- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
65- بَاب الصَّلاةِ بِجَمْعٍ
۶۵-باب: مزدلفہ میں صلاۃ پڑھنے کا بیان
1926- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا۔
* تخريج: م/الحج ۴۷ (۷۰۳)، ن/ الصلاۃ ۱۸ (۴۸۲)، ۲۰ (۴۸۴، ۴۸۵)، ن/ الصلاۃ ۱۸ (۴۸۲)، ۲۰ (۴۸۴، ۴۸۵)، المواقیت ۴۹ (۶۰۷)، والأذان ۱۹ (۶۵۸)، والحج ۲۰۷ (۳۰۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۶۹۱۴)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۹۶ (۱۶۷۴)، ت/الحج ۵۶ (۸۸۸)، ق/المناسک ۶۰ (۳۰۲۰)، ط/الحج ۶۵ (۱۹۶)، حم (۲/ ۳، ۶۲، ۷۹، ۸۱) (صحیح)۱۹۲۶- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب اورعشاء مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھی۔
1927- حَدَّثَنَا (أَحْمَدُ) بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: بِإِقَامَةٍ إِقَامَةِ جَمْعٍ بَيْنَهُمَا، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ وَكِيعٌ: صَلَّى كُلَّ صَلاةٍ بِإِقَامَةٍ۔
* تخريج: خ/ الحج ۹۶ (۱۶۷۳)، ن/ الأذان ۲۰ (۶۶۱)، الحج ۲۰۷ (۳۰۳۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۹۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۵۶، ۱۵۷)، دی/ المناسک ۵۲ (۱۹۲۶) (صحیح)
(ہرصلاۃ کے لئے الگ الگ اقامت والی روایت ہی صحیح ہے، جیسا کہ جابر کی طویل حدیث میں گزرا)
۱۹۲۷- اس سند سے بھی زہری سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ ایک ہی اقامت سے دونوں کو جمع کیا۔
احمد کہتے ہیں: وکیع نے کہا: ہر صلاۃ الگ الگ اقامت سے پڑھی۔
1928- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ (ح) وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، الْمَعْنَى، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلاةٍ ، وَلَمْ يُنَادِ فِي الأُولَى ، وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا، قَالَ مَخْلَدٌ: لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا.
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۶۹۲۳) (صحیح)
(اذان والا جملہ صحیحین میں نہیں ہے، اور صحیح مسلم میں جابر کی روایت کے مطابق ایک اذان ثابت ہے ، نیز ابن عمر رضی اللہ عنہ کی آنے والی حدیث نمبر (۱۹۳۳) میں اذان واقامت کی تصریح ہے)
۱۹۲۸- اس سند سے بھی زہر ی سے ابن حنبل کی سند سے انہوں نے حماد سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے : ہر صلاۃ کے لئے ایک الگ اقامت کہی اور پہلی صلاۃ کے لئے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل پڑھی۔
مخلد کہتے ہیں:ان دونوں میں سے کسی صلاۃ کے لئے اذان نہیں دی ۔
1929- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْمَغْرِبَ ثَلاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ، مَا هَذِهِ الصَّلاةُ؟ قَالَ: صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ۔
* تخريج: ت/ الحج ۵۶ (۸۸۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۲۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸، ۳۳، ۷۸، ۱۵۲) (صحیح )
(ہرصلاۃ کے لئے الگ الگ اقامت کی زیادتی کے ساتھ یہ روایت صحیح ہے)
۱۹۲۹- عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت پڑھی، تومالک بن حارث نے ان سے کہا: یہ کون سی صلاۃ ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ دونوں اسی جگہ ایک تکبیر سے پڑھیں۔
1930- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ -يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ- عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَبْدِاللَّهِ بْنِ مَالِكٍ قَالا: صَلَّيْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِالْمُزْدَلِفَةِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، فَذَكَرَ مَعْنَى (حَدِيثِ) ابْنِ كَثِيرٍ۔
* تخريج: م/ الحج ۴۷ (۱۲۸۸)، ت/ الحج ۵۶ (۸۸۸)، ن/ الحج ۲۰۷ (۳۰۳۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۰۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۸۰، ۲/۲، ۳، ۳۳، ۵۹، ۶۲، ۷۹، ۸۱) (صحیح)
(اس میں قاضی شریک بن عبداللہ ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت موجود ہے، اذان اور ہر صلاۃ میں اقامت کے اثبات کے ساتھ جیسے تفصیل گزری)
