• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب الرَّجُلِ يُهِلُّ بِالْحَجِّ ثُمَّ يَجْعَلُهَا عُمْرَةً
۲۵- باب: آدمی حج کا احرام باندھے پھر اسے عمرہ میں بد ل دے اس کے حکم کا بیان​

1807- حَدَّثَنَا هَنَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ- عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ الأَسْوَدِ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ حَجَّ ثُمَّ فَسَخَهَا بِعُمْرَةٍ: لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ إِلا لِلرَّكْبِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۲۰)، وقد أخرجہ: م/الحج ۲۳ (۱۲۲۴)، ن/الحج ۷۷ (۲۸۱۲)، ق/المناسک ۴۲ (۲۹۸۵) (صحیح)

۱۸۰۷- سلیم بن اسود سے روایت ہے کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں جو حج کی نیت کرے پھر اسے عمرے سے فسخ کر دے کہا کرتے تھے: یہ صرف اسی قافلہ کے لئے (مخصوص) تھا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ ابو ذر رضی اللہ عنہ کا اپنا خیال تھا نہ کہ واقعہ، جیسا کہ پچھلی حدیثوں سے واضح ہے۔

1808- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ، بْنُ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلالِ، بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةٌ أَوْ لِمَنْ بَعْدَنَا؟ قَالَ: < (بَلْ) لَكُمْ خَاصَّةٌ >۔
* تخريج: ن/الحج ۷۷ (۲۸۱۰)، ق/المناسک ۴۲ (۲۹۸۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۰۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۶۹)، دي/المناسک ۳۷ (۱۸۹۷) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’حارث‘‘ لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے، اس لئے منکر ہے)
۱۸۰۸- بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کا (عمرے کے ذریعے) فسخ کرنا ہمارے لئے خا ص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لئے بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’بلکہ یہ تمہا رے لئے خاص ہے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب الرَّجُلِ يَحُجُّ عَنْ غَيْرِهِ
۲۶- باب: حج بدل کا بیان​

1809- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَجَائَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لايَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: < نَعَمْ > وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ۔
* تخريج: خ/الحج ۱ (۱۵۱۳)، وجزاء الصید ۲۳ (۱۸۵۴)، ۲۴ (۱۸۵۵)، والمغازي ۷۷ (۴۳۹۹)، والاستئذان ۲ (۶۲۲۸)، م/الحج ۷۱ (۱۳۳۴)، ن/الحج ۸ (۲۶۳۴)، ۹ (۲۶۳۶)، ۱۲ (۲۶۴۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۶۷۰، ۶۵۲۲)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۸۵ (۹۲۸)، ق/المناسک ۱۰ (۲۹۰۹)، ط/الحج۳۰ (۹۷)، حم (۱/۲۱۹، ۲۵۱، ۳۲۹، ۳۴۶، ۳۵۹)، دي/الحج ۲۳ (۱۸۷۳) (صحیح)

۱۸۰۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیچھے سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پاس فتویٰ پوچھنے آئی تو فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ فضل کو دیکھنے لگی تو رسول اللہ ﷺ فضل کا منہ اس عورت کی طرف سے دوسری طرف پھیرنے لگے۱؎ ، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالی کے اپنے بندوں پر (عائد کردہ) فریضہ حج نے میرے والد کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں، اونٹ پر نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی جانب سے حج کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں‘‘، اور یہ واقعہ حجۃ الوداع میں پیش آیا۔
وضاحت۱؎: فضل بن عباس رضی اللہ عنہما خوبصورت اور جوان تھے اور وہ عورت بھی حسین تھی، اسی وجہ سے آپ ﷺ نے ان کا رخ دوسری طرف پھیر دیا۔

1810- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَمُسْلِمُ (بْنُ إِبْرَاهِيمَ)، بِمَعْنَاهُ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ حَفْصٌ فِي حَدِيثِهِ: رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، أَنْهِ قَال: يَارَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلا الْعُمْرَةَ وَلا الظَّعْنَ، قَالَ: < احْجُجْ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ >۔
* تخريج: ت/الحج ۸۷ (۹۳۰)، ن/الحج ۲ (۲۶۲۲)، ۱۰ (۲۶۳۸)، ق/المناسک ۱۰ (۲۹۰۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۰، ۱۱، ۱۲) (صحیح)

