- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
93- بَاْبٌ فِي ابْنِ السَّبِيْلِ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ وَيَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ إِذَاْ مرّ بهِ
۹۳-باب: مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے گزرے تو اس کو کھجور کھانے اور دودھ پینے کی اجازت ہے
2619- حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ: فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، وَإِلا فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلايَحْمِلْ>۔
* تخريج: ت/البیوع ۶۰ (۱۲۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۹۱) (صحیح)
۲۶۱۹- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:'' جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آوازد ے، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے، لیکن ساتھ نہ لے جائے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ حکم اس پریشان حال اور مضطر ومجبور مسافر کے لئے ہے جسے کھانا نہ ملنے کی صورت میں اپنی جان کے ہلاک ہونے کا خطرہ لاحق ہو۔
2620- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: أَصَابَتْنِي سَنَةٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَفَرَكْتُ سُنْبُلا، فَأَكَلْتُ وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي، فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ لَهُ: < مَا عَلَّمْتَ إِذْ كَانَ جَاهِلا، وَلا أَطْعَمْتَ إِذْ كَانَ جَائِعًا >، أَوْ قَالَ: < سَاغِبًا >، وَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي، وَأَعْطَانِي وَسْقًا أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ ۔
* تخريج: ن/آداب القضاۃ ۲۰ (۵۴۱۱)، ق/التجارات ۶۷ (۲۲۹۸)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۶) (صحیح)
۲۶۲۰- عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں، انہیں مل کر کھایا، اور (باقی) اپنے کپڑے میں باندھ لیا، اتنے میں اس کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا( اور آپ سے سارا ماجرا بتایا)، آپ ﷺ نے مالک سے فرمایا: ''تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ جاہل تھا اور نہ کھلایا ہی جب کہ وہ بھوکا تھا''، اور آپ ﷺ نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اورایک وسق (ساٹھ صاع) یا نصف وسق(تیس صاع) غلہ مجھے دیا۔
2621- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ -رَجُلا مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ- بِمَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۶۱) (صحیح)
۲۶۲۱- ابو بشر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عباد بن شر حبیل سے جو ہمیں میں سے قبیلئہ بنوغبرکے ایک فرد تھے اسی مفہوم کی حدیث سنی ۔