• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَا يُكْرَهُ
۱۹-باب: جس دستر خو ان پر مکروہ اورحرام چیزیں ہوں اس پر بیٹھنا منع ہے​


3774- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ مِطْعَمَيْنِ: عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ، وَأَنْ يَأْكُلَ [الرَّجُلُ] وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى بَطْنِهِ.
قَالَ أَبو دَاود: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ جَعْفَرٌ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَهُوَ مُنْكَرٌ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۰۹)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری (۶۱۰۷)، ق/الأطعمۃ ۶۲ (۳۳۳۰) (حسن)
(مؤلف نے منکر کہا ہے لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحۃ ۳۳۹۴)
۳۷۷۴- عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو جگہ کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے: ایک تو اس دستر خوان پر بیٹھ کر جس پر شراب پی جا رہی ہو اور دوسری وہ جگہ جہاں آدمی اوندھے منھ لیٹ کر کھائے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، جعفر کا سماع زہری سے ثابت نہیں ہے (اس کی دلیل اگلی سند ہے)


3775- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَائِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۰۹) (حسن لغیرہ)
۳۷۷۵- اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب الأَكْلِ بِالْيَمِينِ
۲۰-باب: دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان​


3776- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ >۔
* تخريج: م/الأشربۃ ۱۳ (۲۰۲۰)، ت/الأطعمۃ ۹ (۱۷۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۷۹)، وقد أخرجہ: ط/صفۃ النبی ۴ (۶)، حم (۲/۸، ۳۳، ۱۰۶، ۱۴۶)، دي/الأطعمۃ ۹ (۲۰۷۳) (صحیح)
۳۷۷۶- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے چاہئے کہ داہنے ہاتھ سے کھائے،اور جب پانی پئے تو داہنے ہاتھ سے پیئے اس لئے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے''۔


3777- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < ادْنُ بُنَيَّ فَسَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۸۹)، وقد أخرجہ: خ/الأطعمۃ ۲ (۵۳۷۶)، م/الأشربۃ ۱۳ (۲۰۲۲)، ت/الأطعمۃ ۴۷ (۱۸۵۷)، ق/الأطعمۃ ۷ (۳۲۶۷)، ط/صفۃ النبي ۱۰ (۳۲)، حم (۴/۲۷)، دي/الأطعمۃ ۱ (۲۰۶۲) (صحیح)
۳۷۷۷- عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''میرے بیٹے! قریب آجاؤ اور اللہ کا نام(بسم اللہ کہو) لو داہنے ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب فِي أَكْلِ اللَّحْمِ
۲۱-باب: گوشت کھانے کا بیان​


3778- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صَنِيعِ الأَعَاجِمِ، وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ >.
[قَالَ أَبو دَاود: وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۵۱) (ضعیف)
(اس کے راوی''ابو معشر سندھی '' ضعیف ہیں )
۳۷۷۸- ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' گوشت چھری سے کا ٹ کر مت کھائو، کیونکہ یہ اہل عجم کا طریقہ ہے بلکہ اسے دانت سے نوچ کر کھائو کیو نکہ اس طرح زیا دہ لذیذ اور زود ہضم ہو تا ہے ''۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔


3779- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: كُنْتُ آكُلُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَآخُذُ اللَّحْمَ [بِيَدِي] مِنَ الْعَظْمِ، فَقَالَ: < أَدْنِ الْعَظْمَ مِنْ فِيكَ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ >.
قَالَ أَبو دَاود: عُثْمَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ صَفْوَانَ، وَهُوَ مُرْسَلٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۴۶)، وقد أخرجہ: ت/الأطعمۃ ۳۲ (۱۸۳۵)، حم (۳/۴۰۱، ۶/۴۶۶)، دي/الأطعمۃ ۳۰ (۲۱۱۴) (ضعیف)
(سند میں انقطاع ہے )
۳۷۷۹- صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور اپنے ہاتھ سے گوشت کو ہڈی سے جدا کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہڈی اپنے منہ کے قریب کرو ( اور گوشت دانت سے نوچ کر کھائو) کیونکہ یہ زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہے ''۔
ابوداود کہتے ہیں: عثمان نے صفوان سے نہیں سنا ہے اور یہ مرسل (یعنی:منقطع) ہے۔