۱۸۱۰- ابو رزین رضی اللہ عنہ - بنی عامر کے ایک فرد- کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی اور نہ سواری پر سوار ہونے کی، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ اپنے والد کی جانب سے حج اور عمرہ کرو‘‘۔

1811- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ (الطَّالَقَانِيُّ) وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَ إِسْحَاقُ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سَمِعَ رَجُلا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، قَالَ: < مَنْ شُبْرُمَةُ؟ > قَالَ: أَخٌ لِي، أَوْ قَرِيبٌ لِي، قَالَ: <حَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ> قَالَ: لا، قَالَ: < حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ >۔
* تخريج: ق/المناسک ۹ (۲۹۰۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۵۶۴) (صحیح )

۱۸۱۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو کہتے سنا: ’’لبيك عن شبرمة‘‘(حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے) آپ ﷺ نے دریافت کیا: ’’شبرمہ کون ہے؟‘‘، اس نے کہا: میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ’’تم نے اپنا حج کر لیا ہے؟‘‘، اس نے جواب دیا: نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پہلے اپنا حج کرو پھر (آئندہ) شبرمہ کی طرف سے کرنا‘‘ ۔
وضاحت۱؎: بعض علماء کے نزدیک حج بدل (دوسرے کی طرف سے حج کرنا) درست ہے، خواہ اپنی طرف سے حج نہ کر سکا ہو، بعض ائمہ کے نزدیک اگر وہ اپنی طرف سے حج نہیں کر سکا ہے تو دوسرے کی طرف سے حج بدل درست نہ ہو گا، اور یہی صحیح مذہب ہے، اس لئے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس شخص کو جو ’’لبيك عن شبرمة‘‘ کہہ رہا تھا حکم دیا: ’’حج عن نفسك ثم حج عن شبرمة‘‘: ’’پہلے اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرو‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب كَيْفَ التَّلْبِيَةُ؟
۲۷- باب: تلبیہ (لبیک کہنے) کا بیان​

1812- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: < لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيكَ لَكَ > قَالَ : وَكَانَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِي تَلْبِيَتِهِ: < لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ >۔
* تخريج: خ/الحج ۲۶ (۱۵۴۹)، واللباس ۶۹(۵۹۵۱)، م/الحج ۳ (۱۱۸۴)، ن/الحج ۵۴ (۲۷۴۸، ۲۷۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۴۴)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۱۳ (۸۲۵)، ق/المناسک ۱۵ (۲۹۱۸)، ط/الحج ۹(۲۸)، حم (۲/۳، ۲۸، ۲۸، ۳۴، ۴۱، ۴۳، ۴۷، ۴۸، ۵۳، ۷۶، ۷۷، ۷۹، ۱۳۱)، دي/المناسک ۱۳ (۱۸۴۹) (صحیح)

۱۸۱۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا:’’لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاشَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيكَ لَكَ‘‘ (حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ستائش، نعمتیں اور فرماروائی تیری ہی ہے تیرا ان میں کوئی شریک نہیں)۔
راوی کہتے ہیں: عبد اللہ بن عمر تلبیہ میں اتنا مزید کہتے’’لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ‘‘(حاضر ہوں تیری خدمت میں، حاضر ہوں، حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف رغبت اور عمل ہے)۔

1813- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَذَكَرَ التَّلْبِيَةَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ: < ذَا الْمَعَارِجِ > وَنَحْوَهُ مِنَ الْكَلامِ، وَالنَّبِيُّ ﷺ يَسْمَعُ فَلايَقُولُ لَهُمْ شَيْئًا۔
* تخريج: ق/المناسک ۱۵ (۲۹۱۹) (کلاھما بدون قولہ : ’’والناس یزیدون ۔۔۔الخ)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۶۰۴)، وقد أخرجہ: م/الحج ۱۹(۱۵۴۰) (في سیاق حجۃ النبي ﷺ الطویل ) (صحیح)