۱۹۳۰- سعید بن جبیراور عبداللہ بن مالک سے روایت ہے، وہ دونوں کہتے ہیں: ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب وعشا ء ایک اقامت سے پڑھیں ، پھر راوی نے ابن کثیرکی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکرکی۔
1931- حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَلَمَّا بَلَغْنَا جَمْعًا صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، ثَلاثًا وَاثْنَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَنَا ابْنُ عُمَرَ: هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي هَذَا الْمَكَانِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم (۱۹۳۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۰۵۲) (صحیح)
(’’ایک اقامت‘‘والی روایت شاذ ہے، ہر صلاۃ کے لئے الگ الگ اقامت ثابت ہے)
۱۹۳۱- سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم ( عرفات سے) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوٹے ، جب ہم جمع یعنی مزدلفہ پہنچے تو آپ نے ہمیں مغرب اور عشاء ، تین رکعت مغرب کی اور دو رکعت عشاء کی ایک اقامت ۱؎ سے پڑھائی ، جب ہم صلاۃ سے فارغ ہوئے تو ابن عمرنے ہم سے کہا: اسی طرح ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اس جگہ پڑھائی تھی ۔
وضاحت ۱؎ : اس کے برخلاف جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اذان اور دو تکبیر سے دونوں صلاتیں ادا کیں اور یہی راجح ہے، واللہ اعلم۔
1932- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ،حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ: رَأَيْتُ سَعِيدَ ابْنَ جُبَيْرٍ أَقَامَ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلاثًا ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ صَنَعَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا، وَقَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ .
* تخريج: انظر حدیث رقم (۱۹۳۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۰۵۲) (صحیح)
(اس میں بھی ایک اقامت شاذ ہے )
۱۹۳۲- سلمہ بن کہیل کہتے ہیں : میں نے سعید بن جبیر کو دیکھا انہوں نے مزدلفہ میں اقامت کہی پھر مغرب تین رکعت پڑھی اور عشاء دو رکعت ، پھر آپ نے کہا: میں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس مقام پر اسی طرح کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس مقام پر اسی طرح کرتے دیکھا۔
1933- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، فَلَمْ يَكُنْ يَفْتُرُ مِنَ التَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، أَوْ أَمَرَ إِنْسَانًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: الصَّلاةُ، فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عِلاجُ بْنُ عَمْرٍو بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَقِيلَ لابْنِ عُمَرَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ هَكَذَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۷۰۹۱) (صحیح)
(اس میں دونوں صلاتوں کے لئے اذان ثابت ومحفوظ ہے، (۱۹۲۸) کی حدیث میں اذان کا انکار ہے، جو شاذ وضعیف ہے جیسا کہ گزرا، نیز اس روایت میں دوسری اقامت کی جگہ ’’الصلاۃ‘‘ کا لفظ ہے جو شاذ ہے، محفوظ دوسری مرتبہ اقامت کا لفظ ہے )
۱۹۳۳- سلیم بن اسود ابوالشعثاء محاربی کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا وہ تکبیر و تہلیل سے تھکتے نہ تھے، جب ہم مزدلفہ آگئے تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت ، یا ایک شخص کوحکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہے ، پھر ہمیں مغرب تین رکعت پڑھائی، پھر ہما ری طرف متوجہ ہوئے اور کہا:عشاء پڑھ لو چنانچہ ہمیں عشاء دو رکعت پڑھائی پھر کھانا منگوایا۔
اشعث کہتے ہیں:اور مجھے علا ج بن عمر و نے میرے والد کی حدیث کے مثل حدیث کی خبر دی ہے جو انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے اس بارے میں پوچھا توانہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسی طرح صلاۃ پڑھی ہے۔
1934- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَالْوَاحِدِ بْنَ زَيَادٍ وَأَبَا عَوَانَةَ وَأَبَا مُعَاوِيَةَ حَدَّثُوهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عِمَارَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى صَلاةً إِلا لِوَقْتِهَا، إِلا بِجَمْعٍ، فَإِنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، وَصَلَّى صَلاةَ الصُّبْحِ مِنَ الْغَدِ قَبْلَ وَقْتِهَا۔
