• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب فِيمَا يُدْعَى لِمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا
۲-باب: نیا کپڑا پہننے والے کو دعا دینے کا بیان​


4024- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْجَرَّاحِ الأَذَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أُتِيَ بِكِسْوَةٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ فَقَالَ: < مَنْ تَرَوْنَ أَحَقُّ بِهَذِهِ؟ > فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: <ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ > فَأُتِيَ بِهَا، فَأَلْبَسَهَا إِيَّاهَا، ثُمَّ قَالَ: < أَبْلِي وَأَخْلِقِي > مَرَّتَيْنِ، وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَحْمَرَ أَوْ أَصْفَرَ وَيَقُولُ: < سَنَاهْ سَنَاهْ يَا أُمَّ خَالِدٍ > وَسَنَاهْ فِي كَلامِ الْحَبَشَةِ: الْحَسَنُ۔
* تخريج: خ/الجھاد ۱۸۸ (۳۰۷۱)، المناقب ۳۷ (۳۸۷۴)، اللباس ۲۲ (۵۸۲۳)، الأدب ۱۷ (۵۹۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۷۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۶۵) (صحیح)
۴۰۲۴- ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک چھوٹی سی دھاری دار چادر تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم لوگ کس کو اس کا زیادہ حق دا ر سمجھتے ہو ؟''، تو لوگ خاموش رہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ام خالد کو میرے پاس لا ئو''، چنا نچہ وہ لا ئی گئیں، آپ نے انہیں اسے پہنا دیا پھر دوبار فرمایا :'' پہن پہن کر اسے پرانا اور بوسیدہ کرو''، آپ چادر کی دھاریوں کو جو سرخ یا زرد رنگ کی تھیں دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: ''اے ام خالد ! ''سناه، سناه''( اچھا ہے اچھا ہے) '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : سناہ حبشی زبان میں اچھا کے معنی میں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب مَا جَاءَ فِي الْقَمِيصِ
۳-باب: قمیص اور کرتے کا بیان​


4025- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِالْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الْقَمِيصَ۔
* تخريج: ت/اللباس ۲۸ (۱۷۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۶۹)، وقد أخرجہ: ق/اللباس ۸ (۳۵۷۵)، حم (۳۰۶، ۳۱۷، ۳۱۸، ۳۲۱) (صحیح)
۴۰۲۵- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کپڑوں میں رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ قمیص پسند تھی۔
4026- حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُالْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ قَمِيصٍ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۶۹) (صحیح)
۴۰۲۶- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کوقمیص سے زیادہ کوئی اور کپڑا پسند نہ تھا ۔


4027- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: كَانَتْ يَدُ كُمِّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلَى الرُّسْغِ۔
* تخريج: ت/اللباس ۲۸ (۱۷۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۶۵) (ضعیف)
(سند میں شہربن حوشب حافظہ کے کمزورراوی ہیں)
۴۰۲۷- اسماء بنت یز ید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے قمیص(کرتے) کی آستین پہنچوں تک تھی ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب مَا جَاءَ فِي الأَقْبِيَةِ
۴-باب: قبا کا بیان​


4028- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ -الْمَعْنَى- أَنَّ اللَّيْثَ -يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ- حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ، انْطَلِقْ [بِنَا] إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قِبَائٌ مِنْهَا، فَقَالَ: < خَبَأْتُ هَذَا لَكَ >، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، زَادَ ابْنُ مَوْهَبٍ: مَخْرَمَةُ، ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَ: رَضِيَ مَخْرَمَةُ.
قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، لَمْ يُسَمِّهِ۔
* تخريج: خ/الہبۃ ۱۹ (۲۵۹۹)، الشہادات ۱۱ (۲۱۲۷)، الخمس ۱۱ (۳۱۲۷)، اللباس ۱۲ (۵۸۰۰)، ۴۲ (۵۸۶۲)، الأدب ۸۲ (۶۱۳۲)، م/الزکاۃ ۴۴ (۱۰۵۸)، ت/الأدب ۵۳ (۲۸۱۸)، ن/الزینۃ ۴۵ (۵۳۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۲۸) (صحیح)
۴۰۲۸- مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے کچھ قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹے! مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلو چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا(جب وہاں پہنچے) تو انہوں نے مجھ سے کہا: اندر جائو اور رسول اللہ ﷺ کو میرے لئے بلا لاؤ ، تو میں نے آپ کو بلایا، آپ باہر نکلے، آپ انہیں قبائوں میں سے ایک قبا پہنے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے ( مخرمہ رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا : ''میں نے اسے تمہارے لئے چھپا کر رکھ لیا تھا''، تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا آپ نے فرمایا: ''مخر مہ خوش ہو گیا ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ
۵-باب: شہرت کے کپڑوں کے پہننے کا بیان​