3780- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ ابْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ أَحَبُّ الْعُرَاقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عُرَاقَ الشَّاةِ ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۹۷) (صحیح)
۳۷۸۰- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ﷺ کو عراق (نلی) ۱؎ میں سب سے زیادہ پسند بکری کی عراق (نلی) تھی۔
وضاحت ۱؎ : عُراق : ایسی ہڈی جس سے گوشت کا زیادہ تر حصہ اتار لیا جائے۔


3781- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ، قَالَ: وَسُمَّ فِي الذِّرَاعِ، وَكَانَ يَرَى أَنَّ الْيَهُودَ هُمْ سَمُّوهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۳۳) (صحیح)
۳۷۸۱- اسی سندسے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دست کا گوشت بہت پسند تھا، (ایک بار) دست کے گوشت میں زہر ملا دیا گیا،آپ کا خیال تھا کہ یہودیوں نے زہرملا یا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب فِي أَكْلِ الدُّبَّاء
۲۲-باب: کدو کھانے کا بیان​


3782- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ ابْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّائٌ وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسٌ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الصَّحْفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمَئِذٍ۔
* تخريج: خ/البیوع ۳۰ (۲۰۹۲)، الأطعمۃ ۴ (۵۳۷۹)، ۲۵ (۵۴۲۰)، م/الأشربۃ ۲۱ (۲۰۴۱)، ت/الأطعمۃ ۴۲ (۱۸۵۰)، ق/الأطعمۃ ۲۶ (۳۳۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۸)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۲۱ (۵۱)، حم (۳/۱۵۰)، دي/الأطعمۃ ۱۹ (۲۰۹۴) (صحیح)
۳۷۸۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کے کھانے کی دعوت کی جسے اس نے تیار کیا، تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھانے گیا ،آپ کی خدمت میں جَو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدّو اور گوشت کے ٹکڑے تھے پیش کی گئی، میں نے آپ ﷺ کو رکابی کے کناروں سے کدو ڈھونڈھتے ہو ئے دیکھا، اس دن کے بعد سے میں بھی برابر کدو پسند کرنے لگا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب فِي أَكْلِ الثَّرِيدِ
۲۳-باب: ثرید کھانے کا بیان​


3783- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الثَّرِيدُ مِنَ الْخُبْزِ، وَالثَّرِيدُ مِنَ الْحَيْسِ.
قَالَ أَبو دَاود: وَهُوَ ضَعِيفٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۸۲) (ضعیف)
( اس کی سند میں ایک راوی ''رجل من اہل البصرۃ'' مبہم ہے)
۳۷۸۳- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا روٹی کا ثرید اور حیس کا ثرید تھا (جسے پنیر اور گھی سے تیار کیا جاتا تھا)۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب فِي كَرَاهِيَةِ التَّقَذُّرِ لِلطَّعَامِ
۲۴-باب: کھانے سے گھن کرنا مکروہ ہے​


3784- حَدَّثَنَا [عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ] النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ -وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ- فَقَالَ: < لا يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ شَيْئٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ >۔
* تخريج: ت/السیر ۱۶ (۱۵۶۵)، ق/الجہاد ۲۶ (۲۸۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۲۶) (حسن)
۳۷۸۴- ہلب طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور آپ سے ایک شخص نے پوچھا: کھانے کی چیزوں میں بعض ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے میں میں حرج محسوس کرتا ہوں،تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اپنے دل میں کوئی شبہ نہ آنے دو (اگر اس کے سلسلہ میں تم نے شک کیا اور اپنے اوپرسختی کی تو) تم نے اس میں نصرانیت کے مشابہت کی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ الْجَلاَّلَةِ وَأَلْبَانِهَا
۲۵-باب: گندگی کھانے والے جانورکے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے​


3785- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا۔
* تخريج: ت/الأطعمۃ ۲۴ (۱۸۲۴)، ق/الذبائح ۱۱ (۳۱۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۸۷) (صحیح)
۳۷۸۵- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نجاست خور جانور کے گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا۔


