الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ماشاءاللہ ، محترم محمد عامر یونس صاحب ، دینی و دنیاوی اعتبار سے ہمیشہ خوش رہیں ۔
آپ کا ’’ انٹرویو ‘‘ تو آپ کی اتنی ساری علمی ، معلوماتی ، دینی اور اصلاحی باتوں میں کہیں گم ہوکے رہ گیا ہے ۔ ابتسامہ
گویا یہ بھی آپ کا ایک طرح کا تعارف ہے کہ کثرت سے اچھی اچھی باتیں شیئر کرتے رہتے ہیں ، حتی کہ اپنے...
نیکی کا کام شروع کرکے کسی کی طرف منسوب کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا ، مثلا کوئی مسجد بنادیں اور اس کا نام ’’ غازی علم دین شہید ‘‘ ،’’ عامر چیمہ شہید ‘‘ رکھ دیں ۔ واللہ اعلم۔
’’ یادگار ‘‘ کی مختلف نوعیتیں ہیں ، ایک ہی حکم لگانا مشکل ہے ۔ بنی نوع انسان میں سب سے پہلے شرک بھی ’’ یادگاروں ‘‘ سے...
عطیہ الزہرانی کا ہی میں نے حوالہ دیا تھا کہ انہوں نے جب کتاب کے آخر میں ’’ فہرس الاعلام ‘‘ مرتب کی ہے تو اس میں کسی بھی جگہ ’’ امام محمد بن عیسی الترمذی صاحب السنن ‘‘ کا تذکرہ تک نہیں کیا ۔ ہاں البتہ جہاں جہاں ’’ ترمذی ‘‘ نام آیا ہے ، اس کو انہوں نے ’’ جہم بن صفوان ‘‘ کے تحت ذکر کیا ہے ۔
آپ نے...
اور تیری بھی مہربانی کہ ایک دفعہ کہہ دیا ہے ، اب آرام کرو ، جب کتابیں دستیاب ہوں گی ، اپلوڈ کردی جائیں گی ۔
(کافی مہذب لہجہ ہے تیرا ، سوچا تیرے نقش قدم پہ چل کے دیکھتے ہیں ۔ :) ۔)
سرجی آپ کے ملازمین آج چھٹی پر ہوں گے شاید ۔
کل کوشش کر لیں ۔
یا پھر اس لنک کو دیکھ لو جلدی !
https://archive.org/stream/SunnatERasoolS.A.WKeyaHaiAurKeyaNahiHai/Sunnat-e-Rasool-%28S.A.W%29-Keya-Hai-Aur-Keya-Nahi-Hai#page/n9/mode/2up
اس معاملے کے تین پہلو ہیں :
اول :
’’ اللہ کا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش پر بٹھانا ‘‘ یہ بات ثابت ہے کہ نہیں ؟ نہ قرآن کے اندر اس کا ذکر ہے نہ حدیث کے اندر ، اور اس طرح کے معاملات جاننے کے لیے صرف انہیں دو مصدروں پر اعتماد کرنا ازبس ضروری ہی نہیں بلکہ ہماری مجبوری ہے ، کیونکہ اس کے علاوہ...
بہت مناسب بات ہے کہ جو ’’ صحیح ‘‘ ہیں ان کو مان لیں ، جن کی صحت ثابت نہیں ان کو نہ مانیں ۔ اور یہ اصول کسی ایک قسم کی روایات کے لیے نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام روایات کے لیے ہونا چاہیے چاہے وہ عقائد سے متعلق ہوں ، احکام و معاملات کے متعلق ہوں، تاریخ سے متعلق ہوں یا کسی اور صنف سے ۔
’’ مگر اس میں...
اللہ تعالی دین کے لیے کی گئی ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور رہتی دنیا تک صدقہ جاریہ بنائے ۔
بہت سارے ساتھیوں سے ان کے بارے میں تعریفی اور اچھے کلمات سننے کو ملے ۔ اللہ تعالی ان کو نیک کاموں کا بہترین صلہ عطا فرمائے ۔
ابن حزم کی الفِصَل کا اردو ترجمہ بعنوان ’’ قوموں کا عروج و زوال ‘‘ کے نام سے مطبوع ہے ، محدث لائبریری میں موجود ہے ۔
http://kitabosunnat.com/kutub-library/qaumon-ka-arooj-o-zawaal.html
شہرستانی کی کتاب کے ترجمہ کا لنک :
http://kitabosunnat.com/kutub-library/کتاب-الملل-والنحل-طبع-ثانی.html
شروع...
موضوعات کس قدر ادب و احترام والے ہوتے ہیں ، لیکن کچھ بحث کرنے والے ان کو ’’ لعن طعن ‘‘ بنا کر رکھ دیتے ہیں ۔
یا اللہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ ، اور اختلاف کرنے کا طریقہ سکھا دے ۔ اگر کسی کو اختلاف کرنے کا سلیقہ نہیں آ سکتا تو اس طرح کے مقدس موضوعات ان کے سینوں سے کھینچ لے ۔
تھریڈ بند ہے ۔
بہرام صاحب اس سے پہلے دو تین دفعہ آپ اس موضوع سے بھاگ چکے ہیں ، اور اسی تھریڈ کے شروع میں ان کے لنک بھی دے چکا ہوں ۔ اگر آپ کے پاس کوئی نئے دلائل آگئے ہیں تو انہیں تھریڈز میں جاکر بحث کو آگے بڑھائیں ۔
اور یہاں جس موضوع پر بحث شروع ہوئی تھی ، اس پر بھی شاید آپ کا ’’ کاپی پیسٹ ‘‘ ختم ہوا تو زبان...
اولا :تو آپ کی تاریخ ناقص ہے ، کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب میں سب چیزوں کا احاطہ نہیں ۔
ثانیا : بخاری و احمد جیسے محدثین کا احادیث کے چھانٹ پھٹک میں بنیادی اصولوں میں اتفاق ہے ۔ آپ ایک کی بات کو مانتے ہیں ، دوسرے کی بات کو نہیں مانتے ۔ اس کی وجہ ؟
صرف اس وجہ سے کہ امام بخاری نے اپنی...
کچھ فلسفے ایسے ہوتے ہیں ، جن پر غور و فکر یا رد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ، کیونکہ ان فلسفوں کا نتیجہ دین کے کسی متفق علیہ مسئلہ کا انکار ہوتا ہے ، یہی مسئلہ جہاد و قتال سے متعلقہ فلسفے کا ہے ، اب کوئی شخص ادھر ادھر صغرے کبرے جوڑ کر یہ کہنے لگ جائے کہ نماز باجماعت کا حکم صرف ابتدائے اسلام کے لیے...
دونوں حدیثیں صحیح ہوں تو تعارض نظر آنے کی صورت میں درج ذیل طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے :
1۔ دونوں حدیثوں کےمفہوم میں تطبیق پیدا کی جائے گی ۔
2۔ اگر تطبیق ممکن نہ ہو تو ناسخ و منسوخ کا پتہ چلانے کی کوشش کریں گے ۔
3۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر ایک کو دوسری پر قرائن کو مد نظر رکھتے ہوئے ترجیح دی...