99-بَاب فِي تَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ
۹۹-باب: مدینہ کے حرم ہونے کا بیان
2034 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه، قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلا الْقُرْآنَ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرَ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلا صَرْفٌ، (وَ) ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلا صَرْفٌ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (لا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلا صَرْفٌ ) >۔
* تخريج: خ/العلم ۳۹ (۱۱۱)، وفضائل المدینۃ ۱ (۱۸۶۷)، والجھاد ۱۷۱ (۳۰۴۷)، والجزیۃ ۱۰ (۳۱۷۲، ۳۱۷۹)، والفرائض ۲۱ (۶۷۵۵)، والدیات ۲۴ (۶۹۰۳)، والاعتصام ۵ (۷۳۰۰)، م/الحج ۸۵ (۱۳۷۰)، ت/الدیات ۱۶ (۱۴۱۲)، والولاء والھبۃ ۳ (۲۱۲۷)، ن/القسامۃ ۹، ۱۰ (۴۷۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۱۷)، وقد أخرجہ: ق/الدیات ۲۱ (۲۶۵۸)، حم (۱/۸۱، ۱۲۲، ۱۲۶، ۱۵۱، ۲/۳۹۸)، دي/الدیات ۵ (۲۴۰۱) (صحیح)
۲۰۳۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس صحیفے ۱؎ میں ہے کچھ نہیں لکھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' مدینہ حرام ہے عائر سے ثور تک ( عا ئر اور ثور دو پہاڑ ہیں)، جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت (نئی بات )نکالے، یا نئی بات نکالنے والے کو پناہ اور ٹھکانا دے تو اس پر اللہ ، ملا ئکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ کوئی نفل ، مسلمانوں کا ذمہ ( عہد ) ایک ہے ( مسلمان سب ایک ہیں اگر کوئی کسی کو امان دے دے تو وہ سب کی طرف سے ہو گی ) اس ( کو نبھانے) کی ادنی سے ادنی شخص بھی کوشش کرے گا ، لہٰذا جو کسی مسلمان کی دی ہوئی امان کو توڑے تو اس پر اللہ ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل، اور جو اپنے مولی کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے ولاء کرے ۲؎ اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہوگا اور نہ نفل''۔
وضاحت ۱؎ : یہ صحیفہ ایک ورق تھا جس میں دیت کے احکام تھے ،علی رضی اللہ عنہ اسے اپنی تلوار کی نیام میں رکھتے تھے۔
وضاحت ۲ ؎ : یعنی کوئی اپنی آزادی کی نسبت کسی دوسرے کی طرف نہ کرے۔
2035- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا يُخْتَلَى خَلاهَا، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلا لِمَنْ أَشَادَ بِهَا وَلا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلاحَ لِقِتَالٍ، وَلا يَصْلُحُ أَنْ يُقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۱۹) (صحیح)
۲۰۳۵- علی رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اس (یعنی مدینہ) کی نہ گھاس کاٹی جائے ، نہ اس کا شکار بھگایا جائے، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھایا جائے ، سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے ، کسی شخص کے لئے درست نہیں کہ وہ وہاں لڑا ئی کے لئے ہتھیار لے جائے، اور نہ یہ درست ہے کہ وہاں کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے''۔
2036- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كِنَانَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: حَمَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ كُلَّ نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ بَرِيدًا بَرِيدًا: لا يُخْبَطُ شَجَرُهُ وَلايُعْضَدُ إِلا مَا يُسَاقُ بِهِ الْجَمَلُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۹۸۷۹) (حسن)
(اس کے راوی''سلیمان''مجہول اور''عبداللہ''لین الحدیث ہیں، لیکن یہ حدیث شواہد کی بناپرحسن ہے،ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود۶/۲۷۵، والصحیحۃ: ۳۲۴۳)
۲۰۳۶- عدی بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے ہر جانب ایک ایک برید محفوظ کر دیا ہے ۱؎ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ پتے توڑے جا ئیں گے مگر اونٹ کے چارے کے لئے ( بہ قدر ضرورت)۔
وضاحت ۱؎ : چاروں اطراف مشرق، مغرب اور شمال جنوب کو ملا کر کل چار برید ہوئے اور ایک برید چار فرسخ کا ہوتا ہے اور ایک فرسخ تین میل کا اس طرح اس حدیث کی رو سے کل (۴۸)میل بنتا ہے جبکہ صحیح مسلم کی روایت میں (۱۲) میل کی صراحت آئی ہے۔