۱۸۱۳- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا، پھر انہوں نے تلبیہ کا اسی طرح ذکر کیا جیسے ابن عمر کی حدیث میں ہے اور کہا: لوگ (اپنی طرف سے اللہ کی تعریف میں) ’’ذا المعارج‘‘ اور اس جیسے کلمات بڑھاتے اور نبی اکرم ﷺ سنتے تھے لیکن آپ ان سے کچھ نہیں فرماتے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: نبی اکرم ﷺ کی یہ خاموشی اور سکوت تلبیہ کے مخصوص الفاظ پر اضافہ کے جواز کی دلیل ہے، اگرچہ افضل وہی ہے جو آپ ﷺ سے مرفوعاً ثابت ہے اور جس پر آپ ﷺ نے مداومت کی ہے۔

1814- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < أَتَانِي جِبْرِيلُ ﷺ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي وَمَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلالِ >، أَوْ قَالَ: <بِالتَّلْبِيَةِ> يُرِيدُ أَحَدَهُمَا۔
* تخريج: ت/الحج ۱۵ (۸۲۹)، ن/الحج ۵۵ (۲۷۵۴)، ق/المناسک ۱۶ (۲۹۲۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۳۷۸۸)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۱۰ (۳۴)، حم (۴/۵۵، ۵۶)، دي/المناسک ۱۴ (۱۸۵۰) (صحیح)

۱۸۱۴- سائب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے پاس جبرئیل آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ ۱؎ اور ساتھ والوں کو اہلال یا فرمایا تلبیہ میں آواز بلند کرنے کا حکم دوں‘‘۲؎ ۔
وضاحت۱؎: اس سے پتہ چلا کہ مردوں کے لئے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مستحب ہے، ’’أصحابي‘‘ کی قید سے اس حکم سے عورتیں خارج ہوگئی ہیں ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ بلند آواز سے تلبیہ نہ پکاریں۔
وضاحت۲؎: اہلال اور تلبیہ دونوں ایک ہی معنی میں ہے، راوی کو شک ہے کہ آپ ﷺ نے اہلال کہا یا تلبیہ، مراد یہ ہے کہ دونوں میں سے آپ ﷺ نے کوئی ایک ہی لفظ کہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب مَتَى يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ ؟
۲۸- باب: لبیک پکارنا کب بند کرے؟​

1815- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ۔
* تخريج: خ/الحج ۲۲ (۱۵۴۳)، ۹۳(۱۶۷۰)، ۱۰۱(۱۶۸۵)، م/الحج ۴۵ (۱۲۸۰)، ت/الحج ۷۸ (۹۱۸)، ن/الحج ۲۱۶ (۳۰۵۷)، ۲۲۸ (۳۰۸۱)، ۲۲۹ (۳۰۸۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۵۰)، وقد أخرجہ: ق/المناسک ۶۹ (۳۰۴۰)، حم (۱/۲۱۰، ۲۱۱، ۲۱۲، ۲۱۳، ۲۱۴)، دي/المناسک ۶۰(۱۹۴۳) (صحیح)

۱۸۱۵- فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تلبیہ پکارا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی۱؎ ۔
وضاحت۱؎ : ’’حتى رمى جمرة العقبة‘‘ سے احمد اور اسحاق نے استدلال کیا ہے کہ تلبیہ کہنا جمرہ عقبہ کی رمی پوری کر لینے کے بعد موقوف کیا جائے گا، لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں’’لم يزل يلبي حتى بلغ الجمرة‘‘ کے الفاظ آئے ہیں جس سے جمہور علماء نے استدلال کیا ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی پہلی کنکری کے ساتھ ہی تلبیہ بند کر دیا جائے گا۔

1816- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ۔
* تخريج: م/الحج ۴۶ (۱۲۸۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۲۷۱)، وقد أخرجہ: ن/الحج ۱۹۱ (۳۰۰۱)، حم (۲/۲۲)، دي/المناسک ۴۸ (۱۹۱۸) (صحیح)

۱۸۱۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم صبح کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلے ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ ’’الله أكبر‘‘ کہہ رہے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- بَاب مَتَى يَقْطَعُ الْمُعْتَمِرُ التَّلْبِيَةَ ؟
۲۹- باب: عمرہ کرنے والا تلبیہ کب بند کرے؟​

