• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب فِي الثَّيِّبِ
۲۶- باب: ثیبہ (غیرکنواری عورت) کا بیان​

2098- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالا: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا >، وَهَذَا لَفْظُ الْقَعْنَبِيِّ ۔
* تخريج: م/النکاح ۹ (۱۴۲۱)، ت/النکاح ۱۷ (۱۱۰۸)، ن/النکاح ۳۱ (۳۲۶۲)، ق/النکاح ۱۱ (۱۸۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۱۷)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۲ (۴)، حم (۱/۲۱۹، ۲۴۳، ۲۷۴، ۳۵۴، ۳۵۵، ۳۶۲)، دي/النکاح ۱۳ (۲۲۳۴) (صحیح)

۲۰۹۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ثیبہ۱؎ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے''۔
وضاحت ۱؎: ایّم سے مراد ثیبہ عورت ہے اس کی تائید صحیح مسلم کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے، ترجمۃ الباب سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے لیکن اس کے برخلاف بعض لوگوں نے ایّم سے مراد بیوہ عورت لیا ہے۔

2099-حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ: < الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا >.
قَالَ أَبو دَاود: < أَبُوهَا > لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۶۵۱۷) (صحیح)
(''تستأمر'' کے لفظ سے صحیح ہے، اس روایت کا لفظ شاذ ہے)
۲۰۹۹- عبد اللہ بن فضل سے بھی اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: ''ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ پوچھے گا''۔
ابو داود کہتے ہیں: ''أَبُوْهَا'' کا لفظ محفوظ نہیں ہے۔


2100- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم (۲۰۹۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۵۱۷) (صحیح)

۲۱۰۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے''۔

2101- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّيْنِ، عَنْ خَنْسَائَ بِنْتِ خِذَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَجَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا۔
* تخريج: خ/النکاح ۴۲ (۵۱۳۸)، الإکراہ ۳ (۶۹۴۵)، الحیل ۱۱ (۶۹۶۹)، ن/النکاح ۳۵ (۳۲۷۰)، ق/النکاح ۱۲ (۱۸۷۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۲۴)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۱۴(۲۵)، حم (۶/۳۲۸)، دي/النکاح ۱۴ (۲۲۳۸) (صحیح)

۲۱۰۱- خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور وہ ثیبہ تھیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب فِي الأَكْفَاءِ
۲۷- باب: میاں بیوی کے کفو ہونے کا بیان​

2102- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَبَا هِنْدٍ حَجَمَ النَّبِيَّ ﷺ فِي الْيَافُوخِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < يَا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَاهِنْدٍ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ >، وَقَالَ: < وَإِنْ كَانَ فِي شَيْئٍ مِمَّا تَدَاوُونَ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۱۹)، وقد أخرجہ: ق/الطب ۲۰ (۳۴۷۶)، حم (۲/۳۴۲، ۴۲۳) (حسن)

۲۱۰۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو ہند نے نبی اکرم ﷺ کی چندیا میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: ''بنی بیاضہ کے لوگو! ابو ہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لئے) تم انہیں نکاح کا پیغام ۱؎ دو''، اور فرمایا: ''تین چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں کسی چیز میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانا ہے''۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفو میں اعتبار دین کا ہو گا نہ کہ نسب اور پیشہ وغیرہ کا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب فِي تَزْوِيجِ مَنْ لَمْ يُولَدْ
۲۸- باب: بچے کی پیدائش سے پہلے اس کی شادی کرنے کا بیان​

