- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
4- بَاب فِي طَلاقِ السُّنَّةِ
۴-باب: سنت کے مطا بق طلاق کا بیان
2179- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ > ۔
* تخريج: خ/تفسیر سورۃ الطلاق (۴۹۰۸)، والطلاق ۲ (۵۲۵۲)، ۳ (۵۲۵۸)، ۴۵ (۵۳۳۳)، والأحکام ۱۳ (۷۱۶۰)، م/الطلاق ۱ (۱۴۷۱)، ن/الطلاق ۱ (۳۴۱۹)، ۵ (۳۴۲۹)، ۷۶ (۳۵۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۳۶)، وقد أخرجہ: ت/الطلاق ۱ (۱۱۷۵)، ق/الطلاق ۲ (۲۰۱۹)، ط/الطلاق ۲۰(۵۲)، حم (۲/۴۳، ۵۱، ۷۹، ۱۲۴)، دي/الطلاق ۱ (۲۳۰۸) (صحیح)
۲۱۷۹- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اسے حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے، پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر حیض آجائے، پھر پاک ہوجائے، پھر اس کے بعد اگر چاہے تو رکھے، ورنہ چھونے سے پہلے طلاق دے دے، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کے سلسلے میں حکم دیا ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق سنت کے خلاف ہے ، سنت یہ ہے کہ اُس طہر میں طلاق دی جائے جس میں ہمبستری نہ کی ہو تاکہ وہ طہر (یا حیض) عدت کے شمار کئے جاسکیں، حیض سمیت تین طہر گزر جائیں تو اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔
2180- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ۔
* تخريج: خ/الطلاق ۴۵ (۵۳۳۲)، م/الطلاق ۱ (۱۴۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۷۷) (صحیح)
۲۱۸۰- نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک عورت کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی ، آگے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے۔
2181- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طْلَحَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ﷺ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا إِذَا طَهُرَتْ، أَوْ وَهِيَ حَامِلٌ >۔
* تخريج: م/ الطلاق ۱ (۱۴۷۱)، ت/الطلاق ۱ (۱۱۷۶)، ن/الطلاق ۳ (۳۴۲۶)، ق/الطلاق ۳ (۲۰۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۶، ۵۸) (صحیح)
۲۱۸۱- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرلے پھر جب وہ پاک ہو جائے یا حاملہ ہوتو اسے طلاق دے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اگر حاملہ ہوگی تو اس کی عدت وضع حمل سے ختم ہوگی ورنہ تین حیض سے ختم ہو جائے گی۔
2182- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، ثُمَّ قَالَ: < مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَذَلِكَ الطَّلاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ >۔
* تخريج: خ/الأحکام ۱۳ (۷۱۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۶۹۹۶) (صحیح)
۲۱۸۲- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا ، تو رسول اللہ ﷺ غصہ ہوگئے پھر فرمایا: ''اسے حکم دوکہ اس سے رجوع کرلے پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر حائضہ ہو پھر پاک ہو جائے پھر چاہئے کہ وہ پاکی کی حالت میں اسے چھوئے بغیر طلاق دے ، یہی عدت کا طلاق ہے جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے''۔
2183- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: كَمْ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ؟ فَقَالَ: وَاحِدَةً۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : ۲۱۷۹، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۷۳) (صحیح)
۲۱۸۳- ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھے یونس بن جبیر نے خبر دی کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ آپ نے اپنی بیوی کو کتنی طلاق دی ؟ تو انہوں نے کہا: ایک۔
2184- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: أَتَعْرِفُ (عَبْدَاللَّهِ) بْنَ عُمَرَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ ﷺ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: < مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا فِي قُبُلِ عِدَّتِهَا>، قَالَ: قُلْتُ: فَيَعْتَدُّ بِهَا؟ قَالَ: فَمَهْ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ؟!.