3786- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلالَةِ۔
* تخريج: ن/الضحایا ۴۳ (۴۴۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۹۱)، وقد أخرجہ: ت/الأطعمۃ ۲۴ (۱۸۲۴)، ق/الأشربۃ ۲۰ (۳۴۲۰)، حم۱/۲۲۶،۲۴۱، ۳۳۹)، وانظر ایضًا رقم : (۳۷۱۹) (صحیح)
۳۷۸۶- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نجاست خور جانور کا دودھ (پینے ) سے منع فرمایا۔


3787- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ جَهْمٍ، حَدَّثَنَا عُمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْجَلَّالَةِ فِي الإِبِلِ: أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا، أَوْ يُشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۲۵۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۸۹) (حسن صحیح)
۳۷۸۷- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے غلاظت کھانے والے اونٹ کی سواری کرنے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایاہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ
۲۶-باب: گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان​


3788- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَأَذِنَ [لَنَا] فِي لُحُومِ الْخَيْلِ۔
* تخريج: خ/المغازي ۳۸ (۴۲۱۹)، الصید ۲۷ (۵۵۲۰)، ۲۸ (۵۵۲۴)، م/الصید ۶ (۱۹۴۱)، ن/الصید ۲۹ (۴۳۳۲)، ق/الذبائح ۱۲ (۳۱۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۱۰، ۲۶۳۹)، وقد أخرجہ: ت/الأطعمۃ ۵ (۱۷۹۳)، حم (۳/۳۲۲، ۳۵۶، ۳۶۱، ۳۶۲، ۳۸۵)، دی/ الصید ۶ (۲۰۵۵) (صحیح)
۳۷۸۸- جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت کی ہمیں اجازت دی۔


3789- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ، وَلَمْ يَنْهَنَا عَنِ الْخَيْلِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۵۶، ۳۶۲) (صحیح)
۳۷۸۹- جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے دن گھوڑے، خچراور گدھے ذبح کئے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خچر اور گدھوں سے منع فرما دیا، اور گھوڑے سے ہمیں نہیں روکا۔


3790- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَيْوَةُ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ثَوْرِ ابْنِ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ، زَادَ حَيْوَةُ: وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ.
قَالَ أَبو دَاود: وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ.
قَالَ أَبو دَاود: لا بَأْسَ بِلُحُومِ الْخَيْلِ، وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَيْهِ.
قَالَ أَبو دَاود: وَهَذَا مَنْسُوخٌ، قَدْ أَكَلَ لُحُومَ الْخَيْلِ جَمَاعَةٌ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ : مِنْهُمُ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَفَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وسُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ، وَعَلْقَمَةُ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ تَذْبَحُهَا۔
* تخريج: ن/الصید ۳۰ (۴۳۳۶)، ق/الذبائح ۱۴ (۳۱۹۸)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۹،۹۰) (ضعیف)
(اس کے راوی''صالح '' ضعیف، اور ''یحییٰ '' مجہول ہیں،اور یہ جابر کی صحیح روایت کے خلاف ہے )
۳۷۹۰- خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے گھوڑے، خچر اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے ۔
حیوۃ نے ہر دانت سے پھاڑ کر کھانے والے درندے کا اضافہ کیا ہے۔
ابوداود کہتے ہیں:یہ مالک کا قول ہے۔
ابوداود کہتے ہیں:گھوڑے کے گوشت میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، خود صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا جس میں عبداللہ بن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابو بکر، سوید بن غفلہ، علقمہ شامل ہیں اور قریش عہد نبوی میں گھوڑے ذبح کر تے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب فِي أَكْلِ الأَرْنَبِ
۲۷-باب: خرگوش کھانے کا بیان​