2103- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ (يَزِيدَ بْنِ) مِقْسَمٍ الثَّقَفِيُّ -مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ- حَدَّثَتْنِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ مَيْمُونَةَ بِنْتَ كَرْدَمٍ قَالَتْ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ (فَوَقَفَ لَهُ وَاسْتَمَعَ مِنْهُ) وَمَعَهُ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ، فَسَمِعْتُ الأَعْرَابَ وَالنَّاسَ وَهُمْ يَقُولُونَ: الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي، فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ، فَأَقَرَّ لَهُ، وَوَقَفَ عَلَيْهِ، وَاسْتَمَعَ مِنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي حَضَرْتُ جَيْشَ عِثْرَانَ -قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: جَيْشَ غِثْرَانَ- فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ: مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ؟ قُلْتُ: وَمَا ثَوَابُهُ؟ قَالَ: أُزَوِّجُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تَكُونُ لِي، فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي، ثُمَّ غِبْتُ عَنْهُ، حَتَّى عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ وُلِدَ لَهُ جَارِيَةٌ وَبَلَغَتْ، ثُمَّ جِئْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَهْلِي جَهِّزْهُنَّ إِلَيَّ، فَحَلَفَ أَنْ لا يَفْعَلَ حَتَّى أُصْدِقَهُ صَدَاقًا جَدِيدًا غَيْرَ الَّذِي كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَحَلَفْتُ لا أُصْدِقُ غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < وَبِقَرْنِ أَيِّ النِّسَاءِ هِيَ الْيَوْمَ >، قَالَ: قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ، قَالَ: < أَرَى أَنْ تَتْرُكَهَا >، قَالَ فَرَاعَنِي ذَلِكَ، وَنَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنِّي قَالَ: < لا تَأْثَمُ، وَلا يَأْثَمُ صَاحِبُكَ >.
قَالَ أَبو دَاود: الْقَتِيرُ الشَّيْبُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۶۶)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان (۳۳۱۴) (ضعیف)
(اس کی راویہ ''سارہ بنت مقسم'' مجہول ہیں)
۲۱۰۳- سارہ بنت مقسم نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے حج میں اپنے والد کے ساتھ نکلی، میرے والد آپ ﷺ کے قریب پہنچے، آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے تو وہ آپ کے پاس کھڑے ہو گئے، اور آپ کی باتیں سننے لگے، آپ ﷺ کے پاس معلموں کے درّے کی طرح ایک درّہ تھا، میں نے بدوؤں نیز دیگر لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ تھپتھپانے سے بچو، تھپتھپانے سے بچو تھپتھپانے سے بچو ۱؎ ۔
میرے والد نے آپ ﷺ سے قریب جا کر آپ کا پیر پکڑ لیا اور آپ کے رسول ہونے کا اقرار کیا، اور آپ ﷺ کے پاس ٹھہرے رہے اور آپ کی بات کو غور سے سنا، پھر کہا کہ میں لشکر عثران (یہ جاہلیت کی جنگ ہے) میں حاضر تھا، (ابن مثنّی کی روایت میں جیش عثران کے بجائے جیش غثران ہے) تو طارق بن مرقع نے کہا: مجھے اس کے عوض میں نیزہ کون دیتا ہے؟ میں نے پوچھا: اس کا عوض کیا ہو گا؟ کہا: میری جو پہلی بیٹی ہو گی اس کے ساتھ اس کا نکاح کر دوں گا، چنانچہ میں نے اپنا نیزہ اسے دے دیا اور غائب ہو گیا، جب مجھے پتہ چلا کہ اس کی بیٹی ہو گئی اور جوان ہو گئی ہے تو میں اس کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا کہ میری بیوی کو میرے ساتھ رخصت کرو تو وہ قسم کھا کر کہنے لگا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا، جب تک کہ میں اسے مہر جدید ادا نہ کر دوں اس عہد و پیمان کے علاوہ جو میرے اور اس کے درمیان ہوا تھا، میں نے بھی قسم کھا لی کہ جو میں اسے دے چکا ہوں اس کے علاوہ کوئی اور مہر نہیں دے سکتا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ''اب وہ کن عورتوں کی عمر میں ہے (یعنی اس کی عمر اس وقت کیا ہے)''، اس نے کہا: وہ بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''میری رائے ہے کہ تم اسے جانے دو''، تو آپ ﷺ کی اس بات نے مجھے گھبرا دیا میں آپ کی جانب دیکھنے لگا، آپ ﷺ نے میری جب یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ''(گھبراؤ مت) نہ تم گنہگار ہو گے اور نہ ہی تمہارا ساتھی ۲؎ گنہگار ہو گا''۔
ابو داود کہتے ہیں: روایت میں وارد لفظ قتیر کا مطلب بڑھاپا ہے۔

