحديث: 3474 ، صحیح مسلم رقم الحديث: 4460
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ...
ایک غیر درست اعتراض کرکے آپ بات کو مزید غلط سمت لے کر جارہے ہیں ۔ حالانکہ اگر افواج پاکستان تلواروں سے جہاد نہیں کرسکتیں تو پھر جو آپ کے نزدیک ’’ دین کے مجاہد ‘‘ ہیں ، ان کی کونسی اپنی اسلحہ ساز فیکڑیاں ہیں ۔
سیدھی سی بات ہے ، مسلمان حکمران تو ان کے نزدیک طاغوت ہیں ، ویسے بھی بقول آپ کے مسلمان...
جی ابھی تک تو نہیں ۔
مولانا جونا گڑھی کی کل چار تصنیفات لائبریری میں موجود ہیں ، تین اوپر گزر چکیں ، چوتھی ’’ خطبات محمدی ‘‘ ہے ۔
اس کےعلاوہ ترجمہ تفسیر ابن کثیر اور ترجمہ اعلام الموقعین بھی ہے ۔
متحد ہو کر کام کرنے والوں کے مقاصد مختلف ہوسکتے ہیں ، جیساکہ مشہور ہے کہ پاکستان میں بعض تخریبی کاروائیاں کرنے والے بعض مسلمانوں کا ہدف طاغوت کا خاتمہ ہوتا ہے ، جبکہ ان کو آلات تخریب کاری مہیا کرنے والے ’’ را ‘‘ یا ’’ موساد ‘‘ کے کافر ہوتے ہیں ۔
سمہودی کے مطابق
دیوار خماسی اور حجرہ کی چار دیواری کے درمیان والا حصہ سطح مسجد سے سوا ایک ہاتھ(ذراع و ثلث) نیچے ہے ۔
پھر اس کے بعد حجرہ مبارکہ کا اندرونی حصہ اس جگہ سے مزید ڈیڑھ ہاتھ (ذراع و نصف) نیچے ہے ۔
یوں حجرہ مبارکہ کا اندرونی حصہ سطح مسجد سے تقریبا تین ہاتھ نیچے ہے ۔
( الوفاء باخبار دار...
شیخ فضیل کرکے فورم کے کسی رکن نے رپورٹ والا آپشن استعمال کرتے ہوئے ، وہاں یہ بات کہیں تھی ، رپورٹ چونکہ صرف انتظامیہ کے افراد ہی دیکھ سکتے ہیں ، اس لیے ان کا پیغام یہاں اوپن فورم میں منتقل کردیا گیا ۔
نام انگریزی میں ہونے کی وجہ سے @ بھی نہیں ہورہے ۔ )
اصل میں اس کتاب کا قصہ ہی کچھ ایسا ہے ، سنتے ہی مطالعہ کا اشتیاق پیدا ہو جاتا ہے ۔
ویسے تو یہ پاکستان میں روپڑی صاحب کے کئی شاگردوں کے پاس ہوگی ، یقینا محدث کی 99 جے لاہور میں موجود لائبریری میں بھی ہو گی ۔
البتہ خرید و فروخت والے مکتبوں میں کہیں نہیں ہے ۔
میرے پاس موسسۃ الرسالۃ والا نسخہ ہے جس میں آخری حدیث کا نمبر 7563 (سات ہزار پانچ سو تریسٹھ ) ہے ۔ اور یہ تعداد حافظ ابن حجر اور زکریا انصاری کے عدد و شمار کے قریب ترین ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اعداد و شمار میں اس طرح کا فرق کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ، کیونکہ بعض دفعہ ایک احادیث دو شمار ہوجاتی ہیں ،...
اس اعتراض کا تفصیلی جواب ، محترم طالب نور بھائی کے مراسلے میں گزر چکا ہے ، اسی موضوع میں پوسٹ نمبر 4 ملاحظہ فرمائیں ۔
مالک الدار والے معاملے کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے ، اگر معاملہ صرف انہیں کا ہو ، مسئلہ یہ ہے کہ سند اور بھی وجوہ ضعف ہیں ۔
پھر اس روایت سے جو لوگ استدلال کرتے ہیں ، یہ اس طبقے...
علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی ’’ فصل الخطاب ‘‘ کے رد میں حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ نے ’’ الکتاب المستطاب ‘‘ تصنیف فرمائی تھی ، جس کا علمی حلقوں میں بہت چرچا ہے ، لیکن صرف نام کی حد تک ، بہت پرانی کہیں طبع ہوئی ، اس کے بعد اب نہ تو مکتبوں میں دستیاب ہے اور نہ ہی نیٹ پر اس کی کوئی...
دور قدیم میں ’’ سائنس ‘‘ نام کا کوئی فن موجود نہیں تھا ، لہذا اگر یہ طے کرلیا جائے کہ ’’ سائنس ‘‘ سے مراد کیا ہے تو پھر جواب دینا آسان ہوگا کہ علماء ایسے علوم و فنون حاصل کرتے تھے یا نہیں ۔
اس حديث كا جو ترجمہ کیا گیا ہے ، اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ’’ نظر لگنا ‘‘ بھی ’’ قضاء و قدر ‘‘ کی طرح کوئی سبب ہے ۔
میری نظر میں یہ درست نہیں ، کیونکہ ’’ نظر لگنے ‘‘ کو ’’ قضاء قدر ‘‘ کے ساتھ اس انداز نہیں جوڑا جا سکتا ، کیونکہ دنیا میں جتنے بھی ظاہری اسباب ہیں جن کی وجہ سے موت واقع ہوتی ہے ،...
اس وضاحت سے بعض حاجیوں کے اس دعوی کی بھی تردید ہوجاتی ہے ، جو کہتے ہیں کہ :
’’ ہم نے جالی کے بیچ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو دیکھا ہے ۔‘‘
ایک اور دلچسپ بات :
جتنی تصاویر کے بارے میں مشہور کیا ہوا ہے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک ہے ، وہ سب اکیلی اکیلی...
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ !
بخاری میں 8 ہزار کے قریب احادیث ہیں ، جبکہ جن پر کلام کیا گیا ہے ان کی تعداد چند سو ہے ، لہذا ’’ اکثر ‘‘ کہنا درست نہیں ہے ، حافظ ابن حجر نے ہدی الساری (مقدمۃ فتح الباری) میں تمام روایات پر مخالفین کا ’’ اجمالی ‘‘ جواب ذکر کرنے کے بعد پھر تفصیل سے ’’ رد ‘‘...