- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
24-بَاب فِي الاسْتِئْمَارِ
۲۴-باب: نکاح کے وقت لڑکی سے اجازت لینے کا بیان
2092- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: < لا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلا الْبِكْرُ إِلا بِإِذْنِهَا >، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وَمَاإِذْنُهَا؟ قَالَ: < أَنْ تَسْكُتَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابوداود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۵۸)، وقد أخرجہ: خ/النکاح ۴۱ (۵۱۳۶)، والحیل ۱۱ (۶۹۷۰)، م/النکاح ۹ (۱۴۱۹)، ت/النکاح ۱۸ (۱۱۰۷، ۱۱۰۸)، ن/النکاح ۳۴ (۳۲۶۹)، ق/النکاح ۱۱ (۱۸۷۱)، حم (۲/۲۲۹، ۲۵۰، ۴۲۵، ۴۳۴)، دي/النکاح ۱۳ (۲۲۳۲) (صحیح)
۲۰۹۲- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' غیرکنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے ، اور نہ ہی کنواری عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کیا جائے ''، لوگوں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! اس کی اجا زت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''( اس کی اجازت یہ ہے کہ) وہ خامو ش رہے''۔
2093- حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -الْمَعْنَى- حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلا جَوَازَ عَلَيْهَا >.
وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ.
قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، وُمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۱۴، ۱۵۱۱۳)، وقد أخرجہ: ت/النکاح ۱۹ (۱۱۰۹)، ن/النکاح ۳۶ (۳۲۷۲)، حم (۲/۲۵۹، ۳۸۴) (حسن صحیح)
۲۰۹۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' یتیم لڑ کی سے اس کے نکاح کے لئے اجازت لی جائے گی ، اگر وہ خا مو شی اختیار کرے تو یہی اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کر دے تو اس پر زبر دستی نہیں''۔
2094- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، زَادَ فِيهِ قَالَ: < فَإِنْ بَكَتْ أَوْ سَكَتَتْ >، زَادَ: < بَكَتْ >.
قَالَ أَبو دَاود: وَلَيْسَ < بَكَتْ > بِمَحْفُوظٍة، وَهُوَ وَهْمٌ فِي الْحَدِيثِ، الْوَهْمُ مِنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، أَوْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاءِ.
قَالَ أَبو دَاود: وَرَوَاهُ أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي أَنْ تَتَكَلَّمَ، قَالَ: < سُكَاتُهَا إِقْرَارُهَا >.
* تخريج: حدیث محمد بن العلاء قد تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۳۵)، وحدیث أبو عمر وذکوان عن عائشۃ، قد رواہ خ/النکاح ۴۱ (۵۱۳۷)، م/النکاح ۹(۱۴۲۰)، ن/ النکاح ۳۴ (۳۲۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۵، ۱۶۵، ۲۰۳) (صحیح)
(مگر''بکت'' کا لفظ شاذہے )
۲۰۹۴- اس سندسے بھی محمد بن عمرو سے اسی طریق سے یہی حدیث یوں مروی ہے اس میں ''فَإِنْ بَكَتْ أَوْ سَكَتَتْ'' ( اگر وہ رو پڑے یا چپ رہے ) یعنی ''بَكَتْ'' (روپڑے )کا اضافہ ہے ، ابو داود کہتے ہیں ''بَكَتْ'' (روپڑے) کی زیادتی محفوظ نہیں ہے یہ حدیث میں وہم ہے اور یہ وہم ابن ادریس کی طرف سے ہے یا محمد بن علاء کی طرف سے ۔
ابوداود کہتے ہیں:اسے ابو عمروذکوان نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اس میں ہے انہوں نے کہا اللہ کے رسول!باکرہ تو بولنے سے شرمائے گی،آپ ﷺ نے فرمایا :'' اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے''۔
2095- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي الثِّقَةُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۸۵۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۴) (ضعیف)
(اس کی سند میں ایک راوی ''الثقۃ'' مبہم ہے)
۲۰۹۵- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ لو''۔