وضاحت۱؎: یعنی اپنے پیروں کو زمین پر تھپتھپانے سے بچو یا تھپتھپانے سے کنایہ درّہ مارنے کی طرف ہے یعنی درّے مارنے سے بچو۔
وضاحت۲؎: ساتھی سے مراد طارق بن مرقع ہیں یعنی قسم کھانے کی وجہ سے تم دونوں گنہگار نہیں ہو گے۔

2104- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَنَّ خَالَتَهُ أَخْبَرَتْهُ، عَنِ امْرَأَةٍ قَالَتْ: هِيَ مُصَدَّقَةٌ -امْرَأَةُ صِدْقٍ- قَالَتْ : بَيْنَا أَبِي فِي غَزَاةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذْ رَمِضُوا فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ يُعْطِينِي نَعْلَيْهِ وَأُنْكِحُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِي؟ فَخَلَعَ أَبِي نَعْلَيْهِ فَأَلْقَاهُمَا إِلَيْهِ، فَوُلِدَتْ لَهُ جَارِيَةٌ، فَبَلَغَتْ، وَذَكَرَ نَحْوَهُ، لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْقَتِيرِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۹۱) (ضعیف)
(اس کی سند میں ایک مجہول راویہ ہے)
۲۱۰۴- ابراہیم بن میسرہ کی روایت ہے کہ ایک عورت جو نہایت سچی تھی، کہتی ہے: میرے والد زمانہ جاہلیت میں ایک غزوہ میں تھے کہ (تپتی زمین سے) لوگوں کے پیر جلنے لگے، ایک شخص بولا: کوئی ہے جو مجھے اپنی جوتیاں دے دے؟ اس کے عوض میں پہلی لڑکی جو میرے یہاں ہو گی اس سے اس کا نکاح کر دوں گا، میرے والد نے جوتیاں نکالیں اور اس کے سا منے ڈال دیں، اس کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی اور پھر وہ بالغ ہو گئی، پھر اسی جیسا قصہ بیان کیا لیکن اس میں ''قَتِيْر'' کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- بَاب الصَّدَاقِ
۲۹- باب: مہر کا بیان​

2105- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا عَنْ صَدَاقِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ : ثِنْتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ فَقُلْتُ: وَمَا نَشٌّ؟ قَالَتْ: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ۔
* تخريج: م/النکاح ۱۳ (۱۴۲۶)، ن/النکاح ۶۶ (۳۳۴۹)، ق/النکاح ۱۷ (۱۸۸۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۶ /۹۴)، دي/النکاح ۱۸ (۲۲۴۵) (صحیح)

۲۱۰۵- ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم ﷺ (کی ازواج مطہرات) کے مہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا ۱؎، میں نے کہا: نش کیا ہے؟ فرمایا: آدھا اوقیہ ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: بارہ اوقیہ کے (۴۸۰) درہم اور نش کے (۲۰) درہم، کل پانچ سو درہم ہوئے، جو وزن سے تیرہ سو پچھتر گرام (۱۳۷۵) کے مساوی ہے (یعنی ایک کیلو تین سو پچھتر گرام چاندی)۔
وضاحت ۲؎ : ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اس حساب سے ساڑھے بارہ اوقیہ کے کل پانچ سو درہم ہوئے۔

2106- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ: أَلا لا تُغَالُوا بِصُدُقِ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْكَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلاكُمْ بِهَا النَّبِيُّ ﷺ ، مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً۔
* تخريج: ت/النکاح ۲۳ (۱۱۱۴)، ن/النکاح ۶۶ (۳۳۵۱)، ق/النکاح ۱۷ (۱۸۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۱،۴۸)، دي/النکاح ۱۸ (۲۲۴۶) (حسن صحیح)

۲۱۰۶- ابو عجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے -اللہ ان پر رحم کرے- ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: خبردار! عورتوں کے مہر بڑھا چڑھا کر مت باندھو اس لئے کہ اگر یہ (مہر کی زیا دتی) دنیا میں باعث شرف اور اللہ کے یہاں تقویٰ اور پرہیزگاری کا ذریعہ ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اس کے زیا دہ حق دار تھے، آپ نے تو اپنی کسی بھی بیوی اور بیٹی کا بارہ اوقیہ (چار سو اسّی درہم) سے زیادہ مہر نہیں رکھا۔

