- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
174- بَاب فِي سُجُودِ الشُّكْرِ
۱۷۴-باب: سجدۂ شکر کا بیان
2774- حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ أَخْبَرَنِي أَبِي -عَبْدُالْعَزِيزِ- عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ كَانَ إِذَا جَائَهُ أَمْرُ سُرُورٍ أَوْ بُشِّرَ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شَاكِرًا لِلَّهِ۔
* تخريج: ت/السیر ۲۵ (۱۵۷۸)، ق/الإقامۃ ۱۹۲ (۱۳۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۹۸) (صحیح)
۲۷۷۴- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جب کوئی خوشی کی بات آتی یا آپ ﷺ کو کوئی خوشخبری سنائی جاتی تو اللہ کا شکر اد اکرتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اسے سجدہ شکر کہتے ہیں، جوا ئمہ اسلام شافعی، احمد، اور محمد کے نزدیک مسنون اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک مکروہ ہے، یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے۔
2775- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ عُثْمَانَ -قَالَ أَبو دَاود: وَهُوَ يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ- عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ، فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَرَا نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا، فَمَكَثَ طَوِيلا، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا، فَمَكَثَ طَوِيلا، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا -ذَكَرَهُ أَحْمَدُ ثَلاثًا- قَالَ: <إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي، وَشَفَعْتُ لأُمَّتِي، فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا شُكْرًا لِرَبِّي، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي، فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي، فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الآخِرَ، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي >.
قَالَ أَبو دَاود: أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ أَسْقَطَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حِينَ حَدَّثَنَا بِهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْهُ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۷۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ''ابن عثمان'' مجہول اور''اشعث'' لین الحدیث ہیں)
۲۷۷۵- سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے نکلے، ہم مدینہ کا ارادہ کر رہے تھے، جب ہم عزورا ۱؎ کے قریب ہوئے تو آپ ﷺ اترے، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور کچھ دیر اللہ سے دعا کی، پھر سجدہ میں گر پڑے، اور بڑی دیر تک سجدہ ہی میں پڑے رہے، پھر کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر تک اللہ سے دعا کی، پھر سجدہ میں گر پڑے اور دیر تک سجدہ میں پڑے رہے، پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر دعا کی، پھر دوبارہ آپ سجد ہ میں گر پڑ ے، اور فرمایا :''میں نے اپنے رب سے دعا کی اور اپنی امت کے لئے سفارش کی تو اللہ نے مجھے ایک تہائی امت دے دی، میں اپنے رب کا شکرادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر گیا، پھر سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لئے دعا کی تو اللہ نے مجھے اپنی امت کا ایک تہائی اور دیدیا تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لئے پھر سجدہ میں گر گیا، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لئے اپنے رب سے درخواست کی تو اللہ نے جو ایک تہائی باقی تھا اسے بھی مجھے دیدیا تو میں اپنے ر ب کا شکریہ ادا کرنے کے لئے سجد ہ میں گر پڑا'' ۔
وضاحت ۱؎ : جحفہ کے پاس ایک گھاٹی کا نام ہے ۔