37- بَاب فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ}
۳۷-باب: آیت کریمہ:{وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ} کی تفسیر
4111- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ} الآيَةَ، فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ {وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللاتِي لا يَرْجُونَ نِكَاحًا} الآيَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۶۶) (حسن الإسناد)
۴۱۱۱- عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کر یمہ
{وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ} ۱؎کے حکم سے
{وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللاتِي لا يَرْجُونَ نِكَاحًا} ۲؎کو منسوخ ومستثنیٰ کردیاگیا ہے۔
وضاحت ۱؎ : مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (سورۃ النور:۳۱)۔
وضاحت۲؎ : بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو (سورۃ النور:۶۰)۔
4112- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ، فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < احْتَجِبَا مِنْهُ > فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَيْسَ أَعْمَى، لا يُبْصِرُنَا وَلا يَعْرِفُنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا؟ أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ >.
[قَالَ أَبو دَاود: هَذَا لأَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ خَاصَّةً، أَلا تَرَى إِلَى اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَدْ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: < اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ >]۔
* تخريج: ت/الأدب ۲۹ (۲۷۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۶) (ضعیف)
(سند میں نبہان مولی ام سلمہ مجہول ہیں)
۴۱۱۲- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نا زل ہو چکنے کے بعد کا ہے توآپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم دونوں ان سے پر دہ کرو‘‘، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول!کیا یہ نا بینا نہیں ہیں ؟نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچا ن سکتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں:یہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لئے خا ص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فا طمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گز ارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فاطمہ بنت قیس ؓ سے فرمایا تھا:’’تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو‘‘۔
4113- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْمَيْمُونِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: < إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَمَتَهُ فَلا يَنْظُرْ إِلَى عَوْرَتِهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۴۲) (حسن)
۴۱۱۳- عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:’’ جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی اپنی لونڈی سے شا دی کر دے تو پھر اس کی شر مگا ہ کی طر ف نہ دیکھے‘‘۔
4114- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: < إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ، فَلا يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ >.
قَالَ أَبو دَاود: وَصَوَابُهُ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ [الْمُزَنِيُّ الصَّيْرَفِيُّ]، وَهِمَ فِيهِ وَكِيعٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۱۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸۷) (حسن)
۴۱۱۴- عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مز دورسے شادی کردے تو پھروہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: صحیح سوار بن دا ود مز نی صیر فی ہے وکیع کو ان کے نا م میں وہم ہوا ہے۔