- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
42- بَاب فِيمَنْ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى الشَّهَادَةَ
۴۲-باب: اللہ تعالی سے شہادت مانگنے والے شخص کا بیان
2541- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ -أَبُو مَرْوَانَ- وَابْنُ الْمُصَفَّى، قَالا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، يُرَدُّ إِلَى مَكْحُولٍ، إِلَى مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ نَفْسِهِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَإِنَّ لَهُ أَجْرَ شَهِيدٍ >، زَادَ ابْنُ الْمُصَفَّى مِنْ هُنَا: < وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيئُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ: لَوْنُهَا لَوْنُ الزَّعْفَرَانِ، وَرِيحُهَا رِيحُ الْمِسْكِ، وَمَنْ خَرَجَ بِهِ خُرَاجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهَ فَإِنَّ عَلَيْهِ طَابَعَ الشُّهَدَاءِ >۔
* تخريج: ت/فضائل الجھاد ۱۹ (۱۶۵۴)، ۲۱ (۱۹۵۶)، ن/الجھاد ۲۵ (۳۱۴۳)، ق/الجھاد ۱۵ (۲۷۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۳۰، ۲۳۵، ۲۴۳، ۲۴۴) دي/الجھاد ۵ (۲۴۳۹) (صحیح)
۲۵۴۱- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:'' جس نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی دوہنے والے کے دو بار چھاتی پکڑنے کے درمیان کے مختصر عرصہ کے بقدر بھی جہاد کیا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی، اور جس شخص نے اللہ سے سچے دل کے ساتھ شہادت مانگی پھر اس کا انتقال ہوگیا، یا قتل کر دیا گیا تو اس کے لئے شہید کا اجر ہے، اور جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا کوئی چوٹ پہنچایا ۱؎ گیا تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ کامل شکل میں ہو کر آئے گا جتنا وہ تھا، اس کا رنگ زعفران کا اور بو مشک کی ہو گی اور جسے اللہ کے راستے میں پھنسیاں (دانے) نکل آئیں تو اس پر شہداء کی مہر لگی ہو گی''۔
وضاحت ۱؎ : جرح اور نکبۃ دونوں ایک معنیٰ میں ہیں اور ایک قول کے مطابق جرح وہ زخم جو کافروں سے پہنچے، اور نکبۃ وہ ہے جو سواری سے گرنے اور ا پنے ہی ہتھیار کے اچٹ کر لگنے کی وجہ سے ہو ۔