* تخريج: انظر حدیث رقم : ۲۱۷۹، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۷۳) (صحیح)
۲۱۸۴- محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھے یونس بن جبیر نے بتایا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مسئلہ دریافت کیا، میں نے کہا کہ جس آدمی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے ( تو اس کا کیا حکم ہے؟) کہنے لگے کہ تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :'' اسے حکم دو کہ وہ رجوع کر لے اور عدت کے آغاز میں اسے طلاق دے''۔
میں نے پوچھا:کیا اس طلاق کا شمار ہوگا؟ انہوں نے کہا:تم کیا سمجھتے ہو اگر وہ عاجز ہوجائے یا دیوانہ ہوجائے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی جب رجعت سے عاجز ہوجانے یا دیوانہ ہوجانے کی صورت میں بھی وہ طلاق شمار کی جائے گی تو رجعت کے بعد بھی ضرور شمار کی جائے گی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ اگر وہ واقع نہ ہوتی تو آپ ﷺ کا''مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا''کہنا بے معنی ہوگا، جمہور کا یہی مسلک ہے کہ اگرچہ حیض کی حالت میں طلاق دینا حرام ہے لیکن اس سے طلاق واقع ہوجائے گی اور اس سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا لیکن اہل ظاہر کا مذہب ہے کہ طلاق نہیں ہوگی ابن القیم نے زادالمعاد میں اس پر لمبی بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ ابوداود کی اگلی حدیث کے الفاظ ہیں ''وَلَمْ يَرَهَاْ شَيْئًا''۔
2185- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عُرْوَةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ، قَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ عَبْدُاللَّهِ: فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهَا شَيْئًا، وَقَالَ: < إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ > قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ ﷺ : {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ} فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ وَمَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، مَعْنَاهُمْ كُلُّهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَمَّا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ وَنَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ، وَرُوِيَ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَ رِوَايَةِ نَافِعٍ وَالزُّهْرِيِّ ، وَالأَحَادِيثُ كُلُّهَا عَلَى خِلافِ مَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ۔
* تخريج: م/الطلاق ۱ (۱۴۷۱)، ن/الطلاق ۱ (۳۴۲۱)، (ولیس عندہما قولہ ''لَمْ یَرَہَا شَیْئاً'') (تحفۃ الأشراف: ۷۴۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۶۱، ۸۰، ۸۱، ۱۳۹) (صحیح)
۲۱۸۵- ابن جریج کہتے ہیں کہ ہمیں ابوالزبیر نے خبر دی ہے کہ انہوں نے عروہ کے غلام عبد الرحمن بن ایمن کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے سنا اور وہ سن رہے تھے کہ آپ اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، اور کہا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے، عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے اس عورت کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس طلاق کو شمار نہیں کیا اور فرمایا : ''جب وہ پاک ہو جائے تو وہ طلاق دے یا اسے روک لے'' ، ابن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں:اور نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی { يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ} ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یونس بن جبیر ، انس بن سیرین ، سعید بن جبیر، زید بن اسلم، ابوالزبیر اور منصور نے ابو وائل کے طریق سے روایت کیا ہے ، سب کا مفہوم یہی ہے کہ ''رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ رجوع کرلیں یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے پھر اگر چاہیں تو طلاق دیدیں اور چاہیں تو باقی رکھیں''۔
اسی طرح اسے محمد بن عبدالرحمن نے سالم سے، اور سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے البتہ زہری کی جو روایت سالم اور نافع کے طریق سے ابن عمرسے مروی ہے ، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کرلیں یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے ، پھراسے حیض آئے اور پھر پاک ہو، پھراگر چاہیں تو طلاق دیں اور اگر چاہیں تورکھے رہیں، اور عطاء خراسانی سے روایت کیا گیا ہے انہوں نے حسن سے انہوں نے ابن عمر سے نافع اور زہری کی طرح روایت کی ہے، اور یہ تمام حدیثیں ابوالزبیر کی بیان کردہ روایت کے مخالف ہیں ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ''اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو تم انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو'' (سورۃ الطلاق: ۱)
وضاحت ۲؎ : یعنی کسی کی روایت میں یہ لفظ نہیں ہے کہ ''اور اُس طلاق کو شمار نہیں کیا''