2107- حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ ﷺ وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آلافٍ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ.
قَالَ أَبو دَاود: حَسَنَةُ هِيَ أُمُّهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۵۵) (صحیح)

۲۱۰۷- ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ عبیداللہ بن حجش کے نکاح میں تھیں، حبشہ میں ان کا انتقال ہو گیا تو نجاشی (شاہ حبشہ) نے ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کر دیا، اور آپ کی جانب سے انہیں چار ہزار (درہم) مہر دے کر شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ انہیں آپ ﷺ کے پاس روانہ کر دیا ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: حسنہ شر حبیل کی والدہ ۲؎ ہیں۔

وضاحت ۱؎ : ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سب سے زیادہ انہیں کا مہر تھا، باقی ازاواج مطہرات اور صاحبزادیوں کا مہر حد سے حد پانچ سو درہم تک تھا، جیسا کہ حدیث نمبر (۲۱۰۵) میں گزرا۔
وضاحت ۲؎ : یہ والد کے بجائے اپنی والدہ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔

2108- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ النَّجَاشِيَّ زَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَلَى صَدَاقِ أَرْبَعَةِ آلافِ دِرْهَمٍ، وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَبِلَ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۵۵، ۱۹۴۰۰) (ضعیف)

۲۱۰۸- ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ نجا شی (شاہ حبشہ) نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا نکاح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چار ہزار درہم کے عوض کر دیا اور یہ بات آپ کو لکھ بھیجی تو آپ نے قبول فرما لیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب قِلَّةِ الْمَهْرِ
۳۰- باب: مہر کم رکھنے کا بیان​

2109- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَأَى عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < مَهْيَمْ >، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، قَالَ: < مَا أَصْدَقْتَهَا؟ > قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: < أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۳۹)، وقد أخرجہ: خ/البیوع ۱ (۲۰۴۹)، مناقب الأنصار ۳ (۳۷۸۱)، ۵۰ (۳۹۳۷)، النکاح ۷ (۵۰۷۲)، ۴۹ (۵۱۳۸)، ۵۴ (۵۱۵۳)، ۵۶ (۵۱۵۵)، ۶۸ (۵۱۶۷)، الأدب ۶۷ (۶۰۸۲)، الدعوات ۵۳ (۶۳۸۳)، م/النکاح ۱۳ (۱۴۷۲)، ت/النکاح ۱۰ (۱۰۹۴) البر والصلۃ ۲۲ (۱۹۳۳)، ن/النکاح ۷۵ (۳۳۷۵)، ق/النکاح ۲۴ (۱۹۰۷)، ط/النکاح ۲۱(۴۷)، حم (۳/۱۶۵، ۱۹۰، ۲۰۵)، دي/الأطعمۃ ۲۸ (۲۱۰۸)، النکاح ۲۲ (۲۲۵۰) (صحیح)

۲۱۰۹- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، پوچھا: ’’اسے کتنا مہر دیا ہے؟‘‘، جواب دیا: گٹھلی (نواۃ ۱؎ ) کے برابر سونا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو‘‘ ۲؎۔
وضاحت۱؎: نواۃ پانچ سو درہم کو کہتے ہیں، یعنی پانچ درہم (لگ بھگ پندرہ گرام) کے برابر سونا مہر مقرر کیا اور بعضوں نے کہا ہے کہ نواۃ سے کھجور کی گٹھلی مراد ہے۔
وضاحت۲؎: یہ بات آپ ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مالی حیثیت دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال درست نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ ﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں ستّو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا۔

2110- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جِبْرَائِيلَ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقِ امْرَأَةٍ مِلْئَ كَفَّيْهِ سَوِيقًا أَوْ تَمْرًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ >.
* تخريج: تفردبہ أبوداود، ( تحفۃ الأشراف: ۲۹۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۵۵) (ضعیف)
(ابو زبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ابن رومان مجہول ہیں، نیز حدیث کے موقوف و مرفوع ہونے میں اضطراب ہے)

قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ الطَّعَامِ عَلَى مَعْنَى الْمُتْعَةِ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَلَى مَعْنَى أَبِي عَاصِمٍ۔
* تخريج: م/النکاح ۳ (۱۴۰۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۹۷۳) (صحیح)
(جابر رضی اللہ عنہ کا قول ہے)
۲۱۱۰- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے (اس عورت کو اپنے لئے) حلال کر لیا‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے عبد الرحمن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابو زبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابو عاصم نے صالح بن رومان سے، صالح نے ابو الزبیر سے، ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ابوا لزبیر سے انہوں نے جابر سے ابو عاصم کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔

وضاحت۱؎: یہ بات متعہ کی حرمت سے پہلے کی ہے، جیسا کہ مؤلف کے ذکر کردہ کلام سے ظاہر ہو رہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب فِي التَّزْوِيجِ عَلَى الْعَمَلِ يَعْمَلُ
۳۱- باب: کام کے عوض نکاح کرنے کا بیان​

2111- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ جَائَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلاً، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْئٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ > فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّكَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ (وَ) لا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا >، قَالَ: لا أَجِدُ شَيْئًا، قَالَ: < فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ >، فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < (فَهَلْ) مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئٌ؟ > قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ: < قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ > ۔
* تخريج: خ/الوکالۃ ۹ (۲۳۱۰)، وفضائل القرآن ۲۱ (۵۰۲۹)، ۲۲ (۵۰۳۰)، والنکاح ۱۴(۵۰۸۷)، ۳۲ (۵۱۲۱)، ۳۵ (۵۱۲۶)، ۳۷ (۵۱۳۲)، ۴۰ (۵۱۳۵)، ۴۴ (۵۱۴۱)، ۵۰ (۵۱۴۹)، ۵۱ (۵۱۵۰)، واللباس ۴۹(۷۱۱۷)، ت/النکاح ۲۳ (۱۱۱۴)، ن/النکاح ۶۹ (۳۳۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۴۲)، وقد أخرجہ: م/النکاح ۱۳(۱۴۲۵)، ق/النکاح ۱۷(۱۸۸۹)، ط/النکاح ۳ (۸)، حم (۵/۳۳۶)، دي/النکاح ۱۹ (۲۲۴۷) (صحیح)

۲۱۱۱- سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کر دیا ہے، پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی (اور آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا) تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لئے کچھ ہے ؟'' وہ بولا: میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اگر تم اپنا ازار اسے (مہر میں) دے دو گے تو تمہارے پاس تو ازار بھی نہیں رہے گا، لہٰذا کوئی اور چیز تلاش کرو''، وہ بولا: اور تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو''، تو اس نے تلاش کیا لیکن اسے کچھ نہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا:'' کیا تجھے کچھ قرآن یاد ہے ؟''، کہنے لگا: ہاں فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، ان کا نام لے کر اس نے بتایا تو آپ ﷺ نے اس سے کہا: ''جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے (یاد کرانے کے) بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر میں مال کی کوئی تحدید نہیں، خواہ قلیل ہو یا کثیر اس طرح محنت مزدوری یا تعلیم قرآن پر بھی نکاح درست ہے، جمہور علما کی یہی رائے ہے، اور بعض نے دس درہم کی تحدید کی ہے، ان کے نزدیک اس سے کم میں مہر درست نہیں، لیکن ان کے دلائل اس قابل نہیں کہ ان صحیح احادیث کا معارضہ کر سکیں۔

2112- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ، لَمْ يَذْكُرِ الإِزَارَ وَالْخَاتَمَ، فَقَالَ: < مَا تَحْفَظُ مِنَ الْقُرْآنِ؟ > قَالَ: سُورَةَ الْبَقَرَةِ أَوِ الَّتِي تَلِيهَا، قَالَ: < فَقُمْ فَعَلِّمْهَا عِشْرِينَ آيَةً، وَهِيَ امْرَأَتُكَ > ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۹۴)، وقد أخرجہ: ن/الکبری/ النکاح (۵۵۰۶) (ضعیف)
(اس کے راوی ''عسل'' ضعیف ہیں)
۲۱۱۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی واقعہ کی طرح مر وی ہے لیکن اس میں تہبند اور انگوٹھی کا ذکر نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تجھے قرآن میں سے کیا یاد ہے؟''، جواب دیا: سورہ بقرہ یا اس کے بعد والی سورت تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''جاؤ اسے بیس آیتیں سکھا دو اور وہ تمہاری بیوی ہے''۔

