• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب فِتْنَةِ الدَّجَالِ وَخُرُوجِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ
۳۳- باب: فتنہ دجال، عیسیٰ بن مریم اور یاجوج و ماجوج کے ظہور کا بیان​

4071- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُومُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُسْرَى، جُفَالُ الشَّعَرِ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ، وَجَنَّتُهُ نَارٌ "۔
* تخريج: م/الفتن ۲۰ (۲۹۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸۳، ۳۹۷) (صحیح)

۴۰۷۱- حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''دجال بائیں آنکھ کا کانا اور بہت بالوں والا ہو گا، اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہو گی، لیکن اس کی جہنم جنت اور اس کی جنت جہنم ہو گی''۱؎۔
وضاحت۱؎: حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی صحیحین کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دجال کے بارے میں فرمایا: اس کے ساتھ آگ اور پانی ہو گا، لیکن حقیقت میں اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہے، اور اس کا پانی آگ ہے (صحیح بخاری ۷۱۳۰ و صحیح مسلم ۲۹۳۴ و ۲۹۳۵ )۔
اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ وہ دائیں آنکھ کا کانا ہے، اور اس کی آنکھ گویا پھولے ہوئے انگور کی طرح ہے، یا اندھی بغیر روشنی کے ہے۔ (صحیح بخاری ۷۱۳۰، صحیح مسلم ۱۶۹ و کتاب الفتن ۱۰۰)
اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ وہ ممسوح العین یعنی اندھا ہے، ایک آنکھ کا، اور اس کی دونوں آنکھ کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے، جس کو پڑھا لکھا اور جاہل ہر مومن پڑھ لے گا۔ (صحیح مسلم ۲۹۳۴) اور یہ صحیح مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے (صحیح مسلم ۲۹۳۳)
دجال کے سلسلہ میں وارد احادیث میں بہت اختلافات ہیں بعض علماء نے ان میں تطبیق دی ہے، اور بعض روایتوں میں یہ احتمال ہے کہ راوی کی غلطی ہو۔
سنن ابو داود میں عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ اس کی آنکھ اندھی ہو گی، نہ اٹھی ہوئی، نہ اندر گھسی ہوئی۔
اور انس اور حذیفہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ وہ کافر اور کذاب ہے۔
اور صحیح بخاری (۷۱۲۸) میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا وہ سرخ رنگ کا تھا، موٹا، گھنگھرالے بال والا، دائیں آنکھ کا کانا
اور نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ دجال کے دن لمبے ہوں گے، یہاں تک کہ ایک دن ایک برس کے برابرہو گا۔ (صحیح مسلم ۲۹۳۷)
اور اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ اس کے دن چھوٹے ہوں گے یہاں تک کہ سال ایک مہینے کے برابر ہو گا، اور دن جیسے ایک تنکے کا جلنا۔
اور تمیم داری رضی اللہ عنہ کی حدیث آگے آتی ہے کہ دجال ایک جزیرے میں جکڑا ہوا ہے۔ (صحیح مسلم ۲۹۴۲)
اور سنن ترمذی میں ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ دجال کے باپ کے یہاں تیس برس تک لڑکا نہ ہو گا پھر ایک کانا لڑکا بڑے دانت والا پیدا ہو گا۔
اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ دجال شام کے سمندر میں ہے یا یمن میں۔
اور ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ابن صیاد کے بارے میں ہمیشہ ڈرا کرتے تھے کہ کہیں وہ دجال نہ ہو۔
اور عمر رضی اللہ عنہ قسم کھاتے کہ وہی دجال ہے (صحیح البخاری ۷۳۵۵ و صحیح مسلم ۲۹۲۹ )
اور تمیم داری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ ہم نے دجال کو اتنا بڑا آدمی دیکھا کہ ویسا کبھی نہ دیکھا تھا (صحیح مسلم ۲۹۴۲)
اور عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ دجال ٹھگنا ہے، اس کے دونوں پاؤں میں فاصلہ بہت ہے۔
اور ایک حدیث میں ہے کہ اس کے گدھے کے دونوں کانوں کی بیچ میں ستر ہاتھ کا فاصلہ ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا قد بھی بہت بڑا ہو گا۔
اور یہ اختلافات حقیقت میں اختلافات نہیں ہیں کیونکہ دجال ایک ساحر (جادوگر) شخص ہو گا، جو جادو کے زور سے طرح طرح کے شعبدے اور طلسم دکھائے گا، جیسے مردے کو زندہ کرنا، زمین کا خزانہ نکالنا، پانی برسانا، غلہ اُگانا، گویا وہ الوہیت کا دعویٰ کرے گا، اور اس کو اسی وجہ سے خوارق عادات کام کرنے کی طاقت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بندوں کا امتحان لے گا، اور اس کے رب نہ ہونے کی کئی نشانیاں بھی واضح کر دی ہیں جن میں وہ مجبور ہو گا، اور ان کو اپنے آپ سے جدا نہ کر سکے گا، جیسے کانا ہونا، آنکھ میں پھلّی ہونا (یعنی سفید داغ کا پڑنا) پیشانی پر کافر لکھا ہونا، ان نشانیوں کو دیکھ کر اہل ایمان یقین کر لیں گے کہ یہ رب نہیں ہے، بلکہ جھوٹا دجال ہے، پس جب وہ جادوگر ٹھہرا، اور بڑے بڑے خوارق عادات امور دکھلانے پر اس کو قدرت ہوئی تو ممکن ہے کہ کبھی وہ اپنے کو داہنی آنکھ کا کانا دکھلا دے، کبھی بائیں آنکھ کا، کبھی لمبا، کبھی چھوٹے قد کا، کبھی موٹا، کبھی درمیانی قد کا، کبھی آنکھ پھولی ہوئی، کبھی برابر۔
اب رہا دنوں کے چھوٹے اور بڑے ہونے کا اختلاف تو احتمال ہے کہ راوی کی اس میں غلطی ہو، یا آدھے دن اس کے بڑے یا آدھے چھوٹے ہوں۔
اور حدیث میں ہے کہ وہ چالیس دن تک رہے گا، اور اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ وہ چالیس برس تک رہے گا۔
دنوں کا یہ اختلاف اس طرح دور ہو سکتا ہے کہ نواس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں دنوں کا لمبا ہونا مذکور ہے اور ایک دن ایک سال کا ہو گا (صحیح مسلم)، تو گویا چالیس دن چالیس سال ہی ہوئے، اور اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث میں دونوں کا چھوٹا ہونا مذکور ہے، کہ ایک برس ایک مہینے کے برابرہو گا، اور ممکن ہے کہ پہلی حدیث میں وہ دن مراد ہوں جن میں وہ دنیا کا دورہ کر کے لوگوں کو گمراہ کرے گا، اور دوسری حدیث سے اس کے پہلے دن مراد ہوں۔
اب رہا ابن صیاد کا حال اور تمیم داری رضی اللہ عنہ کا بیان اور دوسری احادیث تو وہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کو دجال کا نکلنا وحی سے معلوم ہوا تھا، اب رہی اس کی تعیین تو اس میں آپ کو شک تھا، پس جس شخص پر علامات کے لحاظ سے گمان ہوا، تو یہ شبہ ہوا کہ شاید وہ دجال ہو۔
ایسے ہی آپ ﷺ کو شبہ تھا کہ دجال کب نکلے گا، ایک حدیث میں ہے کہ اگر میرے سامنے نکلا تو میں اس سے بحث و جدال کروں گا، اور اگر میرے بعد نکلا تو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے۔
اور ایک حدیث میں ہے کہ دجال کو عیسی علیہ السلام قتل کریں گے، شاید یہ حدیث بعد کی ہو، پہلے آپ ﷺ کو یہ معلوم نہ ہوا ہو، اس کے بعد معلوم ہو گیا کہ دجال عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں مارا جائے گا، عیسی علیہ السلام تو آپ کی وفات کے بعد اتریں گے۔
اور ایک حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ تم میں سے جو کوئی عیسی علیہ السلام کو پائے تو ان کو میری طرف سے سلام کہے، اور جو کوئی دجال کی خبر سنے تو اس سے دور رہے۔
عبیدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ دجال کو بعض وہ لوگ پائیں گے جنہوں نے مجھ کو دیکھا ہے یا میرا کلام سنا ہے، احتمال ہے کہ اس سے جنوں کی مخلوق میں سے مسلمان جن مراد ہوں، وہ دجال کے وقت تک زندہ رہیں گے، یا یہ مطلب ہے کہ جس نے میرا کلام سنا چاہے واسطہ ہی سے سنا تو وہ تمام مسلمان مراد ہو سکتے ہیں جو نبی کریم ﷺ کی احادیث کو سنتے ہیں۔
بہرحال قیامت کی نشانیاں جیسے اور جس طرح آپ ﷺ سے صحیح صحیح روایتوں میں منقول ہیں، ان کو مان لینا چاہئے۔
باقی ان کی تفصیل اور تعیین؟ تو یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی معلوم نہیں ہے، خود نبی کریم ﷺ کو بہت سی باتوں پر شک تھا جو اللہ نے آپ کو نہیں بتلائی تھی اور یہ آپ کے سچے نبی ہونے کی عمدہ دلیل ہے، ورنہ جھوٹے شخص کے لیے ہر بات کو یقین کے طور پر قطعی طریق سے کہہ دینا کچھ مشکل نہیں ہوتا، ان تفصیلات کا سبب یہ ہے کہ بعض لوگ ناسمجھی میں ان احادیث کے ظاہری اختلافات کو دیکھ کر متزلزل ہو جاتے ہیں، اور شیطان ان کو گمراہی میں پھنسا دیتا ہے حالانکہ ان سب اختلافات کو اہل حدیث نے اچھی طرح سے رفع کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو شیطان کے شر سے بچائے، آمین یا رب العالمین۔ واضح رہے کہ دجال کے ظہور اور اس کے فتنے کا مسئلہ عقیدے کا مسئلہ ہے، اور تشہد میں اس کے شر اور فتنے سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کی بات واضح طور پر موجود ہے۔
دجال دجل سے مبالغہ کا صیغہ ہے، عربی میں ڈھانکنے اور چھپانے کو دجل کہتے ہیں، کذاب اور جھوٹے کو دجال اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے باطل کے ذریعے حق اورسچ کو چھپا دیتا ہے، نبی کریم ﷺ نے پیش گوئی کی ہے کہ امت میں تیس کذاب اور دجال ظاہر ہوں گے، جن میں سے بعض جھوٹے مدعیانِ نبوت آپ کے عہد میں ظاہر ہوئے، اور تاریخ کے مختلف ادوار میں جھوٹی نبوت کے دعویدار نظر آتے ہیں، جن میں برصغیر کا جھوٹا نبی مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہے، جس نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا، اور علمائے حق نے اس کی زندگی ہی میں اس کا رد و ابطال کیا، حتی کہ شیخ الإسلام امام المناظرین مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ سے مباہلہ کے بعد آپ کی حیات میں بڑی بری موت مرا، ان جھوٹوں میں سب سے خطرناک مسیح دجال ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مختلف خارق عادات چیزوں پر قدرت دے کر لوگوں کے درمیان ابتلاء اور آزمائش کے لیے بھیجے گا، رسول اکرم ﷺ سب سے زیادہ اسی کے فتنے اور شر سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے، حتی کہ ہر صلاۃ کے تشہد میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتے اور مسلمانوں کو اس کی تعلیم دیتے تھے۔ (الفریوائی)

4072- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ،عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ،يُقَالُ لَهَا خُرَاسَانُ،يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ "۔
* تخريج: ت/الفتن ۵۷ (۲۲۳۷)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴، ۷) (صحیح)

۴۰۷۲- ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی: ''دجال مشرق (پورب) کے ایک ملک سے ظاہر ہو گا، جس کو ''خراسان'' کہا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ ان کے چہرے گول، چپٹے اور گوشت سے پر ہوں گے۔

4073- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ ﷺ، عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ ( وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ أَشَدَّ سُؤَالا مِنِّي ) فَقَالَ: " لِي مَا تَسْأَلُ عَنْهُ؟ " قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ،قَالَ: " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ "۔
* تخريج: خ/الفتن ۲۷ (۷۱۲۲)، م/الفتن ۲۲ (۲۹۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۴۶، ۲۴۸، ۲۵۲) (صحیح)

۴۰۷۳- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے دجال کے بارے میں جتنے سوالات میں نے کئے ہیں، اتنے کسی اور نے نہیں کئے، (ابن نمیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں ''أَشَدَّ سُؤَالا مِنِّي'' یعنی مجھ سے زیادہ سوال اور کسی نے نہیں کئے)، آخر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ''تم اس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو؟'' میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہو گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ پر وہ اس سے بھی زیادہ آسان ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: یا اللہ تعالی پر یہ بات دجال سے زیادہ آسان ہے، یعنی جب اس نے دجال کو پیدا کر دیا تو اس کو کھانا پانی دینا کیا مشکل ہے، صحیحین کی روایت میں ہے کہ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے پاس روٹی کا پہاڑ ہو گا اور پانی کی نہریں ہوں گی، تب آپ نے یہ فرمایا: اور ممکن ہے کہ حدیث کا ترجمہ یوں کیا جائے کہ اللہ تعالی پر یہ بات آسان ہے دجال سے زیادہ یعنی جب اس نے دجال کو پیدا کر دیا تو اس کو کھانا پانی دینا کیا مشکل ہے، اور بعضوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ دجال ذلیل ہے، اللہ تعالی کے نزدیک اس سے کہ ان چیزوں کے ذریعے سے اس کی تصدیق کی جائے کیونکہ اس کی پیشانی اور آنکھ پر اس کے جھوٹے ہونے کی نشانی ظاہر ہو گی، واللہ اعلم۔

