74- بَاب الْمَرْأَةِ تَصُومُ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا
۷۴-باب: شوہر کی اجازت کے بغیرعورت کے(نفل ) صیام رکھنے کے حکم کا بیان
2458- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ، غَيْرَ رَمَضَانَ، وَلاتَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ >۔
* تخريج: خ/ البیوع ۱۲ (۲۰۶۶)، النکاح ۸۴ (۵۱۹۲)، النفقات ۵ ۵۳۶۰)، م/الزکاۃ ۲۶ (۱۰۲۶)، ت/الصوم ۶۵ (۷۸۲)، ق/الصیام ۵۳ (۱۷۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۹۵، ۱۴۷۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۶۱)، دي/الصوم ۲۰ (۱۷۶۱) (صحیح) دون ذکر رمضان
۲۴۵۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت صیام نہ رکھے سوائے رمضان کے، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے''۔
2459- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَائَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلا يُصَلِّي صَلاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا، قَالَ: فَقَالَ: < لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ >، وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ فَتَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلا أَصْبِرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَئِذٍ: < لا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا >، وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي لا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ، لا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: < فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ- عَنْ حُمَيْدٍ أَوْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۱۲)، وقد أخرجہ: ق/الصیام ۵۳ (۱۷۶۲)، حم (۳/۸۰، ۸۴)، دي/الصوم ۲۰ (۱۷۶۰) (صحیح)
۲۴۵۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، ہم آپ کے پاس تھے، کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جب صلاۃ پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، اور صیام رکھتی ہوں تو صیام توڑوا دیتے ہیں، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔
صفوان اس وقت آپ ﷺ کے پاس موجود تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا یہ الزام کہ صلاۃ پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اسے (دو دو سورتیں پڑھنے سے) منع کر رکھا ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا:'' لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے'' ۔
صفوان نے پھر کہا کہ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس سے صیام افطار کرا دیتا ہوں تو یہ صیام رکھتی چلی جاتی ہے ، میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کر پاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس دن فرمایا: '' کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ( نفل صیام) نہ رکھے''۔
رہی اس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے صلاۃ نہیں پڑھتا تو ہم اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اٹھ ہی نہیں پاتے، آپ ﷺ نے فرمایا:'' جب بھی جاگو صلاۃ پڑھ لیا کرو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے یہ معلوم ہوا کہ گویا آپ شرعی طورپر اس بات میں معذور تھے، اور یہ واقعہ کبھی کبھار کا ہی ہو سکتا ہے، جس کو مسئلہ بنا کر ان کی بیوی نے عدالت نبوی میں پیش کیا ۔ صحابی رسول کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ قصداً وعمداً وہ صلاۃ میں تساہلی کرے گا، رات بھر کی محنت ومزدوری کے بعد آدمی تھک کر چور ہو جاتا ہے، اور فطری طورپر آخری رات کی نیند سے خود سے یا جلد ی بیدار ہونا مشکل مسئلہ ہے، اگر کبھی ایسی معذوری ہوجائے تو بیداری کے بعد صلاۃ ادا کرلی جائے، ایک بات یہ بھی واضح رہے کہ صفوان اور ان کے خاندان کے لوگ گہری نیند اور تاخیر سے اٹھنے کی عادت میں مشہور تھے، جیسا کہ زیر بحث حدیث میں صراحت ہے، نیز مسند احمد میں صفوان کا قول ہے کہ: میں گہری نیند والا ہوں، اور ایسے خاندان سے ہوں جو اپنی گہری نیند کے بارے میں مشہور ہیں (۳؍۸۴- ۸۵)۔
نیز مسند احمد میں ہے کہ آپ نے رسول اکرم ﷺ سے سوال کیا تھا کہ کن وقتوں میں صلاۃ مکروہ ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''فجر کے بعد صلاۃ سے رک جاؤ حتی کہ سورج نکل آئے، جب سورج نکل آئے تو صلاۃ پڑھو ...'' (۵؍۳۱۲)۔
چنانچہ غزوات میں اپنی اسی عادت کی بنا پر قافلہء مجاہدین میں سب سے بعد میں لوگوں کے گرے پڑے سامان سمیٹ کر قافلہ سے مل جاتے (ملاحظہ ہو واقعہ إفک جو کہ غزوہ بنی مصطلق میں ہوا)۔
یہ بھی واضح رہے کہ فجر میں مسلسل غیر حاضری کا معاملہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مخفی نہیں رہ سکتا ، بلکہ یہ حرکت تو منافقین سے سرزد ہوتی تھی، اور صحابہ کرام کے بارے میں یا صفوان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