2113- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، نَحْوَ خَبَرِ سَهْلٍ قَالَ : وَكَانَ مَكْحُولٌ يَقُولُ: لَيْسَ ذَلِكَ لأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۹۴۷۸) (ضعیف)
(یہ روایت مرسل ہے، مکحول صحابی نہیں تابعی ہیں)
۲۱۱۳- مکحول سے بھی سہل کی روایت کی طرح مروی ہے، مکحول کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے لئے یہ درست نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب فِيمَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يُسَمِّ صَدَاقًا حَتَّى مَاتَ
۳۲- باب: ایک شخص نے نکاح کیا مہر مقرر نہیں کی اور مر گیا اس کے حکم کا بیان​

2114- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا (الصَّدَاقَ) فَقَالَ: لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلاً، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ۔
* تخريج: ت/النکاح ۴۴(۱۱۴۵)، ن/النکاح ۶۸(۳۳۵۸)، والطلاق ۵۷(۳۵۵۴)، ق/النکاح ۱۸ (۱۸۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۸۰، ۴/۲۸۰)، دي/النکاح ۴۷ (۲۲۹۲) (صحیح)

۲۱۱۴- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور پھر اس سے ہم بستری کرنے سے پہلے اور اس کا مہر متعین کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گیا تو انہوں نے کہا: اس عورت کو پورا مہر ملے گا اور اس پر عدت لازم ہو گی اور اسے میراث سے حصہ ملے گا۔
اس پر معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے بروع بنت واشق کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ فرمایا۔


2115- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، وَسَاقَ عُثْمَانُ مِثْلَهُ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۶۱) (صحیح)

۲۱۱۵- اس سند سے بھی عبد اللہ سے مروی ہے، عثمان نے اسی کے مثل روایت بیان کی۔

2116- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاسٍ، وَأَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أُتِيَ فِي رَجُلٍ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا -أَوْ قَالَ مَرَّاتٍ- قَالَ : فَإِنِّي أَقُولُ فِيهَا: إِنَّ لَهَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا لاوَكْسَ وَلا شَطَطَ، وَإِنَّ لَهَا الْمِيرَاثَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ، فَقَامَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ فِيهِمُ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ فَقَالُوا: يَا ابْنَ مَسْعُودٍ! نَحْنُ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَضَاهَا فِينَا فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ، وَإِنَّ زَوْجَهَا هِلالُ بْنُ مُرَّةَ الأَشْجَعِيُّ كَمَا قَضَيْتَ، قَالَ: فَفَرِحَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَرَحًا شَدِيدًا حِينَ وَافَقَ قَضَاؤُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۲۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۳۰، ۴۳۱، ۴۴۷، ۴۴۸) (صحیح)

۲۱۱۶- عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کا یہی مسئلہ پیش کیا گیا، راوی کا بیان ہے کہ لوگوں کی اس سلسلہ میں مہینہ بھر یا کہا کئی بار آپ کے پاس آمد و رفت رہی، انہوں نے کہا: اس سلسلے میں میرا فیصلہ یہی ہے کہ بلا کم و کاست اسے اپنی قوم کی عورتوں کی طرح مہر ملے گا، وہ میراث کی حق دار ہو گی اور اس پر عدت بھی ہو گی، اگر میرا فیصلہ درست ہے تو اللہ تعالی کی جانب سے ہے، اگر غلط ہے تو میری جانب سے اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور اللہ کے رسول اس سے بری ہیں، چنانچہ قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ جن میں جراح و ابوسنان بھی تھے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ابن مسعود! ہم گواہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں بروع بنت واشق - جن کے شوہر ہلال بن مرّہ اشجعی ہیں- کے سلسلہ میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا جو آپ نے کیا ہے، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جب ان کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے موافق ہو گیا تو بڑی خوشی ہوئی۔

