- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
7- بَاب فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالأَجْرِ
۷-باب: تو ل میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تو لنے کا بیان
3336- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ، فَأَتَيْنَا بِهِ مَكَّةَ، فَجَائَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَمْشِي، فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ فَبِعْنَاهُ، وَثَمَّ رَجُلٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < زِنْ وَارْجِحْ > ۔
* تخريج: ت/البیوع ۶۶ (۱۳۰۵)، ن/البیوع ۵۲ (۴۵۹۶)، ق/التجارات ۳۴ (۲۲۲۰)، اللباس ۱۲ (۳۵۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۲)، دي/البیوع ۴۷ (۲۶۲۷) (صحیح)
۳۳۳۶- سوید بن قیس کہتے ہیں: میں نے اور مخرمہ عبدی نے ہجر ۱؎ سے کپڑا لیا اوراسے( بیچنے کے لئے) مکہ لے کر آئے تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس پیدل آئے، اور ہم سے پا ئجا مہ کے کپڑے کے لئے بھا ئو تا ئو کیا تو ہم نے اسے بیچ دیااور وہاں ایک شخص تھا جومعا وضہ لے کر وزن کیا کر تاتھا تورسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:'' تولو اور جھکا ہوا تولو''۔
وضاحت ۱؎ : مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
3337- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ -الْمَعْنَى قَرِيبٌ- قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَفْوَانَ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: < يَزِنُ بِأَجْرٍ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ قَيْسٌ كَمَا قَالَ سُفْيَانُ، وَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۱۰) (صحیح)
۳۳۳۷- ابوصفوان بن عمیرۃ(یعنی سوید) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ آیا، پھرانہوں نے یہی حدیث بیان کی لیکن اجرت لے کر وزن کرنے کا ذکر نہیں کیاہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے قیس نے بھی سفیان کی طرح بیان کیاہے اورلائق اعتمادبا ت تو سفیان کی بات ہے۔
3338- حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ: خَالَفَكَ سُفْيَانَ قَالَ: دَمَغْتَنِي، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، قَالَ: كُلُّ مَنْ خَالَفَ سُفْيَانَ فَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود (صحیح)
۳۳۳۸- ابو رزمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شعبہ سے کہا : سفیان نے روایت میں آپ کی مخالفت کی ہے،آپ نے کہا: تم نے تو میرا دماغ چا ٹ لیا ۔
ابو داود کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن معین کی یہ بات پہنچی ہے کہ جس شخص نے بھی سفیان کی مخالفت کی تو لائق اعتماد بات سفیان کی بات ہوگی ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی صحابی کا نام ''سوید بن قیس'' (جیسا کہ سفیان نے کہا ہے ) زیادہ قابل اعتماد ہے بنسبت'' ابو صفوان بن عمیرۃ'' کے، لیکن اصحاب التراجم کا فیصلہ ہے کہ دونوں نام ایک ہی آدمی کے ہیں )
3339- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ أَحْفَظَ مِنِّي۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۸۰۸) (صحیح)
۳۳۳۹- شعبہ کہتے ہیں: سفیان کا حا فظہ مجھ سے زیادہ قوی تھا ۔