1817- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < يُلَبِّي الْمُعْتَمِرُ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ عَبْدُالْمَلِكِ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَهَمَّامٌ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا۔
* تخريج: ت/الحج ۷۹ (۹۱۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۹۱۲) موقوفًا، و (۵۹۵۸) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’محمد بن أبی لیلی‘‘ ضعیف ہیں)
۱۸۱۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’عمرہ کرنے والا حجر اسود کا استلام کرنے تک لبیک پکارے‘‘۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے عبد الملک بن ابی سلیمان اور ہمام نے عطاء سے، عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث سندا ضعیف ہے، مگر بہت سارے علماء کا یہی قول ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: مکہ کے مکانات پر نظر پڑتے ہی تلبیہ بند کر دے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ خانۂ کعبہ پر نظر پڑتے ہی تلبیہ بند کر دے، اور یہ دعا پڑھے: ’’اللهم أنت السلام ومنك السلام...الخ‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب الْمُحْرِمِ يُؤَدِّبُ غُلامَهُ
۳۰- باب: محرم اپنے غلام کو جرم پر سزا دے تو کیسا ہے؟​

1818- حَدَّثَنَا (أَحْمَدُ) بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ، (حَدَّثَنَا) (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حُجَّاجًا، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَنَزَلْنَا، فَجَلَسَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللَّه عَنْهَا إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي وَكَانَتْ زِمَالَةُ أَبِي (بَكْرٍ)، وَزِمَالَةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَاحِدَةً مَعَ غُلامٍ لأَبِي بَكْرٍ، فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ يَنْتَظِرُ أَنْ يَطْلُعَ عَلَيْهِ، فَطَلَعَ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرُهُ، قَالَ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوبَكْرٍ بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ؟ قَالَ: فَطَفِقَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَتَبَسَّمُ، وَيَقُولُ: <انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ > قَالَ ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ: فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى أَنْ يَقُولَ: < انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ > وَيَتَبَسَّمُ۔
* تخريج: ق/المناسک ۲۱ (۲۹۳۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۱۵) (حسن)

۱۸۱۸- اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کو نکلے، جب ہم مقام عرج میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ اترے، ہم بھی اترے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں، اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھی۔ اس سفر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ دونوں کے سامان اٹھانے کا اونٹ ایک ہی تھا جو ابو بکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے پاس تھا، ابو بکر رضی اللہ عنہ اس انتظار میں بیٹھے کہ وہ غلام آئے جب وہ آیا تو اس کے ساتھ اونٹ نہ تھا، انہوں نے پوچھا: تیرا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا کل رات وہ گم ہو گیا، ابو بکر بولے: ایک ہی اونٹ تھا اور وہ بھی تو نے گم کر دیا، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے تھے اور فرما رہے تھے: ’’دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے؟‘‘ (ابن ابی رزمہ نے کہا)’’ رسول اللہ ﷺ اس سے زیادہ کچھ نہیں فرما رہے تھے کہ دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے اور آپ مسکرا رہے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31-بَاب الرَّجُلِ يُحْرِمُ فِي ثِيَابِهِ
۳۱- باب: آدمی سِلے ہوئے کپڑے میں احرام باندھ لے تو اس کے حکم کا بیان​

1819- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَائً، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ابْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ أَثَرُ خَلُوقٍ، أَوْ قَالَ صُفْرَةٍ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى النَّبِيِّ ﷺ (الْوَحْيَ)، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: <أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟ > قَالَ: < اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الْخَلُوقِ -أَوْ قَالَ: أَثَرَ الصُّفْرَةِ- وَاخْلَعِ الْجُبَّةَ عَنْكَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَاصَنَعْتَ فِي حَجَّتِكَ >۔
* تخريج: خ/الحج ۱۷ (۱۵۳۶) والعمرۃ ۱۰(۱۷۸۹)، وجزاء الصید ۱۹(۱۸۴۷)، والمغازي ۵۶ (۴۳۲۹)، وفضائل القرآن ۲ (۴۹۸۵)، م/الحج ۱ (۱۱۸۰)، ت/الحج ۲۰(۸۳۶)، ن/الحج ۲۹ (۲۶۶۹)، ۴۴ (۲۷۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲۲، ۲۲۴) (صحیح)