4074- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ، وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَكَانَ لا يَصْعَدُ عَلَيْهِ قَبْلَ ذَلِكَ، إِلا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، فَمِنْ بَيْنِ قَائِمٍ وَجَالِسٍ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ، أَنِ اقْعُدُوا: " فَإِنِّي، وَاللَّهِ! مَا قُمْتُ مَقَامِي هَذَا لأَمْرٍ يَنْفَعُكُمْ، لِرَغْبَةٍ وَلا لِرَهْبَةٍ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي خَبَرًا [ مَنَعَني الْقَيْلُولَةَ، مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّةِ الْعَيْنِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَنْشُرَ عَلَيْكُمْ فَرَحَ نَبِيِّكُمْ ]، أَلا إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَخْبَرَنِي: أَنَّ الرِّيحَ أَلْجَأَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ لا يَعْرِفُونَهَا، فَقَعَدُوا فِي قَوَارِبِ السَّفِينَةِ، فَخَرَجُوا فِيهَا، فَإِذَا هُمْ بِشَيْئٍ أَهْدَبَ، أَسْوَدَ كَثَيْرَ الْشَعَرِ، قَالُوا لَهُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: أَخْبِرِينَا، قَالَتْ: [ مَا أَنَا بِمُخْبِرَتَكُمْ شَيْئاً، وَلا سَائِلَتِكُمْ ]،وَلَكِنْ هَذَا الدَّيْرُ، قَدْ رَمَقْتُمُوهُ، فَأْتُوهُ، فَإِنَّ فِيهِ رَجُلا بِالأَشْوَاقِ إِلَى أَنْ تُخْبِرُوهُ وَيُخْبِرَكُمْ، فَأَتَوْهُ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا هُمْ بِشَيْخٍ مُوثَقٍ، شَدِيدِ الْوَثَاقِ، [ يُظْهِرُ الْحُزْنَ شَدِيدِ التَّشَكِّي]، فَقَالَ لَهُمْ: مِنْ أَيْنَ؟ قَالُوا: مِنَ الشَّامِ، قَالَ: مَافَعَلَتِ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: نَحْنُ قَوْمٌ مِنَ الْعَرَبِ، عَمَّ تَسْأَلُ؟ قَالَ: مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي خَرَجَ فِيكُمْ؟ قَالُوا: خَيْرًا، نَاوَى قَوْمًا، فَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْرُهُمُ الْيَوْمَ جَمِيعٌ: إِلَهُهُمْ وَاحِدٌ، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: خَيْرًا، يَسْقُونَ مِنْهَا زُرُوعَهُمْ، وَيَسْتَقُونَ مِنْهَا لِسَقْيِهِمْ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ [ بَيْنَ عَمَّانَ وَبَيْسَانَ؟ ] قَالُوا: يُطْعِمُ ثَمَرَهُ كُلَّ عَامٍ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قَالُوا: تَدَفَّقُ جَنَبَاتُهَا مِنْ كَثْرَةِ الْمَاءِ، قَالَ: [ فَزَفَرَ ثَلاثَ زَفَرَراتٍ ] ثُمَّ قَالَ: لَوِ انْفَلَتُّ مِنْ وَثَاقِي هَذَا، لَمْ أَدَعْ أَرْضًا إِلا وَطِئْتُهَا بِرِجْلَيَّ هَاتَيْنِ، إِلا طَيْبَةَ لَيْسَ لِي عَلَيْهَا سَبِيلٌ "، قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " إِلَى هَذَا يَنْتَهِي فَرَحِي، هَذِهِ طَيْبَةُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! مَا فِيهَا طَرِيقٌ ضَيِّقٌ، وَلا وَاسِعٌ، وَلا سَهْلٌ وَلا جَبَلٌ، إِلا وَعَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "۔
* تخريج: د/الملاحم ۱۵ (۴۳۲۶، ۴۳۲۷)، ت/الفتن ۶۶ (۲۲۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۷۳، ۳۷۴، ۴۱۱، ۴۱۲، ۴۱۵، ۴۱۶، ۴۱۸) (صحیح)
(سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن متن حدیث صحیح ہے، صرف وہ جملے ضعیف ہیں، جو اس طرح [ ] گھیر دیئے گئے ہیں، صحیح مسلم کتاب الفتن ۲۴؍ ۲۹۴۲ میں یہ حدیث ہلالین میں محصور جملوں کے علاوہ آئی ہے، جیسا کہ اوپر گزرا۔
۴۰۷۴- فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن صلاۃ پڑھائی، اور منبر پر تشریف لے گئے، اور اس سے پہلے جمعہ کے علاوہ آپ منبر پر تشریف نہ لے جاتے تھے، یہ بات لوگوں پر گراں گزری، کچھ لوگ آپ کے سامنے کھڑے تھے کچھ بیٹھے تھے، آپ ﷺ نے ہاتھ سے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور فرمایا: ''اللہ کی قسم! میں منبر پر اس لئے نہیں چڑھا ہوں کہ کوئی ایسی بات کہوں جو تمہیں کسی رغبت یا دہشت والے کام کا فائدہ دے، بلکہ بات یہ ہے کہ میرے پاس تمیم داری آئے، اور انہوں نے مجھے ایک خبر سنائی (جس سے مجھے اتنی مسرت ہوئی کہ خوشی کی وجہ سے میں قیلولہ نہ کر سکا، میں نے چاہا کہ تمہارے نبی کی خوشی کو تم پر بھی ظاہر کر دوں)، سنو! تمیم داری کے ایک چچا زاد بھائی نے مجھ سے یہ وا قعہ بیان کیا کہ (ایک سمندری سفر میں) ہوا ان کو ایک جزیرے کی طرف لے گئی جس کو وہ پہچانتے نہ تھے، یہ لوگ چھوٹی چھوٹی کشتیوں پر سوار ہو کر اس جزیرے میں گئے، انہیں وہاں ایک کالے رنگ کی چیز نظر آئی، جس کے جسم پر کثرت سے بال تھے، انہوں نے اس سے پوچھا: تو کون ہے؟اس نے کہا: میں جساسہ (دجال کی جاسوس) ہوں، ان لوگوں نے کہا: تو ہمیں کچھ بتا، اس نے کہا: (نہ میں تمہیں کچھ بتاؤں گی، نہ کچھ تم سے پوچھوں گی)، لیکن تم اس دیر (راہبوں کے مسکن) میں جسے تم دیکھ رہے ہو جاؤ، وہاں ایک شخص ہے جو اس بات کا خواہش مند ہے کہ تم اسے خبر بتاؤ اور وہ تمہیں بتائے، کہا: ٹھیک ہے، یہ سن کر وہ لوگ اس کے پاس آئے، اس گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں ایک بوڑھا شخص زنجیروں میں سخت جکڑا ہوا (رنج و غم کا اظہار کر رہا ہے، اور اپنا دکھ درد سنانے کے لئے بے چین ہے) تو اس نے ان لوگوں سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: شام سے، اس نے پوچھا: عرب کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ہم عرب لوگ ہیں، تم کس کے بارے میں پو چھ رہے ہو؟ اس نے پوچھا: اس شخص کا کیا حال ہے (یعنی محمد کا) جو تم لوگوں میں ظاہر ہوا؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اس نے قوم سے دشمنی کی، پھر اللہ نے اسے ان پر غلبہ عطا کیا، تو آج ان میں اجتماعیت ہے، ان کا معبود ایک ہے، ان کا دین ایک ہے، پھر اس نے پوچھا: زغر (شام میں ایک گاؤں) کے چشمے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، لوگ اس سے اپنے کھیتوں کو پانی دیتے ہیں، اور پینے کے لئے بھی اس میں سے پانی لیتے ہیں، پھر اس نے پوچھا: (عمان اور بیسان (ملک شام کے دو شہر کے درمیان) کھجور کے درختوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ہر سال وہ اپنا پھل کھلا رہے ہیں، اس نے پوچھا: طبریہ کے نالے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: اس کے دونوں کناروں پر پانی خوب زور و شور سے بہہ رہا ہے، یہ سن کر اس شخص نے تین آہیں بھریں) پھر کہا: اگر میں اس قید سے چھوٹا تو میں اپنے پاؤں سے چل کر زمین کے چپہ چپہ کا گشت لگاؤں گا، کوئی گوشہ مجھ سے باقی نہ رہے گا سوائے طیبہ (مدینہ) کے، وہاں میرے جانے کی کوئی سبیل نہ ہو گی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''یہ سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی، طیبہ یہی شہر (مدینہ) ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مدینہ کے ہر تنگ و کشادہ اور نیچے اونچے راستوں پر ننگی تلوار لئے ایک فرشتہ متعین ہے جو قیامت تک پہرہ دیتا رہے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اور دجال کو وہاں آنے سے روکے گا، دوسری روایت میں ہے کہ دجال احد پہاڑ تک آئے گا، پھر ملائکہ اس کا رخ پھیر دیں گے، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ زنجیرمیں جکڑے اس شخص نے کہا: مجھ سے امیوں (یعنی ان پڑھوں) کے نبی کا حال بیان کرو، ہم نے کہا: وہ مکہ سے نکل کر مدینہ گئے ہیں، اس نے کہا: کیا عرب کے لوگ ان سے لڑے؟ ہم نے کہا: ہاں، لڑے، اس نے کہا: پھر نبی نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ ہم نے اُسے بتلایا کہ وہ اپنے گرد و پیش عربوں پر غالب آگئے ہیں اور انہوں نے اس رسول (ﷺ) کی اطاعت اختیار کر لی ہے، اس نے پوچھا کیا یہ بات ہو چکی ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، یہ بات ہو چکی، اس نے کہا: سن لو! یہ بات ان کے حق میں بہتر ہے کہ وہ اس کے رسول کے تابعدار ہوں، البتہ میں تم سے اپنا حال بیان کرتا ہوں کہ میں مسیح دجال ہوں، اور وہ زمانہ قریب ہے کہ جب مجھے خروج کی اجازت (اللہ کی طرف سے) دے دی جائے گی، البتہ اس میں یہ ہے کہ مکہ اور طیبہ (مدینہ) کو چھوڑ کر میں کوئی ایسی بستی نہیں چھوڑوں گا جہاں میں نہ جاؤں، وہ دونوں مجھ پر حرام ہیں، جب میں ان دونوں میں کہیں سے جانا چاہوں گا تو ایک فرشتہ ننگی تلوار لے کر مجھے اس سے روکے گا، اور وہاں ہر راستے پر چوکیدار فرشتے ہیں، یہ فرما کر آپ ﷺ نے اپنی چھڑی منبر پر ماری، اور فرمایا: طیبہ یہی ہے، یعنی مدینہ اور میں نے تم سے دجال کا حال نہیں بیان کیا تھا کہ وہ مدینہ میں نہ آئے گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے بیان کیا تھا پھر آپ نے فرمایا: شام کے سمندر میں ہے، یا یمن کے سمندر میں، نہیں، بلکہ مشرق کی طرف اور ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ (صحیح مسلم /کتاب الفتن: باب: قصۃ الجساسۃ)

4075- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلابِيَّ يَقُولُ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الدَّجَّالَ،الْغَدَاةَ، فَخَفَضَ فِيهِ وَرَفَعَ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، فَلَمَّا رُحْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا، فَقَالَ: " مَا شَأْنُكُمْ؟ " فَقُلْنَا: يَارَسُولَ اللَّهِ! ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ، فَخَفَضْتَ فِيهِ ثُمَّ رَفَعْتَ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، قَالَ: " غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ: إِنْ يَخْرُجْ، وَأَنَا فِيكُمْ، فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ، وَلَسْتُ فِيكُمْ، فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ، عَيْنُهُ قَائِمَةٌ، كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ، فَمَنْ رَآهُ مِنْكُمْ، فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ، إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ، فَعَاثَ يَمِينًا، وَعَاثَ شِمَالا، يَا عِبَادَ اللَّهِ! اثْبُتُوا " قُلْنَا: يَارَسُولَ اللَّهِ! وَمَا لُبْثُهُ فِي الأَرْضِ؟ قَالَ: " أَرْبَعُونَ يَوْمًا، يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ " قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ، تَكْفِينَا فِيهِ صَلاةُ يَوْمٍ؟ قَالَ: " فَاقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ " قَالَ: قُلْنَا: فَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الأَرْضِ؟ قَالَ: " كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ "، قَالَ: " فَيَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ، وَيَأْمُرُ الأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ، وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًى وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ، ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ: فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ، فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ، مَا بِأَيْدِيهِمْ شَيْئٌ، ثُمَّ يَمُرَّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، فَيَنْطَلِقُ، فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ، ثُمَّ يَدْعُو رَجُلا مُمْتَلِئًا شَبَابًا، فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ ضَرْبَةً، فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ، رَمْيَةَ الْغَرَضِ، ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ، شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ يَنْحَدِرُ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، وَلا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلا مَاتَ، وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرَفُهُ، فَيَنْطَلِقُ حَتَّى يُدْرِكَهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ، فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يَأْتِي نَبِيُّ اللَّهِ، عِيسَى عليه السلام قَوْمًا قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ فَيَمْسَحُ وُجُوهَهُمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا عِيسَى! إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي، لايَدَانِ لأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ، وَأَحْرِزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ،وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَهُمْ، كَمَا قَالَ اللَّهُ: {مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ، فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا، ثُمَّ يَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ: لَقَدْ كَانَ فِي هَذَا مَائٌ، مَرَّةً، وَيَحْضُرُ نَبِيُّ اللَّهِ عيسى وَأَصْحَابُهُ، حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ، فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، وَيَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَلايَجِدُونَ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلا قَدْ مَلأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ، فَيَرْغَبُونَ إِلَى اللَّهِ، فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ، فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَطَرًا لايُكِنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلا وَبَرٍ، فَيَغْسِلُهُ حَتَّى يَتْرُكَهُ كَالزَّلَقَةِ، ثُمَّ يُقَالُ لِلأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ، وَرُدِّي بَرَكَتَكِ، فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرِّمَّانَةِ، فَتُشْبِعُهُمْ، وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا، وَيُبَارِكُ اللَّهُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى إِنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الإِبِلِ تَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ تَكْفِي الْقَبِيلَةَ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ تَكْفِي الْفَخِذَ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ رِيحًا طَيِّبَةً، فَتَأْخُذُ تَحْتَ آبَاطِهِمْ، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلَّ مُسْلِمٍ، وَيَبْقَى سَائِرُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ، كَمَا تَتَهَارَجُ الْحُمُرُ، فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ "۔
* تخريج: م/الفتن ۲۰ (۲۱۳۷)، د/الملاحم ۱۴ (۴۳۲۱)، ت/الفتن ۵۹ (۲۲۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۸۱، ۱۸۲) (صحیح)