3791- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا حَزَوَّرًا فَصِدْتُ أَرْنَبًا، فَشَوَيْتُهَا، فَبَعَثَ مَعِي أَبُو طَلْحَةَ بِعَجُزِهَا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا [فَقَبِلَهَا]۔
* تخريج: خ/الھبۃ ۵ (۲۵۷۲)، الصید ۱۰ (۵۴۸۹)، ۳۲ (۵۵۳۵)، م/الصید ۹ (۱۹۵۳)، ت/الأطعمۃ ۲ (۱۷۹۰)، ن/الصید ۲۵ (۴۳۱۷)، ق/الصید ۱۷ (۳۲۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۸، ۱۷۱، ۲۹۱)، دي/الصید ۷ (۲۰۵۶) (صحیح)
۳۷۹۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک قریب البلوغ لڑکا تھا، میں نے ایک خرگوش کا شکار کیا اور اسے بھونا پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کا پچھلا دھڑـ مجھ کو دے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا میں اسے لے کر آیا تو آپ نے اسے قبول کیا۔


3792- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي خَالِدَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ يَقُولُ: إِنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو كَانَ بِالصِّفَاحِ -قَالَ مُحَمَّدٌ: مَكَانٌ بِمَكَّةَ- وَإِنَّ رَجُلا جَاءَ بِأَرْنَبٍ قَدْ صَادَهَا، فَقَالَ: يَا عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو! مَا تَقُولُ؟ قَالَ: قَدْ جِيئَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا جَالِسٌ فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَلَمْ يَنْهَ عَنْ أَكْلِهَا، وَزَعَمَ أَنَّهَا تَحِيضُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۲۱) (ضعیف الإسناد)
(اس کے راوی''خالد ''لین الحدیث ہیں )
۳۷۹۲- محمد بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد خالد بن حویر ث کو کہتے سنا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما صفاح میں تھے ( محمد کہتے ہیںـ:وہ مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے ) ایک شخص ان کے پاس خرگوش شکار کر کے لایا، اور کہنے لگا: عبداللہ بن عمرو! آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا:اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اور میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی اس کے کھانے سے منع فرمایا، اور آپ ﷺ کا یہ خیال تھا کہ اسے حیض آتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب فِي أَكْلِ الضَّبِّ
۲۸-باب: گوہ کھانے کا بیان​


3793- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ خَالَتَهُ أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ سَمْنًا وَأَضُبًّا وَأَقِطًا، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَمِنَ الأَقِطِ، وَتَرَكَ الأَضُبَّ تَقَذُّرًا، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَتِهِ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: خ/الہبۃ ۷ (۲۵۷۵)، الأطعمۃ ۸ (۵۷۸۹)، ۱۶ (۵۴۰۲)، الاعتصام ۲۴ (۷۳۵۸)، م/الذبائح ۷ (۱۹۴۷)، ن/الصید ۲۶ (۴۳۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۵۵، ۲۸۴، ۳۲۲، ۳۲۹، ۳۴۰، ۲۴۷) (صحیح)
۳۷۹۳- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی خالہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بھیجا، آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور گوہ کو گھن محسوس کرتے ہوئے چھوڑ دیا، اور آپ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا، اگر وہ حرام ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کے دسترخوان پر نہیں کھایا جاتا۔


3794- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَيْتَ مَيْمُونَةَ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِيَدِهِ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا النَّبِيَّ ﷺ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ [يَارَسُولَ اللَّهِ]؟ قَالَ: < لا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ >، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ، فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَنْظُرُ۔
* تخريج: خ/الأطعمۃ ۱۰ (۵۳۹۱)، ۱۴ (۵۴۰۰)، الذبائح ۳۳ (۵۵۳۷)، م/الذبائح ۷ (۱۹۴۶)، ن/الصید ۲۶ (۴۳۲۱)، ق/الصید ۱۶ (۳۲۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۸، ۸۹)، دی/الصید ۸ (۲۰۶۰) (صحیح)
۳۷۹۴- خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو میمو نہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی ﷺ کو اس چیز کی خبر کر دو جسے آپ کھانا چاہتے ہیں، تو لوگوں نے عرض کیا:(اللہ کے رسول!) یہ گوہ ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا ۔
خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا اس لئے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے ''۔
( یہ سن کر ) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا، رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔


3795- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتٍ بْنِ وَدِيعَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي جَيْشٍ، فَأَصَبْنَا ضِبَابًا، قَالَ: فَشَوَيْتُ مِنْهَا ضَبًّا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ عُودًا فَعَدَّ بِهِ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ: < إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الأَرْضِ، وَإِنِّي لاأَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ>، قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَنْهَ۔
* تخريج: ن/الصید ۲۶ (۴۳۲۵)، ق/الصید ۱۶ (۳۲۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲۰)، دي/الصید ۸ (۲۰۵۹) (صحیح)
۳۷۹۵- ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک لشکر میں تھے کہ ہم نے کئی گوہ پکڑے، میں نے ان میں سے ایک کو بھونا اور اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے سامنے رکھا، آپ ﷺ نے ایک لکڑی لی اور اس سے اس کی انگلیاں شمار کیں پھر فرمایا: ''بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کر کے زمین میں چوپایا بنا دیا گیا لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کون سا جانور ہے''، پھر آپ ﷺ نے نہ تو کھایا اور نہ ہی اس سے منع کیا۔


3796- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ أَكْلِ لَحْمِ الضَّبِّ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۰۲) (حسن)
۳۷۹۶- عبدالر حمن بن شبل اوسی انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ضب : گوہ ایک رینگنے والا جانور جو چھپکلی کے مشابہ ہوتا ہے، اس کو سوسمار بھی کہتے ہیں، سانڈا بھی گوہ کی قسم کا ایک جانور ہے جس کا تیل نکال کر گٹھیا کے درد کے لئے یا طلاء کے لئے استعمال کرتے ہیں، یہ جانور نجد کے علاقہ میں بہت ہوتا ہے، حجاز میں نہ ہونے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے اس کو نہ کھایا لیکن آپ ﷺ کے دسترخوان پر یہ کھایا گیا اس لئے حلال ہے۔
جس جانور کو نبی اکرمﷺ کے دسترخوان پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھایا اس کو عربی میں ضب کہتے ہیں اور خود حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ یہ نجد کے علاقہ میں پایا جانے والا جانور ہے ، جو بلاشبہ حلال ہے۔ احناف اور شیعی فرقوں میں امامیہ کے نزدیک گوہ کا گوشت کھانا حرام ہے، فرقہ زیدیہ کے یہاں یہ مکروہ ہے ، لیکن صحیح بات اس کی حلت ہے ۔
نجد کے علاقے میں پایا جانے والا یہ جانور برصغیر( ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش) میں پائے جانے والے گوہ یا سانڈے سے بہت سی چیزوں میں مختلف ہے :
- ضب نامی یہ جانور صحرائے عرب میں پایا جاتا ہے ،اور ہندوستان میں پایا جانے والا گوہ یا سانڈا زرعی اور پانی والے علاقوں میں عام طورپر پایا جاتا ہے۔
- نجدی ضب (گوہ ) پانی نہیں پیتا اور بلا کھائے اپنے سوراخ میں ایک لمبی مدت تک رہتا ہے،کبھی طویل صبرکے بعد اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے، جب کہ برصغیرکا گوہ پانی کے کناروں پرپایا جاتا ہے ، اور خوب پانی پیتا ہے ۔