۱۸۱۹- یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، اس کے بدن پر خوشبو یا زردی کا نشان تھا اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، پوچھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کس طرح عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اتنے میں اللہ تعالی نے نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل کی، جب وحی اتر چکی تو آپ نے فرمایا: ’’عمرے کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟‘‘ فرمایا: ’’خلوق کا نشان، یا زردی کا نشان دھو ڈالو، جبہ اتار دو، اور عمرے میں وہ سب کرو جو حج میں کرتے ہو‘‘۔

1820- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ وَهُشيْمٌ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فِيهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ اخْلَعْ جُبَّتَكَ ، فَخَلَعَهَا مِنْ رَأْسِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ت/الحج ۲۰ (۸۳۵) ن/الکبری/ فضائل القرآن (۷۹۸۱)، (من ۱۸۲۰ حتی ۱۸۲۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۳۶، ۱۱۸۴۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲۴) (صحیح)
(حدیث میں واقع یہ لفظ ’’من رأسه‘‘ منکر ہے) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ۶؍ ۸۴)
۱۸۲۰- اس سند سے بھی یعلی سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اس سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اپنا جبہ اتار دو‘‘، چنانچہ اس نے اپنے سر کی طرف سے اسے اتار دیا ،اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

1821- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمَدَانِيُّ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ فِيهِ: فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَنْزِعَهَا نَزْعًا، وَيَغْتَسِلَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم: (۱۸۱۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۳۶) (صحیح)

۱۸۲۱- اس سند سے بھی یعلی بن منیہ ۱؎ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں :’’فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَنْزِعَهَا نَزْعًا، وَيَغْتَسِلَ - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا -‘‘ (یعنی رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار- آپ نے فرمایا-) پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
وضاحت۱؎ : منیہ یعلیٰ کی والدہ ہیں ان کے والد کا نام امیّہ ہے۔

1822- حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرِمٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ابْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ بِالْجِعْرَانَةِ وَقَدْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ، وَسَاقَ (هَذَا) الْحَدِيثَ ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۸۱۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۳۶) (صحیح)

۱۸۲۲- یعلی بن امیہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جعرانہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اس نے عمرہ کا احرام اور جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اس کی دا ڑھی و سر کے بال زرد تھے، اور راوی نے یہی حدیث بیان کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ
۳۲- باب: محرم کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟​

1823- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: مَا يَتْرُكُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ: < لا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ، وَلاالْبُرْنُسَ، وَلا السَّرَاوِيلَ، وَلا الْعِمَامَةَ، وَلا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلا زَعْفَرَانٌ، وَلا الْخُفَّيْنِ، إِلا لِمَنْ لايَجِدُ النَّعْلَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ >۔
* تخريج: خ/العلم ۵۳ (۱۳۴)، والصلاۃ ۹ (۳۶۶)، والحج ۲۱ (۱۵۴۲)، وجزاء الصید ۱۳ (۱۸۳۸)، ۱۵(۱۸۴۲)، واللباس ۸ (۵۷۹۴)، ۱۳ (۵۸۰۳)، ۱۵ (۵۸۰۶)، م/الحج ۱ (۱۱۷۷)، ن/الحج ۲۸ (۲۶۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۱۷، ۸۳۲۵)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۱۸ (۸۳۳)، ق/المناسک ۱۹ (۲۹۲۹)، ط/الحج ۳(۸)، ۴ (۹)، حم (۲/۴، ۸، ۲۲، ۲۹، ۳۲، ۳۴، ۴۱، ۵۴، ۵۶، ۵۹، ۶۳، ۶۵، ۷۷، ۱۱۹)، دي/المناسک ۹ (۱۸۳۹) (صحیح)

