- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
18- بَاب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ
۱۸-باب: رکا بی اور پیالے کے اوپر ی حصے سے نہ کھائے بلکہ کنارے سے کھائے
3772- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلا يَأْكُلْ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ، وَلَكِنْ لِيَأْكُلْ مِنْ أَسْفَلِهَا؛ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلاهَا >۔
* تخريج: ت/الأطعمۃ ۱۳ (۱۸۰۵، ق/الأطعمۃ ۱۲ (۳۲۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۷۰، ۳۰۰، ۳۴۳، ۳۴۵، ۳۶۴)، دي/الأطعمۃ ۱۶ (۲۰۹۰) (صحیح)
۳۷۷۲- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے توپلیٹ کے اوپر ی حصے سے نہ کھائے بلکہ اس کے نچلے حصّہ سے کھائے اس لئے کہ بر کت اس کے اوپروالے حصّہ میں نازل ہوتی ہے‘‘۔
3773- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ ﷺ قَصْعَةٌ يُقَالُ لَهَا الْغَرَّاءُ يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ، فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ -يَعْنِي وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا- فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا، فَلَمَّا كَثَرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : <إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا>، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < كُلُوا مِنْ حَوَالَيْهَا وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا >۔
* تخريج: ق/الأطعمۃ ۶ (۳۲۶۳)، ۱۲ (۳۲۷۵)،(تحفۃ الأشراف: ۵۱۹۹ )، وقد أخرجہ: دي/الأطعمۃ ۱۶ (۲۰۹۰) (صحیح)
۳۷۷۳- عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا ایک لگن جسے غرّاء کہا جاتا تھا، اور جسے چار آدمی اٹھاتے تھے، جب اشراق کا وقت ہوا اور لوگوں نے اشراق کی صلاۃ پڑھ لی تو وہ لگن لا یا گیا، مطلب یہ ہے اس میں ثرید ۱؎ بھرا ہوا تھاتو سب اس کے ارد گرد اکٹھا ہو گئے، جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو رسول اللہ ﷺ گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے ۲؎ ایک اعرابی کہنے لگا: بھلا یہ بیٹھنے کا کون سا طریقہ ہے؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی نے مجھے نیک(متواضع) بندہ بنا یا ہے، مجھے جبار وسرکش نہیں بنایاہے‘‘، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ اس کے کنا روں سے کھائو اوراوپر کا حصہ چھوڑ دو کیو نکہ اس میں بر کت دی جاتی ہے ‘‘۔
وضاحت ۱؎ : ایک قسم کا کھانا ہے جو روٹی اور شوربے سے تیار کیا جاتا ہے۔
وضاحت۲؎ : تاکہ اور لوگوں کو بھی جگہ مل جائے اور لوگ آسانی سے بیٹھ سکیں۔