4029- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ عِيسَى- عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنِ الْمُهَاجِرِ الشَّامِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فِي حَدِيثِ شَرِيكٍ: يَرْفَعُهُ، قَالَ: < مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوْبًا مِثْلَهُ >.
زَادَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ: < ثُمَّ تُلَهَّبُ فِيهِ النَّارُ > ۔
* تخريج: ق/اللباس ۲۴ (۳۶۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۹۲، ۱۳۹) (حسن)
۴۰۲۹- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے شہرت اور نا موری کا لباس پہنا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے اسی طرح کا لباس پہنائے گا۔
شریک کی روایت میں ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے مرفوع کرتے ہیں یعنی اپنے قول کے بجائے نبی اکرم ﷺ کا قول قرار دیتے ہیں نیز ابوعوانہ سے یہ اضافہ مروی ہے کہ ''پھر اس کپڑے میں آگ لگا دی جائے گی''۔


4030- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: ثَوْبَ مَذَلَّةٍ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۶۴) (حسن)
۴۰۳۰- مسددکا بیان ہے کہ ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:'' اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا کپڑا پہنائے گا'' ۔


4031- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۵۰، ۹۲) (حسن صحیح)
۴۰۳۱- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب فِي لُبْسِ الصُّوفِ وَالشَّعَرِ
۶-باب: اُونی اور بال والے کپڑے پہننے کا بیان​


4032- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ [بْنِ مَوْهَبٍ] الرَّمْلِيُّ وَحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ.
وَقَالَ حُسَيْنٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيْمُ بْن الْعَلاء الزُّبَيْدِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ ابْن عَيَاشِ، عَنْ عَقِيْلِ بْنِ مُدْرِكِ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدُ السُّلَّمِيِّ، قَالَ: اسْتَكْسَيْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ ﷺ ، فَكَسَانِي خيشتين فلقد رأيتني وأنا أكسي أصحابي۔
* تخريج: م/فضائل الصحابۃ ۹ (۲۰۸۱)، ت/الأدب ۴۹ (۲۸۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۵۳، ۱۷۸۵۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۸۵، ۶/۱۶۲) (صحیح)
۴۰۳۲- ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے، آپ پر ایک سیاہ بالوں کی چادر تھی جس میں (کجاوہ) کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔
عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پہننے کے لئے کپڑا مانگا، آپ نے مجھے کتان کے دو کپڑے پہنائے تو میں اپنے کو دیکھتا تو اپنے آپ کو اپنے اور ساتھیوں کے بالمقابل اچھے لباس والا محسوس کرتا۔


4033- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي: يَا بُنَيَّ! لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا ﷺ وَقَدْ أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ، حَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۳۸ (۲۴۷۹)، ق/اللباس ۴ (۳۵۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۰۷، ۴۱۹) (صحیح)
۴۰۳۳- ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے کہا: بیٹے !اگر تم ہمیں دیکھتے اور ہم اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوتے اور بارش ہوئی ہوتی تو تم ہم میں بھیڑوں کی بو محسوس کرتے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : کیونکہ ہمارے کپڑے کھالوں اور بالوں کے ہوتے تھے بھیگنے کی وجہ سے ان سے بھیڑ بکریوں کی بو آتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَابُ لبْسِ الرَّفِيْعِ مِنَ الثِّيَابِ
۷-باب: قیمتی لباس پہننے کا بیان​