2037- حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ -يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ- حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ ابْنِ أَبِي عَبْدِاللَّهِ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ، فَجَاءَ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ، وَقَالَ: < مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ (ثِيَابَهُ) >، فَلا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۸۶۳)، وقد أخرجہ: م/الحج ۸۵ (۴۰۶۰)، حم (۱/۱۶۸، ۱۷۰) (صحیح)
(لیکن ''شکار'' کی بات منکر ہے، صحیح بات درخت کاٹنے کی ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے اورصحیح مسلم میں بھی یہی بات ہے)
۲۰۳۷- سلیمان بن ابی عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو پکڑا جو مدینہ کے حرم میں جسے رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا ہے شکار کررہا تھا، سعد نے اس سے اس کے کپڑے چھین لئے تو اس کے سات(۷) لوگوں نے آکر ان سے اس کے بارے میں گفتگو کی ، آپ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اسے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: ''جو کسی کو اس میں شکار کرتے پکڑے تو چاہئے کہ وہ اس کے کپڑے چھین لے'' ، لہٰذا میں تمہیں وہ سامان نہیں دوں گا جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دلایا ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے دوں گا ۔
2038- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ، فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ، وَقَالَ -يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ-: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْئٌ، وَقَالَ: < مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۹۵۱) (صحیح)
(متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، مؤلف کی سند میں دو علتیں ہیں : صالح کا اختلاط اور مولی لسعد کا مبہم ہونا)
۲۰۳۸- سعد رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے پایا تو ان کے اسباب چھین لیے اور ان کے مالکوں سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو منع کرتے سنا ہے کہ مدینہ کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے، آپ ﷺ نے فرمایا ہے: ''جو کوئی اس میں کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑ ے اس کا اسباب چھین لے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ جھڑکی اور ملامت کے طور پر ہے، پھر اسے واپس دیدے ، اکثر علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض علماء نے کہا ہے کہ نہ دے ۔
2039- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْجُهَنِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لايُخْبَطُ وَلا يُعْضَدُ حِمَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَلَكِنْ يُهَشُّ هَشًّا رَفِيقًا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۲۲۱۸) (صحیح)
۲۰۳۹- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''رسول اللہ ﷺ کے حرم سے نہ درخت کاٹے جائیں اور نہ پتے توڑے جائیں البتہ نرمی سے جھاڑ لئے جائیں'' ۱ ؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اکثر علماء کے نزدیک حرم مدینہ کے درخت کاٹنے یا شکار مارنے میں کوئی سزا نہیں ہے، بعض علماء کے نزدیک سزاکا مستحق ہے۔
2040- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى (ح) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَأْتِي قُبَائً مَاشِيًا وَرَاكِبًا، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ: وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ في مسجد مکۃ والمدینۃ ۳ (۱۱۹۴)تعلیقًا، والاعتصام ۱۶ (۷۳۲۳)، م/الحج ۹۷ (۱۳۹۹)، ن/المساجد ۹ (۶۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۷۹۴۱، ۸۱۴۸)، وقد أخرجہ: ط/ قصرالصلاۃ ۲۳ (۷۱)، حم (۲/۵، ۳۰، ۵۷، ۵۸، ۶۵) (صحیح)
۲۰۴۰- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد قباء پیدل اور سوار (دونوں طرح سے) آتے تھے ابن نمیر کی روایت میں) '' اور دو رکعت پڑھتے تھے'' ( کا اضافہ ہے)۔