- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
54- بَاب فِي صَوْمِ أَشْهُرِ الْحُرُمِ
۵۴-باب: حر مت والے مہینوں کے صیام کا بیان
2428- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيَّةِ، عَنْ أَبِيهَا أَوْ عَمِّهَا أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، ثُمَّ انْطَلَقَ فَأَتَاهُ بَعْدَ سَنَةٍ وَقَدْتَغَيَّرَتْ حَالُهُ وَهَيْئَتُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَعْرِفُنِي؟ قَالَ: < وَمَنْ أَنْتَ؟ > قَالَ: أَنَا الْبَاهِلِيُّ الَّذِي جِئْتُكَ عَامَ الأَوَّلِ، قَالَ: < فَمَا غَيَّرَكَ، وَقَدْ كُنْتَ حَسَنَ الْهَيْئَةِ؟ >، قَالَ: مَا أَكَلْتُ طَعَامًا إِلابِلَيْلٍ مُنْذُ فَارَقْتُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لِمَ عَذَّبْتَ نَفْسَكَ؟ > ثُمَّ قَالَ: < صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَيَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ >، قَالَ: زِدْنِي فَإِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ: < صُمْ يَوْمَيْنِ >، قَالَ: زِدْنِي، قَالَ: < صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ >، قَالَ: زِدْنِي، قَالَ: < صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ، صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ، صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ >، وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ الثَّلاثَةِ فَضَمَّهَا ثُمَّ أَرْسَلَهَا۔
* تخريج: ق/(۱۷۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۴۰)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری/ الصیام (۲۷۴۳)، حم (۵/۲۸) (ضعیف) (مجیبۃ
کے بارے میں سخت اختلاف ہے، یہ عورت ہیں یا مرد، صحابی ہیں یا تابعی اسی اضطراب کے سبب اس حدیث کو لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے )
۲۴۲۸- مجیبہ باہلیہ اپنے والد یا چچا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر چلے گئے اور ایک سال بعد دوبارہ آئے اس مدت میں ان کی حالت وہیئت بدل گئی تھی، کہنے لگے : اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا : ''کون ہو؟''، جواب دیا: میں باہلی ہوں جو کہ پہلے سال بھی حاضر ہوا تھا، آپ ﷺ نے کہا:'' تمہیں کیا ہوگیا؟ تمہاری تواچھی خاصی حالت تھی؟''، جواب دیا: جب سے آپ کے پاس سے گیا ہوں رات کے علاوہ کھایا ہی نہیں ۱؎ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اپنے آپ کو تم نے عذاب میں کیوں مبتلا کیا؟''، پھر فرمایا:'' صبر کے مہینہ ( رمضان) کے صیام رکھو، اور ہر مہینہ ایک صیام رکھو''، انہوں نے کہا: اور زیا دہ کیجئے کیونکہ میرے اندر طاقت ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا:'' دو دن صیام رکھو''، انہوں نے کہا: اس سے زیادہ کی میرے اندر طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:'' تین دن کے صیام رکھ لو'' ، انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا:'' حرمت والے مہینوں میں صیام رکھو اور چھو ڑ دو ، حرمت والے مہینوں میں صیام رکھو اور چھوڑ دو ، حرمت والے مہینوں میں صیام رکھو اور چھو ڑ دو''، آپ ﷺ نے اپنی تین انگلیوں سے اشا رہ کیا، پہلے بند کیا پھر چھو ڑ دیا ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : برابر صیام رکھ رہاہوں۔
وضاحت ۲؎ : یعنی تین دن صیام رکھو پھر تین دن نہ رکھو، پورے مہینوں میں اسی طرح کرتے رہو۔