4034- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حُلَّةً أَخَذَهَا بِثَلاثَةٍ وَثَلاثِينَ بَعِيرًا، أَوْ ثَلاثٍ وَثَلاثِينَ نَاقَةً، فَقَبِلَهَا۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۲۱)، دي/السیر ۵۳ (۲۵۳۶) (ضعیف)
۴۰۳۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شاہ ذی یز ن ۱؎ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا جسے اس نے (۳۳) اونٹ یا اونٹنیاں دے کر لیا تھا تو آپ نے اسے قبول فرمایا۔
وضاحت ۱؎ : ذی یزن حمیری بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کا نام تھا۔


4035- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ الْحَارِثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ اشْتَرَى حُلَّةً بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ قَلُوصًا فَأَهْدَاهَا إِلَى ذِي يَزَنَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۴۳۴) (ضعیف)
۴۰۳۵- اسحا ق بن عبد للہ بن حا رث کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جوڑا بیس سے کچھ زائد اونٹنیاں دے کر خریدا پھر آپ نے اسے بادشاہ ذی یز ن کو ہدیے میں بھیجا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب لِبَاسِ الْغَلِيظِ
۸-باب: موٹے کپڑے پہنے کا بیان​


4036- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ -يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ- [الْمَعْنَى] عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَائً مِنِ الَّتِي يُسَمُّونَهَا الْمُلَبَّدَةَ، فَأَقْسَمَتْ بِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ۔
* تخريج: خ/فرض الخمس ۵ (۳۱۰۸)، اللباس ۱۹ (۵۸۱۸)، م/اللباس ۶ (۲۰۸۰)، ت/اللباس ۱۰ (۱۷۳۳)، ق/اللباس ۱ (۳۵۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۲، ۱۳۱) (صحیح)
۴۰۳۶- ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو انہوں نے یمن کا بنا ہوا ایک موٹا تہبند اور ایک کمبل جسے مُلَبَّدہ کہاجاتا تھا نکال کر دکھایا پھر وہ قسم کھا کر کہنے لگیں کہ انہیں دونوں کپڑوں میں رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی ۔


4037- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ [الْكَلْبِيُّ]، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْحَرُورِيَّةُ أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه، فَقَالَ: ائْتِ هَؤُلائِ الْقَوْمَ، فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ.
قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلا جَمِيلا جَهِيرًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُهُمْ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ، لَقَدْ رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنَ الْحُلَلِ.
[قَالَ أَبو دَاود: اسْمُ أَبِي زُمَيْلٍ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۷۶) (حسن الإسناد)
۴۰۳۷- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خوارج نکلے تو میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ''تم ان لوگوں کے پاس جائو''، تو میں یمن کا سب سے عمدہ جوڑا پہن کر ان کے پاس گیا ۔
ابو زمیل کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک خو بصورت اور وجیہ آدمی تھے۔
ابن عباس کہتے ہیں: تو میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا:خوش آمدید اے ابن عباس! اور پوچھا: یہ کیا پہنے ہو ؟ ابن عباس نے کہا: تم مجھ میں کیا عیب نکالتے ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کو اچھے سے اچھا جو ڑا پہنے دیکھا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- بَاب مَا جَاءَ فِي الْخَزِّ
۹-باب: خز (اون اور ریشم سے بنے لباس ) پہننے کا بیان​


4038- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْمَاطِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الرَّازِيُّ (ح) وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنِي أَبِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلا بِبُخَارَى عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ عَلَيْهِ عِمَامَةُ خَزٍّ سَوْدَاءُ، فَقَالَ: كَسَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، هَذَا لَفْظُ عُثْمَانَ، وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِهِ۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن سورۃ الحاقۃ ۶۷ (۳۳۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۷۸) (ضعیف الإسناد)
۴۰۳۸- سعد بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو بخارا میں ایک سفید خچر پر سوار دیکھا وہ سیاہ خز ۱؎ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اس نے کہا :یہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے پہنایا ہے۔
وضاحت ۱؎ : خز: ایک قسم کا ریشمی اونی کپڑا ہے۔