۱۸۲۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: ’’نہ کرتا پہنے، نہ ٹوپی، نہ پائجامہ، نہ عمامہ (پگڑی)، نہ کوئی ایسا کپڑا جس میں ورس۱؎ یا زعفران لگا ہو، اور نہ ہی موزے، سوائے اس شخص کے جسے جوتے میسر نہ ہوں، تو جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے ہی پہن لے، انہیں کاٹ ڈالے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں‘‘ ۲؎ ۔
وضاحت۱؎ : ایک قسم کی خوشبو دار گھاس ہے جس سے کپڑے وغیرہ رنگے جاتے ہیں۔
وضاحت۲؎ : امام احمد کے نزدیک خف (چمڑے کا موزہ) کاٹنا ضروری نہیں، دیگر ائمہ کے نزدیک کاٹنا ضروری ہے، دلیل ان کی یہی حدیث ہے، اور امام احمد کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث ہے جس میں کاٹنے کا ذکر نہیں ہے، جب کہ وہ میدان عرفات کے موقع کی حدیث ہے، یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کی ناسخ ہے، اور ورس اور زعفران سے منع اس لئے کیا گیا کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے، یہی حکم ہر اس رنگ کا ہے جس میں خوشبو ہو۔

1824- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، بِمَعْنَاهُ۔
* تخريج: خ/ الحج ۱۸ (۱۵۳۹)، م/الحج ۱ (۱۱۷۷)، ن/ الحج ۳۰ (۲۶۷۰)، ق/ المناسک ۱۹ (۲۹۲۹)، (۲۹۳۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۳۲۵)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۳ (۸)، حم (۲/۶۳)، دی/ المناسک ۹ (۱۸۳۹) (صحیح)

۱۸۲۴- اس سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔

1825- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، بِمَعْنَاهُ، (وَ) زَادَ: < وَلا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، وَلا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ >.
قَالَ أَبودَاود: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ، عَلَى مَا قَالَ اللَّيْثُ، وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَمَالِكٌ وَأَيُّوبُ مَوْقُوفًا، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدِينِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: < الْمُحْرِمَةُ لا تَنْتَقِبُ وَلا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ >.
قَالَ أَبودَاود: إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدِينِيُّ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَيْسَ لَهُ كَبِيرُ حَدِيثٍ۔
* تخريج: خ/ الصید ۱۳ (۱۸۳۸)، ن/الحج ۳۳ (۲۶۷۴)، ت/الحج ۱۸ (۸۳۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۲۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۱۹) (صحیح)

۱۸۲۵- اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے، راوی نے البتہ اتنا اضافہ کیا ہے کہ محرم عورت منہ پر نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: حاتم بن اسماعیل اور یحییٰ بن ایوب نے اس حدیث کو موسی بن عقبہ سے، اورموسیٰ نے نافع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے لیث نے کہا ہے، اوراسے موسی بن طارق نے موسی بن عقبہ سے ابن عمر پر موقوفاً روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے عبید اللہ بن عمر اور مالک اور ایوب نے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، اور ابراہیم بن سعید المدینی نے نافع سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ ’’محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: ابراہیم بن سعید المدینی ایک شیخ ہیں جن کا تعلق اہل مدینہ سے ہے ان سے زیادہ احا دیث مروی نہیں، یعنی وہ قلیل الحدیث ہیں۔
وضاحت۱؎: احرام کی حالت میں عورتوں کو اپنے چہرے پر’’ نقاب‘‘ لگانا منع ہے، مگر حدیث میں جس نقاب کا ذکر ہے وہ چہرے پر باندھا جاتا تھا، برصغیر ہند و پاک کے موجودہ برقعوں کا ’’نقاب‘‘ چادر کے پلو کی طرح ہے جس کو ازواج مطہرات مردوں کے گزرنے کے وقت چہرے پر لٹکا لیا کرتی تھیں (دیکھئے حدیث نمبر: ۱۸۳۳)، اس لئے اس نقاب کو بوقت ضرورت عورتیں چہرے پر لٹکا سکتی ہیں، اور چوں کہ اس وقت حج میں ہر وقت اجنبی (غیر محرم) مردوں کا سامنا پڑتا ہے، اس لئے ہر وقت اس نقاب کو چہرے پر لٹکائے رکھ سکتی ہیں۔

1826- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < الْمُحْرِمَةُ لا تَنْتَقِبُ وَلا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۷۴۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۱) (صحیح)

۱۸۲۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا:’’ محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے‘‘۔

