- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
13- بَاب الْقَطْعِ فِي الْخُلْسَةِ وَالْخِيَانَةِ
۱۳-باب: کھلم کھلا چھین کر بھاگ جانا یا امانت میں خیانت کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
4391- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ أَبُوالزُّبَيْرِ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ، وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا >۔
* تخريج: ت/الحدود ۱۸ (۱۴۴۸)، ن/قطع السارق ۱۰ (۴۹۷۵)، ق/الحدود ۲۶ (۲۵۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۸۰)، دي/الحدود ۸ (۲۳۵۶) (صحیح)
۴۳۹۱- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اعلانیہ زبردستی کسی کا مال لے کر بھاگ جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۱؎ ،اور جو اعلانیہ کسی کا مال لوٹ لے وہ ہم میں سے نہیں''۔
وضاحت ۱؎ : زبردستی کسی کا مال چھیننا اگرچہ چُرانے سے زیادہ قبیح فعل ہے، لیکن اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ اس پر سرقہ(چُرانے) کااطلاق نہیں ہوتا۔
قاضی عیاض فرماتے ہیں : اللہ تعالی نے چور کا ہاتھ کاٹنا فرض کیا ہے، لیکن چھیننے جھپٹنے، اور غصب وغیرہ پر یہ حکم نہیں دیا اس لئے کہ چوری کے مقابلہ میں یہ چیزیں کم واقع ہوتی ہیں، اور ذمہ داروں سے شکایت کرکے اس طرح کی چیزوں کو لوٹایا جا سکتا ہے، اور ان کے خلاف دلائل دینا چوری کے برعکس آسان ہے، اس وجہ سے چور ی کا معاملہ بڑا ہے، اور اس کی سزا سخت ہے، تاکہ اس سے باز آجانے میں یہ زیادہ مؤثر ہو۔ (ملاحظہ ہو: عون المعبود ۱۲؍۳۹)
4392- وَبِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ > ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۰۰) (صحیح)
۴۳۹۲- اور اسی سند سے مروی ہے ،جابر بن عبداللہرضی اللہ عنہما کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' امانت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا'' ۔
4393- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِمِثْلِهِ؛ زَادَ < وَلا عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ >.
قَالَ أَبو دَاود: هَذَانِ الْحَدِيثَانِ لَمْ يَسْمَعْهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَبَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا سَمِعَهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مَنْ يَاسِينَ الزَّيَّاتِ.
قَالَ أَبو دَاود: وَقَدْ رَوَاهُمَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۳۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۰۰) (صحیح)
۴۳۹۳- جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے '' اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا ''۔
۱۳-باب: کھلم کھلا چھین کر بھاگ جانا یا امانت میں خیانت کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
4391- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ أَبُوالزُّبَيْرِ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ، وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا >۔
* تخريج: ت/الحدود ۱۸ (۱۴۴۸)، ن/قطع السارق ۱۰ (۴۹۷۵)، ق/الحدود ۲۶ (۲۵۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۸۰)، دي/الحدود ۸ (۲۳۵۶) (صحیح)
۴۳۹۱- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اعلانیہ زبردستی کسی کا مال لے کر بھاگ جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۱؎ ،اور جو اعلانیہ کسی کا مال لوٹ لے وہ ہم میں سے نہیں''۔
وضاحت ۱؎ : زبردستی کسی کا مال چھیننا اگرچہ چُرانے سے زیادہ قبیح فعل ہے، لیکن اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ اس پر سرقہ(چُرانے) کااطلاق نہیں ہوتا۔
قاضی عیاض فرماتے ہیں : اللہ تعالی نے چور کا ہاتھ کاٹنا فرض کیا ہے، لیکن چھیننے جھپٹنے، اور غصب وغیرہ پر یہ حکم نہیں دیا اس لئے کہ چوری کے مقابلہ میں یہ چیزیں کم واقع ہوتی ہیں، اور ذمہ داروں سے شکایت کرکے اس طرح کی چیزوں کو لوٹایا جا سکتا ہے، اور ان کے خلاف دلائل دینا چوری کے برعکس آسان ہے، اس وجہ سے چور ی کا معاملہ بڑا ہے، اور اس کی سزا سخت ہے، تاکہ اس سے باز آجانے میں یہ زیادہ مؤثر ہو۔ (ملاحظہ ہو: عون المعبود ۱۲؍۳۹)
4392- وَبِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ > ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۰۰) (صحیح)
۴۳۹۲- اور اسی سند سے مروی ہے ،جابر بن عبداللہرضی اللہ عنہما کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' امانت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا'' ۔
4393- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِمِثْلِهِ؛ زَادَ < وَلا عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ >.
قَالَ أَبو دَاود: هَذَانِ الْحَدِيثَانِ لَمْ يَسْمَعْهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَبَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا سَمِعَهُمَا ابْنُ جُرَيْجٍ مَنْ يَاسِينَ الزَّيَّاتِ.
قَالَ أَبو دَاود: وَقَدْ رَوَاهُمَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۳۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۰۰) (صحیح)
۴۳۹۳- جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے '' اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا ''۔