۴۰۷۵- نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک دن) صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو اس میں آپ نے کبھی بہت دھیما لہجہ استعمال کیا اور کبھی روز سے کہا، آپ کے اس بیان سے ہم یہ محسوس کرنے لگے کہ جیسے وہ انہی کھجوروں میں چھپا ہوا ہے، پھر جب ہم شام کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمارے چہروں پر خوف کے آثار کو دیکھ کر فرمایا: ''تم لوگوں کا کیا حال ہے؟ ''ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے جو صبح کے وقت دجال کا ذکر فرمایا تھا اور جس میں آپ نے پہلے دھیما پھر تیز لہجہ استعمال کیا تو اس سے ہمیں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ انہی کھجوروں کے درختوں میں چھپا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''مجھے تم لوگوں پر دجال کے علاوہ اوروں کا زیادہ ڈر ہے، اگر دجال میری زندگی میں ظاہر ہوا تو میں تم سب کی جانب سے اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر میرے بعد ظاہر ہوا تو ہر انسان اس کا مقابلہ خود کرے گا، اللہ تعالی ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے (یعنی ہر مسلمان کا میرے بعد ذمہ دار ہے) دیکھو دجال جوان ہو گا، اس کے بال بہت گھنگریالے ہوں گے، اس کی ایک آنکھ اٹھی ہوئی اونچی ہو گی گویا کہ میں اسے عبد العزی بن قطن کے مشابہ سمجھتا ہوں، لہٰذا تم میں سے جو کوئی اسے دیکھے اسے چاہیے کہ اس پر سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے، دیکھو! دجال کا ظہور عراق اور شام کے درمیانی راستے سے ہو گا، وہ روئے زمین پر دائیں بائیں فساد پھیلاتا پھرے گا، اللہ کے بندو! ایمان پر ثابت قدم رہنا''۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''چالیس دن تک، ایک دن ایک سال کے برابر، دوسرا دن ایک مہینہ کے اور تیسرا دن ایک ہفتہ کے برابر ہو گا، اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے''۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس دن میں جو ایک سال کا ہو گا ہمارے لئے ایک دن کی صلاۃ کافی ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''(نہیں بلکہ) تم اسی ایک دن کا اندازہ کر کے صلاۃ پڑھ لینا''۔
ہم نے عرض کیا: زمین میں اس کے چلنے کی رفتار آخر کتنی تیز ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہو، وہ ایک قوم کے پاس آکر انہیں اپنی الوہیت کی طرف بلائے گا، تو وہ قبول کر لیں گے، اور اس پر ایمان لے آئیں گے، پھر وہ آسمان کو بارش کا حکم دے گا، تو وہ برسے گا، پھر زمین کو سبزہ اگانے کا حکم دے گا تو زمین سبزہ اگائے گی، اور جب اس قوم کے جانور شام کو چر کر واپس آیا کریں گے تو ان کے کوہان پہلے سے اونچے، تھن زیادہ دودھ والے، اور کوکھیں بھری ہوں گی، پہلو بھرے بھرے ہوں گے، پھر وہ ایک دوسری قوم کے پاس جائے گا، اور ان کو اپنی طرف دعوت دے گا، تو وہ اس کی بات نہ مانیں گے، آخر یہ دجال وہاں سے واپس ہو گا، تو صبح کو وہ قوم قحط میں مبتلا ہو گی، اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا، پھر دجال ایک ویران جگہ سے گزرے گا، اور اس سے کہے گا: تو اپنے خزانے نکال، وہاں کے خزانے نکل کر اس طرح اس کے ساتھ ہو جائیں گے جیسے شہد کی مکھیاں یعسوب (مکھیوں کے بادشاہ) کے پیچھے چلتی ہیں، پھر وہ ایک ہٹے کٹے نوجوان کو بلائے گا، اور تلوار کے ذریعہ اسے ایک ہی وار میں قتل کر کے اس کے دو ٹکڑے کر دے گا، ان دونوں ٹکڑوں میں اتنی دوری کر دے گا جتنی دوری پر تیر جاتا ہے، پھر اس کو بلائے گا تو وہ شخص زندہ ہو کر روشن چہرہ لئے ہنستا ہوا چلا آئے گا، الغرض دجال اور دنیا والے اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالی عیسیٰ بن مریم علیہ الصلاۃ والسلام کو بھیجے گا، وہ دمشق کے سفید مشرقی مینار کے پاس دو زرد ہلکے کپڑے پہنے ہوئے اتریں گے، جو زعفران اور ورس سے رنگے ہوئے ہوں گے، اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپکیں گے، اور جب سر اٹھائیں گے تو اس سے پانی کے قطرے موتی کی طرح گریں گے، ان کی سانس میں یہ اثر ہو گا کہ جس کافر کو لگ جائے گی وہ مر جائے گا، اوران کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر کام کرے گی۔
پھر عیسیٰ علیہ السلام چلیں گے یہاں تک کہ اس (دجال) کو باب لُدّ کے پاس پکڑ لیں گے، وہاں اسے قتل کریں گے، پھر دجال کے قتل کے بعد اللہ کے نبی عیسی علیہ السلام ان لوگوں کے پاس آئیں گے جن کو اللہ تعالی نے دجال کے شر سے بچا رکھا ہو گا، ان کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر انہیں تسلی دیں گے، اور ان سے جنت میں ان کے درجات بیان کریں گے، یہ لوگ ابھی اسی کیفیت میں ہوں گے کہ اللہ تعالی ان کی طرف وحی نازل کرے گا: اے عیسی! میں نے اپنے کچھ ایسے بندے پیدا کئے ہیں جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں، تو میرے بندوں کو طور پہاڑ پر لے جا، اس کے بعد اللہ تعالی یاجوج و ماجوج کو بھیجے گا، اور وہ لوگ ویسے ہی ہوں گے جیسے اللہ تعالی نے فرمایا: {وَهَمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} [سورة الأنبياء: ۹۶] (یہ لوگ ہر ٹیلے پر سے چڑھ دوڑیں گے) اُن میں کے آگے والے طبریہ کے چشمے پر گزریں گے، تو اس کا سارا پانی پی لیں گے، پھر جب ان کے پچھلے لوگ گزریں گے تو وہ کہیں گے: کسی زمانہ میں اس تالاب کے اندر پانی تھا، اللہ کے نبی عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی طُور پہاڑ پر حاضر رہیں گے۱؎، ان مسلمانوں کے لئے اس وقت بیل کا سر تمہارے آج کے سو دینار سے بہتر ہو گا، پھر اللہ کے نبی عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالی سے دعا کریں گے، چنانچہ اللہ یاجوج و ماجوج کی گردن میں ایک ایسا پھوڑا نکالے گا، جس میں کیڑے ہوں گے، اس کی وجہ سے (دوسرے دن) صبح کو سب ایسے مرے ہوئے ہوں گے جیسے ایک آدمی مرتا ہے، اور اللہ کے نبی عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی طور پہاڑ سے نیچے اتریں گے اور ایک بالشت کے برابر جگہ نہ پائیں گے، جو ان کی بدبو، خون اور پیپ سے خالی ہو، عیسی علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالی سے دعا کریں گے تو اللہ تعالی بختی اونٹ کی گردن کی مانند پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ تعالی کا حکم ہو گا وہاں پھینک دیں گے، پھر اللہ تعالی (سخت) بارش نازل کرے گا جس سے کوئی پختہ یا غیر پختہ مکان چھوٹنے نہیں پائے گا، یہ بارش ان سب کو دھو ڈالے گی، اور زمین کو آئینہ کی طرح بالکل صاف کر دے گی، پھر زمین سے کہا جائے گا کہ تو اپنے پھل اُگا، اور اپنی برکت ظاہر کر، تو اس وقت ایک انار کو ایک جماعت کھا کر آسودہ ہو گی، اور اس انار کے چھلکوں سے سایہ حاصل کریں گے اور دودھ میں اللہ تعالی اتنی برکت دے گا کہ ایک اونٹنی کا دودھ کئی جماعتوں کو کافی ہو گا، اور ایک دودھ دینے والی گائے ایک قبیلہ کے لوگوں کو کافی ہو گی، اور ایک دودھ دینے والی بکری ایک چھوٹے قبیلے کو کافی ہو گی، لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالی ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا وہ ان کی بغلوں کے تلے اثر کرے گی اور ہر مسلمان کی روح قبض کرے گی، اور ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جو جھگڑالو ہوں گے، اور گدھوں کی طرح لڑتے جھگڑتے یا اعلانیہ جماع کرتے رہیں گے، تو انہی (شریر) لوگوں پر قیامت قائم ہو گی''۔

وضاحت۱؎: اردن پہاڑ جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام غائب ہو کر آسمان پر چڑھ گئے تھے، اور دوسرا شخص آپ کی صورت بن کر گیا تو یہودیوں نے اس کو سولی پر چڑھا دیا، یہ مضمون اگرچہ انجیل کے چار مشہور نسخوں میں ہے، لیکن نصاریٰ نے ان میں تحریف کی ہے اور برنباس کی انجیل میں مضمون اسی طرح موجود ہے جیسے قرآن شریف میں ہے، اور اس میں رسول اکرم ﷺ کے پیدا ہونے کی بشارت بھی صاف طور سے موجود ہے، اور آپ کا نام مبارک بھی ہے کہ جب اللہ کے رسول محمد ﷺ آئیں گے تو میرے اوپر سے یہ اتہام رفع ہو گا کہ میں سولی دیا گیا، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں ایک سفید منارہ ۷۴۱ء میں وہاں پایا گیا اور یہ آپ کی نبوت کی ایک بڑی نشانی ہے، اور رسول اکرم ﷺ نے ایسی بہت ساری باتوں کی پیش گوئی کی ہے جو آپ کے عہد میں نہ تھیں من جملہ ان میں سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن جمع کیا کہ میرے ساتھ وہ لوگ بہت محبت کریں گے جو میرے بعد میرے اوپر ایمان لائیں گے، اور جو کچھ ورق (یعنی مصحف) میں ہو گا اس پر عمل کریں گے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پہلے میں نے ورق کو نہیں سمجھا تھا، جب عثمان رضی اللہ عنہ نے مصحف لکھوائے تو میں نے ورق کا معنی سمجھا، عثمان رضی اللہ عنہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس حدیث کے بیان کرنے پر دس ہزار درہم دیئے، اور بعض حدیثوں میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں اتریں گے اور بعض میں ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں لیکن بیت المقدس کی روایت بہت مشہور ہے، اور اردن اس سارے محلہ کا نام ہے جہاں پر بیت المقدس ہے، اور اگر وہاں اب سفید مینار نہیں ہے تو آئندہ بن جائے گا اور جس نے صحیح حدیث کا انکار کیا وہ جاہل اور گمراہ ہے۔

4076- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " سَيُوقِدُ الْمُسْلِمُونَ،مِنْ قِسِيِّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَنُشَّابِهِمْ وَأَتْرِسَتِهِمْ،سَبْعَ سِنِينَ "۔
* تخريج: أنظر ماقبلہ (صحیح)

۴۰۷۶- نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قریب ہے کہ مسلمان یاجوج و ماجوج کے تیر، کمان، اور ڈھال کو سات سال تک جلائیں گے''۔