2117- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ (وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى) وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَصْبَغِ الْجَزَرِيُّ عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِرَجُلٍ: < أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلانَةَ؟ >، قَالَ: نَعَمْ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ : < أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكِ فُلانًا؟ > قَالَتْ : نَعَمْ، فَزَوَّجَ أَحَدَهُمَا صَاحِبَهُ، فَدَخَلَ بِهَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ، وَكَانَ مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ زَوَّجَنِي فُلانَةَ، وَلَمْ أَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ أُعْطِهَا شَيْئًا، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَعْطَيْتُهَا مِنْ صَدَاقِهَا سَهْمِي بِخَيْبَرَ، فَأَخَذَتْ سَهْمًا، فَبَاعَتْهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ.
قَالَ أَبو دَاود: وَزَادَ عُمَرُ (بْنُ الْخَطَّابِ وَحَدِيثُهُ أَتَمُّ) فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ >، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ (لِلرَّجُلِ ) ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.
(قَالَ أَبو دَاود: يُخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ مُلْزَقًا، لأَنَّ الأَمْرَ عَلَى غَيْرِ هَذَا)۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۹۹۶۲) (صحیح)

۲۱۱۷- عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: ''کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلاں عورت سے کر دوں؟''، اس نے جواب دیا: ہاں، پھرعورت سے کہا: ''کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ فلاں مرد سے تمہارا نکاح کر دوں؟''، اس نے بھی جواب دیا: ہاں، چنانچہ آپ ﷺ نے ان دونوں کا نکاح کر دیا، اور آدمی نے اس سے صحبت کر لی لیکن نہ تو اس نے مہر متعین کیا اور نہ ہی اسے کوئی چیز دی، یہ شخص غزوہ حدیبیہ میں شریک تھا اور اسی بنا پر اسے خیبر سے حصہ ملتا تھا، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت سے میرا نکاح کرایا تھا، لیکن میں نے نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اسے کچھ دیا، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر سے ملنے والا حصہ اس کے مہر میں دے دیا، چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لے کر ایک لاکھ میں فروخت کیا۔
ابو داود کہتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث کے شروع میں ان الفاظ کا اضافہ کیا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو''، اور ان کی حدیث سب سے زیادہ کامل ہے اور اس میں ''إن رسول الله ﷺ قال للرجل'' کے بجائے ''قال رسول الله ﷺ للرجل'' ہے پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
ابو داود کہتے ہیں: اندیشہ ہے کہ یہ حدیث الحاقی ہو کیونکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۱؎ ۔

وضاحت ۱؎ : کیونکہ درحقیقت مرض الموت میں اس شخص نے مہر سے زائد کی بابت ایسا کہا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب فِي خُطْبَةِ النِّكَاحِ
۳۳- باب: خطبہء نکاح کا بیان​

2118- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ فِي النِّكَاحِ وَغَيْرِهِ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، الْمَعْنَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ وَأَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ: < أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَائَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}>، لَمْ يَقُلْ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ: < إنْ >۔
* تخريج: ت/النکاح ۱۷ (۱۱۰۵)، ن/الجمعۃ ۲۴ (۱۴۰۵)، والنکاح ۳۹ (۳۲۷۹)، ق/النکاح ۱۹ (۱۸۹۲)، حم (۱/۳۹۲، ۴۰۸، ۴۱۳، ۴۱۸، ۴۲۳، ۴۳۷)، دي/النکاح ۲۰ (۲۲۴۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۹۵۰۶، ۹۶۱۸) (صحیح)

۲۱۱۸- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت اس طرح سکھایا: ''أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَائَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}۱؎ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}۲؎ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}''۳؎، محمد بن سلیمان کی روایت میں ''أَنْ'' نہیں ہے۔
وضاحت۱؎: ''اے ایما ن والو! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے'' (سورۃ النساء: ۱)
وضاحت۲؎: ''اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اورمسلمان ہی رہ کر مرو'' (سورۃ آل عمران:۱۰۲)
وضاحت۳؎: ''اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پا لی'' (سورۃ الاحزاب:۷۱،۷۰)۔

2119- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِرَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ ، ذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ بَعْدَ قَوْلِهِ: < وَرَسُولُهُ >: < أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لا يَضُرُّ إِلا نَفْسَهُ، وَلا يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، ( تحفۃ الأشراف: ۹۶۳۶) (ضعیف)

