- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
{ 26- كِتَاب اللِّبَاسِ }
۲۶-کتاب: لبا س کے احکام ومسائل
1- بَابٌ
۱- باب
4020- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ: إِمَّا قَمِيصًا أَوْ عِمَامَةً، ثُمَّ يَقُولُ: < اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ، وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ، وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ >.
قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ ﷺ إِذَا لَبِسَ أَحَدُهُمْ ثَوْبًا جَدِيدًا قِيلَ لَهُ: تُبْلَى وَيُخْلِفُ اللَّهُ تَعَالَى ۔
* تخريج: ت/اللباس ۲۹ (۱۷۶۷)، ن/ الیوم واللیلۃ (۳۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰، ۵۰) (صحیح)
۴۰۲۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب کوئی نیا کپڑا پہنتے توقمیص یا عمامہ (کہہ کر)ا س کپڑے کا نام لیتے پھر فرماتے: ’’اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ، وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ، وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ‘‘ (اے اللہ!سب تعریفیں تیرے لئے ہیں تو نے ہی مجھے پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی بھلا ئی اور جس کے لئے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کی برا ئی اور جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کی برائی سے تیر ی پناہ چاہتا ہوں)۔
ابو نضرہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحا ب میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اس سے کہا جاتا:تو اسے پرانا کرے اور اللہ تجھے اس کی جگہ دوسرا کپڑا عطا کرے۔
4021- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ، نَحْوَهُ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۲۶) (صحیح)
۴۰۲۱- اس سند سے بھی جریر ی سے اسی جیسی حدیث مر وی ہے۔
4022- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
قَالَ أَبو دَاود: عَبْدُالْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا سَعِيدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلاءِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ .
قَالَ أَبو دَاود، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَالثَّقَفِيُّ سَمَاعُهُمَا وَاحِدٌ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۰۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۲۶) (صحیح)
۴۰۲۲- اس سند سے بھی جریری سے اسی مفہوم کی حدیث مر وی ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: عبدا لوہا ب ثقفی نے اس میں ابو سعید کا ذکر نہیں کیا ہے اور حما د بن سلمہ نے جریری سے جُریری نے ابوالعلاء سے ابوالعلاء نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں:حماد بن سلمہ اور ثقفی دونوں کا سماع ایک ہی ہے۔
4023- حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ- عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ [وَمَا تَأَخَّرَ]، قَالَ: وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا [الثَّوْبَ] وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ>۔
* تخريج: ت/الدعوات ۵۶ (۳۴۵۸)، ق/الأطعمۃ ۱۶ (۳۲۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۳۹)، دي/الاستئذان ۵۵ (۲۷۳۲) (حسن) دون زیادۃ: ’’وما تأخر‘‘ في الموضعین
۴۰۲۳- معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی ’’الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلا قُوَّةٍ ‘‘ ( تما م تعر یفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا) تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئے جائیں گے‘‘۔
نیزفرمایا:’’اور جس نے ( نیا کپڑا ) پہنا پھریہ دعا پڑھی: ’’الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا [الثَّوْبَ] وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلا قُوَّةٍ‘‘ (تما م تعر یفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عنایت فرمایا) تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے‘‘۔