4077- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْماعِيلَ بْنِ رَافِعٍ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَكَانَ أَكْثَرُ خُطْبَتِهِ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ عَنِ الدَّجَّالِ، وَحَذَّرَنَاهُ، فَكَانَ مِنْ قَوْلِهِ أَنْ قَالَ: " إِنَّهُ لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ مُنْذُ ذَرَأَ اللَّهُ ذُرِّيَّةَ آدَمَ، أَعْظَمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، وَأَنَا آخِرُ الأَنْبِيَاءِ، وَأَنْتُمْ آخِرُ الأُمَمِ، وَهُوَ خَارِجٌ فِيكُمْ، لا مَحَالَةَ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ، فَأَنَا حَجِيجٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ، وَإِنْ يَخْرُجْ مِنْ بَعْدِي، فَكُلُّ امْرِئٍ حَجِيجُ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ، فَيَعِيثُ يَمِينًا ويَعِيثُ شِمَالا، يَا عِبَادَ اللَّهِ! فَاثْبُتُوا، فَإِنِّي سَأَصِفُهُ لَكُمْ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا إِيَّاهُ نَبِيٌّ قَبْلِي، إِنَّهُ يَبْدَأُ فَيَقُولُ: أَنَا نَبِيٌّ وَلا نَبِيَّ بَعْدِي، ثُمَّ يُثْنِّي فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، وَلاتَرَوْنَ رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا، وَإِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ،وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ، كَاتِبٍ أَوْ غَيْرِ كَاتِبٍ، وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنَّ مَعَهُ جَنَّةً وَنَارًا، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ، فَمَنِ ابْتُلِيَ بِنَارِهِ، فَلْيَسْتَغِثْ بِاللَّهِ وَلْيَقْرَأْ فَوَاتِحَ الْكَهْفِ، فَتَكُونَ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلامًا، كَمَا كَانَتِ النَّارُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَقُولَ لأَعْرَابِيٍّ: أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأُمَّكَ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَتَمَثَّلُ لَهُ شَيْطَانَانِ فِي صُورَةِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَيَقُولانِ: يَا بُنَيَّ! اتَّبِعْهُ، فَإِنَّهُ رَبُّكَ، وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يُسَلَّطَ عَلَى نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، فَيَقْتُلَهَا، وَيَنْشُرَهَا بِالْمِنْشَارِ، حَتَّى يُلْقَى شِقَّتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولَ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا، فَإِنِّي أَبْعَثُهُ الآنَ، ثُمَّ يَزْعُمُ أَنَّ لَهُ رَبًّا غَيْرِي، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ، وَيَقُولُ لَهُ الْخَبِيثُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَأَنْتَ عَدُوُّ اللَّهِ، أَنْتَ الدَّجَّالُ، وَاللَّهِ! مَا كُنْتُ بَعْدُ أَشَدَّ بَصِيرَةً بِكَ مِنِّي الْيَوْمَ ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيُّ: فَحَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " ذَلِكَ الرَّجُلُ أَرْفَعُ أُمَّتِي دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ ". قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَاللَّهِ! مَا كُنَّا نُرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ إِلا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ،حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ .
قَالَ الْمُحَارِبِيُّ: ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى حَدِيثِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: " وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَأْمُرَ السَّمَاءَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ، وَيَأْمُرَ الأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ، وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَمُرَّ بِالْحَيِّ فَيُكَذِّبُونَهُ، فَلاتَبْقَى لَهُمْ سَائِمَةٌ إِلا هَلَكَتْ، وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَمُرَّ بِالْحَيِّ فَيُصَدِّقُونَهُ، فَيَأْمُرَ السَّمَاءَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ، وَيَأْمُرَ الأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ، حَتَّى تَرُوحَ مَوَاشِيهِمْ، مِنْ يَوْمِهِمْ ذَلِكَ أَسْمَنَ مَا كَانَتْ وَأَعْظَمَهُ، وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ، وَأَدَرَّهُ ضُرُوعًا، وَإِنَّهُ لا يَبْقَى شَيْئٌ مِنَ الأَرْضِ إِلا وَطِئَهُ وَظَهَرَ عَلَيْهِ، إِلا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ، لايَأْتِيهِمَا مِنْ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهِمَا إِلا لَقِيَتْهُ الْمَلائِكَةُ بِالسُّيُوفِ صَلْتَةً، حَتَّى يَنْزِلَ عِنْدَ الظُّرَيْبِ الأَحْمَرِ، عِنْدَ مُنْقَطَعِ السَّبَخَةِ، فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلاثَ رَجَفَاتٍ، فَلايَبْقَى مُنَافِقٌ وَلا مُنَافِقَةٌ إِلا خَرَجَ إِلَيْهِ، فَتَنْفِي الْخَبَثَ مِنْهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ،وَيُدْعَى ذَلِكَ الْيَوْمُ يَوْمَ الْخَلاصِ ".
فَقَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ بِنْتُ أَبِي الْعَكَرِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: " هُمْ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ، وَجُلُّهُمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَإِمَامُهُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَبَيْنَمَا إِمَامُهُمْ قَدْ تَقَدَّمَ يُصَلِّي بِهِمُ الصُّبْحَ، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ الصُّبْحَ، فَرَجَعَ ذَلِكَ الإِمَامُ يَنْكُصُ، يَمْشِي الْقَهْقَرَى، لِيَتَقَدَّمَ عِيسَى يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَيَضَعُ عِيسَى يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّ، فَإِنَّهَا لَكَ أُقِيمَتْ، فَيُصَلِّي بِهِمْ إِمَامُهُمْ، فَإِذَا انْصَرَفَ، قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلام: افْتَحُوا الْبَابَ، فَيُفْتَحُ،وَوَرَائَهُ الدَّجَّالُ، مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ يَهُودِيٍّ، كُلُّهُمْ ذُو سَيْفٍ مُحَلًّى وَسَاجٍ،فَإِذَا نَظَرَ إِلَيْهِ الدَّجَّالُ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ، وَيَنْطَلِقُ هَارِبًا، وَيَقُولُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلام: إِنَّ لِي فِيكَ ضَرْبَةً لَنْ تَسْبِقَنِي بِهَا، فَيُدْرِكُهُ عِنْدَ بَابِ اللُّدِّ الشَّرْقِيِّ فَيَقْتُلُهُ، فَيَهْزِمُ اللَّهُ الْيَهُودَ، فَلايَبْقَى شَيْئٌ مِمَّا خَلَقَ اللَّهُ يَتَوَارَى بِهِ يَهُودِيٌّ إِلا أَنْطَقَ اللَّهُ ذَلِكَ الشَّيْئَ، لا حَجَرَ وَلا شَجَرَ وَلاحَائِطَ وَلا دَابَّةَ (إِلا الْغَرْقَدَةَ، فَإِنَّهَا مِنْ شَجَرِهِمْ، لا تَنْطِقُ ) إِلا قَالَ: يَا عَبْدَاللَّهِ الْمُسْلِمَ! هَذَا يَهُودِيٌّ، فَتَعَالَ اقْتُلْهُ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " وَإِنَّ أَيَّامَهُ أَرْبَعُونَ سَنَةً، السَّنَةُ كَنِصْفِ السَّنَةِ، وَالسَّنَةُ كَالشَّهْرِ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَآخِرُ أَيَّامِهِ كَالشَّرَرَةِ، يُصْبِحُ أَحَدُكُمْ عَلَى بَابِ الْمَدِينَةِ،فَلا يَبْلُغُ بَابَهَا الآخَرَ حَتَّى يُمْسِيَ " فَقِيلَ لَهُ: يَارَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ نُصَلِّي فِي تِلْكَ الأَيَّامِ الْقِصَارِ؟ قَالَ: " تَقْدُرُونَ فِيهَا الصَّلاةَ كَمَا تَقْدُرُونَهَا فِي هَذِهِ الأَيَّامِ الطِّوَالِ، ثُمَّ صَلُّوا "، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "فَيَكُونُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلام فِي أُمَّتِي حَكَمًا عَدْلا، وَإِمَامًا مُقْسِطًا، يَدُقُّ الصَّلِيبَ، وَيَذْبَحُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيَتْرُكُ الصَّدَقَةَ، فَلا يُسْعَى عَلَى شَاةٍ وَلابَعِيرٍ، وَتُرْفَعُ الشَّحْنَاءُ وَالتَّبَاغُضُ، وَتُنْزَعُ حُمَةُ كُلِّ ذَاتِ حُمَةٍ، حَتَّى يُدْخِلَ الْوَلِيدُ يَدَهُ فِي فِي الْحَيَّةِ، فَلا تَضُرَّهُ، وَتُفِرَّ الْوَلِيدَةُ الأَسَدَ، فَلا يَضُرُّهَا، وَيَكُونَ الذِّئْبُ فِي الْغَنَمِ كَأَنَّهُ كَلْبُهَا، وَتُمْلأُ الأَرْضُ مِنَ السِّلْمِ كَمَا يُمْلأُ الإِنَاءُ مِنَ الْمَاءِ، وَتَكُونُ الْكَلِمَةُ وَاحِدَةً، فَلا يُعْبَدُ إِلا اللَّهُ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا، وَتُسْلَبُ قُرَيْشٌ مُلْكَهَا، وَتَكُونُ الأَرْضُ كَفَاثُورِ الْفِضَّةِ، تُنْبِتُ نَبَاتَهَا بِعَهْدِ آدَمَ، حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّفَرُ عَلَى الْقِطْفِ مِنَ الْعِنَبِ فَيُشْبِعَهُمْ، وَيَجْتَمِعَ النَّفَرُ عَلَى الرُّمَّانَةِ فَتُشْبِعَهُمْ، وَيَكُونَ الثَّوْرُ بِكَذَا وَكَذَا، مِنَ الْمَالِ، وَتَكُونَ الْفَرَسُ بِالدُّرَيْهِمَاتِ "، قَالُوا: يَارَسُولَ اللَّهِ! وَمَا يُرْخِصُ الْفَرَسَ؟ قَالَ: " لا تُرْكَبُ لِحَرْبٍ أَبَدًا " قِيلَ لَهُ: فَمَا يُغْلِي الثَّوْرَ؟ قَالَ: " تُحْرَثُ الأَرْضُ كُلُّهَا، وَإِنَّ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ ثَلاثَ سَنَوَاتٍ شِدَادٍ، يُصِيبُ النَّاسَ فِيهَا جُوعٌ شَدِيدٌ، يَأْمُرُ اللَّهُ السَّمَاءَ فِي السَّنَةِ الأُولَى أَنْ تَحْبِسَ ثُلُثَ مَطَرِهَا، وَيَأْمُرُ الأَرْضَ، فَتَحْبِسُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، ثُمَّ يَأْمُرُ السَّمَاءَ فِي الثَّانِيَةِ، فَتَحْبِسُ ثُلُثَيْ مَطَرِهَا، وَيَأْمُرُ الأَرْضَ، فَتَحْبِسُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا، ثُمَّ يَأْمُرُ اللَّهُ السَّمَاءَ فِي السَّنَةِ الثَّالِثَةِ، فَتَحْبِسُ مَطَرَهَا كُلَّهُ، فَلا تُقْطِرُ قَطْرَةً، وَيَأْمُرُ الأَرْضَ، فَتَحْبِسُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ، فَلا تُنْبِتُ خَضْرَاءَ، فَلا تَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ إِلا هَلَكَتْ، إِلا مَا شَاءَ اللَّهُ ". قِيلَ: فَمَا يُعِيشُ النَّاسُ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ؟ قَالَ: " التَّهْلِيلُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ، وَيُجْرَى ذَلِكَ عَلَيْهِمْ مُجْرَى الطَّعَامِ ".
قَالَ أَبو عَبْداللَّهِ: سَمِعْت أَبَا الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيَّ يَقُولُ: يَنْبَغِي أَنْ يُدْفَعَ هَذَا الْحَدِيثُ إِلَى الْمُؤَدِّبِ،حَتَّى يُعَلِّمَهُ الصِّبْيَانَ فِي الْكُتَّابِ ۔
* تخريج: د/الملاحم ۱۴ (۴۳۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۹۶) (ضعیف)
(سند میں اسماعیل بن رافع ضعیف راوی ہیں، اور عبد الرحمن محاربی مدلس ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، بعض ٹکڑے صحیح مسلم میں ہیں)
۴۰۷۷- ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، آپ کے خطبے کا اکثر حصہ دجال والی وہ حدیث تھی جو آپ نے ہم سے بیان کی، اور ہم کو اس سے ڈرایا، آپ ﷺ نے جو کچھ فرمایا اس میں یہ بات بھی تھی کہ ''جب سے اللہ تعالی نے اولاد آدم کو پیدا کیا ہے اس وقت سے دجال کے فتنے سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہے، اور اللہ تعالی نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو (فتنہ) دجال سے نہ ڈرایا ہو، میں چونکہ تمام انبیاء علیہم السلام کے اخیر میں ہوں، اور تم بھی آخری امت ہو اس لئے دجال یقینی طور پر تم ہی لوگوں میں ظاہر ہو گا، اگر وہ میری زندگی میں ظاہر ہو گیا تو میں ہر مسلمان کی جانب سے اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر وہ میرے بعد ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اپنا بچاؤ کرے گا، اور اللہ تعالی ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے، (یعنی اللہ میرے بعد ہر مسلمان کا محا فظ ہو گا)، سنو! دجال شام و عراق کے درمیانی راستے سے نکلے گا اور اپنے دائیں بائیں ہر طرف فساد پھیلائے گا، اے اللہ کے بندو! (اس وقت) ایمان پر ثابت قدم رہنا، میں تمہیں اس کی ایک ایسی صفت بتاتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہیں بتائی، پہلے تو وہ نبوت کا دعوی کرے گا، اور کہے گا: ''میں نبی ہوں''، حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، پھر دوسری بار کہے گا کہ ''میں تمہارا رب ہوں''، حالاں کہ تم اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتے، وہ کانا ہو گا، اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے، اور دجال کی پیشانی پر لفظ ''کافر'' لکھا ہو گا، جسے ہر مومن خواہ پڑھا لکھا ہو یا جاہل پڑھ لے گا۔
اور اس کا ایک فتنہ یہ ہو گا کہ اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہو گی، لیکن حقیقت میں اس کی جہنم جنت ہو گی، اور جنت جہنم ہو گی، تو جو اس کی جہنم میں ڈالا جائے، اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے فریاد کرے، اور سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے تو وہ جہنم اس پر ایسی ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے گی جیسے ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اور اس دجال کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک گنوار دیہاتی سے کہے گا: اگر میں تیرے والدین کو زندہ کر دوں تو کیا تو مجھے رب تسلیم کرے گا؟ وہ کہے گا: ہاں، پھر دو شیطان اس کے باپ اور اس کی ماں کی شکل میں آئیں گے اور اس سے کہیں گے: اے میرے بیٹے! تو اس کی اطاعت کر، یہ تیرا رب ہے۔
ایک فتنہ اس کا یہ ہو گا کہ وہ ایک شخص پر مسلط کر دیا جائے گا، پھر اسے قتل کر دے گا، اور اسے آرے سے چیر دے گا یہاں تک کہ اس کے دو ٹکڑے کر کے ڈال دے گا، پھر کہے گا: تم میرے اس بندے کو دیکھو، میں اس بندے کو اب زندہ کرتا ہوں، پھر وہ کہے گا: میرے علاوہ اس کا کوئی اور رب ہے، تو اللہ تعالی اسے زندہ کرے گا، اور دجال خبیث اس سے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: میرا رب تو اللہ ہے، اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے، اللہ کی قسم! اب تو مجھے تیرے دجال ہونے کا مزید یقین ہو گیا''۔
ابو الحسن طنافسی کہتے ہیں کہ ہم سے محاربی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبید اللہ بن ولید وصافی نے بیان کیا، انہوں نے عطیہ سے روایت کی، عطیہ نے ابو سعید خدری سے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری امت میں سے اس شخص کا درجہ جنت میں بہت اونچا ہو گا''۔
ابو سعید خدری کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہمارا خیال تھا کہ یہ شخص سوائے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے کوئی نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ وہ اپنی راہ گزر گئے۔ محاربی کہتے ہیں کہ اب ہم پھر ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جو ابو رافع نے روایت کی ہے بیان کرتے ہیں کہ ''دجال کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ آسمان کو پانی برسانے اور زمین کو غلہ اگانے کا حکم دے گا، چنانچہ بارش نازل ہو گی، اورغلہ اگے گا، اور اس کا فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس گزرے گا، وہ لوگ اس کو جھوٹا کہیں گے، تو ان کا کوئی چوپایہ باقی نہ رہے گا، بلکہ سب ہلا ک ہو جائیں گے۔
اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس گزرے گا، وہ لوگ اس کی تصدیق کریں گے، پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ برسے گا، اور زمین کو غلہ و اناج اگانے کا حکم دے گا تو وہ غلہ اگائے گی، یہاں تک کہ اس دن شام کو چرنے والے ان کے جانور پہلے سے خوب موٹے بھاری ہو کر لوٹیں گے، کوکھیں بھری ہوئی، اور تھن دودھ سے لبریز ہوں گے، مکہ اور مدینہ کو چھوڑ کر زمین کا کوئی خطہ ایسا نہ ہو گا جہاں دجال نہ جائے، اور اس پر غالب نہ آئے، مکہ اور مدینہ کا کوئی دروازہ ایسا نہ ہو گا جہاں فرشتے ننگی تلواروں کے ساتھ اس سے نہ ملیں، یہاں تک کہ دجال ایک چھوٹی سرخ پہاڑی کے پاس اترے گا، جہاں کھاری زمین ختم ہوئی ہے، اس وقت مدینہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا، جس کی وجہ سے مدینہ میں جتنے مرد اور عورتیں منافق ہوں گے وہ اس کے پاس چلے جائیں گے اور مدینہ میل کو ایسے نکال پھینکے گا جیسے بھٹی لوہے کی میل کو دور کر دیتی ہے، اور اس دن کا نام یوم الخلاص (چھٹکارے کا دن، یوم نجات) ہو گا''۔
أم شریک بنت ابی العسکر نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس روز عرب بہت کم ہوں گے اور ان میں سے اکثر بیت المقدس میں ایک صالح امام کے ماتحت ہوں گے، ایک روز ان کا امام آگے بڑھ کر لوگوں کو صبح کی صلاۃ پڑھانے کے لیے کھڑا ہو گا، کہ اتنے میں عیسی بن مریم علیہما السلام صبح کے وقت نازل ہوں گے، تو یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹ آنا چاہے گا تاکہ عیسی علیہ السلام آگے بڑھ کر لوگوں کو صلاۃ پڑھا سکیں، لیکن عیسی علیہ السلام اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ کر فرمائیں گے کہ تم ہی آگے بڑھ کر صلاۃ پڑھاؤ اس لئے کہ تمہارے ہی لئے تکبیر کہی گئی ہے، خیر وہ امام لوگوں کو صلاۃ پڑھائے گا، جب وہ صلاۃ سے فارغ ہو گا تو عیسی علیہ السلام (قلعہ والوں سے) فرمائیں گے کہ دروازہ کھولو، تو دروازہ کھول دیا جائے گا، اس (دروازے) کے پیچھے دجال ہو گا، اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، ہر یہودی کے پاس سونا چاندی سے مرصع و مزین تلوار اور سبز چادر ہو گی، جب یہ دجال عیسی علیہ السلام کو دیکھے گا، تو اس طرح گھلے گا جس طرح پانی میں نمک گھل جاتا ہے، اور وہ انہیں دیکھ کر بھاگ کھڑا ہو گا، عیسی علیہ السلام اس سے کہیں گے: تجھے میرے ہاتھ سے ایک ضرب کھانی ہے تو اس سے بچ نہ سکے گا، آخر کار وہ اسے لُد کے مشرقی دروازے کے پاس پکڑ لیں گے، اور اسے قتل کر دیں گے، پھر اللہ تعالی یہودیوں کو شکست دے گا، اور یہودی اللہ تعالی کی مخلوقات میں سے جس چیز کی بھی آڑ میں چھپے گا، خواہ وہ درخت ہو یا پتھر، دیوار ہو یا جانور، اس چیز کو اللہ تعالی بولنے کی طاقت دے گا، اور ہر چیز کہے گی: اے اللہ کے مسلمان بندے! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، اسے آکر قتل کر دے، سوائے ایک درخت کے جس کو غرقد کہتے ہیں، یہ یہودیوں کے درختوں میں سے ایک درخت ہے یہ نہیں بولے گا''۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''دجال چالیس سال تک رہے گا، جن میں سے ایک سال چھ مہینہ کے برابر ہو گا، اور ایک سال ایک مہینہ کے برابر ہو گا، اور ایک مہینہ جمعہ (ایک ہفتہ) کے برابر اور دجال کے باقی دن ایسے گزر جائیں گے جیسے چنگاری اڑ جاتی ہے، اگر تم میں سے کوئی مدینہ کے ایک دروازے پر صبح کے وقت ہو گا، تو اسے دوسرے دروازے پر پہنچتے پہنچتے شام ہو جائے گی''، آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اتنے چھوٹے دنوں میں ہم صلاۃ کس طرح پڑھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''جس طرح تم ان بڑے دنوں میں اندازہ کر کے پڑھتے ہو اسی طرح ان (چھوٹے) دنوں میں بھی اندازہ کر کے پڑھ لینا''۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عیسی علیہ السلام میری امت میں ایک عادل حاکم اور منصف امام ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ اٹھا دیں گے، اور صدقہ و زکاۃ لینا چھوڑ دیں گے، تو یہ بکریوں اور گھوڑوں پر وصول نہیں کیا جائے گا، لوگوں کے دلوں سے کینہ اور بغض اٹھ جائے گا، اور ہر قسم کے زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا، حتی کہ اگر بچہ سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈالے گا تو وہ اسے نقصان نہ پہنچائے گا، اور بچی شیر کو بھگائے گی تو وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، بھیڑیا بکریوں میں اس طرح رہے گا جس طرح محافظ کتا بکریوں میں رہتا ہے، زمین صلح اور انصاف سے ایسے بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جاتا ہے، اور (سب لوگوں کا) کلمہ ایک ہو جائے گا، اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے گی، لڑائی اپنے سامان رکھ دے گی (یعنی دنیا سے لڑائی اٹھ جائے گی) قریش کی سلطنت جاتی رہے گی، اور زمین چاندی کی طشتری کی طرح ہو گی، اپنے پھل اور ہریالی ایسے اگائے گی جس طرح آدم کے عہد میں اگایا کرتی تھی، یہاں تک کہ انگور کے ایک خوشے پر ایک جماعت جمع ہو جائے گی تو سب آسودہ ہو جائیں گے، اور ایک انار پر ایک جماعت جمع ہو جائے گی تو سب آسودہ ہو جائیں گے، اور بیل اتنے اتنے داموں میں ہوں گے، اور گھوڑے چند درہموں میں ملیں گے''، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھوڑے کیوں سستے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''لڑائی کے لئے گھوڑوں پر سواری نہیں ہو گی''، پھر آپ سے عرض کیا گیا: بیل کیوں مہنگا ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ساری زمین میں کھیتی ہو گی اور دجال کے ظہور سے پہلے تین سال تک سخت قحط ہو گا، ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے، پہلے سال اللہ تعالی آسمان کو تہائی بارش روکنے اور زمین کو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، پھر دوسرے سال آسمان کو دو تہائی بارش روکنے اور زمین کو دو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، اور تیسرے سال اللہ تعالی آسمان کو یہ حکم دے گا کہ بارش بالکل روک لے پس ایک قطرہ بھی بارش نہ ہو گی، اور زمین کو یہ حکم دے گا کہ وہ اپنے سارے پودے روک لے تو وہ اپنی تمام پیداوار روک لے گی، نہ کوئی گھاس اُگے گی، نہ کوئی سبزی، بالآخر کھر والے جانور (گائے بکری وغیرہ چوپائے) سب ہلاک ہو جائیں گے، کوئی باقی نہ بچے گا مگر جسے اللہ بچا لے''، عرض کیا گیا: پھر اس وقت لوگ کس طرح زندہ رہیں گے؟ آپ نے فرمایا: تہلیل (لا إله إلاَّ الله) تکبیر (الله أكبر) تسبیح (سبحان الله) اور تحمید (الحمد لله) کا کہنا، ان کے لئے غذا کا کام دے گا۔
ابو عبد اللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے ابو الحسن طنافسی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے عبد الرحمن محاربی سے سنا وہ کہتے تھے: یہ حدیث تو اس لا ئق ہے کہ مکتب کے استادوں کو دے دی جائے تاکہ وہ مکتب میں بچوں کو یہ حدیث پڑھائیں۱؎۔