- نجدی ضب ( گوہ) شریف بلکہ سادہ لوح جانور ہے ، جلدشکارہوجاتا ہے ، جب کہ ہندوستانی گوہ کاپکڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے ۔
- نجدی ضب( گوہ) کے پنجے آدمی کی ہتھیلی کی طرح نرم ہوتے ہیں، جب کہ ہندوستانی گوہ کے پنجے اور اس کی دم نہایت سخت ہوتی ہیں، اور اس کے ناخن اس قدرسخت ہوتے ہیں کہ اگروہ کسی چیز کو پکڑلے تو اس سے اس کا چھڑانا نہایت دشوار ہوتا ہے ، ترقی یافتہ دورسے پہلے مشہورہے کہ چور اس کی دم کے ساتھ رسی باندھ کر اسے مکان کے پچھواڑے سے اوپرچڑھادیتے اور یہ جانور مکان کی منڈیرکے ساتھ جاکرمضبوطی سے چمٹ جاتا اور پنجے گاڑلیتا اور چور اس کی دم سے بندھی رسی کے ذریعہ اوپرچڑھ جاتے اور چوری کرتے ،جب کہ نجدی ضب (گوہ) کی دم اتنی قوت والی نہیں ہوتی ۔
- ہندوستانی گوہ سانپ کی طرح زبان نکالتی اور پھنکارتی ہے ، جب کہ نجدی ضب( گوہ) ایسانہیں کرتی ۔
- ہندوستانی گوہ ایک بدبودار جانورہے اور اس کے قریب سے نہایت ناگوار بدبوآتی ہے ،جب کہ نجدی ضب( گوہ) میں یہ نشانی نہیں پائی جاتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی گوہ گندگی کھاتی ہے ، اور کیڑے مکوڑے بھی ، نجدی ضب( گوہ) کیڑے مکوڑے اور خاص کر ٹڈی کھانے میں مشہور ہے ،لیکن صحراء میں گندگی کا عملاً وجودنہیں ہوتا اور اگرہوبھی تومعمولی اور کبھی کبھار ، صحراء میں پائی جانے والی بوٹیوں کوبھی وہ کھاتا ہے ۔
- نجدی ضب( گوہ) کی کھال کوپکاکرعرب اس کی کپی میں گھی رکھتے تھے ، جس کو'' ضبة'' کہتے ہیں اور ہندوستانی گوہ کی کھال کا ایسااستعمال کبھی سننے میں نہیں آیا اس لیے کہ وہ بدبودار ہوتی ہے ۔
- نجدی ضب نامی جانور اپنے بنائے ہوئے پُرپیچ اور ٹیڑھے میڑھے بلوں (سوراخوں)میں اس طرح رہتا ہے کہ اس تک کوئی جانور نہیں پہنچ سکتا، اور اسی لیے حدیث شریف میں امت محمدیہ کے بارے میں ضب (گوہ) کے سوراخ میں چلے جانے کی تعبیرموجود ہے ، اور یہ نبی اکرمﷺ کی کمال باریک بینی اور کمالِ بلاغت پر دال ہے ، امت محمدیہ سابقہ امتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طرح طرح کی گمراہیوں اور ضلالتوں کا شکار ہوگی ، حتی کہ اگرسابقہ امتیں اپنی گمراہی میں اس حدتک جاسکتی ہیں جس تک پہنچنامشکل بات ہے تو امت محمدیہ وہ کام بھی کرگزرے گی ، اسی کو نبی اکرمﷺ نے اس طرح بیان کیا کہ اگرسابقہ امت اپنی گمراہی میں ضب (گوہ) کے سوراخ میں گھسی ہوگی تو امت محمدیہ کے لوگ بھی اس طرح کا ٹیڑھا میڑھا راستہ اختیارکریں گے اور یہ حدیث ضب (گوہ) کے مکان یعنی سوراخ کے پیچیدہ ہونے پر دلالت کررہی ہے ، اور صحراء نجدکے واقف کار خاص کرضب ( گوہ) کاشکارکرنے والے اس کو بخوبی جانتے ہیں ،اور ضب (گوہ) کو اس کے سوراخ سے نکالنے کے لیے پانی استعمال کرتے ہیں کہ پانی کے پہنچتے ہی وہ اپنے سوراخ سے باہرآجاتی ہے ، جب کہ ہندوستانی گوہ پرائے گھروں یعنی مختلف سوراخوں اور بلوں اور پرانے درختوں میں موجودسوراخ میں رہتی ہے ۔
ضب اور ورل میں کیا فرق ہے؟
