- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
12- بَاب مَا لا قَطْعَ فِيهِ
۱۲-باب: جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ان کا بیان
4388- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ، فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ، فَوَجَدَهُ، فَاسْتَعْدَى عَلَى الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ، فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ، فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <لاقَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ > فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ مَرْوَانَ أَخَذَ غُلامِي وَهُوَ يُرِيدُ قَطْعَ يَدِهِ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِي إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؛ فَمَشَى مَعَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، فَقَالَ لَهُ رَافِعٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ > فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ.
قَالَ أَبو دَاود: الْكَثَرُ: الْجُمَّارُ ۔
* تخريج: ت/الحدود ۱۹ (۱۴۴۹)، ن/قطع السارق ۱۰ (۴۹۶۴)، ق/الحدود ۲۷ (۲۵۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۸۱، ۳۵۸۸)، وقد أخرجہ: ط/الحدود ۱۱ (۳۲)، حم ( ۳/۴۶۳، ۴۶۴، ۵/۱۴۰، ۱۴۲)، دي/الحدود ۷ (۲۳۵۰) (صحیح)
۴۳۸۸- محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک کھجور کے باغ سے ایک شخص کے کھجور کا پودا چرالیا اور اسے لے جاکر اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا، پھر پودے کا مالک اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا تو اسے ( ایک باغ میں لگا) پایا تو اس نے مروان بن حکم سے جو اس وقت مدینہ کے حاکم تھے غلام کے خلاف شکایت کی مروان نے اس غلام کو قید کرلیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو غلام کا مالک رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ’’ پھل اور جمار (کھجورکے درخت کے پیڑی کا گابھا) کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹے گا‘‘، تو اس شخص نے کہا : مروان نے میرے غلام کو پکڑ رکھا ہے وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتے ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ ان کے پاس چلیں اور اسے وہ بتائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چلے، اور مروان کے پاس آئے، اور ان سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے:’’پھل اورگابھا کے ( چرانے میں ) ہاتھ نہیں کٹے گا‘‘، مروان نے یہ سنا تو اس غلام کو چھوڑ دینے کا حکم دے دیا،چنانچہ اسے چھوڑ دیا گیا ۔
ابو داود کہتے ہیں: کثر کے معنیٰ جمار کے ہیں ۔
وضاحت ۱؎ : جمار کھجور کے درخت کی پیڑی کے اندر سے نکلنے والا نرم جو چربی کے طرح سفید ہوتا ہے ، اور کھایا جاتا ہے۔
4389- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَجَلَدَهُ مَرْوَانُ جَلَدَاتٍ وَخَلَّى سَبِيلَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ،(تحفۃ الأشراف: ۳۵۸۱) (شاذ)
۴۳۸۹- اس سند سے بھی محمد بن یحییٰ بن حبان سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے مروان نے اسے کچھ کوڑے مارکر چھوڑ دیا ۔
4390- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ: < مَنْ أَصَابَ بِفِيهِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلا شَيْئَ عَلَيْهِ، وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْئٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ، وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ [وَمَنْ سَرَقَ دُونَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ] >. [قَالَ أَبو دَاود: الْجَرِينُ: الْجُوخَانُ]۔
* تخريج: ت/البیوع ۵۴ (۱۲۸۹)، ن/قطع السارق ۹ (۴۹۶۱)، ق/الحدود ۲۸ (۲۵۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۹۸)، وقد أخرجہ: حم ( ۲/۱۸۶) (حسن)
۴۳۹۰- عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسے لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق دریافت کیاگیا تو آپ نے فرمایا:’’ جس ضرورت مند نے اسے کھا لیا، اور جمع کرکے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہوگی اور جو اسے کھلیان میں جمع کئے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ‘‘۔