وضاحت۱؎: یہ اس حدیث کے مخالف نہیں ہے کہ دجال چالیس دن رہے گا کیونکہ وہ لمبے چالیس دنوں کا ذکر ہے اور یہ چالیس برس اس کے سوا ہیں جن میں دن معمولی مقدار سے چھوٹے ہوں گے اور بعضوں نے کہا کہ دجال کے زمانہ میں کبھی دن چھوٹا ہو گا کبھی بڑا۔
وضاحت۲؎: کیونکہ اس میں دجال کا پورا حال مذکور ہے، اور بچوں کو اس کا یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ دجال کی اچھی طرح پہچان رکھیں اور اس کے فتنے میں گرفتار نہ ہوں، اللہ تعالی ہر مسلمان کو دجال کے فتنے سے بچائے، رسول اکرم ﷺ ہر صلاۃ میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔

4078- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، وَإِمَامًا عَدْلا، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ "۔
* تخريج: خ/البیوع ۱۰۲ (۲۲۲۲)، المظالم ۳۱ (۲۴۷۶)، أحادیث الأنبیاء ۴۹ (۳۴۴۸، ۳۴۴۹)، م/الإیمان ۷۱ (۱۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۳۵)، وقد أخرجہ: د/الملاحم ۱۴ (۴۳۲۴)، ت/الفتن ۵۴ (۲۲۳۳)، حم (۲/۲۴۰، ۲۷۲) (صحیح)

۴۰۷۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک عیسی بن مریم عادل حاکم اور منصف امام بن کر نازل نہ ہوں، وہ آکر صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، اور جزیہ کو معاف کر دیں گے، اور مال اس قدر زیادہ ہو گا کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہو گا''۔

4079- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " تُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، فَيَخْرُجُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} فَيَعُمُّونَ الأَرْضَ، وَيَنْحَازُ مِنْهُمُ الْمُسْلِمُونَ، حَتَّى تَصِيرَ بَقِيَّةُ الْمُسْلِمِينَ فِي مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ، حَتَّى أَنَّهُمْ لَيَمُرُّونَ بِالنَّهَرِ فَيَشْرَبُونَهُ، حَتَّى مَا يَذَرُونَ فِيهِ شَيْئًا فَيَمُرُّ آخِرُهُمْ عَلَى أَثَرِهِمْ، فَيَقُولُ قَائِلُهُمْ: لَقَدْ كَانَ بِهَذَا الْمَكَانِ، مَرَّةً، مَائٌ، وَيَظْهَرُونَ عَلَى الأَرْضِ، فَيَقُولُ قَائِلُهُمْ: هَؤُلاءِ أَهْلُ الأَرْضِ، قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ، وَلَنُنَازِلَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَهُزُّ حَرْبَتَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ مُخَضَّبَةً بِالدَّمِ، فَيَقُولُونَ: قَدْ قَتَلْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ،فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ دَوَابَّ كَنَغَفِ الْجَرَادِ، فَتَأْخُذُ بِأَعْنَاقِهِمْ فَيَمُوتُونَ مَوْتَ الْجَرَادِ، يَرْكَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَيُصْبِحُ الْمُسْلِمُونَ لا يَسْمَعُونَ لَهُمْ حِسًّا، فَيَقُولُونَ: مَنْ رَجُلٌ يَشْرِي نَفْسَهُ، وَيَنْظُرُ مَا فَعَلُوا؟ فَيَنْزِلُ مِنْهُمْ رَجُلٌ قَدْ وَطَّنَ نَفْسَهُ عَلَى أَنْ يَقْتُلُوهُ، فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى، فَيُنَادِيهِمْ: أَلا أَبْشِرُوا، فَقَدْ هَلَكَ عَدُوُّكُمْ، فَيَخْرُجُ النَّاسُ وَيَخْلُونَ سَبِيلَ مَوَاشِيهِمْ، فَمَا يَكُونُ لَهُمْ رَعْيٌ إِلا لُحُومُهُمْ، فَتَشْكَرُ عَلَيْهَا، كَأَحْسَنِ مَا شَكِرَتْ مِنْ نَبَاتٍ أَصَابَتْهُ قَطُّ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۹۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۷۷) (حسن صحیح)

۴۰۷۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، پھر وہ باہر آئیں گے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ } [سورة الأنبياء: ۹۶] (یہ لوگ ہر اونچی زمین سے دوڑتے آئیں گے) پھر ساری زمین میں پھیل جائیں گے، اور مسلمان ان سے علاحدہ رہیں گے، یہاں تک کہ جو مسلمان باقی رہیں گے وہ اپنے شہروں اور قلعوں میں اپنے مویشیوں کو لے کر پناہ گزیں ہو جائیں گے، یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج نہر سے گزریں گے، اس کا سارا پانی پی کر ختم کر دیں گے، اس میں کچھ بھی نہ چھوڑیں گے، جب ان کے پیچھے آنے والوں کا وہا\ں پر گزر ہو گا تو ان میں کا کوئی یہ کہے گا کہ کسی زمانہ میں یہاں پانی تھا، اور وہ زمین پر غالب آجائیں گے، تو ان میں سے کوئی یہ کہے گا: ان اہل زمین سے تو ہم فارغ ہو گئے، اب ہم آسمان والوں سے لڑیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک اپنا نیزہ آسمان کی طرف پھینکے گا، وہ خون میں رنگا ہوا لوٹ کر گر ے گا، پس وہ کہیں گے: ہم نے آسمان والوں کو بھی قتل کر دیا، خیر یہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالی چند جانور بھیجے گا، جو ٹڈی کے کیڑوں کی طرح ہوں گے، جو ان کی گردنوں میں گھس جائیں گے، یہ سب کے سب ٹڈیوں کی طرح مر جائیں گے، ان میں سے ایک پر ایک پڑا ہو گا، اور جب مسلمان اس دن صبح کو اٹھیں گے، اور ان کی آہٹ نہیں سنیں گے تو کہیں گے: کوئی ایسا ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کے انہیں دیکھ کر آئے کہ یاجوج ماجوج کیا ہوئے؟ چنانچہ مسلمانوں میں سے ایک شخص (قلعہ سے) ان کا حال جاننے کے لئے نیچے اترے گا، اور دل میں خیال کرے گا کہ وہ مجھ کو ضرور مار ڈالیں گے، خیر وہ انہیں مردہ پائے گا، تو مسلمانوں کو پکار کر کہے گا: سنو! خوش ہو جاؤ! تمہارا دشمن ہلاک ہو گیا، یہ سن کر لوگ نکلیں گے اور اپنے جانور چرنے کے لئے آزاد چھوڑیں گے، اور ان کے گو شت کے سوا کوئی چیز انہیں کھانے کے لئے نہ ملے گی، اس وجہ سے ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہوں گے، جس طرح کبھی گھاس کھا کر موٹے ہوئے تھے''۔

4080- حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ يَحْفِرُونَ كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ، قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمُ: ارْجِعُوا فَسَنَحْفِرُهُ غَدًا، فَيُعِيدُهُ اللَّهُ أَشَدَّ مَا كَانَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ، وَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ، حَفَرُوا، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ، قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمُ: ارْجِعُوا، فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، وَاسْتَثْنَوْا، فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ، وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ فَيُنْشِفُونَ الْمَاءَ، وَيَتَحَصَّنُ النَّاسُ مِنْهُمْ فِي حُصُونِهِمْ، فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ عَلَيْهَا الدَّمُ الَّذِي اجْفَظَّ، فَيَقُولُونَ: قَهَرْنَا أَهْلَ الأَرْضِ، وَعَلَوْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ،فَيَبْعَثُ اللَّهُ نَغَفًا فِي أَقْفَائِهِمْ فَيَقْتُلُهُمْ بِهَا " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! إِنَّ دَوَابَّ الأَرْضِ لَتَسْمَنُ وَتَشْكَرُ شَكَرًا مِنْ لُحُومِهِمْ "۔
* تخريج: ت/التفسیر ۱۹ (۳۱۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۵۱۰، ۵۱۱) (صحیح)

۴۰۸۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' یاجوج و ماجوج ہر روز (اپنی دیوار) کھودتے ہیں یہاں تک کہ جب قریب ہوتا ہے کہ سورج کی روشنی ان کو دکھائی دے تو جو شخص ان کا سر دار ہوتا ہے وہ کہتا ہے: اب لوٹ چلو (باقی) کل کھو دیں گے، پھر اللہ تعالی اسے ویسی ہی مضبوط کر دیتا ہے جیسی وہ پہلے تھی، یہاں تک کہ جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی، اور اللہ تعالی کو ان کا خروج منظور ہو گا، تو وہ (عادت کے مطابق) دیوار کھودیں گے جب کھودتے کھودتے قریب ہو گا کہ سورج کی روشنی دیکھیں تو اس وقت ان کا سردار کہے گا کہ اب لوٹ چلو، ان شاء اللہ کل کھودیں گے، اور ان شاء اللہ کا لفظ کہیں گے، چنانچہ (اس دن) وہ لوٹ جائیں گے، اور دیو ار اسی حال پر رہے گی، جیسے وہ چھوڑ گئے تھے، پھر وہ صبح آکر اسے کھودیں گے اور اسے کھود کر باہر نکلیں گے، اور سارا پانی پی کر ختم کر دیں گے، اور لوگ (اس وقت) بھاگ کر اپنے قلعوں میں محصور ہو جائیں گے، یہ لوگ (زمین پر پھیل کر) آسمان کی جانب اپنے تیر ماریں گے، تو ان کے تیر خون میں لت پت ان کے پاس لوٹیں گے، وہ کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو تو مغلوب کیا، اور آسمان والوں پر بھی غالب ہوئے، پھر اللہ تعالی ان کی گدیوں (گردنوں) میں کیڑے پیدا فرمائے گا جو انہیں مار ڈالیں گے''، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین کے جانور ان کا گوشت اور چربی کھا کر خوب موٹے ہوں گے''۱؎۔
وضاحت۱؎: حالانکہ گائے بیل بکری اونٹ وغیرہ چوپائے گوشت نہیں کھاتے مگر چارہ نہ ہونے کی وجہ سے یاجوج کا گوشت کھائیں گے اور کھا کر خوب موٹے ہو جائیں گے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یا جوج قیامت تک اس سد (باندھ) سے رُکے رہیں گے، جب ان کے چھوٹنے کا وقت آئے گا تو سد (باندھ) ٹوٹ جائے گا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یا جوج و ماجوج محض صحرائی اور وحشی ہوں گے جب تو تیر و کمان ان کا ہتھیار ہو گا، اور جہالت کی وجہ سے آسمان پر تیر ماریں گے وہ یہ نہیں جانیں گے کہ آسمان زمین سے اتنی دور ہے کہ برسوں تک بھی اگر تیر ان کا چلا جائے تو وہاں تک مشکل سے پہنچے گا۔