صحرائے عرب میں ضب کے مشابہ اور اس سے بڑا بالو، اور صحراء میں پائے جانے والے جانورکو ''وَرَل'' کہتے ہیں، تاج العروس میں ہے : ورل ضب کی طرح زمین پر رینگنے والا ایک جانورہے ، جوضب کی خلقت پر ہے ، إلا یہ کہ وہ ضب سے بڑا ہوتا ہے ، بالواور صحراء میںپایاجاتا ہے، چھپکلی کی شکل کا بڑا جانورہے ،جس کی دم لمبی اور سرچھوٹا ہوتا ہے ، ازہری کہتے ہیں: ''وَرَل''عمدہ قامت اور لمبی دم والاجانورہے، گویا کہ اس کی دم سانپ کی دم کی طرح ہے،بسااوقات اس کی دم دوہاتھ سے بھی زیادہ لمبی ہوتی ہے ، اور ضب (گوہ) کی دم گانٹھ دار ہوتی ہے ،اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لمبی ، عرب ورل کو خبیث سمجھتے اور اس سے گھن کرتے ہیں، اس لیے اسے کھاتے نہیں ہیں، رہ گیا ضب تو عرب اس کا شکارکرنے اور اس کے کھانے کے حریص اور شوقین ہوتے ہیں، ضب کی دم کھُردری ، سخت اور گانٹھ والی ہوتی ہے ،دم کا رنگ سبززردی مائل ہوتا ہے ، اور خود ضب مٹ میلی سیاہی مائل ہوتی ہے ،اور موٹا ہونے پر اس کا سینہ پیلاہوجاتا ہے ،اور یہ صرف ٹڈی ،چھوٹے کیڑے اور سبزگھاس کھاتی ہے ، اور زہریلے کیڑوں جیسے سانپ وغیرہ کو نہیں کھاتی ، اور ورل بچھو ، سانپ ، گرگٹ اور گوبریلاسب کھاتا ہے، ورل کا گوشت بہت گرم ہوتا ہے ، تریاق ہے ، بہت تیز موٹاکرتا ہے ، اسی لیے عورتیں اس کواستعمال کرتی ہیں، اور اس کی بیٹ (کا سرمہ) نگاہ کوتیز کرتا ہے ، اور اس کی چربی کی مالش سے عضوتناسل موٹا ہوتا ہے (ملاحظہ ہو: تاج العروس : مادہ ورل ، و لسان العرب )
سابقہ فروق کی وجہ سے دونوں جگہ کے نجدی ضب اور ورل اور ہندوستان پائے جانے والے جانورجس کو گوہ یا سانڈاکہتے ہیں، ان میں واضح فرق ہے،بایں ہمہ نجدی ضب( گوہ) کھانا احادیث نبویہ اور اس علاقہ کے مسلمانوں کے رواج کے مطابق حلال ہے، اور اس میں کسی طرح کی قباحت اور کراہت کی کوئی بات نہیں ، رہ گیا ہندوستانی گوہ کی حلت وحرمت کا مسئلہ تو سابقہ فروق کو سامنے رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہئے ، اگر ہندوستانی گوہ نجاست کھاتا اور اس نجاست کی وجہ سے اس کے گوشت سے یا اس کے جسم سے بدبواٹھتی ہے تو یہ چیز علماء کے غورکرنے کی ہے ، جب گندگی کھانے سے گائے بکری اور مرغیوں کا گوشت متاثر ہوجائے تو اس کاکھانا منع ہے ، اس کو اصطلاح میں ''جلالہ''کہتے ہیں،تو نجاست کھانے والا جانور گوہ ہو یا کوئی اور وہ بھی حرام ہوگا، البتہ برصغیرکے صحرائی علاقوں میں پایا جانے والا گوہ نجد کے ضب (گوہ) کے حکم میں ہوگا ۔
ضب اور ورل کے سلسلے میں نے اپنے دوست ڈاکٹرمحمداحمد المنیع پروفیسرکنگ سعود یونیورسٹی ، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور صحرائے نجد کے جانوروں کے واقف کار ہیں ، سوال کیا تو انہوں نے اس کی تفصیل مختصراً یوںلکھ کر دی :