1827- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَإِنَّ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِي، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى النِّسَاءَ فِي إِحْرَامِهِنَّ عَنِ الْقُفَّازَيْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ، وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَلِكَ مَا أَحَبَّتْ مِنْ أَلْوَانِ الثِّيَابِ مُعَصْفَرًا أَوْ خَزًّا أَوْ حُلِيًّا أَوْ سَرَاوِيلَ أَوْ قَمِيصًا أَوْ خُفًّا.
قَالَ أَبودَاود: رَوَى هَذَا (الْحَدِيثَ) عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ (عَنْ نَافِعٍ) عَبْدَةُ (بْنُ سُلَيْمَانَ) وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ إِلَى قَوْلِهِ: < وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ > وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ۔
* تخريج: خ/جزاء الصید ۱۳ (۱۸۳۸تعلیقاً)، ( تحفۃ الأشراف: ۸۴۰۵)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۱۸ (۸۳۳)، حم (۲/۲۲، ۳۲، ۱۱۹) (حسن صحیح)

۱۸۲۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے، نقاب اوڑھنے، اور ایسے کپڑے پہننے سے جن میں ورس یا زعفران لگا ہو منع فرمایا، البتہ ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے چاہے پہنے جیسے زرد رنگ والے کپڑے، یا ریشمی کپڑے، یا زیور، یا پائجامہ، یا قمیص، یا کرتا، یا موزہ۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدہ بن سلیمان اور محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے ابن اسحاق نے نافع سے حدیث ’’وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ‘‘ تک روایت کیا ہے اور اس کے بعد کا ذکر ان دونوں نے نہیں کیا ہے۔

1828- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ وَجَدَ الْقُرَّ فَقَالَ: أَلْقِ عَلَيَّ ثَوْبًا يَا نَافِعُ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا، فَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ هَذَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ؟!
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۷۵۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۴۱، ۱۴۸) (صحیح)

۱۸۲۸- نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سردی محسوس کی تو انہوں نے کہا: نافع! میرے اوپر کپڑا ڈال دو، میں نے ان پر برنس ڈال دی، تو انہوں نے کہا: تم میرے اوپر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔

1829- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لا يَجِدُ الإِزَارَ، وَالْخُفُّ لِمَنْ لا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ >.
قَالَ أَبودَاود : هَذَا حَدِيثُ أَهْلِ مَكَّةَ: وَمَرْجِعُهُ إِلَى الْبَصْرَةِ إِلَى جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْهُ ذِكْرُ السَّرَاوِيلِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْقَطْعَ فِي الْخُفِّ۔
* تخريج: خ/جزاء الصید ۱۵ (۱۸۴۱)، ۱۶ (۱۸۴۳)، واللباس ۱۴ (۵۸۰۴)، ۳۷ (۳۸۵۳)، م/الحج ۱ (۱۱۷۸)، ت/الحج۱۹ (۸۳۴)، ن/الحج ۳۲ (۲۶۷۲، ۲۶۷۳)، ۳۷ (۲۶۸۰)، والزینۃ ۱۰۰ (۵۳۲۷)، ق/المناسک ۲۰ (۲۹۳۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۳۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۱۵، ۲۲۱، ۲۲۸، ۲۷۹، ۳۳۷)، دي/المناسک ۹ (۱۸۴۰) (صحیح)

۱۸۲۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا: ’’پاجامہ وہ پہنے جسے ازار نہ ملے اور موزے وہ پہنے جسے جوتے نہ مل سکیں‘‘۔
(ابو داود کہتے ہیں یہ اہل مکہ کی حدیث ہے۱؎ اس کا مرجع بصرہ میں جابر بن زید ہیں۲؎ اور جس چیز کے ساتھ وہ منفرد ہیں وہ سراویل کا ذکر ہے اور اس میں موزے کے سلسلہ میں کاٹنے کا ذکر نہیں)۔
وضاحت۱؎: کیونکہ سلیمان بن حرب مکّی ہیں اور مصنف نے انہیں سے روایت کی ہے۔
وضاحت۲؎: کیونکہ اس سند کا محور جن پر یہ سند گھومتی ہے جابر بن زید ہیں اور وہ بصری ہیں۔

1830- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ الدَّامِغَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُوأُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِي اللَّه عَنْهَا حَدَّثَتْهَا قَالَتْ: كُنَّا نَخْرُجُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ إِلَى مَكَّةَ فَنُضَمِّدُ جِبَاهَنَا بِالسُّكِّ الْمُطَيَّبِ عِنْدَ الإِحْرَامِ فَإِذَا عَرِقَتْ إِحْدَانَا سَالَ عَلَى وَجْهِهَا فَيَرَاهُ النَّبِيُّ ﷺ فَلا (يَنْهَاهَا)۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۷۹) (صحیح)

