157- بَاب فِي نَفْلِ السَّرِيَّةِ تَخْرُجُ مِنَ الْعَسْكَرِ
۱۵۷-باب: لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان
2741- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشَّرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، الْمَعْنَى، كُلُّهُمْ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي جَيْشٍ قِبَلَ نَجْدٍ، وَانْبَعَثَتْ سَرِيَّةٌ مِنَ الْجَيْشِ، فَكَانَ سُهْمَانُ الْجَيْشِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، [اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا]، وَنَفَّلَ أَهْلَ السَّرِيَّةِ بَعِيرًا بَعِيرًا، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمْ ثَلاثَةَ عَشَرَ ثَلاثَةَ عَشَرَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۶۷۹)، وقد أخرجہ: خ/فرض الخمس ۱۵ (۳۱۳۴)، والمغازي ۵۷ (۴۳۳۸)، م/الجھاد ۱۲ (۱۷۴۸)، ط/الجھاد ۶ (۱۵)، دي/السیر ۴۱ (۲۵۲۴) (صحیح)
۲۷۴۱- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نجد کی جانب ایک لشکر میں بھیجا اور اس لشکر کا ایک دستہ دشمن سے مقابلہ کے لئے بھیجا گیا، پھر لشکر کے لوگوں کو بارہ بارہ اونٹ ملے اور دستہ کے لوگوں کو ایک ایک اونٹ بطور انعام زیادہ ملا تو ان کے حصہ میں تیرہ تیرہ اونٹ آئے۔
2742- حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: قَالَ الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ-: حَدَّثْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قُلْتُ: وَكَذَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: لا تَعْدِلُ مَنْ سَمَّيْتَ بِمَالِكٍ، هَكَذَا أَوْ نَحْوَهُ، يَعْنِي مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۶۷۹) (صحیح)
۲۷۴۲- ولید بن مسلم کہتے ہیں: میں نے ابن مبارک سے یہی حدیث بیان کی، میں نے کہا: اور اسی طرح ہم سے ابن ابی فروہ نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا ہے تو ابن مبارک نے کہا:جن کا نام تم نے لیا ہے وہ مالک کے برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح یا اس جیسی بات انہوں نے کہی، اس سے وہ امام مالک بن انس کو مراد لے رہے تھے۔
2743- حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ [يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْكِلابِيَّ] عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ، فَخَرَجْتُ مَعَهَا، فَأَصَبْنَا نَعَمًا كَثِيرًا، فَنَفَّلَنَا أَمِيرُنَا بَعِيرًا بَعِيرًا لِكُلِّ إِنْسَانٍ، ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَسَمَ بَيْنَنَا غَنِيمَتَنَا، فَأَصَابَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا بَعْدَ الْخُمُسِ، وَمَا حَاسَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالَّذِي أَعْطَانَا صَاحِبُنَا وَلا عَابَ عَلَيْهِ [بَعْدَ] مَا صَنَعَ، فَكَانَ لِكُلِّ [رَجُلٍ] مِنَّا ثَلاثَةَ عَشَرَ بَعِيرًا بِنَفْلِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۱۵) (صحیح)
۲۷۴۳- اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ ۱؎ نجد کی جانب بھیجا، میں بھی اس کے ساتھ نکلا، ہمیں بہت سے اونٹ ملے، تو ہمارے دستہ کے سردار نے ایک ایک اونٹ ہم میں سے ہر شخص کو بطور انعام دیا، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ نے ہمارے غنیمت کے مال کو ہم میں تقسیم کیا، تو ہر ایک کو ہم میں سے خمس کے بعد بارہ بارہ اونٹ ملے، اور وہ اونٹ جو ہمارے سردار نے دیا تھا، آپ ﷺ نے اس کو حساب میں شمار نہ کیا، اور نہ ہی آپ نے اس سردار کے عمل پر طعن کیا، تو ہم میں سے ہر ایک کو اس کے نفل سمیت تیرہ تیرہ اونٹ ملے۔
وضاحت ۱ ؎ : سریہ ایسی فوجی کاروائی جس میں رسول ﷺ نے شرکت نہیں فرمائی، اور غزوہ ایسی جنگ جس میں آپ نے شرکت فرمائی۔
2744- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ [الْقَعْنَبِيُّ] عَنْ مَالِكٍ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ وَيَزِيدُ ابْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، الْمَعْنَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلا كَثِيرَةً، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا، زَادَ ابْنُ مَوْهَبٍ: فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: خ/ الخمس ۱۵ (۳۱۳۴)، م/ الجہاد ۱۲ (۱۷۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۹۳، ۸۳۵۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۶۲، ۱۱۲، ۱۵۶)، ط/ الجہاد ۶ (۱۵)، دی السیر ۴ (۲۵۲۴) (صحیح)
۲۷۴۴- اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، ان لوگوں کو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے، ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ انہیں بطور نفل(انعام) دئے گئے ۔
ابن موہب کی روایت میں یہ اضافہ ہے: تو رسول اللہ ﷺ نے اس تقسیم کو بدلا نہیں۔
2745- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي سَرِيَّةٍ، فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَعِيرًا بَعِيرًا.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَ حَدِيثِ عُبَيْدِاللَّهِ، وَرَوَاهُ أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَهُ إِلاأَنَّهُ قَالَ: وَنُفِّلْنَا بَعِيرًا بَعِيرًا، لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ ﷺ ۔
* تخريج: م/ الجہاد ۱۲ (۱۷۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۱۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۵۵) (صحیح)
۲۷۴۵- اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، تو ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بطور انعام دیا۔
ابو داود کہتے ہیں:اسے برد بن سنان نے نافع سے عبیداللہ کی حدیث کے ہم مثل روایت کیا ہے اور اسے ایوب نے بھی نافع سے اسی کے مثل روایت کیا، مگر اس میں یہ ہے کہ ہمیں ایک ایک اونٹ بطور نفل دئے گئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
2746- حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي (ح) وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةَ النَّفَلِ سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ، وَالْخُمُسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلِّهُ۔
* تخريج: خ/فرض الخمس ۱۵ (۳۱۳۵)، م/الجھاد ۱۲ (۱۷۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۴۰) (صحیح)
۲۷۴۶- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن سریوں کو بھیجتے انہیں عام لشکر کی تقسیم کے علاوہ بطور نفل خاص طور سے کچھ دیتے تھے اور خمس ان تمام میں واجب ہوتا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی پہلے پورے مال میں سے خمس نکالتے پھر انعام کچھ دینا ہوتا دیتے پھر باقی عام لشکر میں برابر تقسیم کرتے ۔
2747- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلاثِ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمُ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمُ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ >، فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ، فَانْقَلَبُوا حِينَ انْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلا [وَ]قَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْجَمَلَيْنِ، وَاكْتَسَوْا، وَشَبِعُوا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۵۹) (حسن)
۲۷۴۷- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے دن تین سو پندرہ افراد کے ہم راہ نکلے تو آپ نے یہ دعا فرمائی :
''اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمُ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمُ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ'' ( اے اللہ! یہ لوگ پیدل ہیں تو ان کو سوار کردے، اے اللہ! یہ لوگ ننگے ہیں ان کو کپڑا دے دے، اے اللہ! یہ لوگ بھوکے ہیں ان کو آسودہ کر دے)، پھر اللہ نے بدر کے دن انہیں فتح دی، جب وہ لوٹے تو کوئی بھی آدمی ان میں سے ایسا نہ تھا جو ایک یا دو اونٹ لے کر نہ آیا ہو، اور ان کے پاس کپڑے بھی ہو گئے اور وہ آسودہ بھی ہو گئے۔