4039- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ غَنْمٍ الأَشْعَرِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، أَوْ أَبُو مَالِكٍ، وَاللَّهِ يَمِينٌ أُخْرَى مَا كَذَّبَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْخَزَّ وَالْحَرِيرَ > وَذَكَرَ كَلامًا، قَالَ: < يُمْسَخُ مِنْهُمْ آخَرُونَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ >.
[قَالَ أَبو دَاود: وَعِشْرُونَ نَفْسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَوْ أَكْثَرُ لَبِسُوا الْخَزَّ: مِنْهُمْ أَنَسٌ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، خ تعلیقًا/ الأشربۃ ۶ (۵۵۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۶۱) (صحیح)
۴۰۳۹- عبدالر حمن بن غنم اشعری کہتے ہیں: مجھ سے ابو عا مر یا ابو مالک نے بیان کیا اور اللہ کی قسم انہوں نے جھوٹ نہیں کہا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں کچھ لوگ ہو ں گے جو خز اور حریر (ریشم) کو حلا ل کر لیں گے پھر کچھ اور ذکر کیا، فرمایا: ''ان میں سے کچھ قیامت تک کے لئے بند ر بنا دیئے جائیں گے اور کچھ سور ''۔
ابو داود کہتے ہیں :رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے بیس یا اس سے زیادہ لوگوں نے خز پہنا ہے ان میں سے انس اور براء ابن عازب رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ
۱۰-باب: حریر( ریشم) پہننے کا بیان​


4040- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ تُبَاعُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لا خَلاقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ >، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ؟! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا > فَكَسَاهَا عُمَرُ [بْنُ الْخَطَّابِ] أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۰۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۳۵) (صحیح)
۴۰۴۰- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے در وا زہ کے پاس ایک دھاری دار ریشمی جو ڑا بکتا ہوا دیکھا توعر ض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور وفود سے ملاقات کے وقت اسے زیب تن فرماتے (تو اچھا ہوتا)، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''اسے وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں'' ، پھر انہیں میں سے کچھ جو ڑے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے آپ نے اس میں سے ایک جوڑا عمر بن خطاب کو دیا، تو عمر کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ آپ مجھے پہنا رہے ہیں حالانکہ آپ عطارد کے جوڑوں کے سلسلہ میں ایسا ایسا فرما چکے ہیں؟ ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا ہے کہ اسے تم (خود) پہنو'' تو عمر بن خطا بؓ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی (عثمان بن حکیم) کو دے دیا۔


4041- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: حُلَّةُ إِسْتَبْرَقٍ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، وَقَالَ: < تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۰۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۹۵) (صحیح)
۴۰۴۱- اس سند سے بھی عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی وا قعہ مروی ہے لیکن اس میں ''دھاری دار ریشمی جوڑے'' کے بجائے ''موٹے ریشم کا جوڑا ہے'' نیز اس میں ہے: پھر آپ نے انہیں دیباج ایک جوڑا بھیجا، اور فرمایا:'' اسے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرو۔


4042- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلا مَا كَانَ هَكَذَا وَهَكَذَا: أُصْبُعَيْنِ، وَثَلاثَةً، وَأَرْبَعَةً۔
* تخريج: خ/اللباس ۲۵ (۵۸۲۸)، م/اللباس ۲ (۲۰۶۹)، ن/الزینۃ ۳۸ (۵۳۱۴)، ق/ الجہاد ۲۱ (۳۵۹۳) (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۵، ۳۶، ۴۳) (صحیح)
۴۰۴۲- ابو عثمان نہدی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کو لکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے ریشم سے منع فرمایا مگر جو اتنا اور اتنا ہو یعنی دو، تین اور چار انگلی کے بقدر ہو۔


4043- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه، قَالَ: أُهْدِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حُلَّةُ سِيَرَاءَ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، فَلَبِسْتُهَا فَأَتَيْتُهُ، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَقَالَ: < إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا > وَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي۔
* تخريج: م/اللباس ۲ (۲۰۷۱)، ن/الزینۃ ۳۰ (۵۳۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۲۹)، وقد أخرجہ: خ/اللباس ۳۰ (۵۸۴۰)، حم (۱/۹۰، ۱۳۹، ۱۵۳) (صحیح)
۴۰۴۳- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک ریشمی دھاری دار جوڑا ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر آپ ﷺ کی خدمت میں آیا، تو میں نے آپ کے چہرئہ مبارک پر ناراضگی دیکھی آپ نے فرمایا: ''میں نے اسے اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے(خود) پہنو''، آپ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب مَنْ كَرِهَهُ
۱۱-باب: ریشم کی حرمت کا بیان​