4081- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ عَفَازَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، لَقِيَ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى، فَتَذَاكَرُوا السَّاعَةَ، فَبَدَئُوا بِإِبْرَاهِيمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ، ثُمَّ سَأَلُوا مُوسَى، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ، فَرُدَّ الْحَدِيثُ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فَقَالَ: قَدْ عُهِدَ إِلَيَّ فِيمَا دُونَ وَجْبَتِهَا، فَأَمَّا وَجْبَتُهَا فَلا يَعْلَمُهَا إِلا اللَّهُ، فَذَكَرَ خُرُوجَ الدَّجَّالِ، قَالَ: فَأَنْزِلُ فَأَقْتُلُهُ، فَيَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلادِهِمْ، فَيَسْتَقْبِلُهُمْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَلا يَمُرُّونَ بِمَائٍ إِلا شَرِبُوهُ، وَلا بِشَيْئٍ إِلا أَفْسَدُوهُ، فَيَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ، فَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمْ، فَتَنْتُنُ الأَرْضُ مِنْ رِيحِهِمْ، فَيَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ، فَأَدْعُو اللَّهَ، فَيُرْسِلُ السَّمَاءَ بِالْمَاءِ، فَيَحْمِلُهُمْ فَيُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ، ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّ الأَرْضُ مَدَّ الأَدِيمِ، فَعُهِدَ إِلَيَّ: مَتَى كَانَ ذَلِكَ، كَانَتِ السَّاعَةُ مِنَ النَّاسِ كَالْحَامِلِ الَّتِي لايَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَؤُهُمْ بِوِلادَتِهَا، قَالَ الْعَوَّامُ: وَوُجِدَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى {حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ}۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۹۰، ومصباح الزجاجۃ:۱۴۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۵) (ضعیف)
(مؤثر بن عفازہ مقبول عند المتابعہ ہیں، متابعت کی نہ ہونے وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن بعض ٹکڑے صحیح مسلم میں ہیں)
۴۰۸۱- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسراء (معراج) کی رات رسول اللہ ﷺ نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی، تو سب نے آپس میں قیامت کا ذکر کیا، پھر سب نے پہلے ابراہیم علیہ السلام سے قیامت کے متعلق پوچھا، لیکن انہیں قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، تو انہیں بھی قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: قیامت کے آدھمکنے سے کچھ پہلے (دنیا میں جانے کا) مجھ سے وعدہ لیا گیا ہے، لیکن قیامت کے آنے کا صحیح علم صرف اللہ ہی کو ہے (کہ وہ کب قائم ہو گی)، پھر عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے ظہور کا تذکرہ کیا، اور فرمایا: میں (زمین پر) اتر کر اسے قتل کروں گا، پھر لوگ اپنے اپنے شہروں (ملکوں) کو لوٹ جائیں گے، اتنے میں یاجوج و ماجوج ان کے سامنے آئیں گے، اور ہر بلندی سے وہ چڑھ دوڑیں گے، وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے، اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے، اسے تباہ و برباد کر دیں گے، پھر لوگ اللہ سے دعا کرنے کی در خواست کریں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا کہ انہیں مار ڈالے (چنانچہ وہ سب مر جائیں گے) ان کی لاشوں کی بو سے تمام زمین بدبودار ہو جائے گی، لوگ پھر مجھ سے دعا کے لئے کہیں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کروں گا، تو اللہ تعالی آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جو ان کی لاشیں اٹھا کر سمندر میں بہا لے جائے گی، اس کے بعد پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئیے جائیں گے، اور زمین چمڑے کی طرح کھینچ کر دراز کر دی جائے گی، پھر مجھے بتایا گیا ہے کہ جب یہ باتیں ظاہر ہوں تو قیامت لوگوں سے ایسی قریب ہو گی جس طرح حاملہ عورت کے حمل کا زمانہ پورا ہو گیا ہو، اور وہ اس انتظار میں ہو کہ کب ولادت کا وقت آئے گا، اور اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہ ہو۔
عوام (بن حوشب) کہتے ہیں کہ اس واقعہ کی تصدیق اللہ کی کتاب میں موجود ہے: {حتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} (سورة الأنبياء: ۹۶) (یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، تو پھر وہ ہر ایک ٹیلے پر سے چڑھ دوڑیں گے)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ
۳۴- باب: مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان​

4082- حدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِذْ أَقْبَلَ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ ﷺ، اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ وَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا نَزَالُ نَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا نَكْرَهُهُ، فَقَالَ: " إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ اخْتَارَ اللَّهُ لَنَا الآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا، وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي سَيَلْقَوْنَ بَعْدِي بَلائً وَتَشْرِيدًا وَتَطْرِيدًا، حَتَّى يَأْتِيَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَهُمْ رَايَاتٌ سُودٌ، فَيَسْأَلُونَ الْخَيْرَ، فَلايُعْطَوْنَهُ، فَيُقَاتِلُونَ فَيُنْصَرُونَ، فَيُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا، فَلا يَقْبَلُونَهُ، حَتَّى يَدْفَعُوهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا، كَمَا مَلَئُوهَا جَوْرًا، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَلْيَأْتِهِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۶۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۴۱) (ضعیف)
(سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں)
۴۰۸۲- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں بنی ہاشم کے چند نوجوان آئے، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا، تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں، اور آپ کا رنگ بدل گیا، میں نے عرض کیا: ہم آپ کے چہرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور دیکھتے ہیں جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے (یعنی آپ کے رنج سے ہمیشہ صدمہ ہوتا ہے)، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہم اس گھرانے والے ہیں جن کے لئے اللہ نے دنیا کے مقابلے آخرت پسند کی ہے، میرے بعد بہت جلد ہی میرے اہل بیت مصیبت، سختی، اخراج اور جلا وطنی میں مبتلا ہوں گے، یہا ں تک کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے، جن کے ساتھ سیاہ جھنڈے ہوں گے، وہ خیر (خزانہ) طلب کریں گے، لوگ انہیں نہ دیں گے تو وہ لوگوں سے جنگ کریں گے، اور (اللہ کی طرف سے) ان کی مدد ہو گی، پھر وہ جو مانگتے تھے وہ انہیں دیا جائے گا، (یعنی لوگ ان کی حکومت پر راضی ہو جائیں گے اور خزانہ سونپ دیں گے)، یہ لوگ اس وقت اپنے لئے حکومت قبول نہ کریں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو یہ خزانہ اور حکومت سونپ دیں گے، وہ شخص زمین کو اس طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اسے ظلم سے بھر دیا تھا، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس زمانہ کو پائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ( لشکر میں) شریک ہو، اگرچہ اسے گھٹنوں کے بل برف پر کیوں نہ چلنا پڑے''۔

4083- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ، إِنْ قُصِرَ، فَسَبْعٌ، وَإِلا فَتِسْعٌ، فَتَنْعَمُ فِيهِ أُمَّتِي نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا قَطُّ، تُؤْتَى أُكُلَهَا، وَلا تَدَّخِرُ مِنْهُمْ شَيْئًا، وَالْمَالُ يَوْمَئِذٍ كُدُوسٌ، فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: يَامَهْدِيُّ! أَعْطِنِي، فَيَقُولُ: خُذْ "۔
* تخريج: ت/الفتن ۵۳ (۲۲۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۷۶)، وقد أخرجہ: د/المھدي ۱ (۴۲۸۵)، حم (۳/۲۱، ۲۶) (حسن)
(سند میں زید العمی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)
۴۰۸۳- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''میری امت میں مہدی ہوں گے، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے، ورنہ نو برس رہیں گے، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہو گی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا: اے مہدی! مجھے کچھ دیں، وہ جواب دیں گے: لے لو (اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے)''۱؎۔
وضاحت۱؎: مہدی کے معنی لغت میں ہدایت پایا ہوا کے ہیں، اور اسی سے ہیں مہدی آخر الزمان، زرکشی کہتے ہیں کہ یہ وہ مہدی ہیں، جو عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے اور ان کے ساتھ صلاۃ پڑھیں گے، اور قسطنطنیہ کو نصاری سے چھین لیں گے اور عرب و عجم کے مالک ہو جائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور مسجد حرام میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت کی جائے گی۔

4084- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَقْتَتِلُ عِنْدَ كَنْزِكُمْ ثَلاثَةٌ، كُلُّهُمُ ابْنُ خَلِيفَةٍ، ثُمَّ لا يَصِيرُ إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّايَاتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، فَيَقْتُلُونَكُمْ قَتْلا لَمْ يُقْتَلْهُ قَوْمٌ "، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا لا أَحْفَظُهُ، فَقَالَ: " فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ، فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۴۲) (ضعیف)
(سند میں ابو قلابہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے لیکن حدیث کا معنی ابن ماجہ کی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے، اس حدیث میں ''فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ'' کا لفظ صحیح نہیں ہے، جس کی روایت میں ابن ماجہ یہاں منفرد ہیں، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۸۵)
۴۰۸۴- ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تمہارے ایک خزانے کے پاس تین آدمی باہم لڑائی کریں گے، ان میں سے ہر ایک خلیفہ کا بیٹا ہو گا، لیکن ان میں سے کسی کو بھی وہ خزانہ میسر نہ ہو گا، پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے نمودار ہوں گے، اور وہ تم کو ایسا قتل کریں گے کہ اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو گا، پھر آپ ﷺ نے کچھ اور بھی بیان فرمایا جسے میں یاد نہ رکھ سکا، اس کے بعد آپ نے فرمایا: ''لہٰذا جب تم اسے ظاہر ہوتے دیکھو تو جا کر اس سے بیعت کرو اگرچہ گھٹنوں کے بل برف پر گھسٹ کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا''۔

4085- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَاسِينُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الْمَهْدِيُّ مِنَّا، أَهْلَ الْبَيْتِ، يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۷۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۴) (حسن)
(ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۳۷)
۴۰۸۵- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اور اللہ تعالی ایک ہی رات میں ان کو صالح بنا دے گا''۔

4086- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ، حَدَّثَنَا أَبُوالْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ فَتَذَاكَرْنَا الْمَهْدِيَّ،فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " الْمَهْدِيُّ مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ "۔
* تخريج: د/المھدي ۱ (۴۲۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۵۳) (صحیح)

۴۰۸۶- سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ہم ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، ہم نے مہدی کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ''مہدی فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے''۔

4087- حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِالْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِالْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْيَمَامِيّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " نَحْنُ وَلَدَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، سَادَةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، أَنَا وَحَمْزَةُ وَعَلِيٌّ وَجَعْفَرٌ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَالْمَهْدِيُّ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۴۴) (موضوع)
(علی بن زیاد ضعیف اور سعد بن عبد الحمید صدوق ہیں، لیکن ان کے یہاں غلط احادیث ہیں، اور عکرمہ بن عمار صدوق ہیں غلطی کرتے ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۶۸۸)
۴۰۸۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''ہم عبد المطلب کی اولاد ہیں، اور اہل جنت کے سردار ہیں، یعنی: میں، حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی''۔

4088- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوصَالِحٍ عَبْدُالْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنَ جَزْئٍ الزَّبِيدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ، فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِيِّ " يَعْنِي: سُلْطَانَهُ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۳۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۴۵) (ضعیف)
(سند میں عمرو بن جابر الحضرمی اور ابن لہیعہ ضعیف ہیں)
۴۰۸۸- عبد اللہ بن حا رث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کچھ لوگ مشرق (پورب) کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کے لئے راستہ ہموار کریں گے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- بَاب الْمَلاحِمِ
۳۵- باب: اہم حادثات اور فتنوں کا بیان​

4089- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ: مَالَ مَكْحُولٌ وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، وَمِلْتُ مَعَهُمَا، فَحَدَّثَنَا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: قَالَ لِي جُبَيْرٌ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مِخْمَرٍ، وَكَانَ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، فَسَأَلَهُ عَنِ الْهُدْنَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ: " يَقُولُ سَتُصَالِحُكُمُ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُونَ، أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا، فَتَنْتَصِرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ، حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصَّلِيبِ الصَّلِيبَ، فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ، وَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ ".
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۴۶)، وقد أخرجہ: د/الجہاد ۱۶۸ (۲۷۶۷)، والملاحم ۲ (۴۲۹۳) (صحیح)

۴۰۸۹- حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا، خالد بن معدان کی طرف مڑے، اور میں بھی ان کے ساتھ مڑا، خالد نے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے بیان کیا کہ جبیر نے مجھ سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ ذی مخمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلو، جو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، چنانچہ میں ان دونوں کے ہمراہ چلا، ان سے صلح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: عنقریب ہی روم والے تم سے ایک پر امن صلح کریں گے، اور تمہارے ساتھ مل کر دشمن سے لڑیں گے، پھر تم فتح حاصل کرو گے، اور بہت سا مال غنیمت ہاتھ آئے گا، اور تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنگ سے لوٹو گے یہاں تک کہ تم ایک ترو تازہ اور سرسبز مقام پر جہاں ٹیلے وغیرہ ہوں گے، اترو گے، وہاں صلیب والوں یعنی رومیوں میں سے ایک شخص صلیب بلند کرے گا، اور کہے گا: صلیب غالب آگئی، مسلمانوں میں سے ایک شخص غصے میں آئے گا، اور اس کے پاس جا کر صلیب توڑ دے گا، اس وقت رومی عہد توڑ دیں گے، اور سب جنگ کے لئے جمع ہو جائیں گے''۔

4089/ أ- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، بِإِسْنَادِهِ، نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ، فَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ فَيَأْتُونَ حِينَئِذٍ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةٍ، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۳۵۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۴۷)

۴۰۸۹/أ - اس سند سے بھی حسان بن عطیہ سے اسی طرح مروی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے: وہ (نصاری مسلمانوں سے) لڑنے کے لئے اکٹھے ہو جائیں گے، اس وقت اسّی جھنڈوں کی سرکردگی میں آئیں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فو ج ہو گی۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نصاری کی شان و شوکت اور سلطنت قیامت تک باقی رہے گی یعنی مہدی علیہ السلام کے وقت تک، دوسری حدیث میں ہے کہ قیامت نہیں قائم ہو گی یہاں تک کہ اکثر لوگ دنیا کے نصاریٰ ہوں گے، یہ حدیث بڑی دلیل ہے آپ کی نبوت کی کیونکہ یہ پیشین گوئی آپ کی بالکل سچی نکلی، کئی سو برس سے نصاری کا برابر عروج ہو رہا ہے، اور ہر ایک ملک میں ان کا مذہب پھیلتا جاتا ہے، دنیا کے چاروں حصوں میں یا ان کی حکومت قائم ہو گئی ہے، یا ان کے زیر اثر سلطنتیں قائم ہیں، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت کے قریب مسلمانوں کا بادشاہ نصاری کی ایک قوم کے ساتھ مل کر تیسری سلطنت سے لڑے گا اور فتح پائے گا، پھر صلیب پر تکرار ہو کر سب نصاریٰ مل جائیں گے اور متفق ہو کر مسلمانوں سے مقابلہ کریں گے۔

4090- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِذَا وَقَعَتِ الْمَلاحِمُ، بَعَثَ اللَّهُ بَعْثًا مِنَ الْمَوَالِي، هُمْ أَكْرَمُ الْعَرَبِ فَرَسًا وَأَجْوَدُهُ سِلاحًا، يُؤَيِّدُ اللَّهُ بِهِمُ الدِّينَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۷۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۴۸) (حسن)

۴۰۹۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب بڑی بڑی جنگیں ہونے لگیں گی، تو اللہ تعالی موالی (جن کو عربوں نے آزاد کیا ہے) میں سے ایک لشکر اٹھائے گا، جو عربوں سے زیادہ اچھے سوار ہوں گے اور ان سے بہتر ہتھیار رکھتے ہوں گے، اللہ تعالی اس کے ذریعہ دین کی مدد فرمائے گا''۔

4091- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " سَتُقَاتِلُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ". قَالَ جَابِرٌ: فَمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى تُفْتَحَ الرُّومُ ۔
* تخريج: م/الفتن ۱۲ (۲۹۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۸۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۷۸، ۴/۳۴۷) (صحیح)