۲۱۱۹- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ پڑھتے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی لیکن اس میں ''ورسوله'' کے بعد یہ الفاظ زائد ہیں: ''أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لا يَضُرُّ إِلا نَفْسَهُ، وَلا يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا'' (اللہ نے آپ کو حق کے ساتھ قیامت سے پہلے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، وہ ہدایت پا چکا، اور جو ان کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچائے گا)۔

2120- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلاءِ ابْنَ أَخِي شُعَيْبٍ الرَّازِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ: خَطَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ أُمَامَةَ بِنْتَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، فَأَنْكَحَنِي مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَشَهَّدَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۳۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ''العلاء'' لین الحدیث ، اور ''اسماعیل'' مجہول ہیں)
۲۱۲۰- بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں: میں نے امامہ بنت عبدالمطلب سے نکاح کے لئے نبی اکرم ﷺ کے پاس پیغام بھیجا تو آپ نے بغیر خطبہ پڑھے ان سے میرا نکاح کر دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب فِي تَزْوِيجِ الصِّغَارِ
۳۴- باب: کمسن بچیوں کے نکاح کا بیان​

2121- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو كَامِلٍ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعٍ (سنين)، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَوْ سِتٍّ، وَدَخَلَ بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۱۰۶، ۱۶۸۷۱)، وقد أخرجہ: خ/النکاح ۳۸ (۵۱۳۳)، ۳۹ (۵۱۳۴)، ۵۹ (۵۱۵۸)، م/النکاح ۱۰ (۱۴۲۲)، ق/النکاح ۱۳ (۱۸۷۶)، ن/النکاح ۲۹ (۳۲۵۷)، حم (۶/۱۱۸)، دي/النکاح ۵۶ (۲۳۰۷) (صحیح)

۲۱۲۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول ﷺ نے مجھ سے شادی کی، اس وقت سات سال کی تھی (سلیمان کی روایت میں ہے: چھ سال کی تھی) اور آپ ﷺ میرے پاس آئے (شب زفاف منائی) اس وقت میں نو برس کی تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- بَاب فِي الْمُقَامِ عِنْدَ الْبِكْرِ
۳۵ - باب: کنواری عورت سے نکاح کرنے پر کتنے دن اس کے ساتھ رہے؟​

2122- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاثًا ثُمَّ قَالَ: < لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي >۔
* تخريج: م/الرضاع ۱۲ (۱۴۶۰)، ق/النکاح ۲۶ (۱۹۱۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۲۹)، وقد أخرجہ: ن/الکبری/ عشرۃ النساء (۸۹۲۵)، ط/النکاح ۵(۱۴)، حم (۶/۲۹۲، ۲۹۶، ۳۰۷)، دي/النکاح ۲۷ (۲۲۵۶) (صحیح)

۲۱۲۲- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات رہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم اسے اپنے خاندان کے لئے بے عزتی مت تصور کرنا، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہ سکتا ہوں لیکن پھر اپنی اور بیویوں کے پاس بھی سات سات رات رہوں گا''۔

2123- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَفِيَّةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاثًا، زَادَ عُثْمَانُ: وَكَانَتْ ثَيِّبًا، و قَالَ: حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، أَخْبَرَنَا أَنَسٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۷۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۹۹) (صحیح)

۲۱۲۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات گزاری، اور وہ ثیبہ ۱؎ تھیں۔
وضاحت۱؎: عثمان بن ابی شیبہ کے الفاظ ہیں ''کانت ثیباً'' ثیبہ وہ عورت ہے جس کی شادی پہلے ہو چکی ہو۔

2124- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاثًا، وَلَوْ قُلْتُ: إِنَّهُ رَفَعَهُ لَصَدَقْتُ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: السُّنَّةُ كَذَلِكَ۔
* تخريج: خ/النکاح ۱۰۰ (۵۲۱۳)، ۱۰۱ (۵۲۱۴)، م/الرضاع ۱۲ (۱۴۶۱)، ت/النکاح ۴۰ (۱۱۳۹)، ق/النکاح ۲۶ (۱۹۱۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۹۴۴)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۵(۱۵)، دي/النکاح ۲۷ (۲۲۵۵) (صحیح)

۲۱۲۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کوئی ثیّبہ کے رہتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات رات رہے، اور جب ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات رہے۔
راوی کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے تو سچ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ''سنت اسی طرح ہے''۔
 
Top