4044- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّه عَنْه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْقِرَائَةِ فِي الرُّكُوعِ ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۴۱ (۴۸۰)، اللباس ۴ (۲۰۷۸)، ت/الصلاۃ ۸۰ (۲۶۴) واللباس ۵ (۱۷۲۵)، ۱۳ (۱۷۳۷)، ن/التطبیق ۷ (۱۰۴۱)، والزینۃ ۴۳ (۵۱۸۰)، الزینۃ من المجتبی ۲۳ (۵۲۶۹، ۵۲۷۰)، ق/اللباس ۲۱ (۳۶۰۲)، ۴۰ (۳۶۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۷۹)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ ۶ (۲۸)، حم (۱/۸۰، ۸۱، ۹۲، ۱۰۴، ۱۰۵، ۱۱۴، ۱۱۹، ۱۲۱، ۱۲۳، ۱۲۶، ۱۲۷، ۱۳۲، ۱۳۳، ۱۳۴، ۱۳۷، ۱۳۸، ۱۴۶) (صحیح)
۴۰۴۴- علی بن ابی طا لب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قسی ( ایک ریشمی کپڑا ) اور معصفر (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) اور سونے کی انگوٹھی کے پہننے سے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔


4045- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ [يَعْنِي] الْمَرْوَزِيَّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّه عَنْه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِهَذَا، قَالَ: عَنِ الْقِرَائَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۷۹) (صحیح)
۴۰۴۵- اس سند سے بھی بواسطۂ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں رکوع اور سجدے دونوں میں قرأت کی ممانعت کی بات ہے۔


4046- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بِهَذَا، زَادَ: وَلا أَقُولُ نَهَاكُمْ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۰۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۷۹) (حسن صحیح)
۴۰۴۶- اس سند سے بھی ابراہیم بن عبداللہ سے یہی روایت مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ''تمہیں منع فرمایا ہے''۔


4047- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ ﷺ مُسْتُقَةً مِنْ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهِ تَذَبْذَبَانِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ فَلَبِسَهَا ثُمَّ جَائَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا >، قَالَ: فَمَا أَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: < أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۱، ۲۲۹، ۲۵۱) (ضعیف الإسناد)
۴۰۴۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روم کے با دشاہ نے نبی اکرم ﷺ کو سندس(ایک با ریک ریشمی کپڑا ) کا ایک چوغہ ہدیہ میں بھیجا تو آپ ﷺ نے اسے زیب تن فرمایا۔
گویا میں آپ ﷺ کے ہاتھوں کو اس وقت دیکھ رہا ہوں آپ اسے مل رہے ہیں، پھر آپ نے اسے جعفر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا تو اسے پہن کر وہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ''میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو''، انہوں نے کہا: پھر میں اسے کیا کر وں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:'' اسے اپنے بھائی نجاشی کو بھیج دو''۔


4048- حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا أَرْكَبُ الأُرْجُوَانَ، وَلا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ، وَلا أَلْبَسُ الْقَمِيصَ الْمُكَفَّفَ بِالْحَرِيرِ >، قَالَ: وَأَوْمَأَ الْحَسَنُ إِلَى جَيْبِ قَمِيصِهِ، قَالَ: وَقَالَ: < أَلا وَطِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لا لَوْنَ لَهُ، أَلا وَطِيبُ النِّسَائِ لَوْنٌ لا رِيحَ لَهُ >.
قَالَ سَعِيدٌ: أُرَاهُ قَالَ: إِنَّمَا حَمَلُوا قَوْلَهُ فِي طِيبِ النِّسَائِ عَلَى أَنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ، فَأَمَّا إِذَا كَانَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا فَلْتَطَّيَّبْ بِمَا شَائَتْ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۰۳)، وقد أخرجہ: ت/الأدب ۳۶ (۲۷۸۹)، حم (۴/۴۴۲) (صحیح)
۴۰۴۸- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا:'' میں سرخ گد وں پر سوار نہیں ہوتا اور نہ کسم کے رنگے کپڑے پہنتا ہوں، اور نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں جس پر ریشمی بیل بوٹے بنے ہوں''۔
راوی کہتے ہیں:حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا وہ کہتے ہیں۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا:''سنو! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں بو ہو رنگ نہ ہو، سنو! اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو بو نہ ہو''۔
سعید کہتے ہیں: میرا خیال ہے قتادہ نے کہا:علماء نے عورتوں کے سلسلہ میں آپ کے اس قول کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب وہ باہر نکلیں لیکن جب وہ اپنے خاوند کے پاس ہوں تو وہ جیسی بھی خوشبو چاہیں لگائیں۔


