- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
26- بَاب فِي الثَّيِّبِ
۲۶- باب: ثیبہ (غیرکنواری عورت) کا بیان
۲۶- باب: ثیبہ (غیرکنواری عورت) کا بیان
2098- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالا: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا >، وَهَذَا لَفْظُ الْقَعْنَبِيِّ ۔
* تخريج: م/النکاح ۹ (۱۴۲۱)، ت/النکاح ۱۷ (۱۱۰۸)، ن/النکاح ۳۱ (۳۲۶۲)، ق/النکاح ۱۱ (۱۸۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۱۷)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۲ (۴)، حم (۱/۲۱۹، ۲۴۳، ۲۷۴، ۳۵۴، ۳۵۵، ۳۶۲)، دي/النکاح ۱۳ (۲۲۳۴) (صحیح)
۲۰۹۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ثیبہ۱؎ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے''۔
وضاحت ۱؎: ایّم سے مراد ثیبہ عورت ہے اس کی تائید صحیح مسلم کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے، ترجمۃ الباب سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے لیکن اس کے برخلاف بعض لوگوں نے ایّم سے مراد بیوہ عورت لیا ہے۔
2099-حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ: < الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا >.
قَالَ أَبو دَاود: < أَبُوهَا > لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۶۵۱۷) (صحیح) (''تستأمر'' کے لفظ سے صحیح ہے، اس روایت کا لفظ شاذ ہے)
۲۰۹۹- عبد اللہ بن فضل سے بھی اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: ''ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ پوچھے گا''۔
ابو داود کہتے ہیں: ''أَبُوْهَا'' کا لفظ محفوظ نہیں ہے۔
2100- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم (۲۰۹۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۵۱۷) (صحیح)
۲۱۰۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے''۔
2101- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّيْنِ، عَنْ خَنْسَائَ بِنْتِ خِذَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَجَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا۔
* تخريج: خ/النکاح ۴۲ (۵۱۳۸)، الإکراہ ۳ (۶۹۴۵)، الحیل ۱۱ (۶۹۶۹)، ن/النکاح ۳۵ (۳۲۷۰)، ق/النکاح ۱۲ (۱۸۷۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۲۴)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۱۴(۲۵)، حم (۶/۳۲۸)، دي/النکاح ۱۴ (۲۲۳۸) (صحیح)
۲۱۰۱- خنساء بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور وہ ثیبہ تھیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