۴۰۹۱- جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نافع بن عتبہ بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تم عنقریب جزیرہ عرب والوں سے جنگ کرو گے، اللہ تعالی اس پر فتح دے گا، پھر تم رومیوں سے جنگ کرو گے، ان پر بھی اللہ تعالی فتح عنایت فرمائے گا، پھر تم دجال سے جنگ کرو گے، اللہ تعالی اس پر فتح دے گا''۔
جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تک روم فتح نہ ہو گا، دجال کا ظہور نہ ہو گا۔


4092- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُطَيْبٍ السَّكُونِيِّ (وَقَالَ الْوَلِيدُ: يَزِيدُ بْنُ قُطْبَةَ ) عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " الْمَلْحَمَةُ الْكُبْرَى وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ "۔
* تخريج: د/الملاحم ۴ (۴۲۹۵)، ت/الفتن ۵۸ (۲۲۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۳۴) (ضعیف)
(سند میں ابو بکر ضعیف اور ولید بن سفیان ضعیف ہیں)
۴۰۹۲- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جنگ عظیم، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا خروج تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی''۔

4093- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بِلالٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ، وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ، سِتُّ سِنِينَ، وَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ "۔
* تخريج: د/الملاحم ۴ (۴۲۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۹۴) ، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۸۹) (ضعیف)
(سند میں سوید بن سعید اور بقیہ میں ضعف ہے)
۴۰۹۳- عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جنگ عظیم اور فتح مدینہ (قسطنطنیہ) کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہے، اور دجال کا ظہور ساتویں سال میں ہو گا''۔

4094- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلاءَ " ثُمَّ قَالَ ﷺ: " يَا عَلِيُّ! يَا عَلِيُّ! يَاعَلِيُّ! " قَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي! قَالَ: " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمِ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الإِسْلامِ، أَهْلُ الْحِجَازِ، الَّذِينَ لا يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ، فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ، فَيُصِيبُونَ غَنَائِمَ لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهَا، حَتَّى يَقْتَسِمُوا بِالأَتْرِسَةِ، وَيَأْتِي آتٍ فَيَقُولُ: إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَرَجَ فِي بِلادِكُمْ، أَلا وَهِيَ كِذْبَةٌ، فَالآخِذُ نَادِمٌ، وَالتَّارِكُ نَادِمٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۷۹، ومصباح الزجاجۃ:۱۴۴۹) (موضوع)
(سند میں کثیر بن عبد اللہ ہیں، جن کے بارے میں ابن حبان کہتے ہیں کہ اپنے والد کے حوالہ سے انہوں نے اپنے دادا سے ایک موضوع نسخہ روایت کیا ہے، جس کا تذکرہ کتابوں میں حلال نہیں ہے، اور نہ اس کی روایت جائز ہے، الا یہ کہ تعجب و استغراب کے نقطئہ نظر سے ہو)۔
۴۰۹۴- عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو''، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ''اے علی! اے علی! اے علی!'' انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں (فرمائیے)، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم بہت جلد بنی اصفر (اہل روم) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے (یعنی اہل حجاز) وہ بھی ان سے جنگ کے لئے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذ ریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں (وہاں) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا کبھی حاصل نہ ہوا تھا، یہاں تک کہ وہ ڈھالیں بھر بھر کر تقسیم کریں گے، اور ایک آنے والا آکر کہے گا: مسیح (دجال) تمہارے ملک میں ظاہر ہو گیا ہے، سن لو! یہ خبر جھوٹی ہو گی، تو مال لینے والا بھی شرمندہ ہو گا، اور نہ لینے والا بھی''۔

4095- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ، حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الأَصْفَرِ هُدْنَةٌ ،فَيَغْدِرُونَ بِكُمْ، فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةً،تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا "۔
* تخريج: خ/الجزیۃ ۱۵ (۳۱۷۶)، د/الأدب ۹۲ (۵۰۰۰، ۵۰۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۱۸) (صحیح)

۴۰۹۵- عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تمہارے اور بنی اصفر (رومیوں) کے درمیان صلح ہو گی، پھر وہ تم سے عہد شکنی کریں گے، اور تمہارے مقابلے کے لئے اسّی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
36- بَاب التُّرْكِ
۳۶- باب: ترکوں کا بیان۱؎​
وضاحت۱؎: ترک قوم یافث بن نوح کی اولاد سے ہے اور ان میں کئی قبیلے اور کئی قومیں ہیں، جیسے چغتائی، کرغیز، کاسک، قزاق، قلمق، ارناوط، خوجک، ازبک، چرکس وغیرہ اور ان کے اصلی ملک یہ ہیں: بخارا، سمرقند، تاشقند، کاشغر، چینی، تا تار۔

4096- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، وَلا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ "۔
* تخريج: خ/الجہاد ۹۵ (۲۹۲۹)، م/الفتن ۱۸ (۲۹۱۲)، د/الملاحم ۹ (۴۳۰۴)، ت/الفتن ۴۰ (۲۲۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۹، ۲۷۱، ۳۹۸) (صحیح)

۴۰۹۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی''۔

4097- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ، ذُلْفَ الأُنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، وَلا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ"۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۶۷۷) (صحیح)

۴۰۹۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناکیں چپٹی ہوں گی اور ان کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے، اور قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے''۔

4098- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ "۔
* تخريج: خ/الجہاد ۹۵ (۲۹۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۷۰) (صحیح)

۴۰۹۸- عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے، گویا وہ چپٹی ڈھال ہیں، اور قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے''۔

4099- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ، عِرَاضَ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ،يَرْبُطُونَ خَيْلَهُمْ بِالنَّخْلِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۲۳، ومصباح الزجاجۃ:۱۴۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۱) (حسن صحیح)

۴۰۹۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چوڑے ہوں گے، گویا کہ ان کی آنکھیں ٹڈی کی آنکھیں ہیں، اور ان کے چہرے چپٹی ڈھالیں ہیں، وہ بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں بنائیں گے اور کھجور کے درختوں کی جڑوں سے اپنے گھوڑے باندھیں گے''۔
* * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{37- كِتَاب الزُّهْدِ}
۳۷- کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل


1- بَاب الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا
۱- باب: دنیا سے بے رغبتی کا بیان​

4100- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَيْسَ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا بِتَحْرِيمِ الْحَلالِ، وَلا فِي إِضَاعَةِ الْمَالِ، وَلَكِنِ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا أَنْ لاتَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِنْكَ بِمَا فِي يَدِ اللَّهِ، وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ، إِذَا أُصِبْتَ بِهَا، أَرْغَبَ مِنْكَ فِيهَا، لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ " قَالَ هِشَامٌ: كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ يَقُولُ: مِثْلُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الأَحَادِيثِ،كَمِثْلِ الإِبْرِيزِ فِي الذَّهَبِ۔
* تخريج: ت/الزہد ۲۹ (۲۳۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۳۵) (ضعیف جدا)
(سند میں عمرو بن واقد متروک ہے)
۴۱۰۰- ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''دنیا میں زہد آدمی کے حلال کو حرام کر لینے، اور مال کو ضائع کرنے میں نہیں ہے، بلکہ دنیا میں زہد (دنیا سے بے رغبتی) یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور دنیا میں جو مصیبت تم پر آئے تو تم اس پر خوش ہو بہ نسبت اس کے کہ مصیبت نہ آئے، اور آخرت کے لئے اُٹھا رکھی جائے''۔
ہشام کہتے ہیں : کہ ابو ادریس خولانی کہتے تھے کہ حدیثوں میں یہ حدیث ایسی ہے جیسے سونے میں کندن۔


4101- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي خَلادٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ أُعْطِيَ زُهْدًا فِي الدُّنْيَا، وَقِلَّةَ مَنْطِقٍ، فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ، فَإِنَّهُ يُلْقِي الْحِكْمَةَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۹۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۵۱) (ضعیف)
(سند میں ابو فروہ یزید بن سنان جزری ضعیف ہیں)
۴۱۰۱- ابو خلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو دنیا کی طرف سے بے رغبت ہے، اور کم گو بھی تو اس سے قربت اختیار کرو، کیوں کہ وہ حکمت و دانائی کی بات بتائے گا''۔

4102- حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ﷺ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ، إِذَا أَنَا عَمِلْتُهُ، أَحَبَّنِي اللَّهُ، وَأَحَبَّنِي النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا، يُحِبَّكَ اللَّهُ، وَازْهَدْ فِيمَا فِي أَيْدِي النَّاسِ، يُحِبُّوكَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۸۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۵۲) (صحیح)
(سند میں خالد بن عمرو کو ابن معین نے جھوٹ سے متہم کیا ہے، اور صالح جزرہ وغیرہ نے اس کی طرف وضع حدیث کی نسبت کی ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر اصل حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۹۴۴)
۴۱۰۲- سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے میں کروں تو اللہ تعالی بھی مجھ سے محبت کرے، اور لوگ بھی، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''دنیا سے بے رغبتی رکھو، اللہ تم کو محبوب رکھے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، تو لوگ تم سے محبت کریں گے'' ۔

4103- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ، وَهُوَ طَعِينٌ، فَأَتَاهُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ، فَبَكَى أَبُوهَاشِمٍ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا يُبْكِيكَ ؟ أَيْ خَالِ! أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ، أَمْ عَلَى الدُّنْيَا، فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا؟ قَالَ: عَلَى كُلٍّ، لا، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُهُ، قَالَ: " إِنَّكَ لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالا تُقْسَمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ، وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " فَأَدْرَكْتُ، فَجَمَعْتُ۔
* تخريج: ت/الزہد ۱۹ (۲۳۲۷)،ن/الزینۃ من المجتبیٰ (۵۳۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۷۸)، وقد أخرجہ: (حم ۵/۲۹۰) (حسن)
(سند میں سمرہ بن سہم مجہول ہیں، لیکن شواہد سے تقو یت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: المشکاۃ: ۵۱۸۵ وصحیح الترغیب)
۴۱۰۳- سمرہ بن سہم کہتے ہیں کہ میں ابو ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ برچھی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے، معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کو آئے تو ابو ہاشم رضی اللہ عنہ رونے لگے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ماموں جان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا درد کی شدت سے رو رہے ہیں یا دنیا کی کسی اور وجہ سے؟ دنیا کا تو بہترین حصہ گزر چکا ہے، ابو ہاشم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا، بلکہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے ایک نصیحت کی تھی، کاش! میں اس پر عمل کئے ہوتا! آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ''شاید تم ایسا زمانہ پاؤ، جب لوگوں کے درمیان مال تقسیم کیا جائے، تو تمہارے لئے اس میں سے ایک خادم اور راہ جہاد کے لئے ایک سواری کافی ہے، لیکن میں نے مال پایا، اور جمع کیا''۱؎۔
وضاحت۱؎: تو اس پر روتا ہوں کہ آپ ﷺ کی نصیحت پر عمل نہ کر سکا، دوسری روایت میں ہے کہ دنیا میں سے تم کو ایک خادم، ایک سواری اور ایگ گھر کافی ہے، اس سے زیادہ جمع کر کے رکھنا ضروری نہیں، دوسرے محتاجوں اور ضرورت مندوں کو دے دے، خود کھائے، دوسروں کو کھلائے، رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے، یتیموں بیواؤں کی پرورش کرے، مفید عام کاموں میں صرف کرے جیسے مدارس و مساجد بنانے میں، یتیم خانہ اور مسافر خانہ کی تعمیر میں، کنویں اور سڑک کی تعمیر میں، دینی اور اسلامی کتابیں چھاپنے، اور تقسیم کرنے میں، مگر ہزاروں لاکھوں میں کوئی ایسا بندہ ہوتا ہے جو دنیا کو بالکل جمع نہیں کرتا۔

4104- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: اشْتَكَى سَلْمَانُ فَعَادَهُ سَعْدٌ؛ فَرَآهُ يَبْكِي فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَايُبْكِيكَ؟ يَا أَخِي! أَلَيْسَ قَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ؟ أَلَيْسَ، أَلَيْسَ؟ قَالَ سَلْمَانُ: مَاأَبْكِي وَاحِدَةً مِنِ اثْنَتَيْنِ، مَا أَبْكِي ضِنًّا لِلدُّنْيَا وَلا كَرَاهِيَةً لِلآخِرَةِ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، فَمَا أُرَانِي إِلا قَدْ تَعَدَّيْتُ، قَالَ: وَمَا عَهِدَ إِلَيْكَ؟ قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ يَكْفِي أَحَدَكُمْ مِثْلُ زَادِ الرَّاكِبِ، وَلا أُرَانِي إِلا قَدْ تَعَدَّيْتُ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا سَعْدُ! فَاتَّقِ اللَّهَ عِنْدَ حُكْمِكَ إِذَا حَكَمْتَ، وَعِنْدَ قَسْمِكَ إِذَا قَسَمْتَ، وَعِنْدَ هَمِّكَ إِذَا هَمَمْتَ.
قَالَ ثَابِتٌ: فَبَلَغَنِي أَنَّهُ مَا تَرَكَ إِلا بِضْعَةً وَعِشْرِينَ دِرْهَمًا، مِنْ نَفَقَةٍ كَانَتْ عِنْدَهُ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۸۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۵۳) (صحیح)
(ملاحظہ ہو:الصحیحۃ: ۱۷۱۵)
۴۱۰۴- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو سعد بن أبی قاص رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لئے آئے اور ان کو روتا ہوا پایا، سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے بھائی آپ کس لئے رو رہے ہیں؟ کیا آپ نے رسول اکرم ﷺ کی صحبت سے فیض نہیں اُٹھایا؟ کیا ایسا نہیں ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے؟ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان دونوں میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا، نہ تو دنیا کی حرص کی وجہ سے اور نہ اس وجہ سے کہ آخرت کو ناپسند کرتا ہوں، بلکہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے ایک نصیحت کی تھی، جہاں تک میرا خیال ہے میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے، سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا نصیحت تھی؟ سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ''تم میں سے کسی کے لئے بھی دنیا میں اتنا ہی کافی ہے جتنا کہ مسافر کا توشہ، لیکن میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے، اے سعد! جب آپ فیصلہ کرنا تو اللہ تعالی سے ڈرنا، جب کچھ تقسیم کرنا تو اللہ تعالی سے ڈرنا، اور جب کسی کام کا قصد کرنا تو اللہ تعالی سے ڈر کر کرنا۔
ثابت (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ مجھے پتہ چلا کہ سلمان رضی اللہ عنہ نے بیس سے چند زائد درہم کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑا، وہ بھی اپنے خرچ میں سے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب الْهَمِّ بِالدُّنْيَا
۲- باب: دنیا کے غم و فکرکا بیان​

4105- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ، قُلْتُ: مَا بَعَثَ إِلَيْهِ هَذِهِ السَّاعَةَ،إِلا لِشَيْئٍ سَأَلَ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْنَاهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلا مَا كُتِبَ لَهُ وَمَنْ كَانَتِ الآخِرَةُ نِيَّتَهُ، جَمَعَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَهُ، وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۹۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۵۴) (صحیح)