نجدی ضب نامی جانور کھایا جاتا ہے ، اور ''ورل ''نہیں کھایا جاتا ہے ضب کا شکار آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور ورل کا شکارمشکل کام ہے ،ضب گھاس کھاتا ہے ، اور ورل گوشت کھاتا ہے ،ضب چیرپھاڑکرنے والا جانور نہیں ہے ،جب کہ ورل چیرپھاڑکرنے والا جانور ہے ، ضب کا ایک ہی رنگ ہوتا ہے، اور ورل دھاری دھار ہوتا ہے ،ضب کی جلد کھُردری ہوتی ہے اور ورل کی جلد نرم ہوتی ہے ،ضب کا سر چوڑا ہوتا ہے ، اور وَرل کا سر دم نما ہوتا ہے ، ضب کی گردن چھوتی ہوتی ہے ،اور ورل کی گردن لمبی ہوتی ہے ، ضب کی دم چھوٹی ہوتی ہے اور ورل کی دم لمبی ہوتی ہے ،ضب کھُردرا اوکانٹے دارہوتا ہے ، اور ورل نرم ہوتا ہے ، ضب اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے ، اور ورل بھی اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے ،اور دُم سے شکاربھی کرتا ہے ، ضب گوشت باکل نہیں کھاتا ، اور ورل ضب اور گرگٹ سب کھا جاتا ہے ، ضب تیز جانور ہے ،اور ورل تیز ترضب میں حملہ آوری کی صفت نہیں پائی جاتی جب کہ ورل میں یہ صفت موجودہے ،وہ دانتوں سے کاٹتا ہے ،اور دم اور ہاتھ سے حملہ کرتا ہے ، ضب ضرورت پڑنے پر اپنا دفاع کاٹ کراور ہاتھوں سے نوچ کر یا دُم سے مارکرتا ہے ،اور وَرل بھی ایسا ہی کرتا ہے ،ضب میں کچلی دانت نہیں ہے ،اور وَرل میں کچلی دانت ہے ، ضب حلال ہے ، اور ورل حرام، ورل کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ زہریلا جانورہے ۔
صحرائے عرب کا ضب ، وَرل اور ہندوستانی گوہ یا سانڈا سے متعلق اس تفصیل کا مقصدصرف یہ ہے کہ اس جانورکے بارے میں صحیح صورتِ حال سامنے آجائے ، حنفی مذہب میں بھینس کی قربانی جائز ہے اور دوسرے فقہائے کے یہاں بھی اس کی قربانی اس بناپر جائز ہے کہ یہ گائے کی ایک قسم ہے ، جب کہ گائے کے بارے میں یہ مشہور ہے اور مشاہدہ بھی کہ وہ پانی میں نہیں جاتی جب کہ بھینس ایساجانور ہے جس کو پانی سے عشق اور کیچڑسے محبت ہے اور جب یہ تالاب میں داخل ہوجائے تو اس کو باہر نکالنا مشکل ہوتا ہے ، اگربھینس کی قربانی کو گائے پر قیاس کرکے فقہاء نے جائز کہا ہے تو دونوں جگہ گوہ کے بعض فرق کا اعتبار نہ کرتے ہوئے اس جنس کے جانوروں کو حلال ہونا چاہئے ،اہل علم کو فقہی تنگنائے سے ہٹ کر نصوص شرعیہ کی روشنی میں اس مسئلہ پرغورکرنا چاہئے اور عاملین حدیث کے نقطہ نظر کو صحیح ڈھنگ سے سمجھنا چاہئے ۔
گوہ کی کئی قسمیں ہیں اور ہوسکتا ہے کہ بہت سی چیزیں سب میں قدر مشترک ہوں جیسے کہ قوت باہ میں اس کا مفیدہونا اس کی چربی کے طبی فوائد وغیرہ وغیرہ۔
حکیم مظفر حسین اعوان گوہ کے بارے میں لکھتے ہیں: نیولے کے مانند ایک جنگلی جانور ہے ، دم سخت اور چھوٹی ، قد بلی کے برابرہوتا ہے ، اس کے پنجے میں اتنی مضبوط گرفت ہوتی ہے کہ دیوار سے چمٹ جاتا ہے ، رنگ زرد سیاہی مائل ، مزاج گرم وخشک بدرجہ سوم ...اس کی کھال کے جوتے بنائے جاتے ہیں۔(کتاب المفردات : ۴۲۷) ، ظاہر ہے کہ یہ برصغیر میں پائے جانے والے جانور کی تعریف ہے ۔
گوہ کی ایک قسم سانڈہ بھی ہے جس کے بارے میں حکیم مظفر حسین اعوان لکھتے ہیں: مشہورجانور ہے ، جوگرگٹ یا گلہری کی مانندلیکن اس سے بڑاہوتا ہے ،اس کی چربی اور تیل دواء مستعمل ہے ، مزاج گرم وتر بدرجہ اوّل، افعال واستعمال بطورمقوی جاذب رطوبت ، معظم ذکر، اور مہیج باہ ہے (کتاب المفردات : صفحہ ۲۷۵)
 
Top