- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
2- بَاب الْحُكْمِ فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّ ﷺ
۲-باب: نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم
4361- حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ ﷺ وَتَقَعُ فِيهِ فَيَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي، وَيَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ ﷺ وَتَشْتُمُهُ، فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا، وَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا، فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلٌ، فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاكَ بِالدَّمِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ: < أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلا فَعَلَ مَا فَعَلَ لِي عَلَيْهِ حَقٌّ إِلا قَامَ > فَقَامَ الأَعْمَى يَتَخَطَّى النَّاسَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ حَتَّى قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَارَسُولَ اللَّهِ، أَنَا صَاحِبُهَا، كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي، وَأَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ، وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ، وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً، فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ، فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، وَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < أَلا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ >۔
* تخريج: ن/المحاربۃ ۱۳ (۴۰۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۵۵) (صحیح)
۴۳۶۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کے پاس ایک ام ولد تھی جو نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، وہ نابینا اسے روکتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، وہ اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی طرح باز نہیں آتی تھی حسب معمول ایک رات اس نے آپ ﷺکی ہجو شروع کی، اور آپ کو گالیاں دینے لگی، تو اس ( اندھے) نے ایک چھری لی اوراسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دباکر اسے ہلاک کردیا، اس کے دونوں پاؤں کے درمیان اس کے پیٹ سے ایک بچہ گرا جس نے اس جگہ کو جہاں وہ تھی خون سے لت پت کردیا ، جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ سے اس حادثہ کاذکر کیا گیا، آپ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، اور فرمایا:’’جس نے یہ کیا ہے میں اس سے اللہ کا اور اپنے حق کا واسطہ دے کرکہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہوجائے‘‘، تو وہ اندھا کھڑا ہوگیا اور لوگوں کی گردنیں پھاند تے اور ہانپتے کانپتے آکر آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول میں اس کا مولی ہوں، وہ آپ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، میں اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی صورت سے باز نہیں آتی تھی، میرے اس سے موتیوں کے مانند دو بچے ہیں، وہ مجھے بڑی محبوب تھی تو جب کل رات آئی حسب معمول وہ آپ کو گالیاں دینے لگی، اور ہجوکرنی شروع کی، میں نے ایک چھری اٹھائی اوراسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبادیا، وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی یہاں تک کہ میں نے اسے مارہی ڈالا،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! سنو تم گواہ رہنا کہ اس کا خون لغو ہے‘‘ ۔
4362- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ ﷺ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ دَمَهَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۵۰) (ضعیف الإسناد)
۴۳۶۲- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی اکرم ﷺ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجوکیا کرتی تھی، تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا، یہاں تک کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون باطل ٹھہراد یا ۔
4363- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ (ح) و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ يَزِيدَ ابْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِي اللَّه عَنْه فَتَغَيَّظَ عَلَى رَجُلٍ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: تَأْذَنُ لِي يَاخَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: فَأَذْهَبَتْ كَلِمَتِي غَضَبَهُ، فَقَامَ فَدَخَلَ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ: مَا الَّذِي قُلْتَ آنِفًا؟ قُلْتُ: ائْذَنْ لِي أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: أَكُنْتَ فَاعِلا لَوْ أَمَرْتُكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لا وَاللَّهِ، مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ .
قَالَ أَبو دَاود: هَذَا لَفْظُ يَزِيدَ، [قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: أَيْ: لَمْ يَكُنْ لأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقْتُلَ رَجُلا إِلا بِإِحْدَى الثَّلاثِ الَّتِي قَالَهَا رَسُولُ اللَّه ﷺ : < كُفْرٌ بَعْدَ إِيمَانٍ، أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرَ نَفْسٍ >، وَكَانَ لِلنَّبِيِّ ﷺ أَنْ يَقْتُلَ]۔
* تخريج: ن/المحاربۃ ۱۳ (۴۰۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۲۱، ۱۸۶۰۲) (صحیح)
۴۳۶۳- ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہ ایک شخص پر ناراض ہوئے اور بہت سخت ناراض ہوئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول کے خلیفہ! مجھے اجازت دیجئے میں اس کی گردن ماردوں، میری اس بات نے ان کے غصہ کو ٹھنڈا کردیا، پھر وہ اٹھے اور اندرچلے گئے، پھر مجھ کو بلایا اور پوچھا: ابھی تم نے کیا کہاتھا ؟ میں نے کہا : میں نے کہاتھا: مجھے اجازت دیجئے، میں اس کی گردن ماردوں، بولے :اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو تم اسے کرگزرتے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، ضرور، بولے: نہیں، قسم اللہ کی! محمد ﷺ کے بعد کسی آدمی کو بھی یہ مرتبہ حاصل نہیں ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ یزید کے الفاظ ہیں ،احمد بن حنبل کہتے ہیں:یعنی ابو بکر ایسا نہیں کر سکتے تھے کہ وہ کسی شخص کو بغیر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کے جسے رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا ہے قتل کرنے کا حکم دے دیں: ایک ایمان کے بعد کافر ہو جانا دوسرے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا’’ تیسرے بغیر نفس کے کسی نفس کو قتل کرنا، البتّہ نبی اکرم ﷺ قتل کر سکتے تھے۔
وضاحت ۱؎ : یعنی رسول اللہ ﷺ ہی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ جو کوئی آپ کو برا بھلا کہے یا گالی دے تو آپ اس کی گردن مارنے کا حکم دیں، دوسرے کسی کو یہ خصوصیت حاصل نہیں ۔