* تخريج: خ/الحج ۹۹ (۱۶۸۲)، م/الحج ۴۸ (۱۲۸۹)، ن/المواقیت ۴۹ (۶۰۶)، والحج ۲۰۷ (۳۰۳۰)، ۲۱۰ (۳۰۴۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۹۳۸۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۴، ۴۲۶، ۴۳۴) (صحیح)
۱۹۳۴- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہمیشہ وقت پر ہی صلاۃ پڑھتے دیکھا سوائے مزدلفہ کے ، مزدلفہ میں آپ ﷺ نے مغرب اور عشاء کو جمع کیا اور دوسرے دن فجر وقت معمول سے کچھ پہلے پڑھی ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ترجمہ سے اس حدیث کا صحیح معنی واضح ہوگیا، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ’’اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ہمیشہ غلس کے بعد اسفار میں صلاۃ پڑھتے تھے صرف اس دن غلس میں پڑھی‘‘،لیکن دیگر صحیح روایات کی روشنی میں اس حدیث کا صحیح مطلب یہ ہے کہ: غلس ہی میں فوراً پڑھ لی،عام حالات کی طرح تھوڑا انتظار نہیں کیا۔
1935- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحَ -يَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ- (وَ)وَقَفَ عَلَى قُزَحَ فَقَالَ: < هَذَا قُزَحُ وَهُوَ الْمَوْقِفُ، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَنَحَرْتُ هَا هُنَا، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ >۔
* تخريج: ت/الحج ۵۴ (۸۸۵)، ق/المناسک ۵۵ (۳۰۱۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۲۹) (حسن صحیح)
۱۹۳۵- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( مزدلفہ میں) جب آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے صبح کی تو آپ قزح میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ’’یہ قز ح ہے اور یہ موقف (ٹھہر نے کی جگہ) ہے، اور مزدلفہ پو را موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے ، میں نے یہاں نحر کیا ہے اور منیٰ پورا نحر کرنے کی جگہ ہے لہٰذا تم اپنے اپنے ٹھکانوں میں نحر کرلو‘‘۔
1936- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < وَقَفْتُ هَا هُنَا بِعَرَفَةَ وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ؛ وَوَقَفْتُ هَا هُنَا بِجَمْعٍ، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَنَحَرْتُ هَا هُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ؛ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ>۔
* تخريج: م/ الحج ۱۹ (۱۲۱۸)، ن/ الحج ۵۱ (۲۷۴۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۵۹۶)، وقد أخرجہ: دي/المناسک ۵۰ (۱۹۲۱) (صحیح)
۱۹۳۶- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’میں عرفات میں اس جگہ ٹھہرا ہوں لیکن عرفات پورا جائے وقوف ہے، میں مزدلفہ میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن مزدلفہ پورا جائے وقوف ہے ، میں نے یہاں پر نحر کیا اور منیٰ پورا جائے نحر ہے لہٰذا تم اپنے ٹھکانوں میں نحر کرو‘‘۔
1937- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ >۔
* تخريج: ق/ المناسک ۷۳ (۳۰۴۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۳۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۲۶) (حسن صحیح)
۱۹۳۷- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’پورا عرفات جائے وقوف ہے پورا منیٰ جائے نحر ہے اور پورا مزدلفہ جائے وقوف ہے مکہ کے تمام راستے چلنے کی جگہیں ہیں اور ہر جگہ نحر درست ہے ‘‘۔
1938- حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لا يُفِيضُونَ حَتَّى يَرَوُا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ۔
* تخريج: خ/الحج ۱۰۰ (۱۶۸۴)، ومناقب الأنصار ۲۶ (۳۸۳۸)، ت/الحج ۶۰ (۸۹۶)، ن/الحج ۲۱۳ (۳۰۵۰)، ق/المناسک ۶۱ (۳۰۲۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۱۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۴، ۲۹، ۳۹، ۴۲، ۵۰، ۵۲)، دي/المناسک ۵۵ (۱۹۳۲) (صحیح)
۱۹۳۸- عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگ مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے جب تک کہ سورج کو ثبیر ۱؎ پر نہ دیکھ لیتے، چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے ہی (مزدلفہ سے) چل پڑے۔
وضاحت ۱؎ : ’’ثبير‘‘: مزدلفہ میں ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے۔