۴۱۰۵- ابان بن عثمان بن عفان کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مروان کے پاس سے ٹھیک دوپہر کے وقت نکلے، میں نے کہا: اس وقت مروان نے ان کو ضرور کچھ پوچھنے کے لئے بلایا ہو گا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مروان نے ہم سے کچھ ایسی چیزوں کے متعلق پوچھا جو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھیں، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا: ''جس کو دنیا کی فکر لگی ہو تو اللہ تعالی اُس پر اُس کے معاملات کو پراگندہ کر دے گا، اور محتاجی کو اس کی نگاہوں کے سامنے کر دے گا، جب اس کو دنیا سے صرف وہی ملے گا جو اس کے حصے میں لکھ دیا گیا ہے، اور جس کا مقصود آخرت ہو تو اللہ تعالی اُس کے معاملات کو ٹھیک کر دے گا، اس کے دل کو بے نیازی عطا کرے گا، اور دنیا اُس کے پاس ناک رگڑتی ہوئی آئے گی''۔

4106- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ، عَنْ نَهْشَلٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ: سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ ﷺ يَقُولُ: " مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ الْمَعَادِ، كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ، وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا، لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهِ هَلَكَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۶۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۵۵) (حسن)
(سند میں نہشل متروک راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ حسن ہے)
۴۱۰۶- اسود بن یزید کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے تمہارے محترم نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''جس نے اپنے سارے غموں کو آخرت کاغم بنا لیا تو اللہ تعالی اس کی دنیا کے غم کے لئے کافی ہے، اور جو دنیاوی معاملات کے غموں اور پریشانیوں میں الجھا رہا، تو اللہ تعالی کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوا''۔

4107- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: (وَلا أَعْلَمُهُ إِلا قَدْ رَفَعَهُ) قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي، أَمْلأْ صَدْرَكَ غِنًى، وَأَسُدَّ فَقْرَكَ، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ، مَلأْتُ صَدْرَكَ شُغْلا، وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ "۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۳۰ (۲۴۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۸۱)، وقد أخرجہ: (حم ۲/۳۵۸) (صحیح)

۴۱۰۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لئے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کردوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب مَثَلُ الدُّنْيَا
۳- باب: دنیا کی مثال​

4108- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " مَا مَثَلُ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلا مَثَلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ "۔
* تخريج: م/الجنۃ ۱۵ (۲۵۵۸)، ت/الزہد ۱۸ (۲۳۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۵۵)، وقد أخرجہ: (حم ۴/۲۲۸، ۲۲۹، ۲۳۰) (صحیح)

۴۱۰۸- مستورد رضی اللہ عنہ (جو بنی فہر کے ایک فرد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، اور پھر دیکھے کہ کتنا پانی اس کی انگلی میں واپس آتا ہے''۔

4109- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: اضْطَجَعَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى حَصِيرٍ، فَأَثَّرَ فِي جِلْدِهِ فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي، يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ كُنْتَ آذَنْتَنَا فَفَرَشْنَا لَكَ عَلَيْهِ شَيْئًا يَقِيكَ مِنْهُ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَا أَنَا وَالدُّنْيَا! إِنَّمَا أَنَا وَالدُّنْيَا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا "۔
* تخريج: ت/الزہد ۴۴ (۲۳۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۴۳)، وقد أخرجہ: (حم ۱/۳۹۱، ۴۴۱) (صحیح)

۴۱۰۹- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک چٹائی پر لیٹے تو آپ کے بدن مبارک پر اس کا نشان پڑ گیا، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں حکم دیتے تو ہم آپ کے لئے اس پر کچھ بچھا دیتے، آپ اس تکلیف سے بچ جاتے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں تو دنیا میں ایسے ہی ہوں جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے میں آرام کرے، پھر اس کو چھوڑ کر وہاں سے چل دے''۔

4110- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، وَمُحَمَّدٌ الصَّبَّاحُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَإِذَا هُوَ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ شَائِلَةٍ بِرِجْلِهَا، فَقَالَ: "أَتُرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى صَاحِبِهَا؟، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ، مِنْ هَذِهِ عَلَى صَاحِبِهَا، وَلَوْكَانَتِ الدُّنْيَا تَزِنُ عِنْدَاللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ، مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا قَطْرَةً أَبَدًا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۷۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۵۶)، وقد أخرجہ: (حم۱/۳۹۱، ۴۴۱) (صحیح)
(سند میں زکریا بن منظور ضعیف ہے، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۶۸۶- ۹۴۳- ۳۴۸۲)
۴۱۱۰- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ ذو الحلیفہ میں تھے کہ وہاں ایک مردہ بکری اپنے پائوں اٹھائے ہوئے پڑی تھی، رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ''دیکھو کیا تم یہ جانتے ہو کہ یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک ذلیل و بے وقعت ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک بے قیمت ہے اللہ تعالی کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ بے وقعت ہے، اگر دنیا اللہ تعالی کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ اس سے کافر کو ایک قطرہ بھی نہ چکھاتا''۔

4111- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ قَالَ: إِنِّي لَفِي الرَّكْبِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِذْ أَتَى عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ، قَالَ: فَقَالَ: "أَتُرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا؟ "، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِنْ هَوَانِهَا، أَلْقَوْهَا أَوْ كَمَا قَالَ: قَالَ: " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا "۔
* تخريج: ت/الزہد ۱۳ (۲۳۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۵۸)، وقد أخرجہ: (حم ۴/۲۲۹، ۲۳۰) (صحیح)

۴۱۱۱- مستور دبن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک قافلے میں تھا کہ آپ بکری کے ایک پڑے ہوئے مردہ بچے کے پاس آئے، اور فرمایا: ''کیا تم جانتے ہو کہ یہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بے وقعت ہے''؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس کی بے وقعتی ہی کی وجہ سے اس کو یہاں ڈالا گیا ہے، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہے جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بے وقعت ہے''۔

4112- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُوهُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ يَقُولُ: " الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا، إِلا ذِكْرَ اللَّهِ وَمَا وَالاهُ، أَوْ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا "۔
* تخريج: ت/الزھد ۱۴ (۲۳۲۲)، (تحفۃ الأشراف:۱۳۵۷۲) (حسن)

۴۱۱۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا :''دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ تعالی کی یاد کے، اور اس شخص کے جس کو اللہ تعالی پسند کرتا ہے، یا عالم کے یا متعلم کے'' ۔

4113- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۴۶)، وقد أخرجہ: م/الزہد (۲۹۵۶)، ت/الزھد ۱۶ (۲۳۲۴)، حم (۲/۳۲۳،۳۸۹،۴۸۵) (صحیح)

۴۱۱۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''دنیا مومن کا جیل اور کافر کی جنت ہے''۔

4114- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ،عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ: " يَا عَبْدَاللَّهِ! كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ كَأَنَّكَ عَابِرُ سَبِيلٍ، وَعُدَّ نَفْسَكَ مِنْ أَهْلِ الْقُبُورِ"۔
* تخريج: ت/الزھد ۱۵ (۲۳۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۸۶)، وقد أخرجہ: خ/الرقاق ۳ (۶۴۱۸)، من طریق محمد بن عبد الرحمن الطفاوی عن الأعمش عن مجاہد بن جبر ابن عمر، حم (۲/۲۴، ۱۳۲) (صحیح)
(سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف راوی ہیں، اسے لئے ''وَعُدَّ نَفْسَكَ مِنْ أَهْلِ الْقُبُورِ'' کا جملہ ضعیف ہے، لیکن بقیہ حدیث صحیح ہے، کمافی التخریج)
۴۱۱۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے جسم کا بعض حصہ (کندھا) تھاما اور فرما یا: ''عبد اللہ! دنیا میں ایسے رہو گویا تم اجنبی ہو یا مسافر، اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب مَنْ لا يُؤْبَهُ لَهُ
۴- باب: جس کی لوگ پرواہ نہ کریں اس کا بیان​

4115- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَلاأُخْبِرُكَ عَنْ مُلُوكِ الْجَنَّةِ؟ " قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: "رَجُلٌ ضَعِيفٌ، مُسْتَضْعِفٌ، ذُو طِمْرَيْنِ، لايُؤْبَهُ لَهُ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۲۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۵۷) (ضعیف)
(سند میں سوید بن عبد العزیز ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۷۴۱)
۴۱۱۵- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا میں تم کو جنت کے بادشاہوں کے بارے میں نہ بتا دوں''،؟ میں نے کہا: ہاں، بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''کمزور و ناتواں شخص دو پرانے کپڑے پہنے ہو جس کو کوئی اہمیت نہ دی جائے، اگر وہ اللہ تعالی کی قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم ضرور پوری کرے''۔

4116- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ، أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ "۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن (سورۃن والقلم)۱ (۴۹۱۸)، الأیمان النذور ۹ (۶۶۵۷)، م/الجنۃ ۱۳ (۲۸۵۳)، ت/صفۃ جہنم ۱۳ (۲۶۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۰۶) (صحیح)

۴۱۱۶- حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں''؟ ہر وہ کمزور اور بے حال شخص جس کو لوگ کمزور سمجھیں، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ سخت مزاج، پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھنے، اور تکبرکرنے والا ہے''۔

4117- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِنَّ أَغْبَطَ النَّاسِ عِنْدِي مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ، ذُو حَظٍّ مِنْ صَلاةٍ، غَامِضٌ فِي النَّاسِ، لا يُؤْبَهُ لَهُ، كَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا، وَصَبَرَ عَلَيْهِ، عَجِلَتْ مَنِيَّتُهُ، وَقَلَّ تُرَاثُهُ، وَقَلَّتْ بَوَاكِيهِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۵۳)، وقد أخرجہ: ت/الزہد ۳۵، (۲۳۴۷)، حم (۵/۲۵۲،۲۵۵) (ضعیف)
(ایوب بن سلیمان اور صدقہ بن عبد اللہ ضعیف ہیں، تراجع الألبانی: رقم: ۳۶۴)
۴۱۱۷- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں میں سب سے زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مومن ہے، جو مال و دولت آل و اولاد سے ہلکا پھلکا ہو، جس کو صلاۃ میں راحت ملتی ہو، لوگوں میں گم نام ہو، اور لوگ اس کی پرواہ نہ کرتے ہوں، اس کا رزق بس گزر بسر کے لئے کافی ہو، وہ اس پر صبرکرے، اس کی موت جلدی آجائے، اس کی میراث کم ہو، اور اس پر رونے والے کم ہوں''۔

4118- حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ الْحَارِثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْبَذَاذَةُ مِنَ الإِيمَانِ " قَالَ: الْبَذَاذَةُ الْقَشَافَةُ، يَعْنِي التَّقَشُّفَ۔
* تخريج: د/الترجل ۱ (۴۱۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۵) (صحیح)

۴۱۱۸- ابو امامہ حارثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے'' ایمان کا ایک حصہ ہے، سادگی بے جا تکلف کے معنی میں ہے، یعنی زیب و زینت و آرائش سے گریز کرنا۔

4119- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟ " قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " خِيَارُكُمِ الَّذِينَ إِذَا رُئُوا، ذُكِرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ "۔
* تخريج: تفردبہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۷۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۵۹) (صحیح)
(سند میں سوید وشہر بن حوشب ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۶۴۶)
۴۱۱۹- اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''کیا میں تم کو یہ نہ بتا دوں کہ تم میں بہترین لوگ کون ہیں''؟ لوگوں نے عرض کیا: ضرور اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالی یاد آئے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب فَضْلِ الْفُقَرَاءِ
۵- باب: فقراء کی فضیلت​

4120- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ " قَالُوا: رَأْيَكَ فِي هَذَا، نَقُولُ: هَذَا مِنْ أَشْرَفِ النَّاسِ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ ُخَطَّبَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ وَإِنْ قَالَ: أَنْ يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ ﷺ، وَمَرَّ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا؟ " قَالُوا: نَقُولُ: وَاللَّهِ! يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، هَذَا حَرِيّ إِنْ خَطَبَ، لَمْ يُنْكَحْ، وَإِنْ شَفَعَ، لا يُشَفَّعْ، وَإِنْ قَالَ: لايُسْمَعْ لِقَوْلِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " لَهَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْئِ الأَرْضِ مِثْلَ هَذَا "۔
* تخريج: خ/النکاح ۱۵ (۵۰۹۱)، (تحفۃ الأشراف:۴۷۲۰) (صحیح)

۴۱۲۰- سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے''؟ لوگوں نے کہا: جو آپ کی رائے ہے وہی ہماری رائے ہے، ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ شریف لوگوں میں سے ہے، یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اسے قبول کیا جائے، اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات سنی جائے، نبی اکرم ﷺ خاموش رہے، پھر ایک دوسرا شخص گزرا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! یہ تو مسلمانوں کے فقراء میں سے ہے، یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں نکاح کا پیغام دے تو اس کا پیغام قبول نہ کیا جائے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اور اگر کچھ کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''یہ اُس پہلے جیسے زمین بھر آدمیوں سے بہتر ہے ''۔

4121- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ الْفَقِيرَالْمُتَعَفِّفَ،أَبَا الْعِيَالِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۳۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۵۹) (ضعیف)
(حماد و موسیٰ بن عبیدہ دونوں ضعیف ہیں، اور قاسم بن مہران مجہول، بالخصوص قاسم کا عمران رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے)
۴۱۲۱- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''بیشک اللہ اپنے مومن، فقیر (محتاج)، سوال سے بچنے والے اور اہل و عیال والے بندے کو محبوب رکھتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب مَنْزِلَةِ الْفُقَرَاءِ
۶- باب: فقراء کا مقام و مرتبہ​

4122- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ، خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۰۱)، وقد أخرجہ: ت/الزہد ۳۷ (۲۳۵۴) (حسن صحیح)

۴۱۲۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مومنوں میں سے محتاج اورغریب لوگ مالداروں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے، آخرت کا آدھا دن (دنیا کے) پانچ سو سال کے برابر ہے''۔

4123- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ، بِمِقْدَارِ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، تحفۃ الأشراف: ۴۲۳۹)، وقد أخرجہ: ت/الزھد ۳۷ (۲۳۵۱) (حسن)
(سند میں محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف و مضطرب الحدیث راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، تراجع الألبانی رقم: ۴۹۰)
۴۱۲۳- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''فقیر مہاجرین، مالدار مہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے''۔

4124- حَدَّثَنَا إِسْحاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو غَسَّانَ بَهْلُولٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: اشْتَكَى فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَافَضَّلَ اللَّهُ بِهِ عَلَيْهِمْ أَغْنِيَائَهُمْ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْفُقَرَاءِ! أَلا أُبَشِّرُكُمْ أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ، خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " ثُمَّ تَلا مُوسَى هَذِهِ الآيَةَ {وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ}۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۵۴، ومصباح الزجاجۃ:۱۴۶۰) (ضعیف)
(موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں)
۴۱۲۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فقیر مہاجرین نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کی شکایت کی کہ اللہ تعالی نے ان کے مال داروں کو ان پر فضیلت دی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اے فقراء کی جماعت! کیا میں تم کو یہ خوش خبری نہ سنا دوں کہ غریب مومن، مالدار مومن سے آدھا دن پہلے جنت میں دا خل ہوں گے، (پانچ سو سال پہلے) پھر موسیٰ بن عبیدہ نے یہ آیت تلاوت کی: وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (سورۃ الحج: ۱۴۷) (اور بیشک ایک دن تیرے رب کے نز دیک ایک ہزار سال کے برابر ہے جسے تم شمار کرتے ہو)۔
 
Top