- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
66- بَاب التَّعْجِيلِ مِنْ جَمْعٍ
۶۶-باب: مزدلفہ سے منیٰ جلدی واپس لوٹ جانے کا بیان
1939- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعْفَةِ أَهْلِهِ۔
* تخريج: خ/الحج ۹۸ (۱۶۷۸)، وجزاء الصید ۲۵ (۱۸۵۶)، م/الحج ۴۹ (۱۲۹۳)، ن/الحج ۲۰۸ (۳۰۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۶۴)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۵۸ (۲۹۲، ۸۹۳)، ق/المناسک ۶۲ (۳۰۲۵)، حم (۱/۲۲۱، ۲۲۲، ۲۴۵، ۲۷۲، ۳۳۴، ۳۴۶) (صحیح)
۱۹۳۹- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کو رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر کے لوگوں میں سے کمزور جان کر مزدلفہ کی رات کو پہلے بھیج دیا تھا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ روانہ کردینا جائز ہے، تا کہ وہ بھیڑ بھاڑ سے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہوجائیں، لیکن سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔
1940- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَخُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ: < أُبَيْنِيَّ لا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ >.
قَالَ أَبودَاود : اللَّطْخُ : الضَّرْبُ اللَّيِّنُ۔
* تخريج: ن/الحج ۲۲۲ (۳۰۶۶)، ق/ المناسک ۶۲ (۳۰۲۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۳۹۶)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۵۸ (۸۹۳)، حم (۱/۲۳۴، ۳۱۱، ۳۴۳) (صحیح)
۱۹۴۰- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے مزدلفہ کی رات پہلے ہی روانہ کر دیا تھا، آپ ﷺ ہما ری رانوں پر دھیرے سے مارتے تھے اور فرماتے تھے :’’ اے میرے چھوٹے بچو! جمرہ پر کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہو جائے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: لطخ کے معنی آہستہ ما رنے کے ہیں۔
1941- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ حَبِيبِ (ابْنِ أَبِي ثَابِتٍ) عَنْ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُقَدِّمُ ضُعَفَاءَ أَهْلِهِ بِغَلَسٍ وَيَأْمُرُهُمْ، يَعْنِي لا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔
* تخريج: ن/ الحج ۲۲۲ (۳۰۶۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۸۸۸) (صحیح)
۱۹۴۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھرکے کمزور اور ضعیف لوگوں کو اندھیرے ہی میں منیٰ روانہ کر دیتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے کہ کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب نہ نکل آئے۔
1942- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ -يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ- عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ ﷺ بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ، وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ (تَعْنِي) عِنْدَهَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف:۱۶۹۶۱) (ضعیف)
(اس میں ضحاک ضعیف الحفظ ہیں، اور سند ومتن میں اضطراب ہے، ثقات کے روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود ۲؍ ۱۷۷)
۱۹۴۲- امّ المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام سلمہ کو نحر کی رات ( دسویں رات) کو ( منیٰ کی طرف) راونہ فرما دیا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں مار لیں پھر مکہ جا کر طواف افاضہ کیا، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ ﷺ ان کے پاس رہا کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی یہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا۔
1943- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَائٌ، أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا رَمَتِ الْجَمْرَةَ، قُلْتُ: إِنَّا رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ، قَالَتْ: إِنَّا كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: ن/الحج ۲۱۴ (۳۰۵۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۳۷)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۹۸ (۱۶۷۹)، م/الحج ۴۹ (۱۲۹۱)، ط/الحج ۵۶ (۱۷۲)، حم (۶/۳۴۷، ۳۵۱) (صحیح)
۱۹۴۳- اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں، مخبر(راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہم نے رات ہی کو جمرے کو کنکریاں مار لیں ،انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
1944- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ۔
* تخريج: ن/ الحج ۲۰۴ (۳۰۲۴)، ق/ المناسک ۶۱ (۳۰۲۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۷۴۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۱، ۳۳۲، ۳۶۷، ۳۹۱)، دي/المناسک ۵۹ (۱۹۴۰) (صحیح)
۱۹۴۴- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مزدلفہ سے اطمینان و سکون کے سا تھ لوٹے اور لوگوں کوحکم دیا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو ہاتھ کی دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آسکیں اور وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری کو تیز کیا۔