4049- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ -يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ- عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ -يَعْنِي الْهَيْثَمَ بْنَ شَفِيٍّ- قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُكْنَى أَبَا عَامِرٍ رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ لِنُصَلِّيَ بِإِيلْيَاءَ، وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلٌ مِنَ الأَزْدِ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ، ثُمَّ رَدِفْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسَأَلَنِي: هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ عَشْرٍ: عَنِ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ، وَالنَّتْفِ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الأَعَاجِمِ، أَوْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا مِثْلَ الأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى، وَرُكُوبِ النُّمُورِ، وَلُبُوسِ الْخَاتَمِ إِلا لِذِي سُلْطَانٍ.
[قَالَ أَبو دَاود: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ذِكْرُ الْخَاتَمِ]۔
* تخريج: ن/الزینۃ ۲۰ (۵۰۹۴)، ۲۷ (۵۱۱۳، ۵۱۱۴، ۵۱۱۵)، ق/ اللباس ۴۷ (۳۶۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۳۴، ۱۳۵)، دي/الاستئذان ۲۰ (۲۶۹۰) (ضعیف)
۴۰۴۹- ابو الحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر کے تھے دونوں بیت المقدس میں صلاۃ پڑھنے کے لئے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ وخطیب قبیلۂ ازد کے ابو ریحانہ نامی ایک صحابی تھے۔
میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آکر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ابو ریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا:نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: ''دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، بال اکھیڑنے سے، اور دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، اور دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، اور مر د کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، اور دوسروں کے مال لوٹنے سے اور درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے با دشاہ کے''۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث میں انگوٹھی کا ذکر منفرد ہے۔


4050- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه أَنَّهُ قَالَ: نُهِيَ عَنْ مَيَاثِرِ الأُرْجُوَانِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۳۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۲۱) (صحیح)
۴۰۵۰- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سرخ گدوں سے منع کیا گیا ہے۔


4051- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَائِ۔
* تخريج: ت/ الأدب ۴۵ (۲۸۰۸)، ن/ الزینۃ ۴۳ (۵۱۶۸)، ق/ اللباس ۴۶ (۳۶۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۳، ۱۰۴، ۱۲۷، ۱۳۲، ۱۳۳، ۱۳۷) (صحیح)
۴۰۵۱- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی ۱؎ پہننے سے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت ۱؎ : ایک ریشمی کپڑا جو مصر میں تیار ہوتا تھا۔


4052- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلامٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلامِهَا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: < اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا فِي صَلاتِي، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ >.
قَالَ أَبو دَاود: أَبُو جَهْمٍ بْنُ حُذَيْفَةَ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ غَانِمٍ ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۹۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۰۳) (صحیح)
۴۰۵۲- ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دھاری دار چادر میں صلاۃ پڑھی تو آپ کی نظر اس کی دھاریوں پر پڑی جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ''میری یہ چادر ابو جہم کو لے جا کر دے آئو کیو نکہ اس نے ابھی مجھے صلاۃ سے غافل کر دیا ( یعنی میرا خیال اس کے بیل بوٹوں میں بٹ گیا ) اور اس کی جگہ مجھے ایک سادہ چادر لا کر دو''۔
ابو داود کہتے ہیں: ابو جہم بن حذیفہ بنو عدی بن کعب بن غانم میں سے ہیں ۔


4053- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي آخَرِينَ: قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، نَحْوَهُ، وَالأَوَّلُ أَشْبَعُ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۹۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۳۴) (صحیح)
۴۰۵۳- اس سند سے بھی ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔
 
Top