۱۸۳۰- عائشہ بنت طلحہ کا بیان ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتے تو ہم اپنی پیشانی پر خوشبو کا لیپ لگاتے تھے جب پسینہ آتا تو وہ خوشبو ہم میں سے کسی کے منہ پر بہہ کر آجاتی رسول اللہ ﷺ اس کو دیکھتے لیکن منع نہ کرتے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ خوشبو احرام سے پہلے کی ہوتی تھی اس لئے منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

1831- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ذَكَرْتُ لابْنِ شِهَابٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ- كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ -يَعْنِي يَقْطَعُ الْخُفَّيْنِ لِلْمَرْأَةِ الْمُحْرِمَةِ- ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ كَانَ رَخَّصَ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ، فَتَرَكَ ذَلِكَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۹، ۳۵، ۶/۳۵) (حسن)
(محمد بن اسحاق کی یہ روایت معنعن نہیں ہے بلکہ اسے انہوں نے زہری سے بالمشافہہ اخذ کیا ہے، اس لئے حسن ہے)
۱۸۳۱- محمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں نے ابن شہاب سے ذکرکیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے سالم بن عبد اللہ نے بیان کیا ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایسا ہی کرتے تھے یعنی محرم عورت کے موزوں کو کاٹ دیتے۱؎، پھر ان سے صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ ان سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے موزوں کے سلسلے میں عورتوں کو رخصت دی ہے تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔
وضاحت۱؎: اس باب کی پہلی روایت کے عموم سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ سمجھا تھا کہ یہ حکم مرد اورعورت دونوں کو شامل ہے اسی لئے وہ محرم عورت کے موزوں کو کاٹ دیتے تھے، بعد میں جب انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا والی روایت سنی تو اپنے اس فتویٰ سے رجوع کر لیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب الْمُحْرِمِ يَحْمِلُ السِّلاحَ
۳۳- باب: محرم ہتھیار ساتھ رکھے اس کے حکم کا بیان​

1832- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ: لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ صَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ لايَدْخُلُوهَا إِلا بِجُلْبَانِ السِّلاحِ فَسَأَلْتُهُ: مَا جُلْبَانُ السِّلاحِ ؟ قَالَ: الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ۔
* تخريج: خ/جزاء الصید ۱۷ (۱۸۴۴)، والصلح ۶ (۲۶۹۸)، والجزیۃ ۱۹ (۳۱۸۴)، والمغازي ۴۳ (۴۲۵۱)، م/الجہاد ۳۴ (۱۷۸۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۸۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۹، ۴/۲۸۹، ۲۹۱)، دي/السیر ۶۴ (۲۵۴۹) (صحیح)

۱۸۳۲- براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے۱؎ تو میں نے ان سے پوچھا:’’جُلْبَاْنُ السِّلاحِ‘‘ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: ’’جلبان السلاح‘‘ میان کا نام ہے اس چیز سمیت جو اس میں ہو۔
وضاحت۱؎ : یعنی ان کی تلواریں میان کے اندر ہی رہیں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب فِي الْمُحْرِمَةِ تُغَطِّي وَجْهَهَا
۳۴- باب: محرم عورت اپنا منہ ڈھانپے اس کے حکم کا بیان​

1833- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مُحْرِمَاتٌ، فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا فَإِذَا جَاوَزُونَا كَشَفْنَاهُ۔
* تخريج: ق/المناسک ۲۳ (۲۹۳۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۰) (حسن)
(اس کے راوی ’’یزید بن أبی زیاد‘‘ ضعیف ہیں، لیکن اس باب میں اسماء کی حدیث سے تقویت پا کریہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی ۴۳۳)
۱۸۳۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سوار ہمارے سامنے سے گزرتے اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام باندھے ہوتے، جب سوار ہمارے سامنے آجاتے تو ہم اپنے نقاب اپنے سر سے چہرے پر ڈال لیتے اور جب وہ گزر جاتے تو ہم اسے کھول لیتے۔
 
Top